ماہ محرم کی شرعی وتاریخی حیثیت

ماہ محرم کی شرعی وتاریخی حیثیت

محمد شاہ نواز سمستی پوری
المعھد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء، پھلواری شریف ،پٹنہ
اسلامی سال کاپہلامہینہ جسے محرم الحرام کہاجاتاہے اپنے گوناگوں خیروخبر ،پیچ وخم ،عشق ووفا،ایثاروقربانی اور بے شمار فضیلت ومرتبت کی دولت بے بہاسے معمورومعطرہے ۔محرم الحرام ان چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جس سے بابرکت اسلامی سال کاآغازہوا ،یہ مبارک مہینہ جہاں کئی ایک شرعی فضیلتوں کاحامل ہے ،وہیں بہت سارے تاریخی واقعا ت کواپنے اندر سموئے ہوئے ہے، یہ ایک ایسامبارک اور بابرکت مہینہ ہے کہ جہاں اس کواللہ تعالی نے اپنی مبارک کتاب میں جگہ دی ہے وہیں آقائے نامدار ﷺ نے اپنی زیان مبارک سے اس کی عظمت وفضیلت بیان فرمائی ہے۔
ماہ محرم کی شرعی حیثیت
ماہ محرم کی جہا ں ایک تاریخی اہمیت ہے، وہیں اس کی اسلامی اور شرعی حیثیت بھی ہے ؛کیوں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اس مہینہ میں روزہ رکھنے کی باربارتاکید فرمائی ہے۔
امّاں عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے لوگ عاشورا کاروزہ رکھتے تھے اور عاشورا کے دن بیت اللہ کوغلاف پہنایاجاتاتھا،جب رمضان کے روزے فرض ہوئے توحضور ﷺ نے فرمایا:کہ جوچاہے (یوم عاشوراء کا) روزہ رکھے اور جوچاہے نہ رکھے (صحیح بخاری ص ۲۱۷)۔
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ :حضور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ،تویہودیوں کودیکھاکہ عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے پوچھایہ کیاہے ؟ یہودیوں نے کہا:یہ اچھادن ہے، اس دن اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کوان کے دشمن سے نجات دی ،حضرت موسی ؑ اور بنی اسرائیل کوغلبہ اور کامیابی عطافرمائی ،ہم اس دن کی تعظیم کے لیے روزہ رکھتے ہیں ،حضور ﷺ نے فرمایا :ہم تم سے زیادہ موسی ؑ کے قریبی ہیں(مسلم /باب صوم یوم عاشوراء حدیث ۲۷۱۲) اس لیے نبی ﷺ نے خود بھی روزہ رکھااور صحابہ کرام ؓ کوبھی اس کاحکم دیا۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ: حضور اکر م ﷺ نے عاشوراء کاروزہ رکھااورلوگوں کواس کاحکم دیا۔ لوگوں نے بتایاکہ یہودو نصاری اس دن کی تعظیم کرتے ہیں توآپ ﷺ نے فرمایا :اگرآئندہ سال زندہ رہا تو ان شاء اللہ نویں کو(بھی) روزہ رکھوں گا ؛ لیکن آ ئندہ سال آ پ ﷺ کاوصال ہوگیا(مسلم /ج :۱ ص :۳۵۹)حضرت ابن عباس ؓ ہی سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :عاشوراء کاروزہ رکھواور اس میں یہود کی مخالفت کرو(مسند احمد ج :۱ ص :۲۴۱)ایک دن پہلے روزہ رکھویاایک دن بعد۔اس سے معلوم ہواکہ غیرمسلم اقوام کے ساتھ ادنی مشابہت سے بھی بچناچاہیے ،خواہ وہ عبادت میں ہو یاعقائد میں ،عادات واطوار میں ہویارسم ورواج میں ،حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انھیں میں سے ہے ۔
ماہ محرم کی تاریخی اہمیت :
یوں توبنفسہ کوئی مہینہ عظمت وحرمت کاحامل نہیں ؛کیوں کہ مہینہ میں عظمت وحرمت کااصل سبب تواللہ تعالی کی تجلیات و انوار کا اس مہینہ میں ظاہر ہوتاہے، مگر بعض عظیم الشان اور اہم واقعات کاکسی مہینہ میں انجام پذیرہونابھی کسی درجہ میں اس مہینہ کی فضیلت و عظمت کاسبب اور موجب ہوجاتاہے ،جیسا کہ :ماہ محرم میں مختلف تاریخی واقعات پیش آئے ہیں ،جن کی بناء پر اس ماہ کوتاریخی اہمیت کاشرف حاصل ہے ،چناں چہ اسی مہینہ میں آدم ؑ کے سر پرخلافت کاتاج رکھاگیا ،اسی مہینہ میں حضرت نوح ؑ کی کشتی چھ ماہ طوفان کے چکرلگانے کے بعد جبل جودی پہ جاکے ٹھہری ،اسی مہینہ میں فرعون غرق ہوا اور حضرت موسی ؑاور ان کی قوم کوفرعون کی غلامی سے نجات ملی، عام الفیل کامشہور واقعہ اسی مہینہ میں پیش آیا ،جس میں ابرہہ ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ خانہ کعبہ کو تباہ کرنے آیاتھا، حضرت عمرفاروق ؓ قاتلانہ حملے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے یکم محرم ۳ ۲ ؁ھ شہید ہوئے ،کربلا کے ر یگ زاروں میں حسین ابن علی ؓ نے بہتر جانثار وں سمیت دس محرم الحرام ۶۱؁ھ کوجام شہادت نوش کیا؛لیکن شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ :بعض لوگوں میں یہ بات مشہورہے کہ جب حضرت آدم ؑ دنیامیں اترے ،تووہ عاشوراء دن تھا،حضرت ابراہیم ؑ کوجب آگ میں ڈالاگیااور اس آگ کواللہ تعالی نے ان کے لیے گلزار بنایاتو وہ عاشوراء کادن تھا،اور قیامت بھی عاشوراء کے دن قائم ہوگی ،یہ بات لوگوں میں مشہورہیں؛لیکن ان کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں ،کوئی صحیح روایت ایسی نہیں ہے جویہ بیان کرتی ہو کہ یہ واقعات عاشوراء کے دن پیش آئے تھے ،صرف ایک روایت میں ہے کہ ’’جب حضرت موسی ؑکامقابلہ فرعون سے ہوا اور پھر حضرت موسی ؑدریاکے کنارے پر پہنچ گئے اور پیچھے سے فرعو ن کالشکر آ گیا تواللہ تعالی نے اس وقت حضرت موسی ؑ کوحکم دیاکہ اپنی لاٹھی دریا کے پانی پر ماریں،اس کے نتیجے میں دریا میں بارہ راستے بن گئے اور ان راستوں کے ذریعہ حضرت موسی ؑ کالشکردریا کے پار چلاگیا،اور جب فرعون دریاکے پاس پہنچااور اس نے دریا میں خشک راستے دیکھے تو وہ بھی دریاکے اندر چلاگیا،لیکن جب فرعون کاپورا لشکر دریا کے بیچ میں پہنچا تووہ پانی مل گیا اور فرعون اور اس کاپورالشکر غرق ہوگیا،یہ واقعہ عاشوراء کے دن پیش آ یا اس کے بارے میں ایک روایت موجود ہے جونسبتاً بہتر روایت ہے ،لیکن اس کے علاوہ جودوسرے واقعات ہیں ان کے عاشوراء کے دن میں ہونے پرکوئی اصل اور بنیاد نہیں ۔
لیکن بعض حضرات ماہ محرم کی تمام تاریخی اہمیتوں اور شرعی حیثیتوں کوپس پشت ڈال کر یہ گمان کرتے ہیں کہ ماہ محرم کی اہمیت صرف نواسۂ رسول ﷺ ،جگرگوشۂ بتول حضرت حسین ؓ کی مظلومانہ شہادت کی وجہ سے ہے ۔ حالاں کہ اس ماہ کی فضیلت واہمیت آپ ﷺ کے اقوال وافعال کی روشنی میں پہلے سے ہی ثابت ہے ۔ہاں حضرت حسین ؓ کی عظیم شہادت کے لیے اللہ تبارک وتعالی نے اس بابرکت مہینہ کاانتخاب کیا،جس سے حضرت حسین ؓ کی قربانی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ؛اس لیے انھوں نے پورے مہینہ اور دسویں محرم کوغم کی تاریخ قرار دے دیا۔جس کانتیجہ یہ ہواکہ وہ اس میں خوشی ومسرت کی کوئی تقریب منعقد نہیں کرتے خواہ وہ نکاح مسنونہ ہویاعقیقہ ٔ مشروعہ۔
اگر ماہ محرم کوغم کامہینہ قرار دینے کی وجہ صرف یہی ہے کہ اس میں فرزند شیر خداکوشہید کیاگیا،توپھریاد رکھیے ! اس کو غم کی تاریخ قرار دینا ہر گز مناسب نہیں ؛اس لیے کہ محض حق کی خاطر کسی مرد مجاہد کاجام شہادت نوش فرماناکوئی غم کی بات نہیں بلکہ وہ خوشی ومسرت اور فخر کی بات ہے۔
شہادت تو ایساقابل رشک عمل اور ایسی قابل رشک نعمت ہے جس کی خواہش سیدالانبیاء ﷺ نے بھی ظاہر فرمائی، حضرت عمر فاروق ؓ تاحیات اس جام کے لیے دعائیں مانگی اور حضر ت علی ؓ جب اس جام کونوش فرمانے لگے تواسے اپنی کامیابی وکامرانی سے تعبیرکیا۔
کیااس کے بعد بھی شہادت کاسانحہ لائق رنج والم ہوسکتاہے ؟ایک سچے مسلمان کاایمان تویہ ہے کہ نواسۂ رسول ﷺ حضرت حسین ؓ کوشہیدہوکر وہ منصب مل گیاجواپنی تلوار سے سوسرقلم کرکے بھی نہیں حاصل کرسکتے تھے کیوں کہ شہید کوتو حیات جاودانی ملتی ہے ۔
قرآن شہید کے بارے میں ناطق ہے {ولاتقولوالمن یقتل فی سبیل اللہ امواتابل احیاء ولکن لاتشعرون (البقرہ)}تر جمہ :جولوگ اللہ کے راستہ میں قتل کردیے جاتے ہیں انھیں مردہ نہ کہو ،بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم سمجھتے نہیں ۔
اللہ کے راستے میں جولوگ شہیدہوگئے اور جن لوگوں نے جام شہادت نوش کرلیاوہ قرآن کریم کی روشنی میں زندہ ہیں، توپھرزندہ پرنالہ وبکاکرنا،ماتم وشیون کرنا، تعزیہ نکالنا،شمشیرزنی کرنا،سینہ کوبی اور دہکتی آگ پر چلناچہ معنی دارد؟ہم تویہی کہیں گے ؎
ماتم وہ کریں جو منکر ہوں حیات شہداء کے
ہم زندہ جاوید کا ماتم نہیں کرتے
(بصیرت فیچرس)