برجستہ

ہم جنس پرستی زہر ہلاہل

افتخار رحمانی
انا للہ وانا لیہ راجعون !
سدومیت کو ”بنیادی حقوق“ کی آڑ میں جائز قراردیا گیا یہ خود ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے لیے زہر ہلاہل ہے ۔ اس کی اجازت نہ تو ہندومت میں ہے او ر نہ ہی مذہب مقدس اسلام میں ہے ۔ آج کے فیصلے سے ہر سنجیدہ طبقہ میں بے چینی پا ئی جارہی ہے ۔ اس سے نہ تو ہماری بھارتی تہذیب اور اس کی روح برقرار رہ سکتی ہے اور نہ ہی ہم اپنی اس تہذیب پر فخر کرسکتے ہیں ؛ کیوں کہ یہ مکمل طور پر مغرب اور یونان جیسی آزادی ہے ۔ ہم ایک مشرقی تہذیب کے افراد ہیں اور ہمیں ان چیزوں سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہیے جن سے ہماری تہذیب مغربیت سے لت پت ہوجائے ۔ عمورہ و سدوم کے احوال صرف قرآن مقدس میں ہی مذکورہ نہیں ہیں ، بلکہ انجیل اور دیگر آسمانی کتابوں میں بھی ہیںجن سے یہ اخذ کرنا آسان ہے کہ یہ مکمل طور پر فطرت کے منافی ہے اور دنیا کا سب سے بڑا گناہ بھی ہے۔ در اصل سدومیت ”فری میسن “گروپ کا سب سے بڑا ہتھکنڈہ ہے اور اس سے وہ توالد و تناسل پر کنٹرول کرنا چاہتے ہیں ۔ یورپ اور امریکہ میں یہ رواج چل چکا ہے ،ایشاءکے کئی ممالک بھی اس کی زد میں آچکے ہیں۔ خیر کی بات تو یہ تھی کہ عدالت عظمیٰ نے اس پر کئی سال قبل اس کو جرم میں زمرے میں رکھا تھا ؛ لیکن اب اس کو عدم جرم سمجھا گیا ہے ۔نقصان کسی اور کا نہیں ؛بلکہ معاشرہ کا ہے اور بھارتی تہذیب و ثقافت کا ہے ، جس چیز کو ہماری تہذیب میں اقبح اور بدترین سمجھاجاتا تھا اس کی حیثیت اور گناہ کو اب ہلکا سمجھا جائے گا، اس سے گناہ کے دروازے اور کھلیں گے اور بدکاری اور عفت و پاکدامنی مزید تار تار ہوگی ۔ معاشرہ میں استحکام کے لیے لازم ہے کہ عدالت عظمیٰ بھارتی تہذیب کے نقطہ نظرسے اپنے اس فیصلہ پر نظرثانی کرے۔ اللہ ہم سبھوں کا حامی و ناصر ہو ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker