انسانی خدمت کے ذریعہ روحانی سکون ملتا ہے

انسانی خدمت کے ذریعہ روحانی سکون ملتا ہے

حیات کی تابندگی کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم تازہ
غلام مصطفی رضوی [نوری مشن مالیگاؤں]
اسلام نے امن و اخوت و انسانی خدمت کو فائق رکھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اسلامی حسن سلوک نے دلوں کی دنیا کو بدل دیا۔ ہزاروں مثالیں تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں؛ کہ جن کے ذریعہ دل میں اسلام نے گھر کر لیا۔ کفر کی آہنی دیواریں زمیں بوس ہو گئیں۔ اسلام کے حسن نے دل و دماغ پر خوش گوار اثرات مرتب کیے۔ ایمان سے گلشن حیات مہک مہک اٹھا۔ ایسے واقعات احادیث میں بھی ملتے ہیں۔ صحابہ و اہل بیت کی مقدس زندگیوں میں بھی اور انھیں کی پیروی میں اولیائے کرام کی حیاتِ طیبہ میں بھی اس کی عظیم مثالیں موجود ہیں۔
ہمیں ایسے بارہا مواقع میسر آئے؛ جب کہ انسانی خدمت کا شرف حاصل ہوا۔ گزری ایک دہائی سے میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابرکت ساعتوں میں ہاسپٹلوں میں مریضوں کی عیادت کا موقع ملتا رہا۔ جنھیں پھل، بسکٹ اور تحائف پیش کر کے روحانی سکون ملا۔ سیکڑوں ایسے خاندانوں سے ملاقات کے مواقع بھی ملے جن کی معاشی حالت ناگفتہ بہ تھی؛ انھیں اشیائے ضروریہ راشن اناج تیل وغیرہ پیش کیے گئے۔ ایسی خدمت گرچہ ان کی چند روزہ کفالت کرتی ہے۔ تاہم پھر بھی ایک سکون ملتا ہے کہ کسی غریب کی عزت نفس ملحوظ رکھ کر خدمت کی گئی۔
30؍اگست کی شام ہمیں یاد ہے۔ جب نوری مشن نے مالیگاؤں کے سہارا ہاسپٹل میں ایک طبی کیمپ رکھا۔ اسے نسبت تھی اللہ کے عظیم ولی حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ سے۔ انھیں کے عرسِ چہلم پر مذکورہ کیمپ رکھا گیا۔ جہاں ایسے سیکڑوں افراد کی خدمت کا موقع ملا۔ جو درد و دُکھ میں مبتلا تھے۔ مبتلائے امراض تھے۔ مختلف امراض نے انھیں کمھلا دیا تھا۔ وہ زندگی کی تگ و دو میں مصروف تھے۔ بیماریوں نے انھیں اُداسیوں کا محور بنا دیا تھا۔ ایسوں سے حسن سلوک کیا جانا بڑی سعادت ہے۔ ایسوں کے دکھوں پر دو بول حوصلہ افزا کہہ دیے جائیں تو ان کے یہاں امیدوں کی صبح طلوع ہو جائے گی۔
اس میڈیکل کیمپ میں دوائیں بھی فری مہیا کی گئیں۔ کئی آپریشن فری کروانا طے ہوا۔ کئی آپریشن کے لیے سہولیات مہیا کرانا متعین ہوا۔ جنھیں اب مرحلہ وار پورا کرنے کی کوششیں ہیں۔ ویسے نوری مشن بساط بھر، حتی المقدور تسلسل سے مستحقین کی مدد کے لیے کوشاں رہتی ہے۔ ہمیں اس طرح کے کاموں کے لیے کبھی ایسے گھروں میں بھی جانا ہوا؛ جہاں صحیح سے چھت بھی میسر نہیں، کواڑ بھی ٹوٹے ہوئے، دروازے بھی ٹوٹے ہوئے، خستہ حال دیواریں، شکستہ سائبان، ایسے بھی گھر ملے جو کرائے سے تھے، ایسے بھی مستحق ملے جن کے یہاں رزق کے کوئی ذرائع نہیں، گھر میں کوئی بچہ یا مرد نہیں جو کہ سہارا بن سکے، کئی ایسے بھی گھر ملے جو مفلوک الحال ہونے کے ساتھ ہی امراض کے مسکن بنے ہوئے تھے۔ ایسوں کی خدمت روحانی سکون عطا کرتی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ایسے افراد کی دل جوئی کریں۔ ایسوں کو غذا مہیا کروائیں۔ ایسوں کے دست و بازو بن جائیں۔ ایسوں کے کام آجائیں۔
مذکورہ طبی میڈیکل کیمپ کے اہتمام نے ملک بھر میں علما، سادات، خواص، اکابر کو متاثر کیا۔ نوری مشن کو بھانت بھانت کے تاثرات موصول ہوئے۔ جن سادات و علما نے مبارک باد و تہنیت کی سوغاتیں بھیجیں ان میں نمایاں نام اس طرح ہیں: حضرت ڈاکٹر سید محمد امین میاں مارہروی، حضرت سید وجاہت رسول قادری، حضرت سید عبدالقادر جیلانی، حضرت سید فاروق میاں چشتی،مفتی عاشق حسین کشمیری، حضرت مفتی سید رضوان شافعی رفاعی، حضرت سید فرقان علی چشتی اجمیر، محمد میاں مالیگ، علامہ محمد ارشد مصباحی، مفتی راحت خان قادری، مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی، سید مبشر قادری، الحاج محمد سعید نوری، مفتی محمد اشرف رضا قادری،مفتی اشرف رضا سبطینی، مولانا قمر غنی عثمانی۔
دلِ درد منداں کی تو خواہش ہے کہ فلاحی کام کیے جائیں۔مریضوں کے دکھوں کو سمیٹا جائے۔ غریبوں کی معاونت کی جائے۔ یتیموں کو گلے سے لگایا جائے۔ بیواؤں کا سہارا بنا جائے۔ بھوکوں کو کھلایا جائے۔ جنھیں معاشرے نے ٹھکرا دیا ہے؛ انھیں عزت بخشی جائے۔ جنھیں کوئی نہیں پوچھتا ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے۔ یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔ یہ بڑا اہم فریضہ ہے۔ کاش! ہمارے دل ایسے نرم ہو جائیں کہ جو ٹوٹے ہوؤں کو جوڑ سکیں۔ جو بے غرض تعاون پر آمادہ کر سکیں۔ جو بے لوث محبت کے جذبات پیدا کرسکیں۔
یہ غریب بڑے عظیم لوگ ہیں۔ انھیں زمانے نے آزمایا ہے۔ جب بھی قربانیوں کی بات آتی ہے، جب بھی اسلام و پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت پر حملہ ہوتا ہے؛ یہ غریب قربانیوں سے دریغ نہیں کرتے، جان ہتھیلیوں پر لیے چلے آتے ہیں۔ بے خطر آتش شوق میں کود پڑتے ہیں۔ ہم نے آزمایا ہے۔ زمانے نے آزمایا ہے۔ انھیں غریبوں نے دور افتادہ علاقوں میں عزیمتوں کے چراغ طاق دل پر روشن کیے ہیں۔ ہر دور میں اسلامی تاریخ کے ماتھے کا جھومر غریب رہے ہیں۔ ہر عہد میں حسینی عزم کے چراغ انھیں غریبوں اور مفلسوں نے جلائے ہیں؛ جنھیں اہل دول حقارت سے دیکھتے ہیں۔ یہ محبت کے حق دار ہیں۔ یہ عزت کے حق دار ہیں۔ انھیں چمکار کر دیکھیے یہ مخلصانہ چلے آئیں گے۔ ان کی خدمات سے شہروں، گلیوں، علاقوں، کرداروں، تنظیموں کی تعمیر ہوتی ہے۔ انھیں کے لہو سے علم کی بہاریں ہیں۔ غریب اہلِ علم نے مخلصانہ طریقے سے چراغِ علم روشن کیے ہیں۔
آپ بھی انسانی حیات کے گلشن میں غریب پروری کی خوشبو پھیلائیے؛ جس کے خوش گوار اثرات مشاہدہ ہوں گے۔ ان غریبوں سے نفرت مت کیجیے۔ انھیں حسنِ سلوک کا مستحق جانیے۔ وہ بچے جو غربت سے کمھلائے ہوئے ہیں؛ ان کے تن پر پوشاک تحفہ کیجیے ؛ یقین جانیے وہ خوش ہو گئے تو اللہ کی رحمتیں جھوم کر برسیں گی۔ غریب بچیوں کی مدد کیجیے؛ اس کا اجر بہت عمدہ ظاہر ہوگا۔ بیواؤں کو وظیفہ دیجیے؛ان کی دعائیں ہماری مشکلات کا خاتمہ کر دیں گی؛ غریب بیماروں کا علاج کروا دیجیے؛ ان کی دعائیں امراضِ موذی سے محفوظ رکھے گی۔ بوڑھوں کے کام آئیے؛ ان کی دعائیں ضعف میں بے سہارا ہونے سے بچائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک و صالح اعمال کی توفیق دے۔ غریب پروری کے جذبات تازہ سے نوازے۔ ہماری ٹیم کو فلاحی و سماجی خدمات کے وسیع اغراض و مقاصد کیلئے اخلاص کی دولت دے۔ آمین۔
(بصیرت فیچرس)