پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کالندن میں انتقال

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کالندن میں انتقال

اسلام آباد :11؍ستمبر(بی این ایس؍ایجنسیاں)
پاکستان کی سابق خاتون اول اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز ہارلے سٹریٹ کلینک لندن میں انتقال کر گئی ہیں۔
اس بارے میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کلثوم نواز کی میت کو پاکستان لایا جائے گا۔
بیگم کلثوم نوازکا لندن کے ایک ہسپتال میں کینسرکاعلاج چل رہاتھا ۔ ان کی تدفین جاتی امراء رائیونڈ میں کی جائے گی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کلثوم نواز کی وفات شریف خاندان کیلئے بڑا دھچکا ہے۔ نواز شریف نے ہر مشکل وقت میں اہلیہ سے مشاورت کی۔ مرحومہ نے گھر بھی سنبھالا، آزمائش پڑی تو چہاردیواری سے باہربھی نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ بیگم کلثوم نواز مشکل حالات میں باہر نکلیں اور ڈکٹیٹر شپ کو چیلنج کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کلثوم نواز کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اہل خانہ کو قانون کے مطابق تمام سہولیات دے گی۔ عمران خان نے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو سہولیات کی فراہمی میں معاونت کی ہدایت کر دی ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے بھی ڈی جی آئی ایس پی آر مجیرجنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی سائیٹ ٹوئٹر پر تعزیتی بیان جاری کیا جس میں آرمی چیف نے مرحومہ کے بلند درجات کی دعا کی اور لواحقین سے اظہار افسوس کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیگم کلثوم نواز ایک بہادر خاتون تھیں۔ انہوں نے جمہوریت کے لئے جدوجہد کی۔
بیگم کلثوم نواز نے یکم جولائی 1950ء کو اندورن لاہور کے کشمیری گھرانے میں حفیظ بٹ کے ہاں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم مدرستہ البنات سے حاصل کی جبکہ میٹرک لیڈی گریفن اسکول سے کیا۔ انہوں نے ایف ایس سی اسلامیہ کالج سے کیا اور اسلامیہ کالج سے ہی 1970ء میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ادب سے گہرا لگاؤ ہونے کے باعث انہوں نے 1972ء میں فارمین کرسچیئن کالج سے اردو لٹریچر میں بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ انہوں نے اردو شاعری میں جامعہ پنجاب سے ایم اے کیا۔ کلثوم نواز نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔
2 اپریل 1971ء کو بیگم کلثوم اورنواز شریف نے زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا۔ نوازشریف اور بیگم کلثوم نواز کے دو بیٹے حسن اور حسین نواز اور دو بیٹیاں مریم نواز اور اسماء نواز ہیں۔
نوازشریف کے پہلی مرتبہ 6 نومبر 1990ء کو وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر بیگم کلثوم نواز کو خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل ہوا جو 18 جولائی 1993ء تک برقرار رہا۔ وہ 17 فروری 1997ء کو دوسری مرتبہ خاتون اول بنیں۔ 12 اکتوبر 1999ء کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ الٹ دیا اور انہیں بھیج دیا گیا۔
امور خانہ داری نمٹانے والی خاتون بیگم کلثوم نواز کو تنہا اپنے شوہر کے حق میں آواز اٹھانا پڑی۔ انہوں نے نہ صرف شوہر کی رہائی کیلئے عدالت سے رجوع کیا بلکہ مسلم لیگ (ن) کی ڈوبتی کشتی کو بھی سہارا دیا۔ انہوں 1999ء میں مسلم لیگ (ن) کی پارٹی کی قیادت سنبھالی اور لیگی کارکنوں کو متحرک کیا ۔
وہ 2002ء میں پارٹی قیادت سے الگ ہو گئیں۔اس دوران لاہور میں ایک اجتجاج کے دوران گاڑی میں بیٹھی کلثوم نواز کی گاڑی کو پولیس نے لفٹر سے اٹھوا لیا لیکن کلثوم نواز نے اس دور میں بھرپور انداز میں پارٹی کی قیادت سنبھالی۔
جون 2013ء میں انہیں تیسری مرتبہ خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جو صرف 28 جولائی 2017ء تک ہی رہ سکا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر نوازشریف کو نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ انہیں این اے 120 سے ڈی سیٹ کردیا گیا۔
ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری ہوا تو مسلم لیگ (ن) نے نوازشریف کی اہلیہ کو میدان میں اتار دیا۔ بیگم کلثوم نواز علیل ہونے کے باعث 17 اگست کو لندن روانہ ہوئیں جہاں لندن کے بہترین ڈاکٹرز کی ایک ٹیم ان کا علاج کر رہی تھی۔ دوران علالت ہی الیکشن میں ان کی کامیابی کا اعلان کیا گیا جس پر مسلم لیگ ن کے حلقوں کی جانب سے بے پناہ خوشی کا اظہار کیا گیا۔ مگر وہ قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف لینے سے قاصر رہیں۔
بیگم کلثوم نواز طویل علالت کے دوران بے ہوشی کی حالت میں رہیں۔ اس دوران ان کی بیٹی مریم نواز ، بیٹے حسین نواز اور حسن نواز بھی ہسپتال میں مسلسل موجود رہے اور ان کی تیمارداری میں مصروف تھے۔ اس دوران انہیں ایک دو بار ہوش بھی آیا اور انہوں نے ہسپتال میں موجود اپنے اہلخانہ سے بات چیت بھی کی جس کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ ان کی حالت بہتر ہوجائے گی۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا اور وہ اسی علالت کے دوران خالق حقیقی سے جا ملیں۔
نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی کے بعد کلثوم نواز کے ساتھ ان کا رابطہ اس طرح نہ رہ سکا کیونکہ شدید علالت کے باعث وہ وینٹی لیٹر پر تھیں اور ٹیلی فون پر بات کرنے کے قابل بھی نہ تھیں۔ اسی حالت میں وہ انتقال کر گئیں۔