نیا سال

نیا سال

نئے سال کے موقع پر مشہور عربی ادیب ومفکر شیخ علی طنطاویؒ کی ایک فکر انگیز تحریر
نیا سال
اردوترجمہ: عزیر احمد قاسمی سنبھلی
uzairahmadqasmi@gmail.com
جب میں اس مضمون کولکھنے بیٹھا تو ذہن میں اس موضوع سے متعلق کچھ بھی نہیں تھا لیکن دیوار پر لٹکے کیلنڈر پر میری نظر پڑگئی اورمجھے موضوع مل گیا، وہ موضوع تھا (سال کا پہلا دن) یکم محرم الحرام۔
یقینا آپ کے سامنے پہلا محرم گزرتا ہے جیساکہ دیگر ایام گذرتے ہیں جبکہ اس کی صبح میں ایک نئے سال کا آغاز اور اس کی رات میں ایک سال کا اختتام ہوتاہے۔
مسافر راستے کا مرحلہ طے کرتا ہے اور سواری سے اتر کر آرام کرنے کے لئے ٹہر جاتاہے، وہ اپنے پیچھے متوجہ ہوتاہے یہ جاننے کے لئے کہ کتنا راستہ اس نے طے کیا ہے اور پھر اپنے سامنے نظر دوڑاتاہے تاکہ غور وفکر کرے کہ کتنا باقی ہے۔
تاجر سال کے اختتام پر اپنے ترازؤوں کو ٹھیک ٹھاک کرتا ہے اور اپنی آمدنی کا حساب لگاتاہے تاکہ اُسے اندازہ ہوجائے کہ اُس نے کتنا نقصان اُٹھایا اور کتنا فائدہ اُسے ہوا۔
یہ (سال کا پہلا دن) ایک نیا اسٹیشن ہے جس میں ہم کھڑے ہیں اور زندگی کے راستے پر چل رہے ہیں اور عمر کا دوسرا سال گذر جاتاہے تو کیا ہم اس پر چند لمحے غور وفکر کرنے حساب لگانے اور عبرت حاصل کرنے کے لئے کھڑے نہ ہوں؟ آج ہمارے سامنے تیرہ سو چھیاسی ہجری کا یکم محرم ہے ہم اس کی صبح کو دیکھتے ہیں تو ہم اُسے لمبا سمجھتے ہیں جو ہمارے سامنے دراز ہوتاہے، ہم اس میں جو چاہیں کر سکتے ہیں، اگر ہم چاہیں تو اُس میں اپنی دنیا سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں اور اپنی آخرت کے لئے توشہ لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں لیکن جب شام ہوتی ہے اور دن گذر جاتاہے تو ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے، ہم اس کو اپنے لئے باقی سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی گھڑیوںمیںفضول خرچی سے کام لیتے ہیں جس طریقے سے فضول خرچی کرنے والا اپنے مال کو بہادیتاہے، ہم اس کی ساعتوں کو ضائع کرتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں پاتے کہ کھودیتے ہیں گویا وہ ابھی شروع بھی نہ ہوا تھا کہ اختتام کو پہنچ جاتاہے پھر اس طرح گذر جاتاہے کہ دوبارہ لوٹ کر ہی نہیں آتا۔
اس وقت تم سن پچاسی ہجری کے یکم محرم کو یاد کرو ہمارے خیال میں وہ لمبا دن تھا اور ہمیں یہ اندازہ تھا کہ اس میں بہت سے اعمال اور نیکیاں کرپائیںگے؛ لیکن آج ہم کہاں ہیں اور وہ دن کہاں ہے؟ کہاں ہے محرم ۸۴ ؁ھ کا پہلا دن اور کہاں ہیں آج ہم؟ محرم کے شروع کے ایام جن سے ہم گذرے یا وہ ہمارے سامنے سے گذرے کیسے گذرگئے؟ ان کا کتنا حصہ ہمارے ہاتھوں میں رہا ؟ ٹھیک اسی طرح رواں سال بھی گذر جائے گا پھر دوسرا سال آجائے گا تو جس نے اس میں کوئی کا رِ خیر نہیں کیا تو اُسے چاہئے کہ آئندہ سال کرلے۔
اگر تم دن میں بھلا کام نہ کرسکے تو رات آئے گی اُس میں کرلو، یہ پے بہ پے موسم ہیں، اگر تم نے ایک موسم کو ضائع کردیا تو اگلے موسم میں بولواور اگالو، اگر تم جون کے سیشن میں امتحان میں ناکام ہوگئے تو تمہارے پاس ستمبر کا سیشن ہے یہ تمہارے لئے بدل ہیں جب تک تم زندہ ہو، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ زندگی کب تک کی ہے؟
سال گذر جاتاہے تو تمہارا یہ گمان ہوتاہے کہ تم اس میں زندہ رہے حالانکہ در حقیقت فنا ہو چکے ہوتے ہو، اس پر حیرت نہیں ہونی چاہئے، میں اس کی ایک مثال سے وضاحت کرتاہوں آپ اس ملازم کی طرح ہیں جس کو سال میں ایک مہینہ کی چھٹی ملتی ہے جب اس کی چھٹی کے دس دن گذر جاتے ہیں تو اُس کے دس دن کم ہوجاتے ہیں اور اب مہینہ کے بیس دن باقی رہے اور جب بیس دن گذر جاتے ہیں تو مہینہ کے دس دن بچتے ہیں، چنانچہ جب مہینہ مکمل ہو جاتاہے اور چھٹیاں ختم ہوجاتی ہیں توایسا لگتا ہے کہ چھٹی ہوئی ہی نہ تھیں، آپ یہ سمجھ رہے ہوںگے کہ میں کوئی فلسفیانہ باتیں کررہا ہوں، بخدا میں تو حقیقت بیان کررہا ہوں، جب ہم میں سے کسی کی عمر ایک سال بڑھتی ہے تو در حقیقت اس کی عمر ایک سال کم ہو جاتی ہے حتی کہ عمر ختم ہوجاتی ہے اور موت دستک دے دیتی ہے اور پھر ہم اس دوسری زندگی کا استقبال کرتے ہیں جس کا آغاز موت سے ہوتاہے۔
ہم اپنے مستقبل کو امید سے وسیع کرتے ہیں، اور یہ مستقبل کیا ہے جس کے لئے ہم دوڑ دھوپ کرتے ہیں، محنت و مشقت برداشت کرتے ہیں؟ جب میں طالب علم تھا تو میرا مستقبل ڈگری پانا تھا، جب میں نے اُسے حاصل کرلیا تو اب میرا مستقبل ملازمت حاصل کرنا ٹہرا، چنانچہ جب ملازمت مل گئی تو اب مستقبل فیملی، گھر بار بنانا ہوگیا، گھر بیوی ، بچے، پوتے پوتیاں ہونے کے بعد تو اب مستقبل میں میری تمنا یہ رہی کہ میرے پاس مال کا ذخیرہ ہو اور خوب تر ترقیات حاصل ہوں، کتابوں، مقالات سے عظمت وشہرت ملے، چنانچہ جب اللہ کے فضل وکرم سے مجھے یہ چیزیں مل گئیں تو مجھے کوئی ایسا مستقبل نظر نہ آیا جس کے بارے میں میں غور وفکر کرتا مگر یہ کہ اللہ نے میری آنکھیں کھول دیں اور مجھے میرا راستہ دکھادیا تو میں اب اپنے دائمی مستقبل کے لئے عمل کروں گا یعنی آخرت کے لئے، یقینا میں اس کے تعلق سے غافل تھا۔
دنیا میں مستقبل ایک ایسی چیز ہے جس کا وجود نہیں، یہ کبھی نہ آنے والا ایک دن ہے کیونکہ اگر یہ آگیا تو حاضر ہوگا اور مستقبل کا متلاشی ایک دوسرے مستقبل کی تلاش میں اس کے پیچھے دوڑنے لگے گا۔
میں نے پہلے بھی کہاہے کہ اس کی مثال اس گھاس کے مُٹھے کی سی ہے جو گھوڑے کی زین میں بندھی ہوئی لکڑی سے لٹکا دیا جاتا ہے وہ اس کی نگاہوں کے سامنے رہتی ہے تو وہ اس کو پانے کے لئے پیش قدمی کرتاہے اور وہ مُٹھا بھی اُس کے ساتھ دوڑنے لگتا ہے لیکن وہ کبھی بھی اس تک نہیں پہنچ پاتا۔
اصل مستقبل تو آخرت کا مستقبل ہے، ہم میں سے کون اُس کے لئے اعمال صالحہ کرتاہے اور کون ہے جو اس کی فکر میں لگا رہتاہے ممکن ہے میری یہ بات فلسفہ معلوم ہورہی ہو لیکن یہ حقیقی فلسفہ ہے، یہ وہ حقائق ہیں جس کے بارے میں ہم میں سے کوئی بھی غور وفکر نہیں کرتا، ہم کشتی یا جہاز میں بیٹھے اس مسافر کی طرح ہیں جس کی چاہت یہ ہوتی ہے کہ خوبصورت کمرہ ، آرام دہ سیٹ ہو، فرسٹ کلاس میں سفر کرے، اچھے سے اچھا کھانا کھائے اخبارات ورسائل کا مطالعہ کرتا رہے اور اپنے گرد و پیش کے خوشنما مناظر دیکھتا جائے؛ لیکن یہ چیزیں سفر کے دنوں کے لئے خاص ہیں اور سفر کے ایام تھوڑے ہیں تو کیا اس کے لئے یہ بہتر نہ ہوگا کہ کیوں ناوہ ان چیزوں کے متعلق غور وفکر کرے جو اُس شہر میں اقامت کے دوران اس کی راحت کا سبب بنیں ، جہاں وہ یقینی طور پر جارہاہے، کیا اس کے لئے یہ سود مند نہ ہوتا کہ وہ سفر کی قلیل راتوں میں مشقتوں کو برداشت کرلیتا اور اپنے لئے مال فراہم کرتا تاکہ لمبے اقامت کے سالوں میں اس کے عوض راحت پاسکے، زندگی ایک سفر ہی تو ہے تو کتنے لوگ ایسے ہیں جو خود سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر یہ سفر کیوں ہے؟ اور کہاں کا سفر ہے؟ کتنے ہم میں سے ایسے ہیں جو پوچھتے ہیں کہ زندگی کیا ہے، ہم کیوں پیدا ہوئے اور ہمارا انجام کیاہے؟ ہم صبح سے شام تک ایسے مشاغل میں وقت گذاری کرتے ہیں جس میں ہم خودکو بھی بھلا دیتے ہیں اور اپنی عمروں کو اُن میں ضائع کردیتے ہیں مثلاً نامناسب باتوں، فالتو مجلسوں اور غیر مفید کتابوں اور رسائل کے مطالعہ میں، اگر ہم میں سے کوئی تنہا ہوتاہے تو اُسے اپنے نفس کی ہم نشینی بوجھل معلوم ہوتی ہے وہ اُس سے راہ فرار کی کوشش کرنے لگتا ہے گویا اس کا نفس اس کا دشمن ہو وہ اُس کے ساتھ رہنے کو برداشت نہیں کر پاتاہے اور اس سے تنگ دل ہو کر ایسی چیزوں کامتلاشی رہتاہے جو اس کو نفس سے بیزار کردے، ہم اپنے نفوس سے بھاگتے ہیں اور اپنی عمروں کو موہوم لذتوں میں برباد کردیتے ہیں، ہم اُن کے پیچھے دوڑتے ہیں لیکن ان کو حاصل نہیں کرپاتے۔
جب میں ابن الجوزی کی ’’صید الخاطر‘‘ نامی کتاب کی طباعت کی نگرانی کررہا تھا، جس پر میں نے مقدمہ اور حاشیہ لکھا ہے۔ تو مجھے اُس میں ایک بہت اہم بات ملی، ان کا کہنا تھا کہ: دنیا کی لذتیں ظاہری نمونے ہیں جن کو قبضہ میں نہیں لایا جا سکتا، یہ نمونے پیش کرنے اور پبلی سٹی کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ خرید وفروخت کے لئے، آپ کو یہ چیزیں بظاہر خوشنما معلوم ہوںگی ؛ لیکن آپ ان کو اپنے قبضہ میں نہیں لے سکتے، تم دنیا کی سب سے بڑی لذت پالو تو تمہیں یہی لگے گا کہ یہ مشکل سے چند ساعتیں ہیں یعنی یہ احساس بھی نہیں ہوگا کہ اُس تک پہنچ گئے حتی کہ ایسا لگنے لگے گا کہ تم نے اُسے گم کردیا، آخرت کی لذت کے مقابلے میں یہ بہت چھوٹے سے نمونے ہیں جو یہاں (دنیا میں) لمحہ بھر کے لئے ہیں اور وہاں (آخرت میں) ہمیشہ تک کے لئے، تم دنیا میں اس شخص کی طرح ہو جس کو چکھنے کے لئے کھانے کا ایک چمچہ دیا جائے اور وہ اس کے ذائقہ کو حلق میں محسوس کرتاہے، اگر وہ اس کو اچھا لگتا ہے تو خرید کر کھا لیتا ہے یہاں تک کہ اس وقت اس کا پیٹ بھر جاتا ہے، تو یہ دنیا میں چکھنا ہے، اور شکم سیری تو آخرت میں ہے، یہی وجہ ہے کہ تم فاسق شخص کو دیکھوگے کہ اس کا نفس جنسی بھوک کا شاکی رہتاہے جب تک وہ حرام نہ چکھ لے ، سیکڑوں عورتوں کو وہ جانتا ہے ، پھر سو(۱۰۰) کے بعد ایک کو دیکھتا ہے تو اس کا نفس اس کا تقاضہ کرنے لگتا ہے گویا کہ وہ کسی عورت کو جانتا ہی نہیں، اس کی یہی حالت رہتی ہے حتی کہ اس کا جسم کمزور پڑ جاتاہے لیکن اس کی خواہش کم نہیں ہوتی، ٹھیک اسی طرح مال کی لذت کا حال ہے۔
وہ فقیر جو مٹی کی جھونپڑی میں سوتاہے ، جوکی روٹی کھاتا ہے، پرانا جوتا پہنتا ہے، تانگہ پر سفر کرتاہے تو اُسے یہ خیال ہوتاہے کہ کاش وہ کسی دن مالدار کے بستر پر لیٹے یا اُس کے دسترخوان پر کھائے اور اس کی گاڑی میں سفر کرے تو وہ تمام لذتیں پالیگا؛ لیکن وہ مالدار جو ان تمام چیزوں سے مانوس ہوتاہے تو وہ دوبارہ ایسی لذت نہیں پاتا بلکہ اُسے تکلیف ہی ہوتی ہے اگر اُن میں سے کوئی چیز نہ رہے، گمنام شخص کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ وہ مشہور شخصیت بن جائے، ریڈیو میں اس کا نام آتا رہے، اخبارات میں اس کی تصویریں چھپتی رہیں، لوگ اس کے بارے میں گفتگو کریں، لیکن مشہور آدمی جو ان چیزوں سے آشنا ہوتاہے وہ اس کی طرف توجہ بھی نہیں دیتا اور ناہی پرواہ کرتاہے۔
دنیا کی لذتیں سراب کے مانند ہیں، سراب دور سے تالاب کی طرح نظر آئے گا لیکن جب تم اُس کے پاس پہنچوگے تو تمہیں صحرا ہی نظر آئے گا، تو وہ پانی ہے لیکن دور سے دکھائی دینے والا۔۔۔
گرامی قدر قارئین! میرا مقصد وعظ و نصیحت نہیں ہے اور ناہی میں واعظین میں سے ہوں مگر ہاں یہ دل کی دھڑکنیں ہیں جو یہ احساس دلا رہی ہیں کہ میں آج یکم محرم میں زندہ ہوں اور میں اس طرح کھڑا ہوں جیسے کوئی مسافر ہو، اور بیٹھا ہوا اس طرح حساب لگا رہاہوں جیسے کوئی سودا گر ہو۔جب ہم اپنی اس موجودہ زندگی کو دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ وہ کاروں کا ایک قافلہ ہے جو بغیر ہوش وحواس کے تیزی سے دوڑی جارہی ہیں، ہر ایک کو یہی فکر ہے کہ دوسری سے آگے بڑھ جائے اور اپنے پیچھے چھوڑے، اگر آپ ان کے ڈرائیور سے دریافت کروگے کہ کہاں جارہے ہو اور کیوں اتنی تیزی سے جارہے ہو؟ تو آپ کو کوئی جواب نہ ملے گا، کوئی مال کی طرف دوڑ رہاہے تو کوئی لذتوں کے پیچھے پڑا ہواہے کوئی ملازمت کی تگ ودَو میں ہے ، چنانچہ زندگی کے ہر راستہ میں کوئی نہ کوئی سبقت کر ہی رہاہے، یوں ہی پھر زندگی ڈھل جاتی ہے اور ہم ان تمام چیزوں سے دست کش ہو جاتے ہیں جن کی طرف ہم سبقت کررہے تھے، اس لئے ضروری ہے کہ ہر سال کے آغاز پر چند ساعتوں کے لئے رک کر اپنی ذات سے پوچھیں کہ ہم اس دوڑ دھوپ سے کیا فائدہ اٹھاپائے، کہیں ایسا تو نہیں کہ اصل نفع تو کہیں اور ہو اس راستہ کے علاوہ جس کی طرف لوگ یہ سوچ کر جارہے ہوں کہ اصل فائدہ تو اسی میں ہے۔
یہ دن (سال نو کا پہلا دن) ہمارے لئے ایلٹی میٹم ہے اس وجہ سے کہ آنے والے دن بھی عنقریب گذرجائیںگے جیساکہ گذشتہ سال کو الوداع کہدیا، ہر ایک سال ہماری عمروں میں سے ایک حصہ لے رہاہے، یہاں تک کہ عمریں ڈھل جاتی ہیں تو ہمیں بقیہ زندگی میں تلافی کرنی چاہئے اور سال میں ایک نہ ایک دن آپس میں ایک دوسرے کو نصیحت، حق بات نیز صبر کی تلقین کرنے والوں میں سے ہونا چاہئے ۔
تم رسالوں میں بہت سی اہم باتیں پڑھتے ہو جو تمہاری عقلوں کو خوب مجلی کردیتی ہیں اور بہت سی ایسی عمدہ باتیں جو دلوں میں کیف پیدا کردیتی ہیں یہ سب باتیں ٹھیک ہیں لیکن سب سے بہتر بات یہ ہے کہ ایسی باتیں سنو جو تمہیں تمہاری آخرت کی یاد دلادیں اور رب العالمین کے سامنے پیشی کے دن تمہارے لئے نفع بخش ہوں۔
بخدا میں یہ بات کہنے کا اپنے آپ کو مستحق نہیں سمجھتا بلکہ میں نصیحت کرنے کے مقابلے میں اس بات کا زیادہ محتاج ہوں کہ مجھے نصیحت کی جائے لیکن مے خانہ کا منتظم ہی مجلس کو ختم کرتا ہے۔
میں نے جب بیروت سے جدہ جانے کاارادہ کیا تو میں ایئر پورٹ کے ہوٹل پر اپنی فلائٹ کے انتظار میں ناشتہ کرنے بیٹھ گیا، وہ ہوٹل لوگوں سے بھرا ہوا تھا، ہر شخص کھانے پینے اور بات چیت میں مصروف تھا، میں بھی یہی کام کررہاتھا، ان کو دیکھ کر یوں لگتا کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ایسے دوست ہیں جو کبھی جدا نہ ہوںگے اور جن کا اتحاد کبھی ٹوٹے گا نہیں، لیکن بیروت کا یہ ایئر پورٹ جہاں ہر پندرہ منٹ میں ایک فلائٹ آتی اور دوسری جاتی ہے، وقفہ وقفہ سے اناؤنس مینٹ کرنے والے کی یہی آواز آتی کہ ’’ لندن‘‘ جانے والی BOACفلائٹ کے مسافرین رن وے پر پہنچ جائیں، چنانچہ حاضرین کی ایک جماعت کھانا پینا چھوڑ کر اُٹھ جاتی ہے، پھر وہ اعلان کرتاہے کہ ’’جکارتہ‘‘ کے KLMجہاز کے مسافرین متوجہ ہوں یکایک لوگ اپنا کھانا پینا چھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں، کبھی ’’امریکہ ‘‘ کے کبھی ’’کانگو‘‘ کے کبھی ایران کی طرف جانے والا جہاز کا تو کبھی ماسکو جانے والے جہاز کا اعلان ہوتاہے، میں نے لوگوں کی یہ حالت دیکھ کر اپنے بھائی سے کہا: کہ یہ ہے ہماری زندگی ہم کھانے پینے اور اپنی زندگی کے دیگر مشاغل میں توجہ دے رہے ہوتے ہیں جب کہ ایک آواز اس شخص کو پکار رہی ہوتی ہے جس کی باری آگئی ہو تاکہ وہ اپنی منزل کا رخت سفر طے کرلے، چنانچہ جو شخص سفر کے لئے تیار ہو، تمام ضروریات سے فارغ ہو، اس کے بیگ وغیرہ ریڈی ہوں اور ہلکا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو تو وہ سکون و اطمینان سے سفر طے کرلے گا، اور وہ شخص جس کی باری آگئی لیکن اُس نے اپنا سامان تیار نہ کیا اور نہ ہی اپنی ضروریات سے فارغ ہوا تو اس کا یہ سفر بغیر ارادہ اور بغیر تیار ی کے ہوگا تو کیوں نا ہم اس سفر کی تیاری کرلیں جس کی طرف ہمیں جانا ہی ہے اور کیوں نہ ہم اس سفر کے لئے وہ توشہ اکھٹا کرلیں جس کے علاوہ کوئی دوسرا توشہ وہاں کام نہ آئے گا، ہم کیوں موت کو بھول جاتے ہیں جبکہ وہ ہمارے سامنے ہے، ہم اس کو بہت دور سمجھتے حالانکہ وہ انتہائی قریب ہے، ہم جنازے بھی پڑھتے ہیں، انہیں رخصت بھی کرتے ہیں ، ان سب چیزوں کے باوجود ہم امور دنیا میں مستغرق رہتے ہیں گویا ہمیشہ ہمیں یہیں رہنا ہے اور یہ کہ موت ہمارے علاوہ سب کے لئے مقدر ہے۔
معزز قارئین ! ہم اپنی پوری زندگی غفلت میں گذار رہے ہیں، تو آج کا یہ دن(یکم محرم) تنبیہ کا دن ہے ، ہمیں اسٹیشن پر ٹہرے مسافر کی طرح رکنا چاہئے جو یہ سوچتا ہے کہ کتنا راستہ اُس نے طے کیا اور کتنا ابھی باقی ہے، ہمیں ریکارڈ دیکھنا چاہئے جس طرح تاجر سال کے اختتام پر اپنا حساب و کتاب چیک کرتاہے، تاکہ ہمیں معلوم پڑ سکے کہ ہم نے گذشتہ سالوں میں کتنا پایا اور کتنا کھویا تاکہ ہم اپنے پرور دگار کے سامنے ہاتھ پھیلا کر کہہ سکیں کہ اے اللہ ہماری گذشتہ کوتاہیوں کو معاف فرما اور آئندہ خیر کی توفیق عطا فرما، اے اللہ اگر آپ نے ہمارے مقدر میں یہ لکھ دیا ہے کہ ہم آئندہ سال کے اس جیسے دن تک زندہ رہیںگے تو آنے والے دنوں کو ہمارے لئے نیز تمام مسلمان بھائیوں کے لئے گذشتہ دنوں کے مقابلے میں بہتر بنا، اے اللہ ! اپنے فضل و کرم سے حسن خاتمہ عطا فرما، ہمارے گناہوں کومعاف فرما، ہماری کوتاہیوں سے درگذر فرما اور نیک لوگوں کے ساتھ ہمارا حشر فرما ۔ آمین۔
(بصیرت فیچرس)