سیدنافاروق اعظم رضی اللہ عنہ

سیدنافاروق اعظم رضی اللہ عنہ

عبدالرافع رسول
اعدل الاصحاب ، مزین منبر و محراب ، ثانی الخلفاء ، مرادِ مصطفی ، قدیم الاسلام ،کامران مقام، فارقِ حق و باطل ، امیرالمومنین ، پیکر شجاعت ، جبل استقامت، عاشقِ زارِ رسول اکرم ،سیدنا سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں، جنہیں رسول پر نور شافع یوم النشورصلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہِ خداوندی سے مانگ کر لیا تھا۔ قدرت نے ازل ہی سے آپ کو بانی اسلام کی تائید و نصرت اور دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے چن رکھا تھا۔ آپ اعلان نبوت کے چھٹے سال 27برس کی عمر میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔
اسلام کے گلشن کو جن شہدائے اسلام نے اپنا قیمتی خون دے کر سدا بہار کیا، ان میں امیرالمومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی سرفہرست ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ آسمان عدالت وشجاعت پر آفتاب بن کر چمکے اور اسلام کوعالم تاب و ماہ تاب بنا دیا۔جب سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے کلمۂ شہادت پڑھا تومسلمانوں نے نعرۂ تکبیر بلند کیا جس سے وادی مکہ گونج اٹھی۔آپ کے کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد پہلی دفعہ مسلمانوں نے خانہ کعبہ میں اعلانیہ اسلام کا اظہار کیا اورمشرکین مکہ یہ کہنے پرمجبور ہوئے کہ آج مسلمانوں نے ہم سے بدلہ لے لیا،آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد اور مسلمانوں کی عزت وشوکت میں ترقی ہوتی رہی۔
آپ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ مشہور ہے، آپ چالیس مردوں اور گیارہ خواتین کے بعد اسلام لائے۔ اولین ہجرت کرنے والوں میں سے تھے،آپ کے اسلام لانے پر صرف اہل زمین ہی نہیں ، اہل آسمان نے بھی خوشی کے شادیانے بجائے اور جبرئیل امین نے اہل آسمان کی طرف سے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں مبارکباد پیش کی۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا اسلام فتح مبین ، آپ کی ہجرت نصرت خداوندی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انکا شجرئہ نسب 9ویں پشت میں کعب بن لوی پررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شجرئہ نسب سے مل جاتا ہے۔ آپ کا خاندان سارے عرب میں شرافت و نجابت اور عزت و عظمت کے اعتبار سے اہم اور خاص مقام و مرتبہ کا حامل تھا۔ قبیلہ قریش کی سفارت آپ ہی کے سپرد تھی۔ نزاعی امور میںآپ کا فیصلہ حرف آخر تسلیم کیا جاتا تھا۔ جسمانی و جاہت اور بلندوبالا قامت کی وجہ سے عرب کی ممتاز اور قدآور شخصیتوں میں نمایاں نظر آتے تھے۔ دنیا آپ کی جسمانی طاقت اور منہ زوری کا لوہا مانتی تھی۔ شہسوار میدان خطابت ہونے کے علاوہ شناور بحر فصاحت و بلاغت بھی تھے۔ صرف دورِ جاہلیت ہی میں نہیں، اسلامی تاریخ میں بھی آپ کو زریں بلب کی حیثیت حاصل ہے۔ آپ ان دس صحابہ کرام میں دوسرے نمبر پر ہیں، جنہیں انکی زیست میں ہی رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دے دی۔
آپ رضی اللہ عنہ ہجرت نبوی سے 40 برس اور عام الفیل سے 13 برس بعد پیدا ہوئے ۔ آپ کا نام نامی اسم گرامی عمر ، فاروق بین الحق والباطل اور فاروق اعظم لقب ، والد کا نام خطاب اور والدہ کا نام فاطمہ تھا جو ہشام بن مغیرہ کی صاحب زادی تھیں ۔ام المومنین حضرت حفصہؓ کے نام پر ابو حفص کنیت تھی۔آپ کا قد لمبا، رنگ گندمی، پیشانی چوڑی اور داڑھی گھنی تھی۔ غزوئہ بدر، بیعتِ رضوان اور ہر معرکے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود رہے۔ غزوئہ بدر کے قیدیوں، پردہ، شراب کو حرام قرار دینے اور دیگر بہت سے معاملات میں قرآن کریم کی آیات آپ کی تائید میں نازل ہوئیں۔ آپ رضی اللہ عنہ ’’علم الانساب‘‘ کے ماہر ، شہ زوری میں طاق اور گھڑسواری میں مشتاق تھے ۔ نیز آپ رضی اللہ عنہ کا شمار قریش کے ان گنے چنے افراد میں ہوتا تھا جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ ’’فن خطابت‘‘ کے بھی ماہر تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا ذریعہ معاش تجارت اور زمین داری رہا ۔ آمدنی فقرا، غلاموں ، مسکینوں اور مسافر ضرورت مندوں پر خرچ کردیا کرتے تھے ۔
