Baseerat Online News Portal

یوم شہادت: چشم فلک جسکے دیدار کو ترسے۔۔۔۔!

سید احمد
دنیا کے اسٹیج پر بہت سی سلطنتیں نمودار ہوئیں اور قصہ پارینہ بن گئیں، بہت سے سلاطین اٹھے اور اقوام عالم پر عروج کی ناقابل یقین منزلیں طے کیں، افراد بشریہ پر حیرت ناک قابو حاصل کیا لیکن پھر مٹ گیا، بلکہ ملیامیٹ ہو گیا، جن میں سے اکثر کا نام تک کوئ نہیں جانتا، اور بہت سوں کے نام تو رہ گیا مگر انہونے بھی چند منفی کارناموں کے علاوہ کوئ یادگار نہ چھوڑی، فراعین مصر، کسرایانِ فارس، قیاصرہْ روم اسکی بہترین مثالیں ہیں۔
مگر تاریخ عالم کے اندر عالمی قیادت کی جولان گاہ میں کچھ ایسی شخصیات بھی جلوہ گر ہوئیں ہیں جنکے انمٹ نقوش رہتی دنیا تک کے لئے تاریکی میں چراغ کا کام دیتے رہیں گے۔
انہیں میں سے ایک ممتاز تر شخصیت جو علم و حکمت، عدل و اتقاء، فہم و فراست، اور ذکاوت و دوراندیشی کا نہایت متوازن امتزاج اور حسین سنگم ہے، جسکا مشاہدہ اسکے بے مثال انداز حکومت، محیر العقول کارناموں , اور لازوال افکار سے کھلی آنکھوں ہوتا ہے، جس نے ایک ایسی ہمہ جہت، آفاقی، اور پُر رونق سلطنت کی بنیاد رکھی جسکے ذریعے ہزاروں بے بسوں کو سہارا ملا، لاکھوں مظلومین کو انصاف ملا، بے شمار تنگ دستوں اور مفلسوں کو راہ معاش نصیب ہوئ، اور سسکتے بلکتے وہ افراد جو شاہان عالم کی شہنشاہیت اور ظلم و ستم کا تختہ مشق بنے ہوئےتھے اور جنکا مقصدِحیات امراء اور شاہی طبقے کی راحت اور دل لگی کے لئے اپنی زنگی لٹادینے اور تمام خواہشات کو قربان کردینے کے سوا کچھ نہ تھا وہ نور ہدایت سے بہرہ ور ہو اور آخرت کی ابد الآباد نعمتوں اور خوشیوں کے حصول کے ساتھ دنیا میں بھی آرام دہ اور پُرسکون فضاء کے باشندے بنے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ اس عظیم شخصیت کو موضوع گفتگو بنانا اصحابِ علم و فن اور شہسوارانِ قلم کے لیے بھی ہمت و حوصلے کی بات ہے چہ جائیکہ مجھ جیسا بےبضاعت اور کم مایہ علم۔
جی ہاں!
یہ بالکل حق ہے کہ اس نفس متبرک کے محاسن اور محامد مذکورہ خوبیوں اور صفات سے کہیں زیادہ اور بڑھ کر ہیں جسکو ہم امیر المؤمنین خلیفۃ المسلمین عمر بن الخطاب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتے ہیں۔
وہی عمر بن الخطاب جس نے اپنے دس سالہ دور خلافت میں روئے زمین پر ایسا امن وامان اور عدل و انصاف قائم کیا کہ جسے دیکھنے کو چشم فلک اسکے بعد سے ترس رہی ہے اور انسانیت جسکے لئے اسکی وفات کے بعد سے بلک رہی ہے۔
وہی حکمراں جسکے دور حکومت میں ایک ہزار چھتیس شہر مع مضافات کے فتح ہوئے ، وقت کی متمدن، مہذ ب اور مضبوط ترین حکومتوں قیصر و کسریٰ پر خلافت اسلامیہ کی ہیبت و عظمت کا سکہ بیٹھ گیا اور فتوحات کا ایسا تانتا بندھا کہ ملکِ شام کی وسیع و عریض، اور زرخیر و شاداب سرزمین رومن امپائر کی سرحد سے نکل کر خلافت اسلامیہ کے دائرۂ اقتدار میں شامل ہوگئی اور بلاد شام کی فصیلوں پر حکومت الہیہ کاپھریرا لہرانے لگا۔
فارس کی ساسانی حکومت جو کئ صدیوں سے ناقابل تسخیر دفاعی قوت سمجھی جاتی تھی خدائی فوج سے ٹکرانے کے بعد برائے نام بھی اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکی، اور کسریٰ کے آہنی چنگل میں پھنسے ہوئے تمام تر علاقوں پر محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دیوانوں کا جھنڈا گڑ گیا۔
نیز اس باخدا اور الوالعزم شخص نے محض سرحدوں کی توسیع اور فتوحات کی کثرت پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ممالک محروسہ میں پُر سکون فضاء قائم کی، وہاں کے باشندگان کو مکمل سلامتی اور عدل فراہم کیا اور ذمیوں کو ہر جگہ تعجب خیز تحفظ مہیا کیا، بیت المال کے شعبہ کو باضابطہ منظم کیا، محکمہ شرطہ(پولیس) کی بنیاد ڈالی، ڈاک کا نظام قائم کیا، سن ہجری کی کی بناء رکھی، اور اپنے ماتحتوں اور زیر دستوں کے لیے عملی و فکری طور پر وہ نظریہ فروغ دیا جسکا عالم تخیلات میں بھی اس سے قبل کوئی وجود نہیں تھا۔
جس کا قولی اظہار اسکے ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ ’’اگر دجلہ و فرات کے کنارے پر بھی کوئ کُتّا بھوکا سو گیا تو ابن الخطاب کو اسکے لیے جواب دہ ہونا پڑیگا‘‘۔
اور عملا جسکی مساوات اور عدل گستری کا مقام یہ تھا ایک تاریخی اہمیت کے حامل عظیم شہر، شہر بیت المقدس کو جب اسکی افواج نےفتح کرلیا تو ایک طرف رفعت اور شان کا یہ عالم کہ وہاں کے مذہبی و سیاسی قائدین شہر کی چابیاں حوالے کرنے کے لیے استقبالاً اسکی راہیں تک رہے ہیں اور دوسری جانب وہ عجیب و غریب ہستی ہے کہ غلام کو اونٹ پر سوار کرکے خود پیادہ پا نکیل پکڑے ہوئے شہر مفتوحہ کے دروازے میں داخل ہورہاہے۔
مزید برآں یہ کہ وہ اپنی نجی زندگی میں سادگی اور زہد کی معراج پر بھی فائز تھا، وہ باوجود اسکے کہ بائیس لاکھ مربع میل کاخود مختار فرماں رواں تھا، پورا عالم کفر اسکے رعب و دبدبے سے لرزہ بر اندام تھا، مگر سال بھر میں فقط دو جوڑے کپڑے بنانا اسکا معمول تھا اور پیوند لگا لباس زیب تن کرنا اسکی عادت، وہ ضعیفوں کی امداد کے لئے اپنی کمر پر اناج لاد کر لے جاتا اور رعایا کی خبر گیری کے لئے راتوں کو چوکیدار کی مانند گشت لگاتا۔
اسی عدل وانصاف، رعایا پروری و داد رسی کا نتیجہ تھا کہ اسکی ایک ٹھوکر نے ہچکولے کھاتی ہوئی زمین کا زلزلہ روک دیا تھا، اس کی مکتوبہ دو سطروں نے دریائے نیل کو اسطرح جاری کردیا تھاکہ وہ آج تک رواں دواں ہے، اسکے لکھے ہوئے ایک رقعہ کی وجہ سے زمین نے جذب شدہ تیل اُگل ڈالا تھا، اس کی مدت خلافت میں بھیڑئیے کو بکری پر حملے کی جرأت نہ ہوئی۔
جی ہاں!
وہی جسکا نام عمر، لقب فاروق اعظم، کنیت ابو حفص ہے جسکے طرز حکومت کے کسی بھی پہلو کو لیکر پوری تاریخ انسانیت کو بیانگ دہل تحدی کی جا سکتی ہے کہ اگرکسی کے پاس حکمرانی اور فرمانروائ کا اس سے بہترین نمونہ ہو تو پیش کردے!
مگر ہم مکمل اطمینان اور جزم سے کہ سکتے ہیں کہ اقوام و امم اسکا مثل تو کجا پاسنگ بھی پیش نہیں کرسکتیں۔
اس ذات بابرکت نے اپنی متبرک ہستی کے ذریعے سن ١٣ ہجری میں منصب خلافت کو اعزاز بخشا، اور دس سال چھ ماہ چاردن تک مکمل شان و شوکت، امن و امان اور عدل و انصاف کے ساتھ فریضۂ خلافت انجام دیکر یکم محرم سن تیئیس ۲٤ ہجری کو مرتبۂ شہادت پر فائز ہوا۔
٢٦ ذی الحجہ سن ٢٣ ھ کو نماز فجر کی امامت کرتے ہوے مجوسیوں کے ہرکارے ابولولو فیروز ملعون نے آپکے اوپر زہر آلود خنجر سے پےدرپے چھ وار کیے اور پھر اسی خنجر کو اپنے جسم میں اتار کر خودہی واصل الی الدرک الاسفل من النار ہوا۔
زخموں کی شدت کی وجہ سے آپ جانبر نہ ہوسکے اور بالآخر یکم محرم ٣٤ ھ کے دن پوری ملت اسلامیہ کو غم واندوہ کے سمندر میں غرقاب کرکے اس دار فانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت فرما گئے۔
اللہ کی قسم آدم کی پیدائش سے لیکر قیامت کے وقوع تک باستثناء انبیاء کرام ایسی ہمہ گیر اور مافوق الفھم حکومت نہ کسی نے کی اور نہ آئندہ کوئی کرسکتا۔
فجزاھم اللّٰہ عنا وعن جمیع المسلمین۔
آمین

(بصیرت فیچرس(

You might also like