Baseerat Online News Portal

مفتی ضیاء الحق قاسمی:خوش درخشید ولے شعلۂ مستعجل بود!

احمد بن نذر
‘‘دھچکا’’کے حقیقی مفہوم سے آشنا اور اس کی حشر سامانیوں کے شناسا وہی ہوسکتے ہیں، جنہیں کبھی خود اس کیفیت سے گزرنے کی نوبت آئی ہو، ورنہ اطلاعات و اعلانات ایک تسلسل کے ساتھ آنکھوں کے آگے سے سرکتے اور کانوں کے پردے سے ٹکراتے ہوئے گزرتے چلے جاتے ہیں؛ لیکن یہ آنکھوں اور کانوں کے آس پاس بھی کوئی ارتعاش تو کیا پیدا کرتے،ہلکی سی جنبش کابھی سبب نہیں بنتے، مگر کچھ خبریں ایسی حیران کن،غیر متوقع اور اندوہ ناک ہواکرتی ہیں کہ ان سے واقف ہو کر وقتی طور پہ ذہن و عقل کی کائنات پر اس طرح سکتہ طاری ہو جاتا ہے، گویا لمحہ بھر کو وہ مفلوج ہو کے رہ گئے ہوں اور ایسی’’خبرِ مفاجات‘‘سے وہ دھچکا لگا کرتا ہے، جو سننے والے کے پورے وجود کو اپنی‘‘امر بیل’’کی لپیٹ میں لیے اسے بے حس و حرکت بنادیتا ہے۔لکھنے والے کا قلم بھی فی الحال ایسے ہی ایک‘‘دھچکے’’کی زَد میں ہے کہ اس کی مادرِ علمی(مدرسہ حسینہ،رانچی)کے جواں سال،تنومند،نام ور،ژرف نگاہ اور ذی استعداد استاذمفتی ضیاء الحق قاسمی کا سانحۂ ارتحال رونماہوا ہے۔
اس خبر سے’’دھچکا’’لگا، تو لگنا بنتا بھی تھا کہ ایک شخص، جس کے کاروانِ عمر نے محض تین چار دہائیاں ہی طے کی تھیں، یکایک،اچانک اور یک بہ یک‘‘جوارِ رحمت’’کی منزل کے لئے اس کا بلاوا آگیا،کوئی کس طرح یقین کرے کہ وہ ذات، جس نے اپنی کم عمری و نوعمری کے دنوں سے ہی سینے میں موجود کمالاتِ پوشیدہ و صفاتِ ستودہ سے اپنے ہم نشینوں و ہم سبقوں میں اپنی مخصوص شناخت بنا اور پا لی تھی،جس نے ایک چھوٹے سے گاؤں سے اٹھان پائی اور اپنے علو فکر وبلند ہمتی سے کام لے کے ایسا’دراز قامت‘‘ہوتا چلا گیا کہ مشاہدہ کرنے والی نگاہیں مارے تحیُّر کے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں،جس نے اپنے بانک پن اور نرالی دھج سے ان مقامات کو ایک‘‘لپکے’’میں جا لیا، جن کے طے کرنے میں عمریں بیت جایا کرتی ہیں،جس نے معاصر ین کے درمیان اس طرح تمغۂ امتیاز پایا کہ اس کے احبا واعزہ کیلئے اس کا نام وجہِ تفاخر اور سببِ تعارف قرار پایا،آج اس کا جسم ساکت،لب ایک دوجے سے پیوستہ وخموش،آنکھیں منجمد اور اس کی ہستی فنا کی وادیوں کے لیے کوچ کرنے کو آمادہ ہے۔
ان سطور کے لکھنے والے نے انہیں دیکھا ہی نہیں بار بار دیکھا کہ‘‘مدرسہ حسینیہ’’کے زمانۂ تعلّم وقیام کے دوران سال بھر کے عرصے میں کمرے سے درس گاہ جاتے،مسجد سے کمرہ واپس ہوتے،اپنی بلڈنگ سے دوسری بلڈنگ کو جاتے اور اکثر’’باب ازہر‘‘سے داخل ہوتے ،تو کبھی نکلتے ہوئے بارہا ان کا سامنا ہو جایا کرتا۔تب ان کی کتابوں میں سے محض’’پسندیدہ مکالمے‘‘ہی دیکھی،پڑھی اور سنی ہوئی تھی، سو ان کے مصنف ہونے کی دھاک تو دل میں بیٹھی ہی تھی، پھر یہ کہ’’مدرسہ حسینیہ‘‘کا سختیوں سے پُر ماحول کہ جہاں اساتذہ وطلبہ کے دوستانہ تعلقات تو کجا،ان کے آپس میں’’فرینک‘‘ہونے کی بابت دور دور تک سوچا بھی نہ جا سکتا تھا،عالم یہ تھا کہ استاذ محترم دوسو میٹر کی دوری پہ کھڑے کسی سے محوِ گفتگو ہوں یا بیٹھے ہوئے سردیوں کی دھوپ سینک رہے ہوں،تو اس دوران کسی طالب علم کی مجال نہ تھی کہ ان کے سامنے سے؛ بلکہ نظروں میں آتے ہوئے گزرنے کا بھی’’رِسک‘‘اٹھانے کی ہمت کر سکے؛ لیکن اس’’ڈسپلن زدہ‘‘فضا میں بھی مفتی ضیاء الحق کا ایسا’’ریزر‘‘رویّہ دیکھا ،نہ سنا،آپ’’باب ازہر‘‘سے داخل ہو رہے ہوں اور ان سے سامنا ہوجائے، تو سلام کیجیے اور تبسم آمیز جواب سے’’حرارت بھرے موسم‘‘میں شبنم کے سکوں بخش پھواروں کے پڑنے کا احساس کیجیے!
ان کی بات چل نکلی ہے، تو جی چاہتا ہے کہ لگے ہاتھوں ایک دو واقعات کا تذکرہ کر ہی دیا جائے، مگر ساتھ ہی یہ خوف بھی دامن گیر ہے کہ’’کرم فرماؤں’‘‘کے ذریعے’’غول‘‘کا ان واقعات میں موجود’’خود ستائی‘‘کے پہلو ڈھونڈ کے’’اپنیمنہ میاں مٹھو بننے‘‘کی پھبتیوں سے نوازاجاؤں، سو انہیں بادلِ ناخواستہ قلم انداز کیا جاتاہے۔
شنیدہ وخواندہ ہے کہ ایام طالب علمی میں ہی ان کی ان کی بیش بہا لیاقتوں کے باعث امتیازی و اعلی نمبرات سے کام یابی نے انہیں رفقاے درس کے درمیان موضوعِ گفتگو بنادیا تھا،ان کی تالیفات کی فہرست میں کئی مطبوعہ کتابوں کے علاوہ متنوع موضوعات پر مختلف غیر مطبوعہ کتب و مقالات بھی شامل ہیں،حالات کو بہ خوبی سمجھنے اور زمانے کی لَے کو پرکھنے کی خاطر آپ نے انگریزی نہ صرف بہ قدر ضرورت حاصل کی؛ بلکہ کافی حد تک اس پر دست رس حاصل کر کے خود کو’’در کفے جام شریعت،در کفے سندانِ عشق‘‘کے عملی نمونے کے طور پہ پیش کیا،خطابت کی بو قلموں وادی میں بھی اپنے منفرد طرزِادااوریگانہ اندازِ بیان نے انہیں جہاں عوام میں مقبولیت بخشی تھی ،وہیں خواص میں ان کے فاضلانہ اسلوب اور عالمانہ لب ولہجے نے انہیں خطبا کی صف میں ایک جداگانہ مقام عطا کردیا تھا۔
آنکھیں کھولنے،کلکاریاں مارنے اور ہوش سنبھالنے سے لے کر طفولیت کی سرحدیں عبور کرتے ہوئے اقلیمِ شباب کی طرف جانکلنے تک،خاندانی مکان و رہائش سے لے کر دادیہال و نانیہال کے جدی و آبائی پیشوں تک،لیاقت وقابلیت کے بالتفصیل تذکرے سے لے کے کامرانیوں و نیک نامیوں تک کے تمام عنوانات سے صرفِ نظر کہ یہ سارے عناوین ان کی حیات وخدمات پر دادِ تحقیق دینے والے اصحابِ قلم کے مقالات و مضامین کا حصّہ ہونے کو ہیں، بس ان کی شفقتیں،عنایتیں،نوازشیں،شوخیاں،نکتہ سنجیاں اور خوش خوئیاں یاد آ آکے افسردہ وسوگوارکررہی ہیں اورمفتی صاحب کے حوالے سے دل میں بار بار یہ خیال آرہاہے کہ:
خوش درخشیدولے شعلۂ مستعجل بود!
(بصیرت فیچرس)

You might also like