قبول اسلام :۔
27 سال کی عمر میں ابو جہل کی ترغیب پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادے سے گھر سے نکلے اور اپنی بہن فاطمہ رضی اللہ عنہا اور بہنوئی سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی استقامت سے متاثر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ یہ در اصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کا اثر تھا : اے ! اللہ اسلام کو عمرو بن ہشام (ابو جہل)یا عمر بن خطاب کے ذریعے عزت عطا فرما اسی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہلاتے ہیں ۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ کا 40 واں نمبر ہے ، جس طرح 40 سال کی عمر میں انسان ایک کامل شخص بن جاتا ہے ، اسی طرح آپ کے قبول اسلام سے دین اسلام کو نیا شباب عطا ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے 20 افراد کی معیت میں 13 نبوی میں مدینہ منورہ ہجرت کی اور قبا میں سیدنا رفاعہ بن منذررضی اللہ عنہ کے مکان میں قیام فرمایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے مواخاتی بھائی سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ تھے۔
غزوئہ بدر میں قریش کے سرغنہ عاص بن ہشام کو قتل کیا ، غزوئہ احد میں آخر دم تک ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ، غزوئہ خندق میں خندق کے پار کفار کے حملوں کو پسپاکیا ، صلح حدیبیہ کی بعض شرائط پر ابتدامیں دل گیر تھے، تاہم بعد میں شرح صدر ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگی ، غزوئہ خیبر میں قلعہ وطیع وسالم کو فتح کرنے کیلئے سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا ۔ فتح مکہ کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے بیعت لینے پر مامور فرمایا ، غزوئہ تبوک کے موقع پر اپنے گھر کا آدھا مال لاکر خدمت اقدس میں پیش کردیا ۔ الغرض آپ رضی اللہ عنہ تمام غزوات میں نہ صرف شریک رہے بلکہ پیش پیش رہنے والوں میں شامل تھے۔
آپ کا دورِ خلافت دین کی نشرواشاعت، اسلامی حکومت کی وسعت و انصاف کی فراوانی ، عوام کی خوشحالی اور اسلامی حکومت کی وسعت ، عدل انصاف کی فراوانی ، عوام کی خوشحالی اور اسلامی علوم و فنون کی ترقی و ترویج کا دور تھا۔ باطل قوتیں آپ کے نام سے لرزہ براندام تھیں۔ جو دیکھتا وہ آپ کا رعب و دبدبہ اورجلال سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا، حتی کہ آپ کو دیکھ کر شیطان بھی اپنا راستہ بدل لیتا تھا۔ قرآن مجید کی متعدد آیات مبارکہ آپ کی رائے کی تائید میں نازل ہوئیں۔یار غارِ رسول سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے آپ کو خلیفہ منتخب فرمایا۔ 26ذی الحجہ 23ھ کو مجوسی غلام ابو لولو فیروز نے آپ پر قاتلانہ حملہ کیا اور یکم محرم 24ھ کو آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی مدت خلافت دس سال چھ ماہ اور چار دن ہے۔
خلافت وفتوحات :
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعدامیرالمومنین مقرر ہوئے ۔فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا مبارک دور فتوحات، اصلاحات اور نظم ونسق کا تھا۔ آپ نے ریاست کا مکمل ڈھانچہ تشکیل دیا۔ عراق اور شام پر لشکر کشی کرکے اسلام کا علم لہرادیا ۔ رستم کی سازشوں کا قلع قمع کیا ۔ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں لشکر بھیجا جس نے ایرانیوں کو عبرت ناک شکست دی ۔ جنگ قادسیہ کے تین کامیاب معرکوں نے ایرانیوں کی کمر توڑکر رکھ دی ، ان کی قیادت سیدنا سعد بن ابی وقاص ، نعمان بن مقرن اور قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہم نے کی ، جنگ نہاوند آخری معرکہ تھا، جس نے ایرانیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ دمشق ، فحل ، اردن ، حما ، شیراز ، معر النعمان ، بعل بک ، حمص ، شام کا اکثر حصہ ، بیت المقدس اور اس کے آس پاس کے علاقے ، مصر ، فسطاط ، اسکندریہ ، قیساریہ ، آذر بائی جان ، طبرستان ، کرمان ، مکران اور خراسان وغیرہ آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں فتح ہوئے ۔
ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ایک وفدبیت المقدس بھیجا یہ اس دور کی بات ہے جب بیت المقدس پر پادریوں کا قبضہ تھاسیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیت المقدس کو پادریوں کے چنگل سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔صحابہ کرام علیہم الرضوان نے پادریوں سے کہا کہ ہم امیر المومنین سیدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جانب سے یہ پیغام لائے ہیں کہ تم لوگ جنگ کے لئے تیار ہوجا۔ یہ سن کر پادریوں نے کہا ہم لوگ صرف تمہارے امیر المومنین کو دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ جو نشانیاں ہم نے فاتح بیت المقدس کی اپنی کتابوں میں پڑھی ہیں کیا وہ نشانیاں تمہارے امیر میں موجود ہیں؟اگر موجود ہوئیں تو ہم بغیر جنگ و جدل کے بیت المقدس تمہارے حوالے کردیں گے یہ سن کر مسلمانوں کا یہ وفد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوااور سارا ماجرا آپ رضی اللہ عنہ کو سنایا۔
امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیت المقدس کی کنجیاں حاصل کے لیے نکلے تو آپ کی دید کے لیے لوگ گھروں سے نکل آئے- لشکر اسلامی اپنے چار سپہ سالاروں کی قیادت میں ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پرچم تلے امیر المومنین کے استقبال کے لیے مقام جابیہ تا جا پہنچا-جب امیرالمومنین وہاں پہنچے تو فرمایا:’’ہم ایسی قوم تھے جس کو اللہ تعالی نے اسلام کے ذریعے سے عزت بخشی‘‘۔
اگر ہم نے اسلام کے علاوہ کسی اور کے ذریعے سے عزت چاہی تو پھر اللہ تعالی ہمیں ذلیل و رسوا کردے گا۔(مستدرک الحاکم: 1/130)پھر آپ نے فوجیوں کو حکم دیا کہ متفرق ہوجائیں- اس کے بعد آپ انتہائی تواضع اور سکون کے ساتھ چلنے لگے- جب امرا آپ کے قریب آئے تو آپ نے فرمایا:’’مجھے سے الگ ہوجا،میرے بھائی ابو عبیدہ عامر بن جراح کدھر ہیں؟‘‘سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے معانقہ کیا اور دیر تک روتے رہے، فرمایا:’’اے ابو عبیدہ! جب اللہ تعالی قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا کہ ہم نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا تو ہم کیا جواب دیں گے؟‘‘سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی:’’اے امیر المومنین! آئیے ہم لوگ الگ ہوکر باہم روتے ہیں تاکہ لوگ ہمیں نہ دیکھ سکیں‘‘۔پھر وہ دونوں راستے سے الگ ایک طرف جانے لگے۔فوجیوں کی نگاہیں ان کا پیچھا کررہیں تھیں- نصاریٰ کے امرا ور رہبان سب کے سب ان دونوں کو دیکھ رہے تھے- اتنے میں وہ دونوں ایک درخت کی آڑ میں جاکر کھڑے ہوگئے اور دیر تک روتے رہے۔
یہ شان ہے خدمت والوں کی سردار صلی اللہ علیہ وسلم: کا عالم کیا ہوگاْ۔اللہ اکبر
اصلاحات :۔
آپ رضی اللہ عنہ نے امور خلافت چلانے کیلئے مہاجرین وانصار کی مجلس شوری قائم کی ، اس حیثیت سے آپ اسلام کے شورائی نظام کے بانی ہیں ۔ ملک کو ڈویژنوں میں تقسیم کرکے ان پر حاکم اعلی اور گورنر مقرر فرمائے ۔ کاتب ، کلکٹر ، انسپکٹر جنرل پولیس ، افسر خزانہ ، ملٹری اکاو نٹنٹ جنرل اور جج وغیرہ کے عہدے مقرر کئے ۔ باقاعدہ احتساب کا نظام قائم فرمایا ۔ زراعت کی ترقی کیلئے نہریں جاری کیں ، تالاب بنائے ، ڈیم بنوائے اور آب پاشی کا ایک مستقل محکمہ قائم فرمایا۔ بنجر زمینوں کے آباد کاروں کو مالکانہ حقوق دئیے، سرونٹ کوارٹر ، فوجی قلعے اور چھانیاں ، سرائے ، مہمان خانے اور چوکیاں قائم کرائیں ۔ کوفہ ، فسطاط ، حیرہ اور موصل سمیت کئی عظیم الشان شہروں کی بنیاد رکھی اور انہیں آباد کیا ۔ فوج اور پولیس کے نظام میں اصلاحات کیں اور انہیں منظم کیا ۔ بہترین نظام عدل وانصاف قائم کیا ، جو ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مساجد کے آئمہ ، موذنین ، فوجیوں اور ان کے اہل خانہ ، اساتذہ وغیرہ کی تنخواہیں مقرر فرمائیں ۔ اس کے علاوہ مردم شماری ، زمین کی پیمائش کا نظام ، جیل خانے ، صوبوں کا قیام ، لاوارث بچوں کے وظیفے کا اجرا، مکاتب قرآنی کا قیام ، نماز تراویح کا باقاعدہ آغاز وغیرہ آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کی یاد گاریں ہیں ۔
بہت سے ایسے محکمے جوجدید دور کا خاصا سمجھے جاتے اور آج کل کی جمہوری حکومتوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے بانی اور مؤسس اول بھی دراصل سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ آپ سب سے پہلے مسلم حکمران ہیںکہ جس نے امیرالمومنین کا لقب اختیار کیا، اس سلسلے میں مختلف روایات بیان کی گئی ہیں، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لقب آپ نے خود اختیارفرمایا ہے اوربعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لقب آپ کیلئے بعض دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اختیار فرمایا جو عمومی شہرت کا درجہ حاصل کرگیا۔آپ سے پہلے دنیا بھر میں کہیں بھی بیت المال یا قومی خزانے کا کوئی تصور نہ تھا۔ روم وفارس اور دنیا میں جہاں جہاں حکومتیں قائم تھیں وہاں بادشاہوں اور حکمرانوں کو بلاشرکت غیرے خزانوں کا مالک سمجھا جاتا تھا اور انہیں اس بات کا مکمل اختیار ہوتا تھا کہ وہ جیسے چاہیں اس خزانے میں تصرف کریں۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تاریخ انسانیت کے وہ پہلے حکمران ہیں جنہوں نے ’’قومی خزانہ قوم کی ملکیت‘‘ کا تصور پیش کیا اورصرف تصور ہی پیش نہیں کیا بلکہ اس پر عمل بھی کرکے دکھایا۔
چونکہ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کو تمام اسلامی علاقوں کا قاضی مقرر فرمایا تھا لہٰذا آپ اس اہم منصب اور اس کی ذمے داریوں سے کما حقہ آگاہ تھا، اس لئے خلافت کی ذمے داریاں سبھالتے ہی آ پ نے اس اہم ترین معاشرتی ضرورت کی طرف توجہ فرمائی اورباقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت عدالتی نظام قائم فرمایا،قاضیوں کو مقرر فرمایا اور خود اس کام کی نگرانی فرمائی۔
سیاسی ،عدالتی اور عمومی فلاحی کاموں میں ایسے بے شمار مواقع آتے ہیں جہاں متعینہ دن اور تاریخ کے حوالے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، زندگی کا یہ پہلو بھی آپ کی نظروں سے اوجھل نہ تھا آپ نے ایک مجلس مشاورت بلائی، بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کو دعوت دی اور باہمی مشاورت سے ہجری تقویم (کیلنڈر) کا نظام مقرر فرمایا۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مہبطِ وحی تھے، وہاں جو انوار وبرکات کی کیفیات ہیں وہ اور کہاں میسر آسکتی تھیں، لوگ زیادہ سے زیادہ اس بات کے خواہشمند تھے کہ حرمین میں قیام کریں، اس لئے حرمین کی آبادی بڑھنا ایک فطری بات تھی۔ فتوحات کا تسلسل بھی جاری تھا اور بڑی تعداد میں نو مسلم بھی حرمین میں رہائش اختیار کرنے لگے تھے ان مسائل سے نمٹنے کیلئے آپ کے حکم پرجگہ جگہ فوجی چھائونیوں کا قیام عمل میں لایا گیا، عارضی اور مستقل پڑائو مقرر کئے گئے، پرچہ نویس مقررکئے، دور دراز علاقوں میں جہاں مستقل چھائونیوں کی ضرورت تھی وہاں مستقل چھائونیاں قائم کی گئیں جو آگے چل کر بڑے بڑے متمدن شہروں میں بدل گئیں۔ کوفہ، بصرہ، فسطاط اور موصل وغیرہ اس کی روشن مثالیں ہیں جو آج تک موجود ہیں۔
مرقومہ وجوہ کے علاوہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دین وشریعت کی ترویج ،تبلیغ اور تعلیم کیلئے مختلف علاقوں میں پھیل گئے تھے، حرمین کے آس پاس کے دیگر علاقوں کے علاوہ نو مسلموں اور نو مفتوحہ علاقوں میں امن و امان، قانون کی بالادستی، دیگر امور کی نگرانی اور نظم ونسق برقرار رکھنے کیلئے ایک مستقل ادارے کی ضرورت تھی جو دیگر شعبوں سے ہٹ کر ہر شہر کے انفرادی، داخلی معاملات کو کنٹرول کرے اس لئے اس اہم کام کیلئے پولیس کا محکمہ قائم کیا گیا۔ رضاکاروں کی تنخواہیں مقرر ہوئیں، دفتر مال قائم کیا گیا، گودا م بنوائے گئے۔ پیمائش کا طریقہ جاری کیا گیا، مردم شماری کرائی گئی، نہریں کھدوائی گئیں، نئے شہر آباد کئے گئے، ممالک کو صوبوں میں تقسیم کیا، دریائی پیداوار پر محصول لگایا گیا، حربی تاجروں کو ملک میں آنے اور تجارت کرنے کی اجازت دی گئی کہ بیرونی سرمایہ کاری مملکت میں لگے اور خوشحالی آئے ، جیل خانے قائم کئے گئے۔ معاشرے کو منکرات سے پاک کرنے کیلئے درّے کا استعمال کیا گیا۔ راتوں کو گشت کرکے رعایا کا حال دریافت کرنے کا طریقہ نکالا،پرچہ نویس مقرر ہوئے، یتیم بچوں کی پرورش کیلئے وظیفے مقرر کئے گئے، مفلوک الحال غیرمسلموں کے وظیفے مقرر ہوئے، مکاتب قائم کئے گئے، معلموں ،مدرسوں اور طلباء کے وظیفے مقرر کئے گئے، وقف کا طریقہ ایجاد کیا گیا، مساجد میں روشنی کاانتظام کیا گیا، غرض یہ وہ سنہرا دور تھا کہ اگر ہمارا طرز حکمرانی اس طور پر ہو تو ہمیں کوئی اندرونی اور بیرونی خطرہ لاحق نہ ہو۔
معلوم انسانی تاریخ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے کوئی ایسی شخصیت نہیں ملتی جس نے باقاعدہ سرکاری سطح پر اصول وضوابط کے تحت یہ محکمہ قائم فرمایا ہو۔ اس کے علاوہ بھی آپ نے معاشرے کی عمومی اصلاح اور بلدیاتی نظام کو قائم کرنے کیلئے بے شمار ایسے اقدامات کئے جو آپ سے پہلے تاریخ کاحصہ نہ تھے اور ان سب چیزوں کے باوجود آپ نے اپنا دورخلافت کسی بادشاہ یاڈکٹیٹر کی طرح نہیں بلکہ قوم کے سچے خادم کی حیثیت سے گزارا۔
صلاحیتوں کی بنیاد پر قضاۃ وعمال کا تقرر، تقرر سے پہلے ان کیلئے اثاثوں کے ظاہر کرنے کی لازمی شرط عام لوگوں تک انصاف کی رسائی، شکایات کا فوری ازالہ، اقربا پروری سے مکمل اجتناب اور کسی بھی صورت میں ہونے والے ظلم وزیادتی کا فوری سدباب، احساس ذمہ داری اور آخرت میں جواب دہی کا تصور ’’عہد فاروقی کے نظام عدل‘‘ کے یہ وہ بنیادی اصول ہیں جنہیں اپنا کر دنیا آج بھی عدل وانصاف اور امن وآشتی کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
دنیا میں جس قدر حکمراں گزرے ہیں، ہر ایک کی حکومت کی تہہ میں کوئی مشہور مدبر یا سپہ سالار مخفی تھا۔ یہاں تک کہ اگر اتفاق سے وہ مدبر یا سپہ سالار نہ رہا تو وفعتاً فتوحات بھی رک گئیں یا نظام حکومت کاڈھانچہ بگڑ گیا۔ سکندرہر موقع پر’’ ارسطو‘‘ کی ہدایتوں کا سہارا لے کرچلتا تھا۔ اکبر کے پردے میں ’’ابو الفضل اور ٹوڈر مل‘‘ کام کرتے تھے۔ عباسیہ کی شان وشوکت اور عظمت ’’برامکہ ‘‘کے دم سے تھی لیکن سیدنا فاروق اعظم فاروق رضی اللہ عنہ کو صرف اللہ کی ذات پر بھروسا تھا۔ سیف اللہ خالد رضی اللہ عنہ بن ولید کی عجیب وغریب معرکہ آرائیوں کو دیکھ کر لوگوں کوخیال پیدا ہو گیا کہ فتح وظفر کی کلیدان ہی کے ہاتھ میں ہے لیکن جب سیدنافاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں معزول کردیا تو کسی کو احساس تک نہ ہوا، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فاتح ایران کی نسبت بھی لوگوں نے ایسا ہی خیال کیا،آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی الگ کردیا۔
علامہ شبلی نعمانیؒ آپ رضی اللہ عنہ کی سیرت وکردار کے متعلق کیاخوب کہتے ہیں:’’تمام دنیا میں تاریخ ہمیں ایسا کوئی حکمراں نہیں دکھا سکتی جس کی معاشرت یہ ہو کہ قمیص میں دس دس پیوند لگے ہوں۔ کاندھے پر مشک رکھ کر غریب عورتوں کے ہاں پانی بھر کر آتا ہو۔ فرش خاک پر پڑا رہتا ہو۔ بازاروں میں پڑا پھرتا ہو، جہاں جاتا ہو، اکیلا و تنہا چلا جاتا ہو۔ اونٹوں کے بدن پر اپنے ہاتھ سے تیل ملتا ہو، درودربار ،نقیب وچائوش، حشم وخدم کے نام سے آشنانہ ہو اورپھریہ رعب ودبدبہ ہو کہ عرب وعجم اس کے نام سے لرزتے ہوں۔ وہ جس طرف رخ کرتا ہو زمین دہل جاتی ہو۔ سکندر وتیمور تیس تیس ہزار فوج رکاب میں لے کر نکلتے تھے تو ان کا رعب قائم ہوتا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سفر شام میں سواری کے اونٹ کے سوا اور کچھ نہ تھا لیکن چاروں طرف شور مچ گیا کہ مرکز عالم جنبش میں آگیا ہے‘‘۔
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور کی سب سے اہم خصوصیت رفاہی خدمات ہیں، جب بیت المال کی آمدنی میں اضافہ ہواتو امیرالمومنین رضی اللہ عنہ کی طرف سے رعایا کیلئے لباس بھی تقسیم ہونے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے شہریوں کیلئے پکی اینٹوں کے نئے اور ہوادار مکانات تعمیر کرائے۔ کوفہ، بصرہ اور فسطاط میں نئے شہر آباد ہوئے، جن میں کشادہ سڑکیں، دکانیں اور چوک بنوائے، ہر محکمے میں اونٹوں تک کے باندھنے کی جگہ الگ رکھی۔ آج کل کی زبان میں ہم اسے پارکنگ ایریا کہہ سکتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور ہی میں نہریں کاٹ کر شہریوں میں آب رسانی کا انتظام کیا گیا کہ اس طرح ملک کے ہر باشندے کو پیٹ بھرنے کیلئے غذا، پہننے کیلئے کپڑا اور رہنے کیلئے مکان نصیب ہوا۔ تعلیم مفت نصیب ہوئی، اساتذہ، طلباء، اماموں، مؤذنوں، فوجیوں وغیرہ اور ان کی اولاد کو باقاعدہ وظیفہ ملتا اور ان کے حقوق کی مکمل پاسداری کی جاتی۔
دورِ حاضر افتراق کا دور ہے۔ اس دور میں جہاں مالی، معاشی اور معاشرتی مشکلات و مصائب کی کثرت ہے۔ وہاں ذہنی ، ایمانی اور اسلامی بحران بھی عروج پر ہے۔مسلکی اختلاف کو اس طرح ہوا دی گئی کہ مسلمانوں کی ہوا ہی اکھڑ گئی۔ ہرمسلک اپنے عقائد و نظریات اور افکار و تخیلات کو اصل دین باور کراکے دوسرے مسلک کے خلاف صف آراء ہے۔ آسان طریقہ یہ تھا کہ لڑنے جھگڑنے کے بجائے سب متفق ہوکر قرآن وسنت اور صحابہ کرام کی حیات کا مطالعہ کرکے راہِ راست اختیار کیا جاتا کیونکہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ صحابہ کرام کے افکار و اعمال شرک و بدعت کی آمیزش سے قطعاً پاک ہیں۔ عقائد واعمال صحابہ پر کاربند حضرات یقینا جادئہ حق پر گامزن ہیں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ دین کے جگمگاتے اور روشن ستاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم میں ایک جلیل القدر مقام کے حامل ہیں۔
دورِ نبوی میں ایک منافق اور یہودی کاکسی امر میں جھگڑا ہو گیا۔ فیصلہ کیلئے ثالث کی ضرورت پڑی۔ تو منافق چاہتا تھا کہ یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف کے پاس جاکر تصفیہ کر ا لیا جائے۔ یہودی کہنے لگا تو اچھا مسلمان ہے کہ کلمہ اسلام کا پڑھتا ہے اور فیصلہ کعب بن اشرف کا مانتا ہے۔ فیصلہ تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کرائیں گے۔ یہودی سمجھتا تھا کہ کعب تو رشوت وغیرہ کے لالچ میں آکر غلط فیصلہ کر دیگا، لیکن مسلمانوں کے نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کسی اپنے اور پرائے کا فرق روا نہیںرکھا جاتا۔ وہاں تو جو حق بجانب ہو، اس کے حق میں فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے۔ لہذا چارو نچار منافق کو بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جانا پڑا۔ امام المنصفین ، سید العالمین ،رحمۃ اللعالمین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فریقین کے بیان سماعت فرمانے کے بعد یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ باہر آکر منافق یہودی سے جھگڑنے لگا کہ مجھے یہ فیصلہ قطعاً نامنظور ہے۔ میں توعمر کافیصلہ تسلیم کرونگا۔ یہودی نے لاکھ سمجھایا کہ بڑی عدالت کے فیصلہ کو ٹھکرا کر چھوٹی عدالت میں مقدمہ دائر نہیںکرواتے ، لیکن منافق نہ مانا۔ حتی کہ دونوں دولت خانہ فاروقی پر حاضر ہوگئے۔آنے کا مقصد پیش کیااور اپنے اپنے مؤقف کو واضح کیا۔ سیدنا عمررضی اللہ عنہ بھی اپنا فیصلہ سنانے لگے تھے کہ یہودی بول پڑا۔ عمر! فیصلہ سناتے وقت یہ بات ذہن میں رکھ لیں کہ نزاع کا فیصلہ آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں کر دیا ہے، لیکن یہ نہیںمانتا۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جونہی یہ الفاظ سنے آپ کی آنکھوں میں سرخی اترآئی، فرمایا میرا انتظار کرو میں ابھی آیا۔ گھر میں داخل ہوئے جب واپس آئے تو ہاتھ میں چمکتی ہوئی تلوار تھی، اس منافق کی گردن پر تلوار چلاتے ہوئے فرمایا:’’ ھکذا اقضی بینی من لم یرض بقضا اللہ و رسولہ‘‘خازن ۔(تاریخ الخلفاء)جو اللہ اور اسکے رسول کے فیصلہ پر راضی نہ ہو میں اسکا یہی فیصلہ کرتا ہوں۔
چونکہ اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو ٹھکرا کر آپ کی زبردست توہین کی تھی ، سیدنا عمررضی اللہ عنہ جیسی غیرت مند، جانثار اور عاشق زار شخصیت یہ کب گوارا کر سکتی تھی کہ ان کے جیتے جی کوئی انکے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور فیصلہ کو ٹھکراتا پھرے۔ آپ نے اس منافق کی نماز، روزہ ،عبادت و ریاضت اور کلمہ گوئی کاکوئی اعتبار نہ کیا۔ گویا بتلا دیا کہ جو ظالم ہمارے آقا محبوب خدا ،تاجدارِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر اور ادب و احترام بجا نہیں لاتا اسکی عبادت و ریاضت ، تقوی و طہارت اور زہدونفاست کا کوئی اعتبار نہیں، وہ واجب القتل ہے۔ ترقی پسند لوگوں کو یہ بات قطعا اچھی نہیں لگتی کہ کسی کلمہ گو شخص کو گستاخ رسول یا واجب القتل اور مرتد کہا جائے۔ ان کے زعم میں جو آدمی روزے کا پابند ہو، کلمہ اسلام پڑھتا ہو، وہ لاکھ گستاخیوں کا مرتکب ہو، ضروریات دین کا منکر ہو، نبوت و رسالت کی تنقیص کرتا پھرے، اس سے بصد عزت و اکرام پیش آنا چاہئے۔ اس کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرنا چاہئے جس طرح کہ کسی مسلمان سے کیا جاتا ہے، جبکہ یہ بات سراسر غیر اسلامی ہے۔ اگر گستاخ رسول کیلئے کوئی نرمی کا پہلو نکلتا ہوتا تو سیدنا عمررضی اللہ عنہ ضرور نکالتے۔ لیکن آپ نے اس منافق کی گردن اڑا کر قیامت تک آنیوالے غیرت مند مسلمانوں کو بتا دیا کہ گستاخ رسول کوئی بھی ہو، بہرحال وہ واجب القتل ہے اور یہی بات قرآن و حدیث کی واضح نصوص سے ثابت ہے۔
امیر المومنین سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مصر کا دریائے نیل خشک ہوگیا۔مصری رعایا مصر کے گورنر صحابی رسول سیدنا عمر بن العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں فریاد لے کر حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اے امیر! ہمارا یہ دستور تھا کہ جب دریائے نیل خشک ہوجاتا تھا تو ہم لوگ ایک خوبصورت کنواری لڑکی کو دریا میں زندہ درگور کرکے دریا کی بھینٹ چڑھایا کرتے تھے اس کے بعد دریا پھر جاری ہوا کرتا تھا اب ہم کیا کریں؟گورنر نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالی اور اسکے رحمت والے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا رحمت بھرا دینِ اسلام ہرگز ہرگز ایسے ظالمانہ اور جاہلانہ فعل کی اجازت نہیں دیتا تم لوگ انتظار کرو میں امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط لکھتا ہوں وہاں سے جو حکم ملے گا اس پر عمل کیا جائے گا۔
چنانچہ گورنر کاقاصد مدینہ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم آیا اور دریائے نیل خشک ہونے کا حال سنایا۔امیر المومنین رضی اللہ عنہ یہ خبر سن کر نہ گھبرائے نہ پریشان ہوئے ۔امیرالمومنین عمررضی اللہ عنہ قاصد کو یہ کہہ کر بھی روانہ کرسکتے تھے کہ تم لوگ قرآن مجید کی تلاوت کرو،نوافل پڑھو اور اللہ تعالی سے دعا کر وکہ اللہ تعالی دریائے نیل کو دوبارہ جاری فرمادے میں تو تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں میرے پاس کیوں آئے ہوبس دعا کرو عبادت کرو اللہ تعالی تمہارے حال پر رحم فرماکر دریائے نیل دوبارہ جاری فردیگالیکن قاصد سے یہ نہ کہا بلکہ نہایت ہی سکون اور اطمینان کے ساتھ ایک ایسا تاریخی خط لکھاجیسے کوئی انسان دوسرے انسان کو خط لکھ کر اس سے مخاطب ہوتا ہے ایسا تاریخی خط دریائے نیل کے نام لکھا جو تاریخ ِ عالم میں بے مثل و بے مثال ہے ۔
’’الی نیل مصر من عبداللہ عمر بن الخطاب:ام بعد فان کنت تجری بنفسک فلا حاج لنا الیک وان کنت تجری باللہ فانجر علی اسم اللہ‘‘
اے دریائے نیل ’’اگر تو خود بخود جاری ہوا کرتا تھا تو ہم کو تیری کوئی ضرورت نہیں ہے اور اگر تو اللہ تعالی کے حکم سے جاری ہوتا تھا(تو میں امیرالمومنین ہو کر تجھ کو حکم دیتا ہوں)کہ تو پھر اللہ تعالی کے نام پر جاری ہوجا۔‘‘(بحوالہ ،کتاب:ازال الخفاجلد دوئم صفحہ نمبر 166)امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس خط کو لفا فے میں بند کرکے قاصد کو دیا اور فرمایااس کو دریائے نیل میں ڈال دیا جائے چنانچہ جوں ہی آپ رضی اللہ عنہ کا خط دریائے نیل میں ڈالا گیا تو دریا فورا جاری ہوگیا اور ایسا جاری ہوا کہ آج تک خشک نہیں ہوا۔
’’چاہیں تو اشاروں سے اپنی کا یا ہی پلٹ دیں دنیا کی‘‘
ایک روز سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ مصطفوی میں عرض کیا: ’’یارسول اللہ لو اتخذنا من مقام ابراھیم مصلی‘‘۔ یارسول اللہ ! اگرہم مقام ابراہیم جس پتھر پر کھڑے ہو کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لیں۔ (بخاری)ابھی یہ بات عرض کی ہی تھی کہ اللہ رب العزت کی طرف سے حکم آ گیا:’’ واتخذوا من مقامِ ابراھیم مصلی‘‘۔ ترجمہ: مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو!
چونکہ اس پتھر نے سیدنا ابراہیم کے مبارک قدموں کے بوسے لئے تھے جس وجہ سے اس کا مقا م عام پتھر سے بلند و بالا تھا ایسا نہ ہو کہ کل لوگ اسے کعبہ کے سامنے کوئی نئی درگاہ بنالیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے معاملے کو حتمی شکل دلوائی اور شرک کے تمام پہلوختم کردیئے اور اسکا ادب و احترام لازم و ضروری تھادوسری طرف سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مسجد حرام میں حجر اسود کے قریب آئے، بوسہ لے کر فرمانے لگے۔’’انی لا علم انک حجر لا تضر ولا تنفع ولولا انی رایت النبی یقبلک ما قبلتک‘‘۔
بے شک میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے۔ تو نہ نقصان دیتا ہے اور نہ نفع اور اگر میںنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہو تا تو میںتجھے کبھی نہ چومتا۔(بخاری) ۔ سیدنافاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو سنت محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنا پیار تھا کہ دن رات بارگاہِ خداوندی میں شہر محبوب میں موت کی دعائیں مانگا کرتے۔ عرض کرتے۔ ’’اللھم ارزقنی شھاد فی سبیلک واجعل موتی فی بلد رسولک۔(بخاری)اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں مقام شہادت عطا فرما! اور اپنے رسول کے شہر(مدینہ)میں مجھے موت عطا فرما۔
مخبر صادق ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ظاہری زندگی میں ہی سیدنا عمررضی اللہ عنہ کو شہادت کی خبر دے دی تھی، اسی لئے آپ مقام شہادت کی دعائیں بھی مانگتے رہے۔ بالآخر آپ کو خدا نے اس بلند مقام پر سرفراز فرمایا۔ ’’ابولولومجوسی ‘‘نے خنجر کے ساتھ آپ کو زخمی کیا، زخم بہت گہرا تھا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا۔ وفات سے قبل دیگر و صایا کے علاوہ آپ نے اپنے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ جا! ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں عرض کرو ’’یستذن عمر ان یدفن مع صاحبیہ۔(تاریخ الخلفاء)عمر اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت مانگتے ہیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں یہ عرض پیش کی تو آپ نے فرمایا کہ وہ جگہ میں نے اپنے لئے سنبھال رکھی تھی لیکن میں عمر کو اپنے اوپر ترجیح دیتی ہوں۔ جا!عمر سے جا کر کہہ دینا کہ آپ کو وہاں دفن ہونے کی اجازت ہے۔ سیدناعبداللہ نے جب یہ خوشخبری آپ رضی اللہ عنہ کو سنائی تو آپ کی خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ آخر وقت آپ کو یہی حسرت تھی کہ کاش! مجھے محبوب کے دامن میں جگہ نصیب ہو جائے۔ جب آپ کی دلی آرزو پوری ہوئی تو آپ نے اس پر خدا کا شکر ادا کیا کہ گوہر مراد حاصل ہوا۔
مدینہ منورہ کے پہاڑوں میں احد پہاڑ ایک امتیازی شان کا حامل ہے۔ اس پہاڑ کے متعلق سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’’ احد جبل یحبنا ونحبہ‘‘۔(بخاری) احد پہاڑ ہے کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔اس محب اور محبوب پہاڑ کی ایک دن قسمت جاگی۔ لامکاں کے مہماں، تاجدار مرسلاں صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر ،سیدنا فاروق اعظم اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہم کو ساتھ لیا اور اس پہاڑ کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے مشرف فرمایا۔ احد پہاڑ نے جب اپنی پشت پر ان مبارک ہستیوں کو جلوہ فرما دیکھا تو خوشی سے جھومنے لگا۔ اپنے مقدر پہ ناز کرنے لگا کہ جس محبوب کو عرش پر بلایا گیا تھا آج میری قسمت کا ستارہ بلند کرنے خود ہی تشریف لے آئے ہیں۔ پہاڑ جھوم رہا تھا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پاں مبارک سے ٹھوکر لگائی اور فرمایا:’’ اثبت احد فا نما علیک نبی و صدیق وشھیدان‘‘۔ احد ٹھرجا! کیونکہ تجھ پر نبی ، صدیق اور دو شہید ہیں۔(بخاری)تجھے یہ سعادت نصیب ہوئی ہے اور تو اس شرف سے مشرف ہوا ہے کہ تجھ پر اللہ کا نبی ، ابوبکر صدیق اور عمر و عثمان شہید تشریف فرما ہیں۔
شہادت : ۔
ایرانیوں نے اپنے جذبہ انتقام کو سرد کرنے کیلئے آپ رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش تیار کی ۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ایرانی پارسی غلام ابو لولو فیروز مجوسی نے نماز فجر کی پہلی ہی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے فورا بعد زہر سے بجھے ہوئے خنجر سے مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وار کیا ، وصیت کے بہ موجب سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کرائی ۔تین روز رخمی حالت میں رہ کر یکم محرم الحرام آپ رضی اللہ عنہ جام شہادت نوش کرگئے ۔سیدنا صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہوئے ۔ ہم مضمون کا اختتام امیرالمومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ان کلمات سے کرتے ہیں ۔ فرمایا : عمررضی اللہ عنہ کی زبان سے اطمینانِ قلب کے موتی ٹپکتے ہیں ۔ سکونِ دل کے دریا بہتے ہیں اور راحتِ جاں کے پھول جھڑتے ہیں (مشکو شریف ، دلائل النبوہ للبیہقی )
ان سے ان کی قوت تحریر، برجستگی کلام اور زورتحریر کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ خلافت کے بعد جو خطبہ دیا اس کے چند فقرے یہ ہیں: اے اللہ، میں سخت ہوں تو مجھے نرم کردے، میں کمزور ہوں، مجھے قوت دے، ہاں عرب والے سرکش اونٹ ہیں جن کی مہار میرے ہاتھ میں دے دی گئی ہے لیکن میں انہیں راستے پر چلا کر چھوڑوں گا۔ اس وقت بھی من حیث المجموع مسلمانوں کو اپنے داخلی وخارجی مسائل کے حل اور اتحاد کیلئے ایسے ہی سچے خادم کی پیروی کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو ایساہی پُرخلوص اور بے لوث راہ نما عطا فرمائے۔(آمین)
(بصیرت فیچرس)