امریکی نرغے میں ایران

امریکی نرغے میں ایران

سمیع اللہ ملک
جب سے امریکی لاابالی صدرٹرمپ نے ایران سے عالمی ایٹمی معاہدہ منسوخ کیاہے تب سے ایران پردباؤ بڑھانے کیلئے دنیاکے دیگرممالک کوبھی ایران سے ہرقسم کی تجارت اور تعلقات توڑنے کیلئے دباؤبڑھارہاہے۔ امریکاکے اپنی اتحادی یورپی یونین ابھی تک امریکی دہمکی کوخاطر میں نہیں لارہی لیکن کمزورممالک امریکاکے سامنے بے بس نظرآرہے ہیں جس کاامریکابھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے گردگھیراتنگ کرتاچلاجارہاہے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ماہ ٹرمپ کی جانب سے ایران پرعائدکی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی کرنسی ریال کی قدرمیں 40فیصدتک کمی واقع ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ایرانی تاجروں کی جانب گزشتہ کئی دنوں سے احتجاج جاری ہے۔اس احتجاج کے موقع پر ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے کہاہے کہ امریکی پابندیوں کامقصدایرانی عوام کوموجودہ حکومت کے خلاف کرناہے۔امریکاچاہتاہے کہ ایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں لیکن ٹرمپ سے پہلے چھ امریکی صدوربھی ایسی ہی ناکام کوششیں کرچکے ہیں۔
امریکی پابندیوں کے نتیجے میں پیداہونے والی ممکنہ مشکلات پرقابوپانے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ایرانی حکومت اورپارلیمنٹ نے ایک کمیٹی قائم کردی ہے جوایرانی تیل کے خریداروں کی فہرست کامفصل جائزہ لے رہی ہے اوریہ دیکھ رہی ہے کہ کون سے ممالک امریکی پابندیوںسے متاثرنہیں ہوتے اورایرانی تیل کے استعمال کوبندکرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ایران کی طرف سے ایسے ممالک کورعایتی پیکج کی پیشکش کی جائے گی ۔اس کے علاوہ متذکرہ کمیٹی تیل کے نئے خریداروں کوتلاش کرنے کی بھی کوشش کرے گی۔قابل ذکربات یہ ہے کہ پچھلی بارجب ایران پرزیادہ سخت پابندیا ںعائد کی گئی تھیں بہت سے ممالک جوتیل کی شدیدضرورت کے محتاج تھے وہ دوسرے خفیہ ذرائع سے ایرانی تیل حاصل کرتے رہے تھے جس کے نتیجے میں امریکاکی جانب سے اقتصادی پابندیاں لگانے کامقصدپورانہیں ہواتھااس لئے اب بھی ایسالگتاہے کہ امریکااپنے مقاصدمیں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوگا۔
ایران کے نائب صدراسحاق جہانگیری نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہاہے کہ ان کے ملک کواپناتیل فروخت کرنے میں کوئی مشکل یادشواری کاسامنا نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ جوبھی ملک چاہتاہے کہ تیل کی منڈی میں ایران کی جگہ لے وہ ایرانی عوام اورعالمی برادری سے غداری کرے گااوراسے اس عمل کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ایرانی نائب صدرکے بیان کوایرانی ٹی وی چینل آرآئی آراین این پرنشرکیاگیا۔اسحاق جہانگیری نے کہاکہ تیل کے علاوہ امریکاایران کی دیگربرآمدات اورکرنسی کی ترسیل کوبھی متاثرکرناچاہتاہیاوربعض علاقائی ممالک ایران میں غیرملکی کرنسی کی قلت کے معاملے کوبڑھاوادے رہے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیاہے جس کی وجہ یہ خیال کیاجارہاہے کہ یہ ایران پرکڑی پابندیاں عائدکرنے کے منصوبے کاحصہ ہے۔
یادرہے کہ سعودی عرب دنیابھرمیں سب سے زیادہ تیل برآمدکرنے والاملک ہے اس سال مئی میں تقریباً ایک کروڑ بیرل تیل اس کی روزانہ کی پیداوارتھی جوایک عالمی ریکارڈہے۔سعودی عرب یومیہ ایک کروڑبیرل پیداوارسے زیادہ پسندنہیں کرتااس لیے اس بات کے امکانات نظرنہیں آتے کہ سعودی حکمران امریکی صدرکی جانب سے یومیہ پیداواربڑھانے کی درخواست قبول کریں۔تیل کی پیداواربڑھاناکافی مہنگابھی ثابت ہوسکتاہے اس لیے سعودی حکمرانوں نے امریکی صدرپرکسی ردّ ِ عمل کااظہارنہیں کیا۔وریں اثنا ء ترکی پہلاملک ہے جس نے امریکی دباؤ کوبرملامستردکرتے ہوئے ایرانی تیل کی درآمدجاری رکھنے کااعلان کردیاہے۔ترکی کے وزیراقتصادیات نیہات زیبکی نے کہاہے کہ ان کاملک امریکی فیصلے کاپابندنہیں،ہماراملک صرف اقوام متحدہ کے فیصلوں کااحترام کرتاہے،اس سے ہٹ کرہم صرف اپنے مفادکی پاسداری کریں گے۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہمارے دوست ملک ایران کوکسی ناجائزاقدام کاسامنانہیں کرنے دیاجائے گا۔دلچسپ امریہ ہے کہ امریکی صدرٹرمپ کے قانونی مشیرروڈی جولیاتی نے دعویٰ کیاہے کہ ایک سال کے اندرتہران کاموجودہ نظام ختم ہوجائے گا۔
ادھرپاکستان نے امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے یکطرفہ انحراف پر ایران کے اصولی مؤقف کی حمایت کی ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق یہ یقین دہانی پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کے ساتھ مذاکرات میں کروائی۔پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ کسی بھی اعلی غیر ملکی وفد کا پہلا دورہ ہے۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف دور روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے۔ انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی علیحہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔وزیر خارجہ کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی بات ہوئی جس میں افغانستان کی صورتحال اور جوہری معاہدے سے یک طرفہ امریکی انخلاء شامل ہے۔
شاہ محمود قریشی نے امید کا اظہار کیا ہے کہ جوہری معاہدے میں شامل دیگر فریق اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نمٹائیں گے کیونکہ عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے نے کئی مرتبہ ایران کی جانب سے معاہدے کی پاسداری کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان اس مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان اور ایران کے مابین مشترکہ سرحد پر شدت پسندوں کی موجودگی اور ایران گیس پائپ لائن اہم مسائل رہیں ہیں۔ مشترکہ بیان میں اس کے متعلق کوئی نئی بات نہیں کی گئی تاہم اس پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک مشترکہ سیاسی اور اقتصادی کمیشنوں کے اجلاس جلد طلب کریں گے۔ جبکہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ کو یقین دلایا گیا کہ پاکستان خطے میں امن و سلامتی کیلئے خلوص سے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ 2013ء میں وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے یہ جواد ظریف کا پاکستان کا آٹھواں دورہ ہے۔دونوں ممالک باہمی تجارت کا حجم آئندہ پانچ برسوں میں پانچ ارب ڈالرز تک بڑھانے کا پہلے ہی ارادہ کر چکے ہیں۔گذشتہ ماہ ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد بغیری بھی ایک اعلی سطحی وفد کے ساتھ اسلام آباد کا دورہ کرچکے ہیں۔ ان دوروں سے دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کی اہمیت بظاہر ظاہر ہوتی ہے۔
(بصیرت فیچرس)