ماب لنچنگ روکنے کا صرف ایک حل

ماب لنچنگ روکنے کا صرف ایک حل

قصوروار سرکاروں کی معطلی
شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
ایک عفریت ہے جوآزادہوگیاہے!
ماب لنچنگ(ہجومی تشدد)رکنے کانام ہی نہیں لے رہاہے۔ابھی گذشتہ جمعہ کو جب ملک کی سب سے بڑی عدالت ماب لنچنگ پر ریاستی حکومتوں کو‘ان کی بے حسی،خاموشی اوربے شرمی پر لتاڑرہی تھی اوریہ دریافت کررہی تھی کہ بھلاماب لنچنگ کے معاملات میں اب تک عدالت کے روبرو رپورٹ کیوں پیش نہیں کی گئی،تب ملک میں ماب لنچنگ کاعمل جاری تھا۔بہار کے بیگوسرائے ضلع کے چھوہاڑی تھانہ حلقہ میں لوگوں نے تین افراد کو‘جنہیں بدمعاش کہا جارہا ہے،پیٹ پیٹ کر مارڈالا،ان تینوں پرالزام ہے کہ وہ نارائنی پور گاؤں میں گوریادھرم شالہ کے قریب واقع ایک پرائمری اسکول کی ایک طالبہ کو اغوا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔بہار حکومت نے چھوہاڑی تھانہ کے انچارج کو توخیرمعطل کردیا ہے ‘حکومت کافیصلہ سرآنکھوں پرمگر سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں تھانہ انچارج کاکیا قصورہے؟ماب لنچنگ توایک ایساعفریت ہے جس میں بھگوا آتنک وادیوں،گئو آتنک وادیوں،بجرنگیوں اورسنگھیوں کی روحیں حلول کرگئی ہیں اوریہ بغیرکچھ سوچے سمجھے جسے بھی اپنی’مرضی‘کے خلاف پاتا ہے اس کو پیٹ پیٹ کر جان سے مارڈالتاہے۔تھانہ انچارج پر یہ الزام توآسکتا ہے کہ اس نے بھیڑکے ہاتھوں پیٹے جارہے تینوں بدمعاشوں کو بچانے کی کوشش کیو ں نہیں کی‘پربھیڑکو بے لگام ہونے دینے کاتووہ ملزم نہیں ہے!یہ ایک ایسی بھیڑ ہے جس کی پیٹھ پر صاحبانِ اقتدار کاہاتھ ہے۔وزیر اعظم نریندرمودی لاکھ’گئو رکشکوں‘اور’ماب لنچنگ‘کرنے والوں کوغلط کہیں‘پر یہ توان کے ہی اپنے بی جے پی کے لوگ ہی تھےجنہوں نے بیف کے نام پر ملک میں ماب لنچنگ کے پہلے شکارمحمد اخلاق کےا یک قاتل روی سسودیا کی موت پر ا س کی لاش کوترنگے سے لپیٹ کراسے’قومی ہیرو‘کامرتبہ دلانے کاکام کیاتھا۔آج دادری کے تمام کے تمام ملزمین جیل سے باہرہیں اورمزے سےکام کاج کر رہے ہیں۔بالکل آزادجیسے کہ وہ کبھی ماب لنچنگ کے جرم میں شریک ہی نہ رہے ہوں!
مرکزمیں نریندرمودی کی سرکارکے بعد وہ سارے عناصرجو’بھگواٹولے‘کاحصہ ہیں سڑکوں پر اترآئے ہیں اوربیف وگئو سرکشھا ہی نہیں لوجہاد،جئے رام،بھارت ماتا کی جئے غرضیکہ جو بھی بہانہ ہاتھ آجائے اسے بنیادبنا کر لوگوںکو‘جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے‘پھر دلتوں کی‘ماررہے ہیں۔یہ’ہجوم‘جوتشددپراتاروہے اس میں چودہ،پندرہ سال کے کمسن بچے بھی شامل ہیں۔ان میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت پروان چڑھائی جاتی ہےمقصد’سیاسی غرض‘ہی ہے۔دوفرقوں کے درمیان خلیج جس قدروسیع ہوگی بی جے پی کو اس قدرسیاسی طاقت حاصل ہوگی،اسی قدر اس کے ووٹوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اورمرکز وریاستوں میں اس کی حکومتیں بنیں گی۔لہٰذا’ماب لنچنگ‘میں شریک افراد کی بی جے پی کے لیڈران کی جانب سےپذیرائی کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔یہ سارا عمل منصوبہ بندہے۔سپریم کورٹ نے ملک کی29ریاستوں اورسات یونین ٹیریٹریزکو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ ’ماب لنچنگ‘اورگئورکشا کے نام پرتشددکی رپورٹ عدالت میں پیش کریں،بتائیں کہ ان کی طرف سے اس سلسلے میں کیا کارروائیاں کی گئی ہیں،کتنے ملزم پکڑے گئے ،کتنوں کو سزاہوئی نیزایسے تشددکوروکنے کے لیے کیااقدامات کیے گئے وغیرہ وغیرہ،پر صرف گیارہ ہی ریاستوں نےعدالت کو رپورٹ سونپی باقی کنبھ کرن کی نیند سوتی رہیں۔مرکز نے عدالت کو یہ توبتایا کہ اس سلسلے میں ایک قانون بنانے پر غورکیا جارہاہے،لیکن اس سے بھی اہم یہ سوال ہے جو مودی سرکارسے پوچھاجاناچاہیے کہ کیا وہ اُن بھاجپائیوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرنے پر بھی غورکررہی ہےجو’ماب لنچنگ‘کے مجرموں کی پذیرائی کرتی ہے،جیسے کہ مرکزی وزیرجیئنت سنہا؟ہم بس اتناجانتے ہیں کہ جب تک ’ہجومی تشدد‘میں شامل رہنے والوں کی پیٹھ پر صاحبانِ اقتدار کاہاتھ ہے،ماب لنچنگ نہیں رکے گی بھلےہی ریاستی سرکاریںعدالت میں رپورٹ پیش کردیں،2019کے الیکشن میں سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے ’ہجومی تشدد‘کاننگاناچ جاری ہی رہے گا۔اگرعدالت اسے روکناہی چاہتی ہےتووہ بس یہ کرے کہ جس طرح بہارسرکارنے داروغہ کو معطل کیاہے وہ ہجومی تشدد جس ریاست میں ہو اس ریاست کی سرکار کو معطل کردے۔
(بصیرت فیچرس)