روبرومضامین ومقالات

پاسبان کی عدالت میں

(انٹرویو: مفتی شرف الدین عظیم قاسمی،امام وخطیب مسجدانوار،شیواجی نگر،گوونڈی،ممبئی)
14 ستمبر 2018
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(نوٹ: موجودہ دورمیں سوشل میڈیاکے جن پلیٹ فارموں نے بہت جلدی ترقی حاصل کی ہے اس میں ایک نمایاں نام واٹس ایپ کاہے۔واٹس ایپ ایک ایساجدیدایپلیکیشن ہے جوصارف کوبیک وقت ذاتی پیغامات بھیجنے کی سہولیات کے ساتھ ساتھ گروپ میں اپنے ہم مزاج وہمنواافرادکے ساتھ مختلف علمی وفنی گفتگو،بحث ومباحثہ اورتکرارکے مواقع فراہم کرتاہے۔یہ ایپ جس قدرمفیدہے اس سے کہیں زیادہ یہ مضربھی ہے۔بلکہ اس وقت دیکھاجائے توصارفین نے اس کے مفیداستعمال کے پہلوکونظراندازکرتے ہوئے اس کے مضررساں پہلوکوزیادہ ترجیح دی ہے،یہی وجہ ہے اہل علم کابڑاطبقہ اب بھی اس اہم پلیٹ فارم سے دورہے اوروہ واٹس ایپ کے استعمال کوعلمی صلاحیت کے لئے سم قاتل قراردیتاہے۔کم ازکم ناچیزکابھی یہی خیال ہے۔لیکن آج جب معروف عالم دین اوراردوزبان وادب کے مایہ نازخادم مفتی شرف الدین عظیم قاسمی صاحب نے میرے ذاتی واٹس ایپ پریہ انٹرویوبھیجاتوپہلے پہل توابتدائیہ میں واٹس ایپ گروپ(پاسبان علم وادب) کانام دیکھ کرنظراندازکرناچاہا،لیکن پھرمیں نے سوچاکہ مفتی شرف الدین صاحب کومیں بہت قریب سے جانتاہوں اورالحمدللہ وہ ہمیشہ اپنے وقت کاصحیح اورمفیدکاموں میں ہی استعمال کرتے ہیںتویقینایہ کوئی مفیداورقابل مطالعہ تحریرہوگی،لہٰذامفتی صاحب کے نام کی وجہ سے میں نے اسے پڑھناشروع کیاتوبلاکسی توقف کے پڑھتاہی چلاگیا،اورہرسوال کے ساتھ ساتھ میری دلچسپی بڑھتی چلی گئی۔اس مفیداوراہم انٹرویوپڑھنے کے بعدمجھے احساس ہواکہ آج بھی کچھ اہل علم وفضل کی ایسی تعدادموجودہے جوواٹس ایپ جسے لوگوں نے غلط استعمال کی وجہ سے بدنام کررکھاہے ان ہی اہل فضل وکمال کی بدولت اس واٹس ایپ گروپ کی اہمیت باقی ہے اورمیں نے فورااس انٹرویوکواپنے پورٹل بصیرت آن لائن میں شائع کرنے کافیصلہ کیا۔ساتھ ہی میں نے اسی وقت مفتی صاحب سے درخواست بھی کی کہ اگرگنجائش ہوتومجھے بھی اس مفیدگروپ میں شامل کرلیں،تاکہ آپ حضرات کی علمی واصلاحی گفتگوسے استفادہ کرسکوں۔
چوں کہ یہ انٹرویو کافی طویل ہے اوردوحصوں پرمشتمل ہے۔پہلاحصہ مفتی شرف الدین عظیم قاسمی صاحب کے انٹرویوپرمشتمل ہے جس میں گروپ کے مختلف اہل علم وفضل نے ان سے ذاتی حالات سے لے کرعلمی ،اصلاحی ،سماجی حتیٰ کہ ملکی تناظرمیں سوالات کئے ہیں اوران سب کاتشفی بخش جواب دیاہے مفتی صاحب نے۔دوسراحصہ انٹرویوپرتاثرات کاہے۔اس حصہ میں گروپ کے مؤقراراکین نے انٹرویو پراپنے احساسات وتاثرات کااظہارکیاہے،چوںکہ یہ حصہ بھی طویل ہے،اسی لئے اس حصہ کوانشاء اللہ دوسری قسط کے طورپربعدمیں شائع کیاجائے گا۔
امیدہے کہ قارئین کویہ انٹرویوبہت پسندآئے گا۔میں اپنے معززقارئین سے درخواست کروں گاکہ وہ اس انٹرویوپراپنے تاثرات کااظہارکریں اوراپنے مفیدمشوروں سے بھی نوازیں۔اورساتھ ہی میں اپنے ان تمام دوستوں سے گذارش کروں گاجوواٹس ایپ گروپ چلاتے ہیں کہ ’’پاسبان علم وادب‘‘ نامی اس گروپ سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے اپنے واٹس ایپ گروپ کوبھی معیاری اوربامقصدبنانے کی کوشش کریں تاکہ علم وادب کے ساتھ ساتھ قوم وملت کی بھی بہترین خدمات انجام دے سکیں۔
والسلام
غفران ساجدقاسمی
چیف ایڈیٹربصیرت آن لائن)

افادہ عام کے لئے یہ انٹرویو بصیرت آن لائن کی خصوصی پیشکش روبرو میں حاضر خدمت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرے سننے والے مجھے دیکھتے ہیں * میں بے پردہ نکلا نقاب سخن میں
پاسبان علم و ادب کی اس حسین وادی میں دنیائے ادب کے بہترین قلمکار اردو ادب کے بہترین شہسوار بہت قلیل مدت میں اپنی دل نشیں تحریر کےذریعہ لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے والی عظیم شخصیت بلکہ یوں کہئے فخر پاسبان، ہمسایہء شبلی مولانا و مفتی شرف الدین عظیم صاحب قاسمی اعظمی آج ہمارے درمیان حاضر ہوئے اور علم و ادب کی سنہری موتیوں سے ہمارے قلوب کو آراستہ وپیراستہ کیا اور آنے والی نسلوں کو ایک بیش بہا پیغام دے گئے کہ۔۔۔۔
زمانہ قدر کر ہاں قدر کر ان کج کلاہوں کی * کہ پیدا اس نمونے کے جواں ہردم نہیں ہونگے
آج کے اس پروگرام کے اینکر رہے اِنٹرویو ایکسپرٹ محترم مولانا وڈاکٹر ارشد صاحب قاسمی اعظمی اور انکے ساتھ نوجوان عالم دین مولانا محمد عبداللہ صاحب اعظمی قاسمی اور پروگرام کنٹرولر ترجمان پاسبان مولانا محمد خالد صاحب قاسمی اعظمی،وہیں پر جج کے فرائض انجام دئے ایڈمن اعلی پاسبان علم و ادب مولانا شفیق صاحب قاسمی اعظمی مقیم حال ابو ظہبی۔
مرتب : عبیدالرحمن اعظمی شیروانی
لیجئے پیش خدمت ہے بلا کسی تاخیرکے مکمل انٹرویو

ڈاکٹر ارشد قاسمی: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی: وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ

ڈاکٹر ارشد قاسمی: مفتی شرف الدین اعظمی کا نام اردو زبان و ادب میں تاریخ ساز اوربڑی شہرت کا حامل ہے ۔ انکا شستہ لہجہ ، سلیس اور شبلوی زبان ادب کے افق پر ایک خوبصورت اضافہ ہے ۔انھوں نے اپنے فکرو فن اور علم و عمل کے ذریعہ ادب کی بیشتر اصناف خصوصا،انشائیہ ،سوانح نگاری ،سفرنامہ اور تبصرہ نگاری پر طبع آزمائ کی ہے بلکہ اسے جلا بخش کر نئ راہیں تلاش کی ہے ۔اس اعتبار سے انہیں دورِ جدید کا مجدّدِ اردو قرار دیا جا سکتا ہے۔وہ تخلیقی ادب کے ساتھ ساتھ تنقید و تحقیق کے شہسوار ہیں اور اس فن میں اپنے جدیدنظریات و تصورات کی بنیاد پر اپنا ایک خصوصی ککاور منفرد مقام رکھتے ہیں۔ نظری اور عملی تنقید ، تاریخِ زبان و ادب ، عروض و بیان ، لسانیات ، لغت نگاری میں انہیں کمال حاصل ہے۔ساتھ ہی وہ بیک وقت ایک ممتاز عالم ،باعمل امام ، منفرد فکشن نگار ، معروف نعت خواں ،صاحبِ طرز قارئ قرآن کریم ، مشہور ناظمِ پروگرام اور بہترین مبصر کی حیثیت سے اپنا لوہا منوا چکے ہیں ۔اس طرح ان کی شخصیت ایک ہے مگران کے فکر و فن کی جہتیں انیک ہیں۔ان کے فکر و فن کا دائرہ اتنا وسیع و عریض ہے کہ اس کا احاطہ کرنا مشکل امر ہے۔ضرورت ہے کہ انکی علمی، ادبی اور فنّی کاوشوں کا بھر پور جائزہ لیا جائےاس مختصر وقت میں ان کی تحریروں میں پائی جانے والی گہرائی و گیرائی میں غوطہ زن ہوکر دو چار موتی نکال لانا ،ان کی رمق کی کیفیت کو ادبی منچ پراجاگر کرنا ، ان کے مقام ومرتبہ اور قدر و منزلت کا احاطہ کرنا دشوار کن امر ہے۔ادب کے کسی بھی نکتہ یا مسئلہ پر جب وہ اظہارِ خیال کرتے ہیں تو وہ مستقل ایک موضوع بن جاتا ہے اور بحث و مباحثہ کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔کلا سیکی ادب کی تجدید کاری کے علاوہ جدید رجحانات کو اردو میں متعارف کرنے میں ان کا اہم رول ہے ضرورت ہے کہ اعظم گڈھ کے اس لعل کی قدر و منزلت کو پہچانا جائے اسے متعارف کرایا جائے اور اسکی خدمات و صلاحیتوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا جائے ۔
مجھے خوشی ہے کہ آج پروگرام ’’پاسبان کی عدالت میں ‘‘ وہ مہمان خصوصی ہیں آج ہم انکی شخصیت کی ان مختلف جہات سے بھی واقف ہونگے جو ابھی تک صیغہ راز میں ہے۔
ڈاکٹر ارشد قاسمی:میں آج کے اس پروگرام میں اپنے معاون مولانا عبد اللہ صاحب کے ساتھ مہمان خصوصی کا پرتپاک استقبال کرتا ہوں۔

مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:بصمیم قلب خاکسار اس قدر دانی پر مشکور ہے۔
ڈاکٹر ارشد قاسمی:محترم مفتی شرف الدین صاحب ۔۔۔۔آپ سب سے پہلے اپنے علمی و خاندانی پس منظر سے ہمارے باتمکین قارئین کو روشناس کرائیں۔
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی: میرانام شرف الدین ابن حافظ نجم الدین ہے۔اعظم گڈھ کے ایک معروف موضع شیخوپور کے ایک متوسط اور علمی خاندان میں میری ولادت ہوئی گھر کا ماحول مکمل دینی تھا والد صاحب حافظ نجم الدین صاحب شارجہ پھر عجمان کے کسی پاکستانی مدرسہ میں تقریباً پندرہ سال تک شعبہ حفظ کے استاد تھے بعد ازاں 2004سے مدرسہ شیخ الاسلام شیخوپور میں تدریسی خدمات پر فائز ہیں۔میرے دادا جناب قاری محمد عظیم صاحب شیخوپور مدرسے کے اول استاذ اور مؤسس ثانی تھے ایک عرصے تک مدنپورہ بمبئی کی ایک مسجد میں امام بھی تھے۔میرے پردادا حافظ محمد اسماعیل صاحب نوراللہ مرقدہ شیخ الاسلام شیخوپور کے اصل مؤسس ہیں۔جنہوں نے بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں شیخوپور اور اشرف پور میں علم کی شمع روشن کی تھی۔میری پیدائش 2اکتوبر 1980 میں ہوئی خاندان کی روایت کے مطابق ابتدائی تعلیم درجہ چھ تک شیخ الاسلام میں ہوئی۔حفظ وقرات کی تعلیم بھی شیخوپور میں ہی ہوئی۔والد صاحب کے دوست مشہور شخصیت جناب حافظ مفید احمد صاحب کی تحریک پر مدرسہ منبع العلوم خیرآباد میں داخل ہو کر فارسی پڑھی۔عربی اول کے سال تعلیمی وقت میں ناغہ کے باعث اچھی خاصی مار پڑی اور نتیجتاً اس درسگاہ کو ترک کر کے جامعہ حسینیہ داخلہ لیالیکن یہاں بھی صرف عربی دوم ہی تک رہ سکا۔ بالآخر عربی سوم سے پھر شیخوپور میں تعلیمی سفر جاری ہوا اور یہیں سے عالمیت مکمل کرکے دارالعلوم دیوبند سے 2004میں فضیلت حاصل کی،اسی دوران عربی سے ایم اے کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ فارم بھرا منظوری نہیں ملی،2005میں پھر مظاہر علوم سہارنپور سے افتا کی تکمیل کی۔

ڈاکٹر ارشد قاسمی: ماشاء اللہ آپ کا علمی سفرنامہ اور خاندانی منظرنامہ بڑا دلچسپ ہے ۔فراغت کے معا بعد آپ کی مشغولیات کیا رہیں؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی: فارغ ہونے کے بعد مدرسہ بدر الاسلام شاہ گنج میں تدریسی فرائض پر مامور ہوگیا ایک سال کے بعد مدرسہ مرکزی دارالعلوم گھوسی سے آفر ہوئی اور وہاں تدریس ہی شعبہ میں لگ گیا عربی سوم سے عربی ششم کی کتابیں متعلق رہیں۔ایک سال کے بعد گھر کے معاشی حالات سے مجبور ہو کر کیشیر کی حیثیت سے سعودیہ چلا گیا۔وہاں تین سال گذارے۔گھر آنے کے بعد جماعت اسلامی کے ادارے جامعہ الفلاح کی شاخ جامعہ الصلاح نصیر پور میں چھ مہینے پڑھایا
اسی زمانے میں بمبئی سے امامت کی آفر آئی اور وہاں سے استعفی دے کر بمبئی چلا آیا اورتادم تحریر بمبئی میں ہی امامت وخطابت کے فرائض پر مامور ہوں۔

مولانا عبداللہ اعظمی:کہتے ہیں کہ استاذ امام سازی کی فیکٹری ہوتا ہے لیکن آپ نےاس فیکٹری کو چھوڑ کر پروڈکٹ پر کیوں قناعت کرلی؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی: مدرسے کے ڈھائی سالہ تجربے سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ دیانت دارانہ انداز میں اس فضا کے اندر کام کرنا بہت مشکل ہے۔ایک صاحب جو خود ساختہ جبال العلوم تھے ان کے حسد کا میں شکار ہوا۔دوسرے تنخواہ کی قلت کے باعث دلجمعی مفقود تھی۔
مولانا عبداللہ اعظمی:مدرسی چھوڑ کر امامت کرنے کو آپ نے کیوں ترجیح دی؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:امامت کے پیشے میں وقت کی پابندی ہر چند کہ لازم ہے مگر نسبتاً مدرسہ کی فضا سے یہاں سکون کا زیادہ احساس ہوا۔
مولانا عبداللہ اعظمی:اس بات میں کوئی شبہ نہیں کی یہ حسد و بغض کے امراض مدارس میں در آئے ہیں لیکن کیا ایسے وقت میں علحدگی اختیار کرنا زیادہ مناسب ہے یا اس بیماری کو ختم کرنا۔
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:جب جزوی طور پر امراض پائے جائیں تو اصلاح کا امکان رہتا ہے۔مگر جب پورا جسم سرطان زدہ ہو اور پوری فضا بیمار ہو جائے تو عافیت اسی میں ہے کہ علیحدگی اختیار کر لینا بہتر ہے۔

ڈاکٹر ارشد قاسمی:فریضۂ امامت میں عموما عوام متولی ہوتے ہیں جو ایمہ کی ناقدری کرتے اور بیجا پابندیاں لگاتے ہیں ایسی صورتحال میں آپ خود کو کس طرح ایڈجسٹ کر پارہے ہیں ؟؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:اخلاق،تحمل،ویسے جس مسجد میں ناچیز خدمت کر رہاہے وہاں مذکورہ صورت حال نہیں ہے۔اگر اخلاص کے ساتھ دینی و علمی خدمت کوئی کرتاہے تو عوام عزتوں کا تاج اب بھی پہناتی ہے۔یہاں مقتدیوں کے دلوں میں امام کی قدر کا احساس ان کے عمل سے مستقل ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ارشد قاسمی: آپ کا پسندیدہ میدان اردو ادب رہا ہے اس کے لئے آپ کو کہاں سے تحریک ملی ؟؟ یا آپ فطری ادیب ہیں ؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:اردو ادب کا ذوق کہنا چاہیے کہ مجھے وراثت میں ملا ہے۔ہمارے دادا اگرچہ عالم نہیں تھے لیکن مطالعہ کی کثرت کے باعث ان کی اردو بہت اچھی تھی ،وہ بہت دنوں تک اپنے زمانہ امامت میں انقلاب بمبئی میں کتابت بھی کرتے تھے۔مطالعہ سے دلچسپی شروع سے تھی یہی چیز میری والدہ اور اپی محترمہ کے اندر بھی تھی ،انھیں کو دیکھ کر میں بھی حفظ کے زمانے سے قصے کہانیوں کی کتابیں پڑھتا تھا۔عربی شعبے میں آنے کے بعد خیرباد کے علمی ماحول اور شیخوپور میں فکر وفن کی دنیا کی عظیم اور عبقری شخصیت استاذ العلماء حضرت مولانا ا عجاز احمد اعظمی نوراللہ مرقدہ کے سایۂ عاطفت نے اس ذوق اور دلچسپی کے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔
ڈاکٹر ارشد قاسمی: اردو ادب کے حوالہ سے آپ کس ادیب کی تحریروں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں ؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:ادبی حوالے جن ہستیوں نے میرے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے۔ان میں شبلی نعمانی۔عبدالماجد دریابادی،سید سلیمان ندوی ،علی میاں ندوی،سید ابو الاعلیٰ مودودی، سید صباح الدین عبدالرحمن دارالمصنفین شبلی اکیڈمی، ماہر القادری فاران کراچی، عامر عثمانی تجلی دیوبند،قاضی اطہر مبارکپوری اور عصر حاضر میں استاذ محترم حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی،حضرت مولانا اسیر ادروی،پروفیسر محسن عثمانی ندوی،ابن الحسن عباسی،خالد سیف اللہ رحمانی ،ڈاکٹر الیاس اعظمی ماہر شبلیات ہیں۔
ڈاکٹر ارشد قاسمی: اس فہرست میں سرِ فہرست کون ہے ؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ
ڈاکٹر ارشد قاسمی:جب آپ اپنی لکھی ہوئی پرانی تحریریں پڑھتے ہیں تو کیسا محسوس کرتے ہیں ؟ وہ آپ کے دل کو گدگداتی ہیں یا انھیں قابلِ اصلاح سمجھتے ہیں ؟؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:اکثر محسوس ہوتا ہے کہ جیسا لکھنا چاہیے تھا ویسا لکھ نہیں سکا۔اسی لئے ایک بار لکھ کر دوبارہ دیکھتا نہیں ہوں کہ قلم بڑی تیزی سے کاٹ چھانٹ کرنے لگتاہے،لیکن کبھی کبھی خوبصورت بھی لگتی ہیں اتنی کہ یقین نہیں ہوتا ہےکہ واقعی میں نے ہی لکھا ہے۔
ڈاکٹر ارشد قاسمی:جب انسان اپنی پرانی کاوشوں کو کمتر سمجھنے لگے تو یہ اسکے کمال کی جانب مشیر ہے ،شکر ہے آپ اس مقام پر بھی کامیاب ہوئےکوئی ایسا ادیب جسے ادب کے ساتھ عمل اور اصلاح کے تعلق سے بھی قابلِ رشک سمجھتے ہیں ؟؟
مفتی شرف الدین عظیم صاحب:حضرت مولانا دریابادی اور عصر حاضر میں استاذ محترم مولانا اعجاز احمد اعظمی رحمۃ اللہ علیہ
ڈاکٹر ارشد قاسمی:دورِ حاضر کے کس ادیب و مصنف سے آپ زیادہ متاثر ہیں ؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:پاکستان میں ابن الحسن عباسی،انڈیا میں اسیر ادروی ،ڈاکٹر الیاس اعظمی۔
ڈاکٹر ارشد صاحب قاسمی:آپ لکھتے زیادہ ہیں یا پڑھتے زیادہ ؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:لکھنے کے لئے پڑھنا لازم ہے،سو پڑھتا زیادہ ہوں، لکھتا بہت کم ہوں۔

ترجمان پاسبان مولانا خالد صاحب: جب آپ صرف لکھتے پڑھتے رہتے ہیں تو پڑھاتے کب ہیں؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:یہ مشغلہ مفوضہ فرائض سے فراغت کے بعد ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ارشد قاسمی: اردو ادب میں آپ کا کوئی استاذجس سے اصلاح لیتے ہوں ؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:اردو ادب میں میرا رہنما محض کتاب ہے، اسی میں اسالیب اور تعبیرات پر غور کیا کرتا تھا۔عربی سوم میں اسامہ بن لادن اور علی میاں ندوی پر مضمون لکھا تھا اسی کو استاد محترم مفتی سفیان صاحب کو دکھا کر اصلاح لی تھی۔ادھر دو تین سالوں میں کوئی اہم مقالہ ہوتا ہے تو اپنے استاذ مولانا ضیاء الحق خیرآبادی عرف حاجی بابو کو دکھا کر اصلاح لیتا ہوں۔

مولانا عبداللہ اعظمی:حضرت مولانا !آپ کے اندر لکھنےکے شوق نے کس عمر میں انگڑائ لی
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:لکھنے کا شوق بچپن سے تھا۔عربی اول سے لکھنا شروع کیا۔عربی سوم میں شیخوپور میں ممتاز ادیب وانشاءپرداز مولانا اعجاز اعظمی صاحب درس کے دوران اکثر اسلاف کے واقعات سنایا کرتے تھے۔میں گھر جاکر اسے اپنے انداز میں قلمبند کرلیا کرتا تھا۔دیوبند جانے کے بعد اس میں تیزی آئی،نادیۃالاتحاد اعظم گڈھ کی طرف سے تحریری مسابقہ ہوا اس میں پہلی پوزیشن آئی جس سے مزید حوصلہ ملا۔اس کے علاوہ دارالعلوم دیوبند میں اعظم گڈھ کے طلباء کی وال میگزین پاسبان کی ادارت نے بھی اس سفر میں اہم کردار ادا کیا۔

مفتی اجوداللہ صاحب:محض کتاب کو رہنما بنانے کی خاص وجہ…؟قحط الرجالی؟ یا نقد کئے جانے سے خوفزدہ…؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:تحریر میں بحمد اللہ تنقید سے نہ پہلے گھبرایا نہ آج کوئی خوف ہے،بلکہ اگر میری تحریر پر کوئی نقد کرتا ہےتو خوشی ہوتی ہے۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ مولانا اعجاز صاحب کے علاوہ اس حوالے سے کسی پر اطمینان نہیں تھا اور مولانا کو نہ دکھانے کی وجہ ان کا رعب اور میرا حجاب۔

مولانا عبداللہ اعظمی:آپ جب کسی کی تحریر پر نقد یا رد کرتے ہیں تو جزبات کی رو میں نہین بہتے بلکہ خوش اسلوبی سے لوہے کا جگر کاٹتے ہیں یہ فن آپ کے اندر کیسے پیدا ہوا؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:بلا مبالغہ یہ اسلوب مجھے مولانا اعجاز صاحب سے حاصل ہوا ہے اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے معمور کردے۔
مولانا عبداللہ اعظمی:عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ادباء و شعراء آزاد اور رنگین مزاج ہوتے ہیں تو آپ نے ادباء کی اس وراثت سے کتنا حصہ لیا؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی: میرے آئیڈیل نرے ادیب کبھی نہیں تھے بلکہ اکثر وہ حضرات ہیں جن کا خمیر مدرسے سے اٹھا ہے اور ان کا ادب برائے ادب نہیں بلکہ زندگی کی تہذیب اور اسلام کی حفاظت واشاعت رہی ہے،ہاں مستند ادیبوں کے مطالعہ سے فکر میں وسعت کا احساس ہوتا ہے۔رہی مذہبی آزادی جو رنگینیت کے نام پر اخلاقیات کی حدود سے باہر لے جاتی ہے توخدا کا فضل ہے،اس سے محفوظ ہوں۔

ترجمان پاسبان مولانا خالد اعظمی:دہلی میں مولانا محمد میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت پر سیمینار ہونے والا ہے جس میں آپ بھی مدعو ہیں۔مقالہ لکھنے کیلئے آپ کو کیا موضوع ملا،مقالہ تیار ہوا کہ نہیں، اگر تیار ہوگیا تو کتنے صفحات پر مشتمل ہے؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی: ’’مولانا سید میاں دیوبندی ایک دیدہ ور مؤرخ‘‘مقالہ بفضل خدا مکمل ہوچکا اور چالیس صفحات پر مشتمل ہےاور سیمینار کے کنوینر استاد محترم مولانا ضیاء الحق خیرآبادی کے پاس جا چکا ہے۔
ترجمان پاسبان مولانا خالد اعظمی:اس قسم کے سیمینار پر بہت لوگ اعتراض کرتے ہیں آپ کا خیال کیا ہے کیا اس قسم کے سیمینار سے کوئی فائدہ ہوتا ہے؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:شخصیات پر اس قسم کے سیمینار سے خاصا فائدہ ہوتا ہے۔ان کی زندگی کے تقریباً تمام پہلو محفوظ ہوجاتے ہیں۔
ترجمان پاسبان مولانا خالد اعظمی:ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر تعلیمی اور سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کا کیا لائحہ عمل ہونا چاہیے؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:اس وقت ملک کے حالات اور اس کے تناظر میں مسلمانوں کی ترقی اور ان کی حفاظت کے لئے اس سے اہم کوئی راستہ نہیں ہے کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم پر توجہ ہوخاص طور سے ان علوم میں جو انھیں سرکاری محکموں میں لے جائیں،مثلاً میڈیا پولیس پالیسی ساز ادارے اور ان اہم عہدوں پر جہاں سے ملک کوکنٹرول کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ارشد قاسمی:کوئی ایسا موضوع جس پر لکھنا چاہ رہے ہوں لیکن ابھی تشنۂ تکمیل ہو ؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:ایک ایسا ادارہ جو دینی تربیت کی فضا میں ٹھوس عصری تعلیم دے سکے۔گھر میں ایک چراغ۔
ڈاکٹر ارشد قاسمی: ہر انسان کسی نہ کسی شعبہ میں خاص امتیاز رکھتا ہے آپ کا خاص امتیاز کیا ہے نیز اسکی شناخت کیسے ہوئ ؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:ادب سے دلچسپی۔طبیعت اور مزاج اسی کی طرف شروع سے مائل تھی۔

مولانا عبداللہ اعظمی:آپ نے ترقی کے دینی علوم کے ساتھ عصری علوم کی بات کہی جبکہ قرآن مجید میں ہے۔وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح کیا یقینا وہی زمین کے خلیفہ ہونگے جیسا کہ ان سے پہلے کی قومیں ہوئیں ۔پھر اسکا کیا جواب ہوگا؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:یہاں عام طور سے یہ غلط فہمی ہےکہ عصری علوم عمل صالح سے متصادم ہے۔اسلام ایک رسمی مذہب نہیں ہے بلکہ ایک جامع دستور اور نظام ہے،جو زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے۔قرآن ہی نے تو یہ بھی کہا ہے:’’ واعدو لھم ماستطعتم‘‘ظاہر ہے اس سے مراد وقت کے تقاضوں کے مطابق دفاعی قوت کا حاصل کرنا اور یہ عصری علوم کے بغیر کیونکر ممکن ہے۔ملک کی موجودہ صورتحال میں یہ رویہ انتہائی غیر دانشمندانہ ہے۔ایک طبقہ جو مذہب کے نام پر دنیا کے حصول میں مگن ہے وہ اس بات کا روادار نہیں ہے کہ حال سے ذار آگے بڑھ کر اپنی نگاہ اٹھائے۔یہ صورت حال جس قدر خطرناک ہے اسی قدر یہ طبقہ غافل ہے۔

ڈاکٹر ارشد صاحب قاسمی:آپ عروس البلاد ممبئ میں رہتے ہیں جہاں مختلف مکاتب ِ فکر کے لوگ باہم دست بہ گریبان ہیں موجودہ ہندوستانی پس منظر میں آپ اس کو کس قدر مفید یا مضر پاتے ہیں ؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:ملک کی موجودہ صورتحال میں یہ رویہ انتہائی غیر دانشمندانہ ہے،ایک طبقہ جو مذہب کے نام پر دنیا کے حصول میں مگن ہے وہ اس بات کا روادار نہیں ہے کہ حال سے ذرا آگے بڑھ کر اپنی نگاہ اٹھائے۔یہ صورت حال جس قدر خطرناک ہے اسی قدر یہ طبقہ غافل ہے۔

مولانا عبداللہ اعظمی:اگر مدرسے کے لوگ مدرسے کے اندرونی ماحول سے آپ کی طرح عاجز آکر آپ سےمشورہ لیں کسی دوسرے کام کا تو آپ کیا مشورہ دینگے؟
نیز مدرسے کے اس ماحول پر کیسے قابو کیا جاسکتا ہے۔چھوڑ کر ہٹ جاناتو سمجھ سے بالاترہے۔

مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:معذرت کے ساتھ،اگر وہ دین کی خدمت کسی دوسرے شعبے خاطر خواہ کرسکتے ہوں، تو یہاں سے نکل کر دین کے پسبندیدہ میدان میں داخل جائیں تو میری نظر میں کوئی حرج نہیں۔
مولانا عبداللہ اعظمی:تب تو مدارس بند ہوجائینگے؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:قوت برداشت،اپنے کام سے کام،انتظامی امور میں عدم مداخلت،امکانی حد تک اخلاق،اگر اس پر بھی کام کرنے کا موقع فراہم نہ ہو تو بلا تکلف مدرسہ چھوڑ دیں ،ہم اپنی حد تک کام کرنے کے مکلف ہیں، ہرحال میں مدرسہ چلانے کے نہیں۔مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ہم دینی اصول پر ہی مدرسہ چلائیں گے ،خدا کو منظور ہوگا تو چلے گا وگرنہ نہیں۔
—————————-
اب یہاں سے عمومی سوال و جواب پیش خدمت ہیں:

مولانا ذاکر ندوی اعظمی:آپ کی تحریر میں آرورد نہیں بلکہ آمد کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے، کلاسیکی اور جدید ادب کا اگر کسی کو حسین مرقع دیکھنا ہو تو آپ کی نگارشات کا مطالعہ کرے، آپ ادب کی مذکورہ بالا اصناف میں سے کس صنف سے اپنے آپ کو قریب پاتے ہیں؟
مولانا شرف الدین عظیم قاسمی:طبیعت اور ذوق کلاسیکیت کو زیادہ پسند کرتی ہے۔

مولانا عبدالبر قاسمی:کیاعصری تعليم يافتہ مسلمانوں کو وہ ه عہدے دئیے جاسکتے ہیں جہاں سے ملک کو كکنٹرول كکیا جاتا ہے؟اگرہاں تو ابتک موجودہ صورت حال ميں كکتنے مسلمان اس عہدے پر فائز هہوسکےہیں؟
مفتی شرف الدین عظیم صاحب:ملک جمہوری ہے،اگر صلاحیت ہےتو وہاں تک جانے میں کوئی چیز نہیں روک سکتی اس کی ملک میں ان گنت مثال ہے۔ابھی ایک مہینے قبل بمبئی میں فلائیٹ کریش ہوا اور جس پائیلٹ کی دانشمندی سے آبادی سے باہر وہ فلائیٹ کریش ہو وہ کوئی اورنہیں مسلمان پائیلیٹ تھا۔یہاں کا کمشنر آج بھی مسلم ہے۔تعصب کا راگ اس معاملے میں فریب ہے۔
مولانا عبدالبر قاسمی:ابتک کتنے مقالے ك کن کن عنوانات سے آپ لکھ چکے هہیں؟موصوف کے قلم گہربارسے کووئی تصنيف بھی معرض وجودميں آ ئی هےیانہیں؟
*مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:چند سال قبل ایک رسالہ’’شراب ومنشیات‘‘کے عنوان پر لکھا جو دہلی سے شائع ہوا۔اس وقت حضرت مولانا اعجاز صاحب کی سوانح زیر ترتیب ہے،پہلی جلد ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل مکمل ہے،بحمد اللہ۔طویل مقالے کم از کم پندرہ سے بیس کے درمیان ہوں گے،مختصر مضامین کی تعداد یہی کچھ پچیس تیس ہوگی۔

ترجمان پاسبان مولانا خالد اعظمی:آپ نے اردو کے اپنے پسندیدہ ادیبوں کی فہرست لکھ دی ان کی جانب اپنا میلان بھی ظاہر کردیا۔ شعراء میں آپ کسے پسند کرتے ہیں اور کس شاعر کے دیوان یا کلیات کو آپ نے پڑھا ہے؟ آپ کو شعر و شاعری کا بھی ذوق ملا ہے آپ پڑھتے بھی ہیں کیا آپ شعر کہتے بھی ہیں آپ کا کوئی منظوم کلام ہے اگر ہو تو عنایت فرمائیں؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:شعراء میں اقبال جگر،ساحر،مجروح،خمار ،فیض احمد فیض،احمد فراز،پروین شاکر،ڈاکٹر کلیم عاجزوغیرہ پسندیدہ شاعر ہیں۔زمانہ تعلیم میں شاعری سے بہت دلچسپی تھی، غزلیں بھی پڑھتا تھا۔ ایک دو مشاعرے میں بھی پڑھا۔تک بندی بھی کرلیا کرتا تھا۔ایک بار مولانا اعجاز صاحب سے اس سلسلے میں مار بھی کھایا انہوں نے نعت پڑھنے پر بھی پابندی لگا دی۔دیوبند آنے کے بعد نثر کی طرف میلان جیسے جیسے بڑھتا گیا شعری دنیا سے لگاؤ کم ہوتا گیا۔جو کچھ پہلے لکھا تھا نہ محفوظ ہے،نہ یاد ہے۔
ترجمان پاسبان مولانا خالداعظمی:ممبئی میں بچوں کی دینی تعلیم کیلئے عموماً ہر مسجدمیں دینیات اور ناظرہ قرآن کا نظم ہوتا ہے، کیا اتنی تعلیم ان کے دینی شعور کیلئے کافی ہے یا اس میں کچھ اور اضافہ ہونا چاہیے؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:اس میں اضافہ ہونا چاہیے۔مسائل کا،اخلاقیات کا، دینی و اسلامی تاریخ کا،تاکہ انھیں اسلام کی خصوصیات کا علم ہوسکے۔

ایڈمن اعلی :مولانا شفیق قاسمی اعظمی:آپ نثر نگاری کے ذریعہ اپنے افکار و نظریات اور خیالات کو دوسروں تک پہونچاتے رہتے ہیں ، دوسرا جذباتی ذریعہ شعر گوئی کا بھی ہے ۔زمانہ قدیم سے ان دونوں ذرائع کا استعمال ہوتا آرہا ہے اور آج تک جاری ہے۔ تو کیا آپ اس دوسرے ذریعہ کا بھی استعمال کرتے ہیں ؟(آپ کے شعری ذوق سے پتہ چلتا ہے کہ یقینا کرتے ہوں گے)اگر جواب اثبات میں ہے تو ’’مشتے نمونہ از خروارے ‘‘ کے طور پر (اگر کوئی غزل یا کچھ اور جو محفوظ ہو) پیش فرمائیں ۔
*مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:اس کا جواب پہلے جواب میں آچکا ہے۔اظہار خیال کے لئے شعری صنعت واقعی بہت سودمند اور مؤثر ہے،لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اب میرا ذہن اس میں چلتا نہیں ہے اور شعر میں حسن اسی وقت پیدا ہوتا ہے،جب آمد ہو اس طرح کہ الہام کی کیفیت ہوجائے، یہ چیز صحیح یہ ہے کہ مجھے محسوس نہیں ہوئی اور بتکلف شعر کہنے کا میں قائل نہیں۔اس لیے طبع آزمائی بھی بالکلیہ ترک کردی۔

مولانا فیضان اعظمی:اردو ادب کے حوالے سے کیا مدارس میں زیا دہ دھیان دینے کی ضرورت نہیں جیساکہ آپ نے فرمایا میرا رہنما محض کتاب ہے ظاہر ہے ہر طالب علم اتنا ذہین نہیں ہوتا۔
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:بالکل سخت ضرورت ہے۔ ہمارے مدارس میں اردو زبان پر کوئی کتاب نہیں ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ادب وگرامر سے آراستہ اردو جو عصری درسگاہوں کی خصوصیت ہے،طلباء مدارس ناواقف ہوتے ہیں اس حوالے سے ان کی اردو بے کیف ہوتی ہے۔

مولانا وسیم  بستوی:اگر دین کے کسی شعبے میں نہیں کام کر سکتے تو کیا ان نظماء یا صدور حضرات کی کج فہمیوں اور بد اخلاقیوں کو برداشت کرتا رہےیا کسی دنیاوی راستے کو ہموار کرے؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:شریعت میں یہاں تک حکم ہے کہ اگر تم پر کالا حبشی بھی امارت کے لئے مقرر ہوجائے تو اس کی بھی اطاعت کرو۔لہذا جب تک برداشت کرسکیں کام کرتے رہیں، تختہ پلٹنے کی اسلام نے حوصلہ افزائی نہیں کی ہے۔

مولانا فیضان اعظمی: اہل مدا رس کو اس سلسلے میں کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:ہمارے مدارس میں اردو کے ساتھ عربی ادب کی بھی کمی ہے،دونوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اردو زبان میں سرے سے نظم اور نثر میں کتاب ہی نہیں ہے انہیں داخل کرنا چاہیے۔اور عربی حالات کے لحاظ سے غیر ضروری کتابیں ہیں جنہیں خارج کرنا چاہیے۔مثلاً تلخیص شرح تہذیب،سلم ،مختصر المعانی وغیرہ۔اس سلسلہ میں ابن الحسن عباسی کی کتاب’’مدارس ماضی،حال، مستقبل‘‘کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

مولانا عبدالبر قاسمی:تلخيص اور مختصر كکو اگر نکال ديں تو پھر قران ك کا اعجاز لفظی ومعنوی کیسے سمجھاجاسکتاہے؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:حقیقت یہ ہے کہ طلباء اسے سمجھتے ہی نہیں الا ماشاء اللہ۔میرے تجربے اور تجزیے کی حیثیت آپ ایک طرف رکھیں کہ اصل میں یہ بے حیثیت ہے۔مولانا اعجاز صاحب نے شیخوپور کے نصاب میں ان چیستانوں کو داخل ہی نہیں کیا تھا۔لیکن تجربہ نے بتایا کہ قرآن فہمی شیخوپور کے فیض یافتگان میں اوروں سے کم نظر نہیں آئی۔
مولانا عبدالبر صاحب:خيراب کچھ ك کہنا مناسب نہیں اس وقت استاذ محترم رحمۃ اللہ علیہ کی عقيدت غالب ه ہے ورنہ۔۔۔!!!کیا ميرا سوچنا غلط هے؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:نہیں آپ کی بات صحیح ہے افادیت کے لئےمگر اب موجود ہ اذہان سے ان کتابوں کی حیثیت بہت بالا ہو گئی ہے،انھیں اب تخصصات میں پڑھانا چاہیے،یافراغت کے بعد ان کا مطالعہ کیا جائے۔

مولانا منصور جونپوری: مولانا محترم! آپ کی مسجد ’’مسجد انوار ‘‘ ایسے علاقہ میں واقع ہے جہاں مناظرانہ ماحول ہے اسکی کوئی خاص وجہ؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:تقریباً بیس سال پہلے اہل بدعت کی حکمرانی تھی ہر سو انھیں کا غلغلہ تھا، دیوبندی نام کے بھی نہیں تھے ،رفتہ رفتہ ان کی تعداد گھٹتی گئی، دیوبندیت پھیلتی گئی ایسی صورت حال میں ان کی پوزیشن دفاعی ہوگئی۔اب بچے ہوئے سرمایہ کی حفاظت کے لئے اہل بدعت کی چیخ وپکار پوری شدت سے ابھر آئی اور سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
مولانا منصور صاحب جونپوری:اپنی زندگی کا کوئی ایسا لمحہ جسے یاد کرکے بہت خوش ہوتے ہوں؟
مفتی شرف الدین عظیم صاحب:ایک دارالعلوم دیوبند میں داخلہ۔دوسرے 2008میں زیارت حرمین شریفین۔

مولانا وسیم بستوی:مفتی صاحب! آپ کی زندگی کا کوئی ایسا لمحہ یا واقعہ جسے یاد کرکے آپ آبدیدہ ہو جاتے ہوں؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:حضرت مولانا اعجاز صاحب کا شیخوپور چھوڑنے کا فیصلہ اور پھر ان کی رحلت۔

حافظ خطیب اعظمی:آپ اتنے دنوں سےامامت کررہےہیں،کیاآپ نے کبھی محسوس کیاکہ اگرامامت کےبجائےدرس وتدریس کےشعبے میں ہوتےتو آپکی موجودہ خداداد صلاحتیوں میں مزید اضافہ ہوتا؟اور دوران امامت آپ کی صلاحیت میں خدانخواستہ آپکو کوئی کمی تو نہیں محسوس ہورہی ہے؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:خدا کا فضل ہے احساس کمتری نہیں ہے۔اس بات کا تو قوی امکان ہے کہ اگر مدارس میں عربی شعبے میں شب وروز گذرتے تو کچھ صلاحیت پیدا ہوجاتی۔لیکن معا بعد یہ خیال آتا ہے ایسا انہیں سوچنا چاہیے جن کا دامن علم سے بھرا ہوا ہو،یہاں تو سرے سے زنبیل ہی خالی ہے پھر کس چیز کا احساس اور خوف؟ ہاں یہ ضرور ہے کہ میں نے اپنے مطالعہ کے سفر کو کہیں روکا نہیں ہے،بمبئی شہر میں لوگوں کی ترجیحات معاش کے ارتقاء پر رہتی ہے اور وہ فارغ وقت اسی میں لگاتے ہیں
مگر میں اس طرف کبھی توجہ نہیں کی بہت سے لوگوں نے کہا بھی مگر میں نے انکار کر دیا۔جو بھی خالی وقت رہتا ہے وہ بفضل الہی تحریر و مطالعہ اور تدریس وتفسیر میں گذرتا ہے۔

مولانا عبدالبر قاسمی:
ہاں! ایسابھی ہوسکتاہے کہ ان کتابوں کی تسہیل کردی جائے،پھرپڑھایاجائے،کیوں کہ بہرحال ان فنون سے ایک مسلمان طالب علم کوآگاہ رہناضروری ہے،آپ کی کیارائے ہے؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:ہاں اگر ایسا ہو جائے تو اس کی نافعیت حاصل ہوسکتی ہے۔یا مرقات کی طرح آسان لفظوں میں تسہیل کردی جائے،جیسے دروس البلاغہ۔

مولانا فضیل احمد ناصری :ہندوستان میں اردو کا مستقبل کیسا دیکھ رہے ہیں؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:ملکی سطح پر اس زبان کا دائرہ ظاہراً وسیع معلوم ہوتا ہےکہ ماضی کے مقابلے میں آج رسائل جرائد اخبارات کی کثرت ہے لیکن فصیح اور ادبی خوبیوں سے معمور تحریر کم نظر آرہی ہے۔حیدرآباد بہار اور بمبئی میں تو اس کی طرف عصر حاضر میں کچھ توجہ حکومتی سطح بھی اور پرائیوٹ اداروں میں بھی نظر آرہی جو خوش آئند ہےمگر یوپی میں اس کی طرف بالکل توجہ نہیں ہے-2010میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سروے کے مطابق مہاراشٹر میں اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد پانچ سو تھی جبکہ یو پی میں ایک بھی اردو میڈیم اسکول نہیں تھااس سے اردو سے بیزاری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اور یہ حقیقت ہے کہ اردو زبان کی ترویج میں اس وقت سب سے زیادہ مدارس کا کردار ہےجہاں سے سیکڑوں رسائل شائع ہورہے ہیں۔

مولانا منصور جونپوری:آپ کی زندگی میں ’’پاسبان علم و ادب ‘‘ کیا حیثیت رکھتا ہے؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:’’پاسبان علم و ادب‘‘میری زندگی کا اب اہم اور نمایاں حصہ ہے۔اس نے اپنے آغاز سے ہی مجھے اتھا محبتوں کی سوغات عطا کی ہے اور عطا کررہاہے۔اس نے اپنی خصوصیات و امتیازات کی وجہ سے دل کے اندر وہ حیثیت حاصل کرلی ہے جیسے بچپن کا مادر علمی ۔کہ اب سے الگ زندگی کا تصور مشکل سا معلوم ہورہاہے۔واقعہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسا بہار آشنا گلشن ہے،جہاں طبیعتوں میں تازگی اور فرحت و سرور کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔اس اعتراف میں کوئی تأمل نہیں ہے کہ اس میں ایڈمن اعلی مولانا شفیق صاحب کے اخلاص کا خوشگوار نتیجہ ہے۔
مولانا منصور جونپوری:یوں تو پاسبان علم و ادب میں آپ کی خوبصورت تحریروں کے قدردان سبھی ہیں مگر آپ کو کس ممبر کی تحریر پر کشش معلوم ہوتی ہے؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:مولانا ڈاکٹر الحاج محمد ارشد اعظمی،مولانا عبد اللہ قاسمی الاعظمی ،اور مولانا محمد احمد قاسمی ،استاذ محترم حاجی بابوکی تحریروں سے بہت متاثر ہوں

مفتی عاصم کمال قاسمی اعظمی:زمانہ کی تیز رفتار سواری جس تیز گامی سے مستقبل کی جانب گامزن ہے، اردو زبان کو آئے دن جدید الفاظ، نئ تعبیرات،اور جدید اصطلاحات کامشکل سامنا ہوتاہے، جس کے سبب اس کو کم مائگی کا احساس کرتے ہوئے دیگر زبانون سے عاریت کا معاملہ کرناپرتا ہے، جو اپنے آپ میں ایک قسم کا استخفاف ہے،اور رفتہ رفتہ دامنِ اردو تنگ ہوتاجارہا ہے! موجودہ دورمیں اس کا لائحۂ عمل کیا ہو؟
آپ کے’’ ادبی تجربہ‘‘میں اس مسئلہ کا کیا حل ہے ؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:جو زبان زمانے اور حالات کے مطابق جدید تقاضوں کی ترجمانی نہ کرسکے اور جدید الفاظ و تعبیرات کو قبول نہ کرسکے وہ زندگی اور ارتقاء سے محروم ہو جاتی ہے۔خوش قسمتی سے اردو زبان میں یہ بات نہیں پائی جاتی ہر چند کہ الفاظ و تعبیرات کے لحاظ سے یہ خاطر خواہ ذخیرہ نہیں رکھتی ہے مگر عربی و فارسی کے علاوہ دوسری مانوس زبانوں کے الفاظ کو بڑی آسانی سے قبول کرلیتی ہے ایک ادیب جب انہیں سلیقے سے استعمال کرتاہے تو وہی تعبیریں اردو میں اس طرح ڈھل جاتی ہیں،گویا انہیں اسی زبان کے لئے وضع کیا گیا ہےاور یہی زبان کا ارتقاء اور اس کی وسعت ہے۔ہاں عہد حاضر میں کچھ اہل قلم کے یہاں انگریزی استعمال اتنی کثرت سے استعمال ہوتا ہے کہ اردو کا حسن غائب ہوجاتا ہے۔اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ مافی الضمیر کی ادائیگی کے لئے اردو زبان میں الفاظ میسر نہیں ہےبلکہ معاملہ یہاں احساس کمتری اور فکری غلامی کا ہے۔آخر جذبات واحساسات کی ادائیگی کے لئے آزاد نے بھی اردو ادب کا سہارا لیا مگر انھوں نے بہت کم خال خال انگریزی الفاظ کا استعمال کیا یہی صفت شبلی وسلیمان اور دیگر صف اول کے ادبا میں پائی جاتی ہے۔
مفتی عاصم کمال قاسمی اعظمی:اردو لشکری اور مخلوط زبان ہے، گرچہ فارسی زبان کا اس میں زیادہ حصہ ہے!مگر دور حاضر میں اردو داں طبقہ کا رجحان تسہیل کی جانب بڑھ رہاہے، کہ جس میں نت نئ تعبیرات، انوکھے استعارت، بلیغ تشبیہات، ثقیل فارسی کلمات کا استعمال کم سے کم ہو!اسی نظریہ کے پیش نظر بعضے بعض فارسی زبان کی افادیت پر حرف زنی کرنے لگتے ہیں!آپ اس تناظر میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
مفتی شرف الدین عظیم قاسمی:علامہ شبلی نعمانی نے موازنہ میں لکھا ہے۔ زبان میں جو مفرد تشبیہات ہیں،جیسے چاند ستارے،گل وبلبل وغیرہ یہ تو ہر زمانے میں اسی طرح رہیں گی یعنی ہر دور میں جدید ہی رہیں گی،ہاں جو مرکب تشبیہات وتعبیرات ہیں،ان میں تجدید کا عمل جاری رہے گا اور یہی جدت طرازی زبان کا ارتقاء ہے۔ وقت کے لحاظ اور نت نئے انکشافات اور دریافت کے تناظر میں جہاں زندگی کے بہت سارے شعبوں میں تبدیلیاں آئی ہیں ادب بھی ان سے محفوظ نہ سکا اور ترقی پسند ادیبوں نے تعبیرات وتشبیہات میں نئے امکانات تلاش کئیے خاص طور سے یہ عمل پاکستانی نثر نگاروں کے یہاں زیادہ پایا گیا۔اسی تناظر میں تسہیل کا عمل بھی ہے جو اصول و قواعد کی روشنی ہو تو اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

اختتامیہ
مولانا منصور قاسمی جونپوری:
حضرات گرامی! آج کا انٹرویو ادبی اعتبار سے ایسی پر کشش شخصیت کا ہے کہ جی چاہتا ہے کہ یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہو مگر رات کا کافی حصہ گزر چکا ہے ’’پھربھی قصہ ناتمام ‘‘ہے اسلئے نہ چاہتے ہوئے بھی اس خوبصورت سلسلہ کو روکنے کا اعلان کرتا ہوں،مگر ممبران کو اجازت ہے کہ اپنے سوالات پیش فرمائیں جسکے جوابات ان شا ء اللہ مہمان خصوصی حسب سہولت دیں گے جو جمع ترتیب میں شامل ہوں گے ،آپ حضرات سے اجازت چاہتے ہوئے ایک آخری درخواست کرتا ہو کہ آپ حضرات کو آج کا ہمارا پروگرام کیسا لگا ؟ ضرور لکھنے کی زحمت فرمائیں ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ’’یار زندہ صحبت باقی ‘‘
شب بخیر
====================

بصیرت فیچرس

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker