شمع فروزاںمضامین ومقالات

اچاریہ کلپنا بہن کی خدمت میں!

(آخری قسط )
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
(ترجمان وجنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
ظالم کو ظلم سے روکنے کے لئے ہر مذہب میں جہاد کی اجازت دی گئی ہے، ہندو مذہبی تاریخ میں کورؤوں اور پانڈؤوں کی جنگ مشہور ہے، جس میں بے شمار لوگ تہ تیغ کر دیے گئے، شری رام جی نے راون سے جنگ کی، شیواور وشنو کے ماننے والوں کے درمیان ایسی بھیانک جنگ ہوئی ،جس نے ڈھیر سارے لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا، رامائن، مہابھارت اور گیتا جنگ کے قصوں سے پُر ہیں، ہندو مذہب کی سب سے معتبر اور قدیم کتاب چار’’ ویدیں ‘‘ہیں، ان ویدوں میں جنگ کی ترغیب، دشمنوں کو نقصان پہنچانے کی تمنائیں اور جنگ میں اپنی کامیابی اور دشمن کو نیست ونابود کرنے کی دعائیں جگہ جگہ موجود ہیں؛ چنانچہ رِگ وید کا ایک منتر ہے:’’ تیر کمان کی مدد سے ہم مویشی حاصل کریں، تیر کمان کی مدد سے ہم لڑائی جیتیں، تیر کمان کی مدد سے اپنی گھمسان کی لڑائیوں میں فتح مند ہوں، تیر کمان دشمنوں کو غمگین کرتی ہے، اس سے مسلح ہو کر ہم تمام ممالک فتح کریں‘‘۔ 4 -1 :75:6) ) رِگ وید ہی میں ہے:’’ مجھ کو اپنے ہم سروں میں سانڈ بنا، مجھ کو اپنے حریفوں کا فتح کرنے والا بنا، مجھ کو اپنے دشمن کا قتل کرنے والا بااختیار حکمراں، مویشیوں کا مالک بنا‘‘، (1:165:10) یجروید میں آگ کے دیوتا سے اس طرح دعاء کی گئی ہے:’’ اے آگ ! تو جس کے شعلے تیز ہو رہے ہیں، ہمارے آگے آگے پھیل جا، ہمارے دشمنوں کو جلا دے، اے بھڑکتی ہوئی آگ! جس نے ہمارے ساتھ بدی کی ہے تو اسکو سوکھی لکڑی کی طرح بالکل بھسم کر دے، اے اگنی! اُٹھ ، ان لوگوں کو بھگا دے، جو ہمارے خلاف لڑتے ہیں، اپنی آسمانی طاقت کا مظاہرہ کر‘‘ ۔(13-12:13) سام وید میں ایک منتر میں جنگ پر اُکساتے ہوئے کہا جاتا ہے:’’ اے بہادر!اے مال غنیمت لوٹنے والے! تو آدمی کی گاڑی کو تیز چلا، اے فاتح! ایک مشتعل جہاز کی طرح بے دین دسیوں کو جلا دے‘‘ ۔ (3:20:3:6) اتھرویدد میں کہا گیا ہے:’’ اے اگنی! تو یا تو دھانوں( غیر آریہ دشمنوں) کو یہاں باندھ کر لا اور پھر اپنی کڑک سے ان کے سروں کو پاش پاش کر دے‘‘ ۔ (7:7:1)
ہندو مذہبی مآخذ کے مطالعہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہاں ذات پات کی بنیاد پر اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے جنگ کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، ویدوں میں کثرت سے غیر آریہ اور نچلی ذات کے لوگوں کو تباہ وبرباد کر دینے کی ترغیب دی گئی ہے،اور ان سے جنگ کا حکم دیا گیا ہے، اسلام نے کبھی ذات پات کی بنیاد پر جہاد کی اجازت نہیں دی؛ بلکہ ظالموں کے پنجۂ ظلم کو تھامنے کے لئے جہاد کا حکم دیا ہے۔
ڈاکٹر کلپنا نے یہ بات بھی کہی ہے کہ’’ مسلمانوں کو ہمارے وجود ہی سے اختلاف ہے‘‘،— حالاں کہ ایسا نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو جبراََ غیر مسلموں کو مسلمان بنانے کی اجازت ہوتی؛ لیکن قرآن مجید نے صاف صاف کہا ہے کہ دین کے معاملے میں کسی جبر کی گنجائش نہیں ہے: لا إکراہ في الدین قد تبین الرشد من الغي (بقرہ: ۲۵۶) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا: أفأنت تکرہ الناس حتیٰ یکونوا مؤمنین ( یونس: ۹۹) کیا آپ لوگوں کو اس بات پر مجبور کر دیں گے کہ وہ ایمان لائیں؟
قرآن مجید کی نظر میں اگرچہ دین ِحق توحید ہے؛ لیکن اس نے مختلف مذاہب اور مذہبی گروہوں کے وجود کو تسلیم کیا ہے؛ چنانچہ فرمایا گیا:
ولو شاء ربک لجعل الناس أمۃ واحدۃ ولا یزالون مختلفین(ہود: ۱۱۸-۱۱۹)
اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا؛ لیکن ان میں برابر اختلاف باقی رہے گا۔
اسی طرح ایک اور موقع پر فرمایا گیا:
ولو شاء اللہ لجعلکم أمۃ واحدۃ، (مائدہ:۴۸)
اگر اللہ چاہتا تو تم لوگوں کو ایک امت بنا دیتا۔
ڈاکٹر کلپنا کو مساجد اورمدارس کے بارے میں بھی فکر ہے کہ مسجدوں اور مدرسوں میں کیا ہو رہا ہے؟ کاش، وہ آر ایس ایس کے کیمپوں کی فکر کرتیں، جہاںماردھار کی تربیت دی جاتی ہے، آر ایس ایس کے اسکولوں کا جائزہ لیتیں، جہاں بالکل بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی تاریخ پڑھائی جاتی ہے، اورمعصوم بچوں کے ذہن میں نفرت کا زہر اُنڈیلا جاتا ہے، مسجدوں اورمدرسوں کے دروازے تو کھلے ہوئے ہیں،کوئی بھی شخص اور کسی بھی وقت وہاں جا کر دیکھ سکتا ہے، مسجد میں سوائے عبادت کے کوئی اور عمل نہیں ہوتا، خدا کی عبادت سے انسان کے اندر تواضع اور جھکاؤ پیدا ہوتا ہے، اور دوسرے انسانوں کے ساتھ حُسن سلوک اور بہتر رویہ کا سبق ملتا ہے، مدرسوں میں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، آپ ان کے مضامین دیکھئے، اور صبح سے شام تک اساتذہ اور طلبہ کی جو مشغولیات ہوتی ہیں، انہیں ملاحظہ کیجئے، ان میں کہیں کوئی ایسا عمل نہیں پایا جاتا، جو دوسروں کے خلاف نفرت کے جذبات کو اُبھارنے والا ہو۔
انہوں نے ایک بات یہ بھی کہی ہے کہ اسلام میں ہماری ماؤں اور بہنوں کے ساتھ دُراچار( زیادتی) کے لئے کہا گیا ہے—-یہ کھلی ہوئی افتراء پردازی ہے، اسلام میں بلا امتیازِ مذہب عورتوں کی عزت وآبرو کے احترم کی تعلیم دی گئی ہے،مردوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہوں اور شرم گاہوں کی حفاظت کریں(نور: ۳۱)اس میں مسلمان اور غیر مسلم عورت کا کوئی فرق نہیں ہے، شریعت میں جو سزا کسی مسلمان عورت کی بے آبرو ئی کی ہے وہی سزا ایک غیرمسلم عورت کی آبروریزی کی بھی ہے، اور خواتین کا اس قدر لحاظ رکھا گیا ہے کہ عین حالت جنگ میں بھی عورتوں پر ہاتھ اُٹھانے سے منع فرمایا گیا ہے۔
اس بات پر بڑا افسوس ہوا کہ اسلام کی مذہبی تعلیمات کے بارے میں تو ڈاکٹر کلپنا کی معلومات بہت کم ہیں ہی؛ لیکن کم سے کم ہندوستان کی تاریخ سے تو ان کو واقف ہونا چاہئے تھا؛ لیکن اس میں بھی ان کے بے بنیاد دعووں سے سچائی کو شرمسار ہونا پڑتا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ سارا ہندوستان آزادی کے لئے جوجھ رہا تھا اور مسلمان خلافت کے لئے، یعنی مسلمانوں نے آزادی کی لڑائی میں حصہ نہیں لیا، خلافت کے لئے کوشش کرتے رہے—-غور کیا جائے تو انیسویں صدی کے ختم تک آزادی کی لڑائی میں تشدد کا رنگ غالب رہا، جس میں لوگوں کا بہت زیادہ جانی ومالی نقصان ہوا، اس مرحلہ میں زیادہ تر مسلمانوں نے قربانیاں دیں، بیسویں صدی شروع ہونے کے بعد زیادہ تر پُر امن کوششیں ہوئیں، اور اس میں غیر مسلم بھائیوں کی بھی بڑی تعداد ملتی ہے، اگر ڈاکٹر کلپنا نے کم سے کم ڈاکٹر تارا چند ہی کی ’’تاریخ آزادی ٔ ہند‘‘ پڑھ لی ہوتی تو ایسی بے سروپا بات نہیں کہتیں، اور رہ گیا خلافت آندولن تو یہ تو صرف چند سال رہا، اور یہ بھی آزادی کی لڑائی کا ہی حصہ تھا، دوسری جنگ آزادی میں اتحادی قوتوں کی قیادت برطانیہ کے ہاتھ میں تھی، اور اس کے مقابلہ جرمن، جاپان اور تُرکی بڑی طاقتیں تھیں؛ اس لئے ہندوستان کے لوگوں کو فطری طور پر اِن ملکوں سے محبت تھی اور وہ امید رکھتے تھے کہ اِن ملکوں کی مدد سے انہیں آزادی حاصل ہو سکے گی؛ اس لئے اگر ان کو کوئی بھی ایسا موقع مل جاتا، جس میں برطانیہ کے خلاف ہندوستان کے باشندوں کو جمع کیا جا سکے تو وہ اس سے فائدہ اُٹھاتے تھے، خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے میں چوں کہ برطانیہ کا بنیادی کردار تھا، اس پسِ منظر میں تحریک خلافت شروع ہوئی؛ اسی لئے تحریک خلافت میںمسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو بھی شامل ہوئے، اور مہاتما گاندھی جی تو اس تحریک میں قائدانہ رول ادا کر رہے تھے؛ اس لئے یہ کہنا کہ مسلمان جنگ آزادی کو چھوڑ کر تحریک خلافت کے پیچھے پڑے ہوئے تھے، مجاہدین آزادی کے ساتھ بڑا ظلم ہوگا۔
ڈاکٹر کلپنا نے یہ بھی کہا ہے کہ مسلمان چاہتے تھے کہ ایک خلیفہ بٹھائیں اور اسی کا راج چلے،— لیکن انہوں نے غور نہیں کیا کہ مسلمان خلیفہ کس خطہ کے لئے چاہتے تھے؟ انہوں نے ہندوستان کے لئے ایسا نہیں چاہا، تُرکی( جس میں اس وقت بیش تر اسلامی ممالک شامل تھے) میں خلافت کا احیاء چاہتے تھے؛ تاکہ انگریزوں کا زور توڑا جا سکے، اور ظاہر ہے کہ اس میں کوئی برائی کی بات نہیں ہے، کسی بھی ملک میں حکمراں تو ایک ہی ہوگا، اور اسی حکمراں کے تحت پورا نظام حکومت چلے گا، اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ البتہ ان کو سمجھنا چاہئے کہ خلیفہ کسے کہتے ہیں؟ خلیفہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کا نائب ہو کر اپنی رعایا کے درمیان پورے عدل وانصاف سے حکومت قائم کرے، اور اپنا حکم نہ چلائے؛ بلکہ اللہ کے حکم کو نافذ کرے، یہ نظام انسان کو ڈکٹیٹر بننے سے روکتا ہے، آمریت سے بچاتا ہے،اور یہ تصور پیدا کرتا ہے کہ حکمراں بھی اپنی رعایا کے سامنے جوابدہ ہے ؛ اسی لئے گاندھی جی کہا کرتے تھے کہ اگر ہندوستان کو سوراج حاصل ہو تو اس کو ابوبکر وعمر(رضی اللہ عنہما) کے طرز حکومت کو اپنے لئے مشعل راہ بنانا چاہئے، ایسے ہی حکمراں کو خلیفہ کہتے ہیں۔
ڈاکٹر کلپنا نے بعض وہ باتیں بھی نقل کی ہیں، جو صرف آر ایس ایس کے لوگوں کا پروپیگنڈہ ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، جیسے مالابار میں ہندؤوں کا مارا جانا، عورتوں کے ساتھ زیادتی، دودھ پیتے بچوں کا قتل، اولاََ تو یہ سب سنگھ پریوار کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں؛ لیکن اگر کچھ مسلمانوں نے ایسا کیا بھی ہو، تو چند شریر لوگوں کے عمل کی ذمہ داری پوری قوم پر عائد نہیں کی جاسکتی، اور نہ مذہب کواس کا قصور وارقرار دیا جا سکتا ہے، اسلامی نقطۂ نظر سے ایسی حرکت کا ارتکاب بالکل غلط ہے، اور ایسا کرنے والا دنیا وآخرت میں سنگین سزا کا مستحق ہے؛ لیکن آرایس ایس تو ۱۹۴۷ء کے فسادات اور بھاگلپور، مرادآباد، جمشیدپور او رگجرات کے دنگوں میں اس کا کئی گنا مظالم ڈھا چکی ہے، تو کیا آر ایس ایس کی غیر انسانی حرکتوں کا تمام ہندؤوں کو قصور وار قرار دیا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، یہ کچھ بدمعاش اور انسان نما درندوں کا کام ہوتا ہے، ان کی وجہ سے پوری قوم کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
اخیر میں ایک درخواست غیر مسلم بھائیوں سے ہے کہ وہ ٹھنڈے دل سے خالی الذہن ہو کر اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں، اگر آدمی پہلے سے سیاہ عینک پہنے ہوا ہو تو اس کو دھوپ کی روشنی بھی سیاہ نظر آئے گی؛ اس لئے خالی الذہن ہو کر مذہب کا مطالعہ کرنا چاہئے؛ تاکہ حقیقت پسندی کے ساتھ مذہب کو سمجھا جا سکے، ہمیں یقین ہے کہ ڈاکٹر کلپنا اور اس طرح کی سوچ رکھنے والے لوگ اگر کھلے ذہن کے ساتھ قرآن وحدیث اور سیرت نبوی کا مطالعہ کریں گے تو محسوس کریں گے کہ اسلام ایک دین رحمت ہے، اور اس نے ہندوستان کو بہت کچھ دیا ہے۔
دوسری درخواست مسلمانوں سے ہے کہ ہم نے اپنے کاروبار ، تجارت اور شخصیت کا تعارف تو برادران وطن سے خوب کرایا ہے، معاشی، سماجی اور سیاسی فائدے بھی اُٹھائے ہیں؛ لیکن اسلام کا تعارف کرانے کی کوئی سنجیدہ اور منظم کوشش نہیں کی، اس غفلت کا نتیجہ ہے کہ جس قوم کو لوگوں کی محبت کا مرکز ہونا چاہئے تھا، وہ نفرت وملامت کا ہدف بنی ہوئی ہے، اب بھی وقت ہے کہ ہم اس بارے میں سوچیں اور غیر مسلم بھائیوں تک اسلام کی صحیح تصویر پہنچائیں، ورنہ وقت جوں جوں گزرتا جائے گا، نفرت کی چنگاری شعلہ اور شعلہ سے آتش فشاں بنتی جائے گی، اور اس کا انجام دینا میں بھی تباہی کی شکل میں ظاہر ہوگا اور آخرت میں بھی جوابدہی ومحرومی کی شکل میں!
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker