شخصیاتمضامین ومقالات

اتنی بھی کیاجلدی تھی میرے بھائی!

آہ مفتی ضیاء الحق قاسمی بھیروی مرحوم
غفران ساجدقاسمی

چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن
دنیافانی ہے،دنیاکی ہرشئ کوفنالاحق ہے۔دنیاایک مسافرخانہ ہے،یہاں جوبھی آیاہے،اسے ایک وقت متعینہ پرہرحال میں چلاہی جاناہے۔قرآن کریم نے صاف لفظوں میں اعلان کردیاہےکہ:’’کل من علیھافان،ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام‘‘(الرحمن)یہاں کی ہرچیزفناہونے والی ہے،باقی رہنے والی ذات توصرف خالق کائنات اوررب دوجہاں کی ہے۔اسی مفہوم کوقرآن کریم نے ایک دوسری جگہ یوں بیان کیاہے:’’کل نفس ذائقۃ الموت‘‘ (انبیاء)کہ ہرنفس کوموت کامزہ چکھناہے۔اسی طرح ہرنفس کی موت کاوقت بھی متعین ہے،اوراس معاملے میں فرشتۂ اجل اتناچاق وچوبنداورمستعدہے کہ وہ وقت متعینہ سے نہ ایک سیکنڈآگے اورنہ ہی ایک سیکینڈپیچھے کی مہلت دیتاہے۔قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ اس مفہوم کواس طرح بیان کیاہے:’’اذاجاء اجلھم لایستاخرون ساعۃ ولایستقدمون‘‘(یونس)
مفتی ضیاء الحق قاسمی کاانتقال
30؍اگست بروزجمعرات مغرب کی نمازپڑھ کراپنے دفترپہونچااورلیپ ٹاپ آن ہی کیاکہ اچانک موبائل فون کی گھنٹی بجی،فون میرے بھانجے عزیزی حافظ محمدمدثرسلمہ کاتھا،میں نے سوچاکہ روزمرہ کے معمول کے مطابق فون ہوگا۔بہرکیف! فون ریسیوکیا،علیک سلیک کے فورابعدہی روہانسی آوازمیں بتایاکہ ماموں جان! مفتی صاحب کاانتقال ہوگیا،حالاںکہ جب بھیروامیں مطلق مفتی صاحب بولاجاتاہے تواس سے مرادصرف اورصرف مفتی ضیاء الحق قاسمی مرحوم ہی ہواکرتے تھے،لیکن آج جب اس نے یہ جانکاہ خبرسنائی تواپنی سماعت پریقین نہیںآیااسی لئے دوبارہ تاکیدسے پوچھاکہ کون مفتی صاحب؟تواس مرتبہ اس نے نام لے کرکہاکہ مفتی ضیاء الحق صاحب!اتناکہہ کروہ بھی خاموش ہوگیا،اس کی آوازبھی رندھ گئی تھی،یہ خبرکیاتھی؟گویاکہ ایک بجلی تھی جوہمارے نازک دل پرگری تھی،یہ اندوہناک خبرمحض ایک خبرنہیں تھی بلکہ ایک ایسی آسمانی بجلی تھی جس نے یک لخت ہمارے آشیانے کوخس وخاک میں ملاکررکھ دیاتھا،کچھ دیرتک تویوں ہی ساکت وجامدبیٹھارہا،ہوش وحواس اڑگئے تھے،اوسان خطاہوگئے تھے اورایسامحسوس ہورہاتھاکہ اچانک کسی نے خواب سے جگادیاہو،لیکن مرتاکیانہ کرتا،یہ واقعہ تواپنی تمام ترحقیقتوں کے ساتھ وقوع پذیرہوچکاتھا،سواب مانے بغیرچارہ کارکیاتھا،قرآن کافرمان اورموت کے ظالم پنجوں کے داستان تمام کے تمام دل ودماغ کے اسکرین پرگردش کرنے لگے۔اوربالآخرزبان یہ پڑھنے پرمجبورہوگیاکہ:’’اناللہ واناالیہ راجعون‘‘۔
مفتی ضیاء الحق قاسمی -یہ ایک ایسانام ہے جسے سنتے ہی دماغ کے پردے پربیک وقت مختلف نقوش ابھرنے لگتے ہیں۔یہ نام صرف گاؤں میں ہی نہیں بلکہ پورے علاقہ اوراس سے آگے بڑھ کرکہوں توکوئی مبالغہ نہیں ہوگاکہ پورے ہندوستان میں اہل علم وفضل کے لئے نامانوس نہیں تھا۔ہروہ شخص جس کاتعلق درس وتدریس،خطابت اورفقہ وفتاوی سے تھاان میں سے اکثریت ایسے اہل علم وفضل کی تھی جوکسی نہ کسی حیثیت سے مفتی ضیاء الحق قاسمی سے واقف تھے۔مفتی ضیاء الحق قاسمی جنہیں اب مرحوم لکھتے ہوئے دل ڈوباجارہاہے،ابھی عمرکے اس مقام پرنہیں پہونچے تھے جہاں پہونچنے کے بعدکسی کی موت کااتناغم نہیں ہوتاہے،ان کے بارے میں یہ کہاجاسکتاہے کہ ابھی توان کے کھیلنے کودنے کے دن تھے،لیکن پھریہاں بھی قرآن کے اس فرمان کے آگے ہمیں اپناسرتسلیم خم کردیناپڑتاہے کہ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ وقت سے پہلے چلے گئے،نہیں کوئی انسان وقت سے پہلے نہیں جاتابلکہ ہرشخص کاوقت مقررہے اورجب اس کاوقت آتاہے وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملتاہے:’’اذاجاء اجلھم لایستاخرون ساعۃ ولایستقدمون‘‘ یہی وہ قرآنی حقیقت ہے جس کی وجہ سے ہم مفتی صاحب کی موت کوتسلیم کرتے ہوئے یہ کہنے پرمجبورہیں کہ اللہ نے جتنے دنوں کے لئے انہیں بھیجاتھا،وقت پوراکرکے وہ اپنے مالک حقیقی کے پاس چلے گئے،ہماراکام اب صرف اتناہے کہ ہم ان کے لئے مغفرت کی دعاکریں اوران کے لئے ایصال ثواب کااہتمام کریں۔
مفتی ضیاء الحق قاسمی مدرسہ حسینیہ رانچی میں
مفتی ضیاء الحق قاسمی سے میری رفاقت کی سرگذشت بڑی طویل ہے۔یوں سمجھ لیں کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا،انہیں بڑے بھائی کی طرح سمجھا،اپنے تمام امورمیں خواہ وہ ذاتی نوعیت کے ہوں،یادیگرمعاملات ہوں،میں ان سے مشورہ کئے بغیرنہیں رہتاتھا۔اورالحمدللہ مشورہ دینے میں انہیں ہمیشہ مخلص ہی پایا۔چوں کہ ہم دونوں ایک ہی گاؤں کے رہنے والے تھے،تواس طورپراکثرہماراملناجلنا،اٹھنابیٹھناساتھ ہواکرتاتھا۔مجھے یادپڑتاہے کہ جب میرے والدمحترم نے میراداخلہ مدرسہ حسینیہ رانچی جھارکھنڈمیں کرایاتواس وقت میں بہت چھوٹاتھا،اس وقت مجھے کسی چیزکاشعوربھی نہیں تھا،بس ہماری اپنی چھوٹی سی دنیاتھی،اپنے ہم جولیوں میں کھیلناکودنا۔مدرسہ حسینیہ میں حافظ عمیراحمدصاحب میرے سرپرست تھے۔مفتی ضیاء الحق قاسمی صاحب حافظ عمیرصاحب کے ہم سبق تھے۔اورمجھے تھوڑاتھوڑایادپڑتاہے کہ مسجدکے شمالی حصہ میں دارجدیدفوقانی میں ہم لوگوں کی رہائش تھی،مفتی صاحب بھی اسی کمرے میں رہاکرتے تھے،مجھے یادہے کہ مفتی صاحب ہروقت کتابوں میں لگے رہتے،غالباعربی اول یافارسی کی جماعت میں زیرتعلیم تھے،میں نے ہمیشہ انہیں پڑھتے ہوئے پایا۔پڑھنے کے علاوہ عصرکے بعدانہیں کھیلنے سے بہت دلچپسی تھی اورکرکٹ کے بہت شوقین تھے اوربہت اچھی کرکٹ بھی کھیلاکرتے تھے۔
دارالعلوم دیوبندمیں
مدرسہ حسینیہ رانچی کازمانہ طالب علمی چوں کہ بہت ہی غیرشعوری کازمانہ تھا،اس لئے اس زمانے کی باتیں تواب یادبھی نہیں رہی۔اس کے بعدمفتی صاحب دارالعلوم دیوبندچلے گئے اورمیں کلکتہ چلاآیا۔رمضان کی تعطیل میں جب مفتی صاحب دیوبندسے گھرآتے توعیدکے موقع سے ملاقات ہوتی۔مفتی صاحب بہت ہی زندہ دل،ہنس مکھ،ملنساراوریاروں کے یارواقع ہوئے تھے۔جس کسی سے ملتے توبڑی خندہ پیشانی گرم جوشی سے ملتے،صاف گوتھے،اگرکوئی بات خلاف طبع دیکھتے توبرجستہ کہہ دیتے،دوردورتک منافقت کاکوئی شائبہ ان کے اندرنہیں تھا۔غلطیوں پرمتنبہ کرنااورپھربڑ ی ہی خوش اسلوبی سے حوصلہ افزائی کرنے کابڑااچھاہنررکھتے تھے۔اپنے چھوٹوں کوآگے بڑھنے کی ترکیب بھی سکھاتے اورانہیں آگے بڑھنے کاموقع بھی فراہم کرتے۔عید،بقرعیدیاکبھی کبھارششماہی تعطیلات کے مواقع پرجب گاؤں میں ملاقات ہوتی توبڑی شفقت سے ملتے ،حال احوال دریافت کرتے،تعلیمی سرگرمیوں کی جانکاری لیتے اورپھرحسب موقع مناسب مشوروںسے نوازتے۔
وقت گذرتاگیا۔مدرسہ اسلامیہ شکرپورمیں عربی دوم کی تعلیم مکمل کرنے کے بعداچانک میں نے دیوبندجانے کافیصلہ کرلیا۔میرے اس فیصلہ پروالدصاحب کوتکلیف بھی ہوئی لیکن پھرانہوں نے اجازت دےدی۔جب میں دیوبندپہونچاتودارالعلوم دیوبندمیں داخلہ بندہوچکاتھا،بڑی مایوسی ہوئی۔کچھ قدیم احباب پہلے سے دیوبندپہونچے ہوئے تھے،ان حضرات نے مشورہ دیاکہ وقف دارالعلوم میں داخلہ لے لو۔میں نے بھی ادھرادھرجانے کی بجائے دیوبندمیں ہی رہنے کوترجیح دی اوروقف دارالعلوم کے داخلہ امتحان میں شریک ہوگیا۔اتفاق سے میراداخلہ وقف دارالعلوم میں منظوربھی ہوگیا۔لیکن پھرہوایوں کہ ہمارے ایک سینئرساتھی نے کہاکہ وقف میں بڑی پریشانی ہے ایساکروکہ گنگوہ چلے جاؤ،ایک سال وہاں پڑھ لوپھرآئندہ سال دیوبندآجانا۔میں نے بھی ان کی بات مانتے ہوئے گنگوہ کارخ کیااوروہاں داخلہ لے کرپڑھنے لگا۔تقریباپندرہ دن گنگوہ میں رہنے کے بعدمفتی صاحب سے ملاقات کے لئے دیوبندآیا۔مفتی صاحب سے ملاقات ہوئی،حال احوال دریافت کرنے کے بعدفوراناراض ہوگئے اورکہاکہ دیوبندایسی جگہ ہے کہ یہاں کھیل کودکربھی انسان علامہ بن جاتاہے۔وہ اپنے چھوٹوں کوبھی آپ کہہ کرمخاطب کیاکرتے تھے۔مجھ سے کہنے لگے کہ اب آپ کوکہیں نہیں جاناہے بلکہ یہیں وقف میں ہی رہناہے انشاء اللہ آئندہ سال دارالعلوم میں داخلہ ہوجائے گا۔اتناکہہ کرمیراہاتھ پکڑااورمجھے وقف دارالعلوم دیوبندکے ناظم تعلیمات حضرت مفتی انوارالحق صاحب مرحوم کے پاس لے کرچلے گئے ۔راستہ میں انہوں نے مجھے سمجھادیاکہ جب مفتی صاحب پوچھیں کہ اتنے دن کہاں تھے توکہہ دیناکہ بیمارپڑگیاتھا۔دہلی میں علاج کرارہاتھا۔خیرحضرت مفتی انوارصاحب نے عذرقبول کرکے داخلہ کی کارروائی مکمل کرنے کی سفارش کردی۔
دراصل یہی وہ واقعہ ہے جوہمارے اورمفتی صاحب کے درمیان ایک مضبوط رشتہ کی بنیادبنا۔یہاں سے اس رشتے کاآغازہواجوآج ان کی موت کے ساتھ ہی ختم ہوا۔لیکن اسے ختم نہیں کہیں گے بلکہ اورمضبوط ہوگیا۔گرچہ آج مفتی صاحب ہمارے درمیان نہیں ہیں،لیکن ان کی یادیں،ان کی باتیں،ان کے اصول اورعملی زندگی کے بہت سارے ایسے گرجوہم نے ان سے سیکھاوہ ہمیشہ مفتی صاحب کوہمارے دلوں میں زندہ رکھے گا۔دیوبندکے زمانے میں تقریبادوسال ساتھ رہنے کااتفاق ہوا۔جس سال میں دیوبندگیاتھااس سال مفتی صاحب دورۂ حدیث میں تھے۔اللہ نے بلاکی ذہانت دی تھی،کتاب کوسمجھنے اورسمجھانے کاخاص ملکہ عطافرمایاتھا۔میری ہدایۃ النحوکمزورتھی،رات میں مجھے وہ اپنے کمرہ پربلاکرمجھے ہدایۃ النحوپڑھایاکرتے تھے۔اسی طرح مضمون نگاری کی مشق بھی کراتے تھے۔یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ ہم دونوں نے انگریزی کاٹیوشن ایک ساتھ کیا۔ایک ساتھ انگریزی پڑھتے تھے اوربول چال کی مشق بھی کیاکرتے تھے۔عموماگاؤں میں یاکہیں ایسی جگہ جہاں پہ چندلوگ ہوتے اوراچانک ہم دونوں کوکوئی خاص بات کرنی ہوتی یاکچھ ایسی مجبوری پیش آجاتی کہ دوسرے لوگ نہ سمجھ سکیں توفورامفتی صاحب انگریزی میں ایک دوبات کہہ کرمجھے اشارہ کردیتے اورپھرہم لوگ اسی کے مطابق اپناکام کرجاتے۔رمضان کی تعطیل کے بعدمجھے دارالعلوم میں داخلہ لینے کے لئے فورادیوبندجاناتھا۔مفتی صاحب نے مجھ سے کہاکہ رمضان میں گھرپرتیاری کرو۔اورجوکتاب نہ سمجھ میں آئے میں سمجھادیاکروں گا۔میں نے کہا کہ قدوری بالکل نہیں پڑھاہوں۔مفتی صاحب روزظہرکے بعدمیرے گھرتشریف لاتے اورمجھے قدوری پڑھاتے۔اورالحمدللہ انہوں نے اتناپڑھادیاکہ میں امتحان میں شریک ہونے کے لائق ہوگیا۔
مفتی صاحب دارالعلوم میں بہت ممتازطالب علم تھے۔اپنی صالحیت اورصلاحیت کی وجہ سے اساتذہ کے محبوب نظرتھے۔دارالعلوم میں مفتی صاحب کوسب سے زیادہ شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے شعبہ مناظرہ کے ایک بڑے مقابلہ میں پنڈت کاکرداراداکیااورمزے کی بات یہ ہے کہ صرف کردارہی ادانہیں کیابلکہ اس کردارمیں مکمل اترگئے۔جب دارالحدیث میں بھگواکپڑاپہن کر،ہاتھ میں کمنڈل اوربڑے دانوں والی مالالے کر،سرپرچوٹی باندھے منترپڑھتے ہوئے تشریف لائے توپورادارالحدیث قہقہوں سے گونج اٹھا،اکابراساتذہ اسٹیج پرتشریف فرماتھےسب مفتی صاحب کودیکھ کرحیران وششدرتھے۔اورپورادارالحدیث اس وقت مزیدحیران وششدررہ گیاجب انہوں نے بالکل پنڈتوں کے اندازمیں منترپڑھناشروع کردیا۔اس مناظرہ نے مفتی صاحب کودارالعلوم کے احاطہ میں بالکل ہی نئی شناخت عطاکی،اساتذہ نے آپ کے اندرچھپے ہوئے ایک نئے جوہرکودیکھااوراساتذہ کی چمکدارآنکھیں یہ بتارہی تھیں کہ آگے چل کریہ ضیاء الحق بڑاکام کرنے والاہے ۔