مولانا طاہر قاسمی کی رحلت سے ان کا آبائی گاوں دوگھرا سوگوار

مولانا طاہر قاسمی کی رحلت سے ان کا آبائی گاوں دوگھرا سوگوار

مولانا ارشد فیضی سمیت موقر علماء ودانشوران کا اظہار تعزیت
جالے:12/ ستمبر ( رفیع ساگر؍بصیرت نیوزسروس)
علم وادب کی بستی کہلانے والے مقامی بلاک کے دوگھرا گاوں باشندہ اور موقر عالم دین مولانا طاہر حسین قاسمی کے اچانک انتقال سے پورے علمی حلقے میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے اور علماء برادری نے ان کی رحلت پر جہاں گہرے صدمے کا اظہار کر کے ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے وہیں پیام انسانیت ٹرسٹ کے صدر اور اسلامک مشن اسکول جالے کے ڈائریکٹر مولانا محمد ارشد فیضی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مولانا طاہر قاسمی کا انتقال ایک ایسا علمی خسارہ ہے جس کی بھرپائی برسوں میں کہیں ممکن ہو سکے گی وہ ایک سنجیدہ عالم دین اور علم دوست انسان تھے اور یہی نہیں بلکہ انہوں نے شاہ پور بگھونی میں 35 سال تک جس خود اعتمادی کے ساتھ نسل کی علمی ضرورتوں کی تکمیل میں اپنے آپ کو مشغول رکھا اس کی مثالیں بہت مشکل سے مل پائیں گی انہوں نے موصوف کے انتقال کی خبر آنے کے بعد گہرے دکھ کا اظہر کرتح ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا موصوف کی رحلت کے بعد پورے علمی حلقے کا سوگوار ہو جانا ایک فطری بات ہے اور میں کہ سکتا ہوں کہ ان کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پورا ہونا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا انہوں نے کہا کہ مولانا قاسمی پورے علاقہ میں زہد وتقوی اور علمی وقار واعتبار کی علامت تھے اور ان کی علمی خدمات کے دائرے نہ صرف قابل ذکر حد تک وسیع ہیں بلکہ علمی حلقہ ان کے خلوص کی گواہی دیتا تھا وہ ایک اچھے استاد اور قابل رشک مربی کی حیثیت سے جانے جاتے تھے مولانا فیضی نے کہا کہ میں ذاتی طور پر موصوف کے چلے جانے کے غم کو اپنے سینے میں محسوس کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان کی علمی خدمات ان کی ترقی درجات کا سبب بنیں گی مولانا فیضی کے علاوہ مدرسہ قاسم العلوم دوگھرا کے سابق پرنسپل مولانا اسرار احمد شگفتہ ،مولانا نعیم الدین قاسمی،مولانا محب الحسن ،مولانا شہاب الدین، مولانا شمیم سالک مظاہری جنرل سکریٹری الہلال ایجوکیشنل ٹرسٹ بنگلور ،مولانا نسیم سالک قاسمی ،مولانا وصی احمد قاسمی ،مولانا معین احمد،ماسٹر سیف الاسلام ،ماسٹر مفید عالم،عبادت علی ،مولانا جابر حسین قاسمی،نور عالم سابق مکھیا دوگھرا، سرفراز احمد سابق مکھیا دوگھرا، الحاج صابر حسین ،ماسٹر محمد جوہی ،محمد نظر عالم، محمد اصغر علی ،حافظ عبد القادر ،ماسٹر ممتاز ،ماسٹر محمد امجد ،محمد اسماعیل ،محمد مقبول ،فضل عالم ڈیلر ،مولانا شاہد وصی سمیت دوگھرا کی علمی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مولانا طاہر قاسمی کی رحلت کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے مولانا اسرار احمد شگفتہ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا طاہر ایسے خوددار انسان تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی کسی بھی رکاوٹ کو اپنے عزم کے سامنے حائل ہونے نہیں دیا مولانا جابر حسین قاسمی نے کہا کہ مجھے ان کے چلے جانے کا ذاتی صدمہ ہوا ہے اور میں غم کی اس گھڑی میں ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہوں ماسٹر سیف الاسلام نے اپنے تعزیتی پیغام میں مولانا طاہر قاسمی کو علم دوست اور نئی نسل کے تعلیم مستقبل کے لئے فکر مند شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے جانے سے علمی محفل سونی ہوگئی ہے ماسٹر مفید عالم اور مولانا شہاب الدین نے کہا کہ ہم نے مولانا طاہر قاسمی کی شکل میں ایک ایسے شخص کو کھو دیا ہے جن کی علمی قدریں احترام کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں قابل ذکر ہے کہ مولانا طاہر قاسمی نے اپنی تدریسی خدمات کا آغاز شاہ پور بھگونی سے کیا اور تین دہائیوں تک اس علاقے میں علم کی ایسی شمع جلائے رکھی کہ ہزاروں طلبہ آپ سے فیض یاب ہوئے یہی وجہ ہے کہ بگھونی میں بھی ان کے انتقال کی خبر کے بعد ماتمی سناٹا چھایا ہوا ہے ۔