ووٹ کی طاقت

ووٹ کی طاقت

مولانامنورسلطان ندوی
ایڈیٹر ماہنامہ صدائے مروہ،لکھنؤ
ہماراملک ایک جمہوری ملک ہے،جمہوری نظام حکومت میں رائے عامہ کوغیرمعمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے،رائے عامہ کے ذریعہ پرامن انقلاب لایا جاسکتا ہے، اسی رائے عامہ سے حکومتیں بنتی بھی ہیں اورگرتی بھی ہیں،ملک کی پالیسی بنانے اورمنصوبہ سازی میں بھی رائے عامہ موثرہوتی ہے۔جمہورنظام حکومت کاایک اہم اوربنیادی عمل الیکشن ہے،الیکشن کے ذریعہ عوام کی رائے معلوم ہوتی ہے،اوررائے کی اکثریت کی بنیادپرہی حکومتوںکی تشکیل ہوتی ہے، اس طرح الیکشن کے ذریعہ ملک کے تمام باشندوں کوووٹ کاحق ملتاہے،ملک کے دستورمیں عوام کودیاگیایہ حق اپنے آپ میں بہت اہم ہے،اگرجمہوریت کے صحیح تصورات کی روشنی میں دیکھا جائے تواس کی معنویت بہت زیادہ ہے،ووٹ کے ذریعہ ہی عوام کی حکومت سازی میں شرکت ہوتی ہے،عوام جسے چاہتی ہے پانچ سالوں کے لئے ملک کی باگ ڈوراسے سونپ دیتی ہے،اس طرح ووٹ کاحق دستوری لحاظ سے اورقومی وملی مفادات کے تحفظ کے لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کاحامل ہے۔
مسلمانوں کاعام مزاج یہ ہے کہ حکومتوں کے رویہ پرخوب تبصرے کرتے ہیں،اپنے حقوق کی پامالی پرآنسوبہاتے ہیں، لیکن جمہوری نظام میں اپنی بات منوانے،اپنے حقوق حاصل کرنے،اورحکومت کے غلط رویہ پراپنی ناپسندیدگی کے اظہار کے جوطریقے ہیں ان کونہیں اختیارکرتے،اس بارے میں مسلمانوں کی غفلت اپنی انتہاکوپہونچی ہوئی ہے،سیاسی شعورکی کمی کایہ حال ہے کہ آج بھی بہت سے مسلمان ووٹ کوکوئی خاص اہمیت نہیں دیتے،وہ سمجھتے ہیں کہ ان کاکام انتخاب کے دن ایک ووٹ ڈالناہے اوربس،حالانکہ ووٹ کے تئیں صحیح بیداری نہ ہونے اورووٹ کوضائع ہونے سے بچانے کی منصوبہ بندی کی کمی کی وجہ سے مسلمانوں کاووٹ عمومابے حیثیت بن جاتاہے،اورلاکھ چاہت کے باوجودان کی پسندکا امیدوار ہار جاتا ہے۔
اس غفلت کاایک مظہر یہ بھی ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹرلسٹ میں نئے ناموں کےاندراج کاعمل وقفہ وقفہ سے ہوتارہتاہے،ایسے مواقع پرمسلمانوں میں جوسنجیدگی نظرآنی چاہیے وہ نظرنہیں آتی،دوسری قوم کے افرادایسے مواقع سے پورافائدہ اٹھاتے ہیں،وہ ہمیشہ بیداررہتے ہیں،جس کافائدہ انہیں ہرموقع پرملتاہے،لیکن مسلمان اکثربے توجہی برتتے ہیں اوراس ذراسی غفلت سے بڑے نقصانات کودعوت دیتے ہیں۔
ابھی یکم ستمبرسے الیکشن کمیشن کی طرف سے نئے ناموں کے اندراج کاعمل شروع ہواہے،اس موقع سے بھرپورفائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے،اٹھارہ سال کی عمرکے وہ تمام افراد جن کا نام شامل نہیں ہے ان کانام ووٹرلسٹ میں شامل کرنا،اسی طرح جن کا نام غلط درج ہے اس کی تصحیح کراناضروری ہے،اس کے لئے محلہ کی سطح پرنوجوانوں اورسماجی کارکنوں کومتحرک ہونا چاہیے، اوربلاتفریق ملت اس بارے میں عوامی بیداری پیداکرناچاہیے۔
کیاہی بہترہوتاکہ مساجدکے ائمہ بھی اس بیداری مہم میں شامل ہوں اورجمعہ کے خطبات کے ذریعہ مسلمانوں کوووٹرلسٹ میں اپنانام درج کرانے اورنام درج نہ ہونے کے نقصانات سے آگاہ کریں،ووٹرلسٹ میں ناموں کااندراج اب صرف ووٹ کاہی مسئلہ نہیں بلکہ نام درج نہ ہونے پرشہریت مشکوک ہونے کابھی مسئلہ ہے،آسام کی مثال ہمارے سامنے ہے ، اس لئے اس معاملہ میں ذراسی بے توجہی ’لمحوںنے خطاکی تھی صدیوں نے سزاپائی ‘کے مصداق بن سکتی ہے۔
مسلم تنظیموں اورسماجی اداروں کوبھی اس موقعہ پرمہم چلاناچاہیے،اورلوگوں کوترغیب دینا چاہیے،نیزاندارج کے عمل میں ان کاتعاون کرناچاہیے،ناموں کے اندراج کے لئے سرکاری عملہ متعین ہے،ان سے مل کراپناکام کراناہماری ذمہ داری ہے،اورنام اندراج ہوایا نہیں،اس کی معلومات کرتے رہناضروری ہے،یہ ایک قومی وملی ذمہ داری بھی ہے،اوردین کا تقاضہ بھی ، امارت شرعیہ بہارنے اس موقعہ پرجنگی پیمانہ پرپورے صوبہ میں کام شروع کیا ہے، دوسرے صوبوں کی مسلم تنظیموں کو ان سے سبق لیناچاہئے،اوران کے نقش قدم پرآگے بڑھناچاہئے،کیاہماری ملی تنظیمیں اس نوشتہ دیوارکوپڑھنے کے لئے تیارہیں!!
(بصیرت فیچرس)