یقینایہ مناظرہ مفتی صاحب کی زندگی کے لئے بڑی اہمیت کاحامل تھا۔اوریہ سب ایسے ہی نہیں ہوگیاتھابلکہ خودمفتی صاحب نے بتایاکہ اس مناظرہ کی تیاری کے لئے انہوں نے کئی مرتبہ دیوبندمیں واقع مندردیوی کنڈکاچکرلگایا،وہاں کے پنڈتوں کے ساتھ ملاقات کی اورمنترپڑھنے کاطریقہ سیکھاتب جاکروہ اس کردارکومہارت کے ساتھ اداکرنے میں کامیاب ہوئے۔
مفتی صاحب توچلے گئے اور ہمیں اپنی یادوں کے سہارے چھوڑگئے۔آج ان سے متعلق بہت سارے واقعات ہیں جوذہن کے اسکرین پرنمودارہورہی ہیں۔سچ تویہ ہے کہ اگران سب کولکھنے بیٹھ جاؤں تومکمل ایک کتاب تیارہوجائے گی لیکن ابھی ناممکن ہے۔
دورۂ حدیث شریف سے فراغت کے بعدمفتی صاحب کی بڑی خواہش تھی کہ وہ افتاکریں۔جب میںدیوبندآرہاتھاتومفتی صاحب نے مجھے تاکیدکی کہ دیوبندپہونچنے کے بعدسب سے پہلاکام یہ کرناکہ نتائج امتحان سے میرے نمبرات دیکھ کرمجھے بذریعہ ٹیلی گرام اطلاع کردیناتاکہ میں بروقت پہونچ کرشعبہ افتامیں داخلہ لے سکوں۔میں نے بھی پہونچنے کے بعدسب سے پہلاکام یہی کیاکہ مفتی صاحب کے نمبرات حاصل کرکے انہیں ٹیلی گرام کردیااوروہ وقت پردیوبندپہونچ گئے اورشعبہ افتامیں داخلہ حاصل کرلیا۔یقیناشعبہ افتامیں ان کاداخلہ ہم سبھوں کے لئے خوشی ومسرت کاباعث تھاکیوں کہ اس وقت تک ہمارے گاؤں میں کوئی مفتی نہیں ہواتھا۔مفتی صاحب فخرسے کہاکرتے تھے کہ میں اس گاؤں کاپہلامفتی ہوں۔اورالحمدللہ گاؤں والوں نے بھی ان کی قدرافزائی میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔عیدہویابقرعیداگرمفتی صاحب موجودہیں تونمازوہی پڑھائیں گے۔گاؤں کے ہرشخص کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ مفتی صاحب کی تقریرسنیں اورمفتی صاحب کے پیچھے نمازاداکریں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خاندانی اعتبارسے مفتی صاحب کامقام گاؤں میں کچھ نہیں تھا،وہ ایک متوسط گھرانے کے یتیم لڑکے تھے۔بڑے بھائی نے پرورش کرکے اعلیٰ تعلیم دلائی تھی،لیکن ان کے علم نے انہیں گاؤں میں وہ مقام بلندعطاکیاکہ مفتی صاحب کے بعدشایدہی کسی کووہ مقام میسرہوسکے۔
تدریسی زندگی
دارالعلوم سےفراغت(1996) کے بعدکچھ دنوں انہوں نے کلکتہ کے ایک بڑے ادارے میں تدریسی خدمات انجام دیں۔لیکن وہاں کاماحول انہیں راس نہیں آیاتواپنے استاذگرامی شیخ عبدالحق اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبندکی ایماپردہلی کے ایک مدرسہ بیت العلوم جعفرآبادتشریف لے گئے اورکچھ دنوں وہاں بھی خدمات انجام دیں۔لیکن میں نے ان دنوں محسوس کیاکہ اندرسے ان کادل مطمئن نہیں تھا۔انہیں دنوں غالبا1998 کازمانہ تھا۔دارالعلوم دیوبندمیں شوریٰ کااجلاس ہورہاتھا۔مفتی صاحب دہلی سے دیوبندآئے۔عمومادیوبندمیں ان کاقیام میرے ہی پاس ہوتاتھا۔مجھے انہوں نے خوش خبری سنائی کہ میں حضرت مولاناازہرصاحب (رحمۃ اللہ علیہ) مہتمم مدرسہ حسینیہ رانچی سے ملنے آیاہوں،خوشی کی بات ہے کہ انہوں نے مجھے خودطلب کیاہے اورمجھے رانچی چلنے کے لئے کہہ رہے ہیں،میں نے کہامفتی صاحب! بس اللہ کانام لے کرآپ رانچی چلے جائیں انشاء اللہ سب خیرہوگا۔اورپھرسبھوں نے دیکھاکہ رانچی گئے توپھررانچی کے ہی ہوکررہ گئے۔مفتی صاحب کے رانچی چلے جانے کے بعدملاقاتوں کاتسلسل کچھ کم ہوگیا،پھرصرف رمضان کی تعطیل میں ہی ملاقات ہواکرتی تھی،لیکن وہ مختصرملاقاتیں بھی ثمرآورہوتی تھیں۔
سماجی ورفاہی زندگی
2000 میں جب میں دارالعلوم دیوبندمیں دورۂ حدیث کاطالب علم تھا۔اسی زمانے میں ہمارے ذہن میں ایک خیال آیاکہ اپنے ضلع میں تعلیمی بیداری مہم چلانے کے لئے ایک تنظیم قائم کی جائے۔میں نے اپنے اس خیال کااظہاررفیق محترم مفتی مجتبیٰ حسن قاسمی سے کیاتوانہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں ہم لوگ مفتی اعجازارشدقاسمی صاحب سے ملاقات کرکے اس کوحتمی شکل دیتے ہیں۔بہرحال تنظیم کے قیام کی تمام ترتیاریاں مکمل کرلی گئیں۔جب انتخابی اجلاس ہواتومفتی اعجازارشدقاسمی صاحب صدرمنتخب کئے گئے۔ناچیزکوجنرل سکریٹری بنایاگیا۔اسی دوران جب کہ نائب صدرکے عہدہ کے لئے کسی مضبوط اورمناسب شخص کی تلاش کی جارہی تھی تومیں نے مفتی ضیاء الحق صاحب کانام پیش کردیا،عجیب اتفاق ہے کہ مفتی صاحب کانام سنتے ہی مجلس میں موجودتمام شرکاء نے بیک زبان تائیدکی اوراس طرح مفتی صاحب کونائب صدرمنتخب کرلیاگیاحالاںکہ مفتی صاحب اس مجلس میں موجودنہیں تھے،ان کاانتخاب غائبانہ ہواتھا،یہ ان کی بے پناہ صلاحیت اوراہل علم میںمقبولیت کی دلیل تھی۔پھراسی مجلس میں بعض احباب بالخصوص مولانامحمدشاہدقاسمی استاذدارالعلوم وقف دیوبندوغیرہ کی رائےہوئی کہ چوں کہ مفتی صاحب بہت ہی ذہین اورگوناگوں خوبیوں کے حامل انسان ہیں توکیوں نہ انہیں تنظیم کاترجمان بھی بنادیاجائے کیوں کہ ان سے اچھی ترجمانی کوئی نہیں کرسکتا۔حسن اتفاق کہ یہ تجویزبھی متفقہ طورپرمنظورکرلی گئی اورمفتی صاحب تنظیم کے نائب صدراورترجمان قرارپائے۔بعدکے دنوںمیں جب تنظیم نے کام کیاتوسب نے اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ مفتی صاحب ہمیشہ ہرکام میں آگے آگے رہے اورہرمہم کوکامیاب کرنے میں اپناگراں قدرتعاون پیش کیا۔مفتی صاحب صرف درس وتدریس یاخطابت کے میدان کے ہی آدمی نہیں تھے بلکہ مفتی صاحب ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک انسان تھے اوران کاکام بھی ہمہ جہت ہواکرتاتھا۔گاؤں میں نوجوانوں میں علمی ذوق پیداکرنے کے لئے افکارلائبریری قائم کیا،علاقے میں بچوں کودینی وعصری تعلیم دلانے کے لئے اپنی نگرانی میں مولاناشہزادانجم قاسمی صاحب کے ذریعہ انسان پبلک اسکول کی بنیادڈلوائی۔اس کے علاوہ گاؤں اورعلاقہ میں کسی قسم کاکوئی علمی یاتحریکی کام ہوتااس میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے اورکام کرنے والوں کی خوب حوصلہ افزائی فرماتے۔دملہ سے تعلق رکھنے والے فعال ومتحرک نوجوان ڈاکٹرفیض الرحمان فیض نے جب کھرمادربھنگہ میں الشفاہسپتال قائم کرنے کافیصلہ کیاتومفتی صاحب نے ان کی بھرپوررہنمائی کی اورخوب حوصلہ افزائی کی اورہسپتال کے قیام میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا،اتناہی نہیں بلکہ اس ہسپتال میں تین لوگ پارٹنرکی حیثیت سے کام کررہے ہیں جس میں ایک مفتی صاحب،دوسرے ڈاکٹرفیض الرحمن فیض صاحب اورتیسرے پارٹنرڈاکٹرعبدالرافع صاحب ہیں۔آج الحمدللہ یہ ہسپتال قوم وملت کی خدمات میں مصروف ہے۔
آہ مفتی صاحب!
ابھی کچھ دنوں قبل کی ہی توبات ہے کہ اچانک گھرپرملاقات ہوگئی،شام کاوقت تھا،کہنے لگے کہ ایساکرتے ہیں کہ گاؤں سے بالکل باہرکہیں سنسان جگہ چلتے ہیں،بہت دن ہوئےآپ کے ساتھ تنہائی میں بیٹھ کرباتیں کئے ہوئے۔میں نے کہاجی بالکل،میں نے گاڑی نکالی،مفتی صاحب کوبٹھایااورکوکلاچورکی جانب چل پڑے،لیکن سوئے اتفاق کہ شام ہوچکی تھی اورکافی دیرہوگئی تھی لہذاتمام دوکانیں بندہوگئیں،چاروناچارہمیں نامرادواپس ہوناپڑا۔واپسی پرہم لوگ مخلص ومکرم جناب ڈاکٹرممتازصاحب کے گھرچلے گئے ،کچھ دیربیٹھے،ڈاکٹرصاحب ہم دونوں کوساتھ دیکھ کربہت خوش ہوتے تھے،اس موقع پربھی انہوں نے اپنی خوشی کااظہارکیااورہم لوگوں کی ضیافت کی۔
حقیقت یہ ہے کہ گاؤں میں بھلے ہی مفتی صاحب کے ساتھ میراکوئی خونی رشتہ نہیں تھا،لیکن انہیں مجھ سے اورمجھے ان سے اس قدرقلبی لگاؤ تھاکہ اگرہم لوگ گاؤں میں ہوں اورملاقات نہ ہوتوبہت افسوس ہوتاتھا،اسی طرح گاؤں کے لوگوں کایہ حال تھاکہ ہم دونوں میں سے کسی ایک کودیکھتاتودوسرے کے بارے میںضروردریافت کرتا۔عموما گاؤں میں مفتی صاحب ،میں اورقاری اخلدصاحب(استاذمدرسہ حسینیہ رانچی) ایک ساتھ ہواکرتے تھے۔بات طویل ہوتی جارہی ہے لیکن ابھی تک مفتی صاحب کی زندگی کاایک گوشہ بھی سامنے نہیں آسکاہے۔جس وقت سے مفتی صاحب کے ناگہانی وفات کی خبرسنی ہے دل ودماغ منتشرہے،کچھ سمجھ میں نہیں آرہاکہ کیالکھوں اورکیانہ لکھوں۔مغرب بعدسے اب تک تقریباپچاسوں فون آگئے،ہروہ شخص جومفتی صاحب سے ادنیٰ ساتعلق رکھتاہے اوراسے میرے تعلق کاعلم ہے ان تمام نےمجھے فون کرکے یاتوخبرکی تصدیق کی یاجنہیں تصدیق ہوگئی توانہوں نے مجھ سے تعزیت کی۔سب سے پہلے دہلی سے مفتی احمدنادرالقاسمی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا،دیوبندسے مولانامحمدشاہدقاسمی استاذدارالعلوم وقف دیوبند،مولانافضیل احمدناصری استاذحدیث ونائب ناظم تعلیمات جامعہ امام انوردیوبند،قاری اسجدزبیرجامعی صدرجامعہ عربیہ شمس العلوم شاہدرہ دہلی،مولانامحمدشاہدناصری الحنفی صدرادارہ دعوۃ السنہ مہاراشٹرا،مولاناکمال الدین قاسمی بریدہ قصیم سعودی عرب،مولانامحمداللہ قیصرقاسمی دہلی،مفتی مجتبیٰ حسن قاسمی استاذحدیث وفقہ دارالعلوم ماٹلی والابھروچ گجرات،مولاناحسنین احمدقاسمی بانی وناظم جامعہ عائشہ نورچک مدھوبنی،مولاناعمرفاروق قاسمی دملہ مدھوبنی،ڈاکٹرفیض الرحمن فیض وغیرہ۔
مفتی صاحب صرف علوم دینیہ کے ہی ماہرنہیں تھے بلکہ علوم عصریہ کے بھی وہ ماہرتھے۔انگریزی میں ایم اے کیاتھااورغالباایم فل کررہے تھے۔اردوتوان کی مادری زبان تھی،عربی زبان پرعبورتھاہی انگریزی زبان بھی وہ مادری زبان کی طرح ہی بولاکرتے تھےاوربالکل انگریزوں کی طرح،جس سے سامنے والے کوشبہ ہونے لگتاکہ آیایہ شخص غیرملکی تونہیں۔صاحب تصنیف بھی تھے۔صحیح یادتونہیں لیکن اتنایادہے کہ تقریباچارپانچ کتابوں کے مصنف بھی تھے۔یہ ان کابڑکپن تھااورمجھ سے بے پناہ محبت کانتیجہ تھاکہ اپنی ایک کتاب پربحیثیت ناشرمیرانام لکھ دیاتھا۔
اللہ نے باطنی خوبیوں کے ساتھ ظاہری حسن سے بھی نوازاتھا،ماشاء اللہ نورانی چہرہ،اورچہرے پرہمیشہ رہنے والی مسکراہٹ آپ کے حسن کومزیددوبالاکردیتی تھی۔بہت ہی باہمت اوراولوالعزم انسان تھے،جس چیزکوٹھان لیتے اسے انجام تک پہونچاکرہی دم لیتے تھے۔بہت بڑادل تھا،اس دل میں نہ جانے کتنے غموں کوچھپارکھاتھا،اپنی پریشانی اورمشکلات کبھی کسی پرظاہرنہیں ہونے دیتے۔مفتی صاحب کی ذاتی زندگی سے متعلق بہت ساری باتیں ایسی ہیں جومیرے سینے میں مدفون ہیں،اللہ نے موقع دیاتوانشاء اللہ مفتی صاحب کی حیات وخدمات پرایک مختصرکتابچہ تحریرکروں گا۔گذشتہ دوتین سالوں سے گھریلومسائل میں بری طرح الجھ کرر ہ گئے تھے۔ان مسائل کے بعدمیں نے اکثرمحسوس کیاکہ مفتی صاحب اندرسے بری طرح ٹوٹ چکے تھے،وہ صرف مصنوعی ہنسی ہنساکرتے تھے تاکہ کوئی ان کے اندرونی کرب اوربے چینی کومحسوس نہ کرسکے ۔لیکن آج ان کے ان ہی کرب اوربے چینیوں نے مفتی صاحب کومجبورکردیاکہ وہ اپنی جان جان آفریں کے سپردکردیں۔
آخرمیں مفتی صاحب کومخاطب کرتے ہوئے کہ اتنی بھی کیاجلدی تھی میرے بھائی! کہتے ہوئے اپنی بات ختم کرتاہوں۔جانے والاتوچلاگیا،لیکن اپنے پیچھے رونے والوں کاایک ہجوم چھوڑگیا۔اب ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم مفتی صاحب کے لئے مغفرت کی دعاکریں ،ان کے بتائے ہوئے نقوش پرچل کراپنی عاقبت کوسدھارنے کی کوشش کریںاوراللہ سے دعاکریں کہ اللہ ان کے اہل وعیال کے لئے خزانہ غیب سے کفالت کاانتظام کرے ۔آمین
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker