جہان بصیرتخبردرخبر

نکل تاویلِ فاسد کے ہلاکت خیز دریا سے!

خبر در خبر

غلام مصطفی عدیل قاسمی
ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن

شہر میں گنیش تہوار کو لیکر برادران وطن نے بہت زیادہ ادھم مچا رکھی ہے، شہر کی ہر گلی، ہر نکڑ پر گنیش بھگوان کی پوجا بڑے دھوم دھام سے کر رہے ہیں، جس کی بنا پر مسلسل کئی روز سے راہ چلتے لوگوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، برادران وطن گنیش بھگوان کی مورتی کو منتقل کرتے وقت راستے میں بھی مختلف قسم کے نازیبا نعرے بازی کرتے نظر آ رہے ہیں، جس سے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو تکلیف سہنی پڑ رہی ہے، خیر یہ ان کا تہوار ہے وہ جس طرح چاہیں منائیں؛ لیکن المیہ یہ ہے کہ جہاں ایک طرف بہت سے مسلم بچے اور نوجوان ان کے مذہبی تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے نظر آ رہے ہیں تو وہیں دوسری طرف سیاسی مفاد کے خاطر کئی مسلم قائدین بھی گنیش بھگوان کی مورتی پر پھول اور مالائیں چڑھا رہے ہیں؛ حالانکہ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو انسان کو معصیت و بت پرستی کی گہرائیوں سے نکال کر اسے اس کے مالک حقیقی سے ملانے کے لئے آیا ہے، جو انسانیت کو خدا کی وحدانیت کی تعلیم دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ معبودان باطلہ کے سامنے ماتھا ٹیکنا تو دور کسی پیر و مرشد کی عقیدت و محبت میں بھی انسان کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ غیر اللہ کے سامنے جبین نیاز خم کرے، گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام نے غیر اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی جڑیں ہی کاٹ دی ہے، اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انسان کی پیشانی پورے جسم میں سب سے اہم مقام اور زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اگر اسے خم کرنا ہے تو صرف اور صرف پروردگار عالم کی بارگاہ میں ہی جھکا سکتے ہیں، در اصل اسلام انسانی معاشرے کو ہر طرح کی گمراہیوں سے پاک کرنا چاہتا ہے خواہ وہ بت پرستی ہو یا کسی اور مخلوق کی پوجا؛ تاکہ اس دنیائے آب و گل پر اسی ایک معبود حقیقی کی پوجا کی جائے جس کی ملکیت میں یہ دنیا اور اس کی ساری مخلوق ہے ، پھر یہ کہ اس دنیائے رنگ و بو کے بسانے اور انسان و جنات کو یہاں بھیجنے کا یہی ایک مقصد عظیم ہے کہ یہاں اسی ایک خدا کی طاعت و عبادت کی جائے اور اسی کے گن گائے جائیں، تبھی جا کر انسان و جنات دنیا میں اپنے بھیجے جانے کے مقصد عظیم کو پورا کر سکتے ہیں، اسی لیے مذہب اسلام کے ماننے والوں کو ابتداء ہی سے ہر طرح کے شرک سے برأت کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، قرآن نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ شرک و بت پرستی دنیا میں سب سے بڑا ظلم ہے، ایک اور جگہ ارشاد باری ہے کہ اللہ پاک ہر گناہ کو معاف فرما دے گا؛  لیکن شرک جیسے گناہ کو کبھی بھی معاف نہیں فرمائے گا، تو معلوم ہوا کہ شرک خدا کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے، جسکی کوئی معافی نہیں ہے، اب اسلام سے خارج کر دینے والے شرکیہ اعمال کا ارتکاب کرنا کسی غیر مسلم اور بت پرست کی طرف سے تو سمجھ میں آتا ہے کہ پیدائش سے ہی انہیں اس کی تعلیم دی جاتی ہے، لیکن مسلم گھرانے میں پیدا ہونے والے اشخاص اور خدا کی وحدانیت کے قائلین سے اس قبیح فعل کی امید نہیں کی جا سکتی؛ لیکن اسے حالات کی ستم ظریفی کہیے یا مفاد پرستی کا نام دیجئے کہ قومی یکجہتی کے نام پر اب مسلم گھرانے بھی بڑی تیزی سے غیر مسلموں کی خالص مذہبی تقریبات میں شامل ہو کر شرکیہ افعال کو انجام دے کر اسلام سے ہاتھ دھو رہے ہیں، خبر کے مطابق مہاراشٹر کے مسلمان بی جے پی رہنما نے ہندوؤں کے گنیش تہوار میں شامل ہو کر بھگوان گنیش کی بڑے دھوم دھام سے پوجا ارچنا کی ہے ، قارئین کو بتا دوں کہ کچھ دنوں قبل ہی حاجی عرفات شیخ بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں اور اس وقت وہ مہاراشٹر اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ہیں ، پہلے حاجی عرفات میاں نونرمان سینا کے رکن تھے پھر شیو سینا میں شامل ہوئے؛ لیکن ۲۰۱۹ کے پارلیمانی انتخابات کو سامنے رکھ کر بھاجپا نے اچانک حاجی عرفات پر انعام و اکرام کی بارش کر دی ہے، حاجی صاحب غالبا سنی ہیں؛ بلکہ سنی تھے؛ لیکن اب ان کی نقل و حرکت بتاتی ہے کہ حاجی صاحب دہریت کی طرف مائل ہو گئے ہیں؛ لیکن چونکہ بھاجپا کو مسلم ووٹ کی طاقت کا بھی اندازہ ہے؛ اس لئے عین الیکشن سے چند ماہ قبل مسلم چہرے کو شامل کرنا پڑا ہے، اس لئے حاجی صاحب اپنے مسلمانی نام سے ہی غلامی کر رہے ہیں، میں یہ وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ حاجی عرفات شیخ سے میں پہلی مرتبہ اس وقت واقف ہوا تھا جب ماضی قریب میں منعقدہ اورنگ آباد اجتماع کی تیاریاں عروج پر تھیں، حالانکہ وہ دعوت و تبلیغ کے بالکل بھی قائل نہیں ہیں، ہم اسے سودے بازی کا ہی نام دیں گے؛ کیونکہ اجتماع کے بعد ہی مودی جی کی سخاوت کا پیمانہ اچھل پڑا تھا اور حاجی کو بی جے پی میں شامل کیا گیا، خیر معاملہ جو بھی ہو ایک مسلم فرد سے اس کی امید بالکل بھی نہیں تھی کہ اس پر مفاد پرستی کا بھوت اس قدر سوار ہوگا کہ وہ مندر جا کر پوجا پاٹ کرے یا مصلحت کے نام پر ہندوتو کی مذہبی تقریب میں جا کر خدا کی وحدانیت کا انکار کر بیٹھے، بات صرف کسی ایک فرد کی ہوتی تو زیادہ تکلیف دہ نہیں ہوتی یہاں تو شہر اور دیہات کے اچھے خاصے مسلمان گھرانے کے لوگ بھی گنیش پوجا میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، ہندوؤں کے جھوٹے خداؤں پر مالائیں چڑھاتے نظر آ رہے ہیں ان کے سامنے ہاتھ جوڑتے اور ماتھا ٹیکتے ہیں، پتہ نہیں ان عناصر نے ایسی مسلمانی کہاں سے سیکھی، جو اسلام اپنے پہلے کلمہ سے ہی معبودان باطلہ کی مکمل نفی کرتا ہے آخر اسی اسلام کے نام لیوا اس قدر گمراہی کے عمیق گڑھے میں کیوں گر رہے ہیں؟ یقینا یہ عناصر دنیا کے تھوڑے مفاد کے لیے اپنی عقبی تباہ کر رہے ہیں، ڈر ہے کہ ان کی دوغلی پالیسی آنے والی نسلوں کے ایمان کو بھی غارت کر دے گی، کیونکہ شرک و بت پرستی روز اول سے اسی راستہ سے پلی بڑھی ہے، آج یہ لوگ شرک و بت پرستی کو قومی یکجہتی کا نام دے رہے ہیں، تو اللہ نہ کرے کل کو ہماری آنے والی نسلیں بالکل ایمان سے ہی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں ، کیونکہ چھوٹے اپنے بڑوں سے ہی سیکھا کرتے ہیں، یہ در حقیقت تاویل فاسد کے ہلاکت خیز دریا میں غوطہ زن ہیں جو آنے والی نسلوں کے ایمان کو بھی لے ڈوبی گی، ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مساجد و مدارس کے ذمہ داران اپنے  محلوں کے با اثر حضرات  کو ساتھ لیکر اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کریں اور اس فکری ارتداد کا قلع قمع کریں، ان عناصر کو بتایا جائے کہ اس تاویل فاسد کے خطرناک دریا سے نکلیں، اور اپنی پیشانی کو ادھر ادھر نہ جھکائیں کہ یہ جبین صرف اور صرف خدا کے آستانہ کے لیے بنی ہے، اسے صرف اسی کی بارگاہ میں خم کیا کریں، انہیں یہ بھی بتایا جائے کہ یہ سیاست نہیں؛ بلکہ ذہنی و فکری غلامی اور ارتداد کے زینے ہیں، اگر ہم ایسا کرتے ہیں تبھی جا کر ہم مسلم معاشرے کو گمراہی کے دلدل سے بچا سکتے ہیں، اللہ پاک ہمارے یقین کو متزلزل ہونے سے بچائے اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے، آمین۔

(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker