عمران خان اور سدھو نے امید بندھادی ہے کہ

عمران خان اور سدھو نے امید بندھادی ہے کہ

ہند پاک میں ایٹمی جنگ نہیں امن ہوگا
کیا مودی سرکار بھی دوستی کےلیے قدم اُٹھائے گی
شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
کیادوکرکٹ کھلاڑی برصغیرہندوپاک کو امن کی پٹری پر ڈال سکتے ہیں؟
یہ سوال پاکستان کے نئے وزیر اعظم اورقومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان اورہندوستان کے سابق کرکٹ کھلاڑی اوراب سیاستداں نوجوت سنگھ سدھوکے حوالے سے اٹھ رہاہے۔عمران خان کے ایک حالیہ فیصلے اوراس فیصلے پر سدھو کے ’شکریے‘نے امیدکی نئی شمعیں روشن کردی ہیں،اس اُمید کی کہ شاید اب وہ وقت آگیا ہے جب ہندوستان اورپاکستان دشمنی کو بھلا کر ایک دوسرے کی جانب دوستی کاہاتھ بڑھائیں گے اوردونوں ہی ملکوں کے درمیان ایسے روابط قائم ہو جائیں گے جس سے تجارتی،ثقافتی،تہذیبی،فن وآرٹ غرضیکہ ہر شعبے میں دونوں ہی ملکو ںکے درمیان تعاون مستحکم ہوگا….اورجنگ کاوہ بھی ایٹمی جنگ کا،جو اپنے پیچھے تباہی بربادی کی ایک المناک داستان چھوڑسکتی ہے،خطرہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ٹل جائے گا۔
پرصرف عمران خان یانوجوت سنگھ سدھو کے چاہنے سے توکچھ نہیں ہوگا!عمران خان کے دوستی کے لیے بڑھتے ہاتھ کو تھامنے کے لیے مرکز کی مودی سرکارکو اپناہاتھ بڑھانا ہوگا۔پر کیاسنگھ پریواریابی جے پی کے اربابِ حل وعقداس کے لیے تیارہوجائیں گے؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کانام بی جے پی کے لیے ووٹوں کے حصول کاایک’سیاسی آلہ‘رہا ہے جسے وہ وقفے وقفے سے استعمال کرتی رہی ہے۔اس کایہ مطلب قطعیٔ نہیں ہے کہ ہندوستان اورمسئلہ کشمیر ،پاکستان کے لیے’سیاسی آلہ‘نہیں رہا۔پاکستانی حکمراں بھی وقفے وقفے سے’سیاسی مفادات‘کے لیے کشمیرکاراگ الاپتے چلے آئے ہیں۔لیکن عمران خان ایک پیشہ ورسیاست داںسے زیادہ ایک کھلاڑی ہیں،اورکھلاڑی رسک ‘خطرہ مول لینا جانتا ہے اوریہ بھی چاہتاہے کہ اس کاکھیل امن کے قیام میں مددگارہو۔ہندوستان اورپاکستان امن کے لیے ماضی میں کرکٹ کھیل بھی چکے ہیں،لہٰذا عمران خان سے امن کے کھیل کی اُمیدرکھی جا سکتی ہے۔
گرونانک جینتی پرکرتارپورسرحدکھولنے کے عمران خان کے اعلان کو قیام امن کے لیے ان کی سنجیدہ اورمخلصانہ کوشش کے طورپر دیکھا جاسکتاہے۔بابا گرونک کاجلد ہی 550واں جنم دن منایاجائے گا۔کرتارپورسکھ برادری کے لیے ایک انتہائی پا ک استھان ہے کیونکہ 22ستمبر1539ء کو یہیں باباگرونانک نے آخری سانس لی تھی۔باباگرونانک کی پیدائش ننکانہ صاحب میں ہوئی تھی‘یہ علاقہ بھی آج پاکستان میں ہے لہٰذا سکھوں کے لیے زائر کی حیثیت سے پاکستان کاسفرانتہائی اہمیت کاحامل ہے۔گذشتہ چندبرسوں کے دوران دونو ںہی ملکوں کے درمیان کشیدہ اورخراب تعلقات کے سبب بہت سارے ہندوستانی سکھ گرودوارہ کرتارپورصاحب کی زیارت سے بھی محروم رہے ہیں‘گردودوارہ سچا سودا کی زیارت سے بھی اورگرودوارہ بیری صاحب وننکانہ صاحب کی زیارت سے بھی۔چونکہ سکھوں کے دس گروؤں میں گرونانک پہلے نمبرپرہیں اس لیے ان کے550ویں جنم دن پر دنیابھرکے سکھ پاکستان کے مذکورہ چاروں گرودواروںکی زیارت کرناچاہیں گے،بالخصوص ہندوستان کے۔اس لیے اس پس منظرمیں عمران خان کی طر ف سے کرتارپورسرحدکھولنے کااعلان انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔اس اعلان سے یہ اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ پاکستان کےحکمراں کی حیثیت سے وہ اپنے پیش رؤں سے ہٹ کر سوچ رہے ہیں۔اورچاہتے ہیں کہ دونوں ملک دشمنی بھلاکر دوستی کاہاتھ تھام لیں۔
نوجوت سنگھ سدھونے عمران خان کے اعلان پر شکریہ ادا کیاہے اورہندوستانی حکومت سے ایک ایسی درخواست کی ہے جس پر اسے عمل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہو سکتی۔سدھو نے کہا ہے کہ’’پاکستان کی طرف سے یہ پیغام ساری دنیا کے لیے ہے،مجھے نہیں لگتا کہ ایسی اچھی پیشکش کو کوئی ردکرسکتا ہے،میری وزیر اعظم نریندرمودی اوروزارت خارجہ سے درخواست ہے کہ اس سلسلے میں پاکستانی اقدامات کے جواب میں وہ بھی اقدامات کریں،یہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے کاموقعہ نہیںہے۔‘‘
اورسچ یہی ہے کہ دونوں ہی ملک مذہب،ذات پات اوربے معنی دشمنی کے نام پر اب تک سیاست ہی کرتے چلے آئےہیںجس کی وجہ سے جنگیں ہوئیں،دہشت گردی کے واقعات ہوئے،سرحدی علاقوں میں لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہوئیں،عام شہری مارے گئے اورآج بھی مارے جارہے ہیں،ہتھیاروں کی دوڑشروع ہوئی،ایٹمی ہتھیاروں کے بنانے میں بے پناہ دولت خرچ ہوئی،ترقی کے کام رکے،دشمنیاں بڑھیںاوردونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر باتیں کرنے اورایک دوسرے سے تعاون کرنے سے محروم رہے۔جب اٹل بہاری واجپئی نے پاکستان کی طرف دوستی کاہاتھ بڑھایا تھا تب ایک’امید‘بندھی تھی اور جب انہوں نے’مسئلہ کشمیر‘کے حل کے لیے جنرل پرویزمشرف سے مذاکرات کیے تھے تب بھی ایک ’اُمید‘بندھی تھی لیکن بعدکے دنوں میں پاکستانی فوج کی سیاست،کارگل کی جنگ اورہندوستان کے کٹّرپنتھیوںکی پاکستان دشمنی نے حالات بگاڑدئیے۔26/11نے دشمنی میں مزید اضافہ کیا…..پراب’امن‘کاایک موقعہ ملاہے۔اس کاآغاز سدھو کے پاکستان کے سفر سے ہواہے،انہوں نے باوجودیہ جانتے ہوئے کہ ملک میں انہیں خوب کوسا جائے گاپاکستانی فوجی سربراہ باجوا سےصرف’امن‘کے لیے گلے ملنا گواراکیا۔اس لیےعمران خان نے انہیں’امن کاسفیر‘قراردیا۔عمران اورسدھوکی اس جوڑی نے،جو کبھی کرکٹ کے میدان پر بازی مارا کرتی تھی۔’امن‘کی امید جگائی ہے……اب ضرورت ہے کہ مودی سرکار پہل کرے،کرتار سنگھ سرحدکے کھولے جانے کےاعلان کاخیرمقدم کرے اورعمران خان کے اُٹھے ہوئے دوستی کے ہاتھ کو تھام لے۔آج کی دنیا ’دشمنی‘کی نہیں ’دوستی اورامن‘کی ہی بھوکی ہے،بالخصوص ہمارا ہندوستان۔
(بصیرت فیچرس)