نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری!

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری!

خبر در خبر
غلام مصطفی عدیل قاسمی
ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن
اللہ پاک نے انسانوں کی رشد و ہدایت کے لئے آسمانی دستور بشکل قرآن مجید اتارا اور ساتھ ہی درست رہنمائی و عمدہ رہبری کے لیے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مبعوث فرمایا، چنانچہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہر پہلو سے لوگوں کو کامیاب زندگی گزارنے کے طریقے بتلائے اور پھر یہ عظیم ذمہ داری اہل علم و تقویٰ کو سونپ کر اس دنیا سے پردہ فرما گئے، یہی وجہ ہے کہ تقریبا ساڑھے چودہ سو برس کے طویل عرصے میں اس امت کے علماء کرام و مشائخ عظام امت مسلمہ کی ہر ہر موڑ پر رہنمائی کرتے دکھائی دیتے ہیں، کبھی خط و کتابت کے ذریعہ تو کبھی فتاویٰ جات کی شکل میں اسلامی تعلیمات کے اسرار و رموز سے واقف کراتے نظر آتے ہیں اور جب کبھی ضرورت پڑتی ہے تو ارباب اقتدار کو بھی آئینہ دکھا دیتے ہیں ۔بلکہ تاریخ اسلامی اس بات کی بھی گواہ ہے کہ علمائےدین کی صف کے جیالے حکومتی جبر و استبداد کے خلاف بھی صدائے احتجاج بلند کرنے سے نہیں چوکے، موسم خواہ خزاں کا رہا ہو یا بہار کا ہر حال میں حق گوئی و بے باکی کا علم بلند کیا ہے، خبر کے مطابق ملت اسلامیہ ہندیہ کے دلوں کی دھڑکن، بھارتی مسلمانوں کی قیادت کے سرخیل، مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ کے سچے جانشین، صوفی باکمال، بقیۃ السلف حضرت مولانا سید محمدرابع حسنی ندوی مدظلہ صدرآل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ وناظم ندوۃ العلماء لکھنؤنے سعودی حکومت کو آئینہ دکھا کر ایک بار پھر اپنے پیشرو حضرت علی میاں ندوی نور اللہ مرقدہ کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔یہاں پریہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ حضرت علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے اپنے ایک سعودی دورے پر مملکت سعودیہ کے فرمانروا کے سامنے ایسی دلپذیر باتیں کی تھیں کہ اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل تاب نہ لا سکے تھے اور قوم و ملت کی زبوں حالی کا واقعہ سن کر چھوٹے بچوں کی طرح اس قدر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے تھے کہ شاہی محل کے محافظین دوڑ پڑے تھے لیکن شاہ فیصل نے انہیں باہر جانے کو کہا اور پھر حضرت علی میاں ندوی رحمہ اللہ سے گویا ہوئے کہ اگر اس امت کے شاہوں کو آپ جیسا حق گو و حق پرست راہنما ملتا رہے تو کبھی بھی مسلمان بادشاہ راہ راست سے بھٹک نہیں سکتا، آج اسی علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذ رشید اورحقیقی جانشیں نے سعودی فرمانروا کو خط لکھ کر اپنے پیر و مرشد کے سچے پروکار ہونے کا ثبوت پیش کیاہے، انھوں نے اپنے خط میں سعودی حکومت کے مغربی کلچر کو فروغ دینے کی پالیسی پر خدشات کا اظہار کیا ہے اور ایک اسلامی حکومت ہونے کے ناطے انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا ہے، انھوں نے مملکت سعودیہ سے پچھلے دنوں کی مختلف خبروں کی بابت تردید و توثیق جاننا چاہی ہیں، قارئین کو بتا دوں کہ کچھ ہی دن قبل ایک عربی خبر نامہ کے مطابق امام حرم مکی شیخ صالح کو سعودی حکومت نے حق گوئی اور مغربی کلچر کے خلاف اپنے بیان میں سعودی حکومت پرسخت تنقید کے جرم میں پابند سلاسل کر دیا ہے۔ مجھے بھی امام حرم کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا ہے جس میں کہیں کوئی لفظ یا کوئی ایسی بات امام موصوف نے نہیں کہی جس پر انہیں دیوار پس زنداں بھیجا جاتا، لیکن پھر بھی انہیں منظر عام سے غائب کر دیا گیا۔ خبروں کے مطابق نئے ولی عہد محمد بن سلمان کے آنے کے بعد حق گوئی کے جرم میں اب تک دسیوں مؤقر علماء و مفتیان کرام کی گرفتاریاں عمل میں لائی جا چکی ہیں، ذرائع کے مطابق محمد بن سلمان ہر ایسے شخص کو اپنے راستے کا کانٹا سمجھتا ہے جو مغربی کلچر کو ناپسند کرتے ہوں، جس بنا پر وہاں کے علماء ڈرے ہوئے ہیں، اب تک جنھوں نے بھی لب کشائی کی جسارت کی ہیں انہیں راستے سے ہٹانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھ چھوڑی ہے، خواہ وہ مشہورداعی اورمبلغ ڈاکٹر عائض القرنی ہوں یا دیگر بڑے بڑے مفتیان ومبلغین اسلام، کوئی بخشے نہیں گئے اور یہ سلسلہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا جا رہا ہے، آخر ہمت کرے تو کون کرے! سب کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں، لیکن تاریخ اپنے آپ کو پھر دہرا رہی ہے کہ حالات خواہ کتنے ہی خراب کیوں نہ رہے ہوں، معرفت الہی کا مزہ چکھنے والے اور مردان راہ حق، شعائر اسلام کو لیکر کبھی بھی کسی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے، بلکہ وقت پڑنے پر حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کی ہیں، آج پھر حالات خراب ہو چکے ہیں، زبانوں پر تالے لگا دیئے گئے ہیں، کئی قلم جریدے جا چکے ہیں، علماء حق پر گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے، باطل دندناتا پھر رہا ہے، سعودی عوام بھی سہمی ہوئی ہے، ہر کوئی حق بولنے اور لکھنے سے ڈر محسوس کر رہے ہیں، ان نازک ترین حالات میں حضرت مولاناسیدمحمد رابع حسنی ندوی مدظلہ کا انتہائی اہمیت کا حامل پیغام ضرور رنگ لائے گا، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے دیگر سبھی قائدین حضرت مولاناسیدمحمد رابع صاحب مدظلہ کی رائے کا پر زور استقبال کریں اور سعودی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں، انہیں یہودی پروپیگنڈوں سے آگاہ کریں کہ یہود و نصاریٰ سے دوستی سانپ کو دودھ پلانے کے مانند ہے جو کسی بھی وقت ڈس سکتا ہے، پھر نہ تم بچ سکو گے اور نہ وہاں کی عوام، اس لئے ناگ کو دودھ پلانے سے بہتر ہے کہ مسلم حکومتیں آپس میں اتحاد و اتفاق کی راہ ہموار کریں، باطل طاقتوں کی سازشوں کا قلع قمع کریں۔ حضرت مولاناسیدمحمدرابع حسنی دامت برکاتہم نے اپنا فرض تو ادا کر دیا ہے اب آپ اور آپ جیسے اکابر علماء و مشائخ اور دانشوران قوم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی خانقاہی زندگی سے نکل کر رسم شبیری ادا کیجئے، اور بلا کسی تاخیر کے یہود و نصاری کے پھن پھیلائے ناگ کا سر کچل دیجئے، تاکہ حرم کی سرزمین اور وہاں کے باشندے اس کے زہر سے بچ سکیں، اللہ پاک باطل کی ہر داؤ پیچ کو انہی پر پلٹ کر امت مسلمہ کو سرخرو کرے۔ آمین
(بصیرت فیچرس)