شاہ عمران حسن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ادھورے خواب‘‘ منظر عام پر

شاہ عمران حسن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ادھورے خواب‘‘ منظر عام پر

نئی دہلی:14؍ستمبر(بصیرت نیوزسروس)’’میں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز مراسلہ نگاری سے شروع کیا پھر افسانے تحریر کئے ۔ ۱۵۔۱۶سال کے طویل عرصے میں ،میں نے جو افسانے تحریر کئے وہ ہندوستان کے مختلف اخبار و رسائل میں شائع ہوئے ۔ ان کی تعداد اتنی ہوگئی کہ اسے ایک مجموعہ کی شکل دی جائے ۔ ‘‘ان خیالات کا اظہار شاہ عمران حسن نے ایک پریس بیانہ میں کیا۔
شاہ عمران حسن ایک ذکی ہونہار اور سنجیدہ قلم کار ہیں۔ اُن کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ کتابوں کے ساتھ سماج، زندگی اور شخصیتوںکا بھی مطالعہ کرتے اور اُنھیں اپنے حافظے کا حصہ بناتے رہے ہیں۔ سوچ و خیال کی ایک خاص نہج اور طرزِ تحریر ان کے منضبط فکر اور تعمیری ذہن کی غمازی کرتی ہیں۔اِس کم عمری اور قلیل عرصے میں وہ چار اہم کتابوں کے مولف و مصنف ہیں ۔ جن میں سے دو کتابیں دارالعلوم ندوۃ العلماء( لکھنؤ) کے بانی مولاناسید محمد علی مونگیری کے خانوادے سے متعلق ہیں۔ پہلی ’’حیاتِ رحمانی‘‘جو مشہور عالم دین ، مذہبی دانشوراورآل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پہلے جنرل سکریٹری مولانا منت اللہ رحمانی کی سوانح ہے اور دوسری کتاب’’حیاتِ ولی‘‘ ان کے صاحبزادے ، جری قائد،معتبرعالم ،آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موجودہ جنرل سکریٹری اور بہار و اڑیسہ اور جھار کھنڈ کے امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی علمی، ادبی اور تحریکی زندگی پر مبنی ہے۔
شاہ عمران حسن کی ضخیم کتاب ’ ’اوراق حیات ‘‘ معروف اسلامی اسکالر مولانا وحید الدین خاںکی زندگی کا بہ تمام وکمال احاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب کی خوبصورتی اور اس کا استناد یہ ہے کہ مولانا کے افکار و تصورات اور زندگی کے مہ وسال کو ان کی ہی تحریروں کی مددسے مرتب کیا گیا ہے۔
شاہ عمران حسن نے مدرسے کی تعلیم سے قطعاً لا تعلق ہونے کے باوجود عالم اسلام کی چار اہم مذہبی شخصیتوں کا انتخاب کیااور جس سلیقے، توازن اور غیر جانبداری کے ساتھ ان کے حالاتِ زندگی اور کارناموں کو بیانیے کی صورت دی ایسی روش فی زمانہ دیکھنے کو شاذ و ناد ر ہی ملتی ہے ، کہ سوانحی تحریروں میں عقیدت و عصبیت کسی نہ کسی طور اپنی جھلک دکھلا ہی جاتی ہیں۔
’’ادھورے خواب‘‘ شاہ عمران حسن کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے اور چھوٹی بڑی پچیس کہانیوں پر مشتمل ہے۔ جن کی قرأت سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیشتر افسانوں کی بنیادیں زندگی کے واقعی حالات، شخصی واقعات اور ذاتی تاثرات پر رکھی گئی ہیں۔ ان افسانوں کو بیانیے، منظر کشی، کردار نگاری اور تاثراتی کیفیت کے ذریعے خوبصورتی سے سجایا سنوارا گیا ہے۔ سیدھے سادے پلاٹ اور سہل ستھری زبان افسانوں کو حسن بخشتے ہیں اور واقعیت اور زندگی سے بے حد قریب لاتے ہیں۔موضوعاتی سطح پر ان میں کافی تنوع ہے اور مختلف مسائل و تصورات کو خام مواد کے طور پر استعمال کرنے کی عمدہ کوشش کی گئی ہے۔ نقطۂ نظر کے اعتبار سے تقریباً سارے افسانے مثبت پیغام اور اخلاقی قدروںکے حامل ہیں ۔بعض افسانوں میں اصلاحی رنگ ذرا نمایاں ہو گیا ہے تاہم معیوب نہیں لگتا۔ امید کرنی چاہئے کہ ادبی حلقے میں اِس مجموعے کی پذیرائی کی جائے گی اور شاہ عمران حسن کی فنی کاوشوں کو سراہا جائے گا۔
ادھورے خواب کی رونمائی غالب اکیڈمی ،(نظام الدین،نئی دہلی)میں ستمبر ماہ کے آخرمیں عمل میں آئے گی ، توقع ہے کہ رسم اجرا کی تقریب شمس الرحمٰن فاروقی کی صدارت میں منعقد ہوگی ۔ تاریخ کا حتمی اعلان جلد کیا جائے گا۔