ہم جنس پرستی کی موافقت میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ فطری نظام سے بغاوت ہے:عنایت اللہ 

ہم جنس پرستی کی موافقت میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ فطری نظام سے بغاوت ہے:عنایت اللہ 

مدھوبنی ،12/ستمبر (شرف الدین عبدالرحمن تیمی) ہم جنس پرستی کے حق میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ پر نمائندہ سے بات کرتے ہوئے اینگلو عربک اسکول میگھون کے ڈائریکٹر عنایت اللہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ فطری نظام سے بغاوت ہے. اسلام اور دیگر مذاھب کی تعلیمات کی مخالفت اور اپنے مسموم افکار و خیالات سے ملک کے باوقار طبقہ کو شرمسار کرنا ہے یہ قدم صرف اور صرف مغربی آقاؤں کی واہ واہی حاصل کرنے کے لئےکیا گیا ہے. عدالت کے قیام کا بنیادی مقصد برائیوں کو ختم کرنے،جرائم پر روک لگانے، مجرموں کو کیفر کردار تک پہونچانے اور معاشرے کو مہذب بنانے کے لئے وجود میں آیا ہے لیکن عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ عدالت کے وقار اور اس کے قیام کے مقاصد کو تار تار کرتا ہوا نظر آرہا ہے. مزید انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت کے اس فیصلے سے معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی و عریانیت عام ہوجائے گی. آخر میں انہوں نے ملک وملت کے تمام لوگوں سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ لوگ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر اس مہلک اور جراثیمی فیصلوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں ورنہ وہ دن دور نہیں کہ ہمارا بھی حشر قوم لوط جیسا ہوگا جسے ہم جنس پرستی کے پاداش میں تباہ وبرباد کر دیا گیا.