خبردرخبر

کیا تیرتھ یاترا پپو کا ستارہ روشن کرپائے گی؟

 
خبر در خبر

غلام مصطفی عدیل قاسمی
ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن

کرناٹک بلدیاتی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد کانگریس اور بھاجپا کے درمیان 2019 کے پارلیمانی انتخابات کو لیکر لفظی و نفسیاتی جنگ بڑھتی جا رہی ہے ذرائع کے مطابق اپنی کامیابی کا جشن منا رہے کانگریسی لیڈران پر بھاجپائی کاریہ کرتا کے ذریعہ تیزاب پھینکا گیا ہے جس میں نصف درجن سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں، اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کہیں نہ کہیں بی جے پی کو احساس ہو چلا ہے کہ پارلیمانی الیکشن میں ملک کے عوام اسے ٹھکرا دینگے اور ملک پھر سے گاندھی واد کی طرف چلا جائے گا، خیر ابھی کچھ بھی کہنا اور لکھنا قبل از وقت ہوگا اب یہ تو اس وقت کے حالات ہی بتائیں گے کہ ۲۰۱۹ کے پارلیمانی چناؤ میں اقتدار کی گیند کس کی جھولی میں جاتی ہے، ایک طرف جہاں موجودہ حکومت کے پاس کوئی ایسی کارکردگی نہیں ہے جس کو مدعا بنا کر میدان میں اترے اور بازی مار لے؛ کیونکہ اب تک مرکزی حکومت نے مرہم سے زیادہ پبلک کو زخم ہی دیا ہے، چاہے وہ نوٹ بندی ہو یا پھر غریب و متوسط کاروباری لوگوں کو کاری زخم لگاتی جی ایس ٹی کی تلوار ہو یا پھر گائے کے نام پر سینکڑوں ماب لنچنگ کے روح فرسا واقعات ہوں، یہ سب چہار جانب سے بھاجپا کی راہ میں روڑے اٹکاتے نظر آ رہے ہیں، تو دوسری طرف کانگریس بھی ستر سالہ دور اقتدار سے متعلق اٹھتے سوالات کے جوابات سے بالکل بے دست و پا نظر آ رہی ہے، ان کے پاس ایک ہی ایشو ہے اور وہ ہے موجودہ حکومت کی ناکامی، ورنہ پچھلے انتخابات کے نتائج بتاتے ہیں کہ کانگریس کی اب کوئی حیثیت باقی نہیں رہی، وہ اپنی ساکھ کھو چکی ہے، ان حالات میں کانگریس اگر اپنی بقا کی جنگ جیتنا چاہتی ہے تو اسے ملک کی دیگر چھوٹی بڑی پارٹیز کی مدد لینی ہی پڑے گی، راہل گاندھی نیپال لہاسا کے راستے گرچہ بھگوان سے پراتھنا کرنے تبت و چین کی پہاڑیوں اور کیلاش پربت کی چھان مارنے پہنچ گئے ہیں اور پربت کا راجا کہے جانے والے کیلاش اور مانسروور کی خاک چھانتے نظر آ رہے ہیں (قارئین کی معلومات میں اضافہ کے طور پر ذکر کر دوں کہ مہابھارت میں لکھا ہے کہ کیلاش پربتوں کا راجہ ہے اور مانسروور کی ندیوں کو زندگی بخشنے والی ندی کا ذریعہ کہا گیا ہے) جسے بھاجپائی لیڈران بھی انتخابی تناظر میں لے رہے ہیں اور اک سیاسی چال گردان رہے ہیں اور حالات بھی یہی بتاتے ہیں کہ بھاجپا کے ووٹ بینک کو کمزور کرنے کے لیے ہی راہل گاندھی بھگوان شیو اور ان کی بیوی پاروتی کی رہائش گاہ کا درشن کرنے گئے ہیں، تاکہ ان کی قسمت کا بجھتا ستارہ روشن ہو جائے؛ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ راہل گاندھی اور کانگریس کی یہ ترکیب کماحقہ سود مند ثابت ہوگی، کانگریس کو اب یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہئے کہ وہ اب کسی بھی حال میں اپنے بل پر الیکشن نہیں جیت سکتی، اس لئے کہ موجودہ حکومت میڈیا سمیت اکثر چھوٹے بڑے سبھی شعبوں کے ذمے داروں کو اپنا ہمنوا بنا چکی ہے، اس لئے اگر کانگریس و دیگر پارٹیاں بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتی ہیں تو انہیں سب سے پہلے مضبوط پلان بنانا ہوگا اور انہیں عظیم تر اتحاد کے پلیٹ فارم سے میدان میں اترنا ہو گا تبھی جا کر اقتدار میں آنا مقدر ہو سکتا ہے ورنہ گزشتہ الیکشنوں کی طرح اگر بندر بانٹ کا یونہی مظاہرہ ہوتا رہا تو کچھ بعید نہیں کہ بھاجپا اپنی تمام تر ناکامیوں کے باوجود بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی، اب وقت ہی طے کرے گا کہ کانگریس و دیگر پارٹیاں آنے والے الیکشن کے مابقیہ قلیل عرصے میں کیا کچھ منصوبے بناتی ہیں، آیا اس بار بھی عوام کا اعتماد جیت پائیں گی یا اس بار بھی انتشار کا شکار ہو کر اقتدار کی گیند بھاجپا ہی کی جھولی میں ڈالے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker