ہندوستان

مرکزی حکومت کی جانب سے طلاق ثلاثہ پر لائے گئے آرڈی نینس کی علماء نے کی سخت مخالفت ، شریعت میں مداخلت قرار دیا

دیوبند: 19ستمبر (رضوان سلمانی؍بی این ایس) آج مرکز کی مودی حکومت نے طلاق ثلاثہ بل کو راجیہ سبھا سے منظور کرانے میں ناکام رہنے پر آرڈی نینس کے ذریعہ اسے نافذ کردیا ہے۔ آج مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں طلاق ثلاثہ کو قابل سزا جرم بنانے والے آرڈی نینس کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ حکومت کے اس آرڈی نینس پر علماء اور مسلم طبقے نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے کھلم کھلا شریعت میں مداخلت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت نے اپنی ناکامیوں کو یہ آرڈی نینس جاری کیاہے۔ اس آرڈی نینس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مفتی ابوالقاسم نعمانی نے مرکزی حکومت کے ذریعہ طلاق ثلاثہ کے متعلق بنائے گئے قانون اور کابینہ کے ذریعہ منظورکئے گئے آرڈی نینس پر تشویش کا اظہار کیا اور اس آڈی نینس کو مذہبی معاملات میں مداخلت مانتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ دستور ہند ہمیں دستور آزادی دیتا ہے اور طلاق ونکاح خالص مذہبی امور ہے ، ان میں کسی بھی حکومت کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔ ہم حکومت کے اس اقدام کو دستور کے روح کے منافی مانتے ہیں۔ تنظیم علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے طلاق ثلاثہ کے خلاف لائے گئے آرڈی نینس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آرڈی نینس مسلم خواتین کے خلاف ہے ۔ اس آرڈی نینس سے مسلم خواتین کو انصاف نہیں ملے گا ، اسلام میں شادی ایک سماجی تعلق ہے اور اس میں سزا کو جوڑنا غلط ہے۔ مولانا نے کہا کہ یہ آرڈی نینس غیرقانونی ہے اور یہ قانون میں دیئے گئے برابری کے حق کے بھی خلاف ہے کیوں کہ یہ صرف مسلمانوںکے لئے بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مسلم تنظیموں کو چاہئے کہ وہ اس آرڈی نینس کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے ، یہ آرڈی نینس بل ایکٹ نہیں ہے یہ صرف یہ انتخابی حربہ ہے۔ ما ہنامہ ترجمان دیوبند کے مدیر مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ اس آرڈی نینس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند نے یہ آرڈی نینس لاکر قانون بنانا جمہوری ملکوں میں غیر جمہوری طریقہ ہے ، اس میں کہیں نہ کہیں ڈکٹیٹر شپ کی جھلک ملتی ہے اور یہ فیصلہ مودی حکومت کی مایوسی کی عکاس بھی ہے۔ جب انہیں کوئی راستہ نظر نہیں آیا تو حکومت ہند نے غیر جمہوری راستہ اختیار کرکے اسے قانون بنادیا ۔ ندیم الواجدی نے کہا کہ جہاں تک مسلمانوںکی بات ہے وہ تین طلاق کے معاملے میں بالکل واضح موقف رکھتے ہیں کہ تین طلاق تین ہی ہیں اور اس میں تا قیامت کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ،بہرحال ہمارے سامنے جمہوری راستے کھلے ہوئے ہیں ، اس آرڈی نینس کی سخت مخالفت کی جائے گی ۔ دوسری پارٹیوںکو ساتھ لے کر کوشش کی جائے گی کہ حکومت اس آرڈی نینس کو واپس لے لے۔ اس بابت جمعیۃ علماء ہند کے خازن مولانا حسیب صدیقی نے اس آرڈیننس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلم خواتین کے خلاف بتایا ہے اور کہاکہ مودی سرکار تین طلاق کی کشتی پر سوار ہوکر 2019ء کا الیکشن جیتنا چاہتے ہیں، اگر مودی حکومت کو مسلم خواتین کی اتنی ہی فکر ہے تو انہیں مسلم خواتین کو تعلیم اور ملازمتوں میں ریزریشن د ینا چاہئے اور ملک کی لاکھوں ایسی خواتین کے لئے قانون بناچاہئے بغیر طلاق دیئے ہی چھوڑ دیا گیاہے۔ انہوںنے کہاکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اس آرڈنینس کے خلاف کورٹ جانا چاہئے اور مضبوط سے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس آرڈنینس کی مخالفت میں اپنی رائے رکھیں۔ یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھامیں پینڈنگ ہے اوروہ ابھی تک منظورنہیں ہوا ہے اورماضی قریب میں منظور ہونے کی امید بھی نہیں ہے ،یہ آرڈی نینس لاکر حکومت نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے اس کا نفاذ کیا ہے کیو ںکہ پارلیمانی انتخاب نزدیک ہے، عوام کے سامنے جانے کے لئے ان کے پاس کوئی مدعا نہیں ہے ، حکومت کا یہ اقدام دستور کے رخ سے بھی بالکل منافی ہے اور قانون ساز اداروں کی توہین ہے۔ واضح ہو کہ آج مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں طلاق ثلاثہ کو قابل سزا جرم بنانے والے آرڈی نینس کو منظوری دیدی گئی ہے، یہ آرڈی نینس 6ماہ تک لاگو رہے گا، اس دوران حکومت کو اسے پارلیمنٹ سے منظور کرانا ہوگا، اس آرڈی نینس میں مسلم وومین پروٹیکشن آف رائٹ ان میرج ایکٹ کی طرح ہی التزامات ہوںگے ۔ اس بل کو گزشتہ سال ستمبرمیں پارلیمنٹ میں پاس کرادیا گیا تھا ، حالانکہ راجیہ سبھا میں جہاں حکومت کے پاس ارکان کی تعداد کم ہے وہاں ہنگامہ کے مد نظر اس بل پر بحث بھی نہیں ہوپائی تھی، مودی کابینہ نے بھلے ہی آرڈی نینس پاس کردیا ہو لیکن اسے پارلیمنٹ میں پاس کرانا حکومت کے لئے ضروری ہوگا ۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker