ڈی پی ایس کے متصل زمین پر قبضہ کے سلسلے میں دہلی اقلیتی کمیشن کا سنٹرل پی ڈبلیو ڈی اور دہلی وقف بورڈ کو نوٹس

ڈی پی ایس کے متصل زمین پر قبضہ کے سلسلے میں دہلی اقلیتی کمیشن کا سنٹرل پی ڈبلیو ڈی اور دہلی وقف بورڈ کو نوٹس

نئی دہلی:12؍ستمبر(بصیرت نیوزسروس)
حضرت نظام الدین علاقے میں ڈی پی ایس سے منسلک خسرہ نمبر ۴۸۴ پر پر سنٹرل پی ڈبلیو ڈی کی باؤنڈری بنانے اور قبضہ کرنے کی اطلاع ملنے پربروز بدھ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیر مین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے متعلقہ زمین کا معائنہ کیا اور موقعہ پر موجود سرکاری ملازمین اور پولیس افسران سے بات کی۔ معائنہ کے دوران صدر اقلیتی کمیشن کے ساتھ مفتی عطاء الرحمن قاسمی بھی موجود تھے جو شمالی ہند میں اوقاف کے مسائل کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ موقعہ پر موجود سی پی ڈبلیو ڈی کے افسر نے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو دلی ہائی کورٹ کا آرڈر دکھایا، جس سے اندازہ ہوا کہ فیصلہ ابھی حتمی نہیں ہے بلکہ جگہ کی حفاظت کے لئے صرف باؤنڈری بنانے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ موقعہ پر موجود سندر نرسری کے ذمہ دار ایم خان نے ڈاکٹر ظفرالاسلام کو بتایا کہ باؤنڈری کے بننے کے بعد یہ جگہ سندر نرسری کو دے دی جائے گی۔ ہائی کورٹ کے آرڈر سے یہ بھی معلوم ہواکہ یہ کارروائی جامعہ عربیہ نظامیہ ویلفیر سوسائٹی کی طرف سے دائر کئے ہوئے مقدمہ کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔
دہلی اقلیتی کمیشن نے اس سلسلے میں ڈائرکٹر جنرل سی پی ڈبلیو ڈی اور چیف ایگزیکیوٹیو افسر دہلی وقف بورڈ کو نوٹس دیکر پوچھا ہے کہ کس بنیاد پر باؤنڈری بنائی جارہی ہے، باؤنڈری بنانے کا مقصد کیا ہے، کیا یہ صحیح ہے کہ مذکورہ زمین کا ایک حصہ دہلی وقف بورڈ کا ہے، اگر ایسا ہے تو دہلی وقف بورڈ کیس میں عدالت کے سامنے اپنا موقف رکھنے میں کیوں ناکام رہا، مذکورہ زمین کے بارے میں اب دہلی وقف بورڈ کیا کرنے والا ہے اور مذکورہ زمین سے متصل زمین کے بارے میں ، جس پر جھگیاں قائم ہیں، دہلی وقف بورڈ کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ دونوں اداروں کو ۲۹ ستمبر تک اس نوٹس کا جواب دیناہے۔