شخصیاتمضامین ومقالات

آہ مفتی ضیاء الحق مرحوم

مولانا محمدشاہدالناصری الحنفی
صدرادارہ دعوۃ السنہ مہاراشٹرا
ابھی تھوڑی دیرپہلے مکہ میگزین میڈیاگروپ کھولنے کاارادہ ہی کررہاتھا کہ اناللہ واناالیہ راجعون پرنظرپڑی، دل فورادھک دھک کرنے لگا ،جلدی جلدی گروپ پرپہونچا تو محبی فی اللہ مولاناغفران ساجدقاسمی کی غمناک اوردلدوز تحریر نے بتایا کہ فاضل نوجوان، خوش مزاج وبااخلاق، ذہین وفطین عالم دین ضیاء الحق قاسمی نے دورئہ قلب میں اپنی جان جان آفریں کے سپردکردی ۔کیابتاؤں کہ اس تحریرنےطبیعت کوکس قدر مضطر اوربے سکون کردیا۔ سچ کہتاہوں کہ اب ایسا محسوس کررہاہوں کہ موت کے بہت قریب ہوں۔ آہ! اس فریب ہستی نے کہیں کانہ رکھا ہے کہ زندگی کتنی دشوار اورموت کتنی آسان کہ جب جس کیلئے مشیت الہی ہووہ بلاوہم وگمان کے چلاجائے ۔ ہمارے توحاشیہ خیال میں بھی نہیں تھا کہ جو ضیاء الحق ہمارے ساتھ مدرسہ حسینیہ رانچی اوردارالعلوم دیوبند میں بھی اپنی بذلہ سنجی سے محفل کوقہقہ زارکرتاتھا اوروہ بھی زیادہ دن پہلے نہیں بلکہ قرآن مجید کی زبان میں قلیل کے مطابق کل پرسوں۔ وہ آج اوراس طرح سے بغیرکسی کوبتائے دفعتہ دنیاکوخیربادکہدےگا۔ والدین اہل وعیال سے خویش واقارب اوردوست احباب اورشاگردوں سے بھی کچھ نہ کہ سکے گا ۔ سچ ہے جوکسی نے کہا کہ ۔۔۔ اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی گئے ۔
مفتی ضیاء الحق سے غالب گمان یہ ہے کہ مدرسہ حسینیہ رانچی کے شعبہ حفظ ہی میں ملاقات ہوئ تھی۔ حضرت الاستاذ حافظ شہادت حسین مرحوم کی درسگاہ میں ۔برادرعزیز مولانامفتی محمدساجدناصری سلمہ اللہ بھی ہمراہ تھے ۔ دوسری ملاقات دارالعلوم دیوبند میں عربی دوم یاسوم کے زمانہ میں ہوئ تھی ۔ پرتپاک انداز سے ملنا اورمل کرجلدی جدانہ ہونا اہل محبت کامذہب ہوتاہے وہ اسی مذہب کے پیروکارتھے۔ ذہانت بلا کی تھی، مولانا عبدالخالق صاحب مدراسی کی بجان ودل خدمت کی تھی، درسگاہ میں ممتاز ہمراہیوں ہم جولیوں اورساتھیوں میں اچھا سلوک اوراخلاق کابرتاؤ پیش کرنے میں امتیازی شان کاحامل طالب علم تھا ۔ ابھی سال دوسال پہلے رانچی میں جامعہ علی ابن ابی طالب کے پروگرام میں جاتے ہوئے مدرسہ حسینیہ میں مفتی ضیاءالحق مرحوم سے ملاقات ہوئ توماضی کے وہ سارے نقوش اورطالب علمانہ باتیں بلاکیف وکم ذہن پرابھرنے لگیں ۔ ضیاء الحق کوفربہ دیکھ کر دل مسرت سے کھل اٹھا تھا مگرکیاخبرتھی کہ مسرت پائیدارنہ ہوگی اوراس کی موت دل کوتڑپادے گی ۔
مرحوم کی خوبیاں جناب مولاناغفران ساجدنےجوتحریر کی ہے سچ پوچھیے تووہ اس سے کہیں زیادہ تھا ۔ وہ مجھ سے چھوٹا اورعزیز بھائ کے درجہ میں تھا اس لئے وہ میرےسامنے متواضع نہیں تھا بلکہ فطرتا اس کے اندر تواضع اورسادگی تھی ۔اس زمانے میں بھی جب وہ شعبہ ابجد میں تھا ،سیاہ بخت نہ تھا خوش بخت تھا کبروتعلی اورعلو ذہانت وفطانت کااظہارنہ تھا بلکہ چال ڈھال اورنششت وبرخواست اورلباس وخوردونوش سے بھی عاجزی وانکساری ہی جھلکتی تھی ۔بہرحال ضیاء الحق مرحوم اپنے بعد والوں کوزبان حال سے یہ پیغام دے کر راہی ملک بقاء ہوئے کہ ۔۔۔
یادرکھ ہرآن آخر موت ہے ۔کرلے جوکرناہے،آخرموت ہے ۔
دعاہےکہ رب رحمن الدنیا والآخرہ ضیاء الحق کو قبرمیں اپنی ضیاء سے سرفراز فرمائے اورمغفرت کاملہ سے شادفرماتے ہوئے انکے پسماندگان کوصبرجمیل مرحمت فرمائے اوران کی کفالت کابہترین انتظام فرماکر ان کے اہل وعیال کوبھی شادفرمائے۔ آمین
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker