مضامین ومقالات

پرانی نسل میں احساس کمتری کا بڑھتا ہوا رجحان

شرف الدین عبدالرحمن تیمی

بعض انسان اتنے کم ظرف ہوتے ہیں کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اس پر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے اسے اپنی کاوشوں کا نیتجہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اپنی کامیابیوں کے زعم میں وہ خود کو دوسروں سے بہت برتر و بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسروں کو حقیر سمجھنا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرنا ان کی عادت بن جاتی ہے۔ ہمیں اپنے گرد و پیش ایسے بہت سے کردار ملیں گے۔ غرور و تکبر کی بڑی وجوہات میں مال و دولت، اعلیٰ عہدہ، حسب و نسب اور سب سے بڑھ کر علم اور دین داری شامل ہیں۔

احساس برتری یا غرور و تکبر کے ساتھ ساتھ، بعض افراد احساس کمتری کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ یہ عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں کسی بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ایسے والدین، جو اپنے بچوں کو بہت زیادہ دباؤ میں رکھتے ہیں، کے بچوں میں بالعموم احساس کمتری بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس مرض کے شکار لوگوں میں عموماً قوت ارادی اور قوت فیصلہ کی کمی ہوتی ہے۔

احساس برتری ہو یا احساس کمتری، یہ دونوں امراض کسی بھی انسان کی شخصیت پر بہت برا اثر چھوڑتے ہیں ۔ایک متکبر شخص معاشرے میں اپنی عزت اور مقام کو کھو بیٹھتا ہے۔ اگر کوئی اس کی عزت کرتا بھی ہے تو صرف اس کے سامنے، اس کی عدم موجودگی میں عام طور پر لوگ اس کا مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ اس کی برائیاں بھی بیان کرتے ہیں۔ اسی طرح احساس کمتری کا شکار انسان دوسروں سے ملنے جلنے سے گھبراتا ہے اور اپنے ہی خول میں بند ہو کر رہ جاتا ہے. 

یہ قدرت کا نظام ہے ۔ وہ جسے چاہتا ہے ذلت ورسوائی سے دوچار کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے عزت وعظمت کی دولت عطا کرتا ہے. ذلت ورسوائی کا تعلق انسان کے کرتوت سے وابستہ ہے جب کہ عزت وسربلندی کا رشتہ بھی انسان کے اعمال سے جڑا ہوا ہے. بہت سارے لوگوں کو بلندیاں اور شہرت بڑی جفا کشی، محنت، جہد مسلسل اور عمل پیہم کے ایک طویل وقفے کے بعد حاصل ہوتی ہے تو وہیں کچھ لوگوں کے حصے میں بلندیاں اور شہرت رب کی عنایتیں اور لوگوں کی محبتوں کے طفیل میں کم وقتوں اور تھوڑی بہت کوشش کے بعد آ جاتی ہے. وہ افراد جنہیں بلندی کی دولت طویل وقفے کے بعد ملتی ہے ، انہیں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ یہ میری میراث نہیں ہے بلکہ آج ہمارے تو کل کسی اور کے پاس ہوگی ۔شاید وہ لوگ یہ بات بھول گئے جس کے نتیجے میں اپنے سے کم عمر اخوان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور آئے دن اس میں اضافہ ہوتا ہوا دیکھ کر چیخ اٹھے ایسا لگا کہ ان کا کوئی قیمتی سرمایہ کھو گیا، بلندیاں ان کے ہاتھوں سے چلی گئیں اور وہ لاچار ومجبور ہوکر راہ تکتے یہ سوچتے رہے کہ کاش! ہمیں بھی کوئی شاعر، صحافی اور ادیب جیسے القاب سے ملقب کرتا.پھر کیا ہوا غم واندوه کے پہاڑ تلے دبے ہوئے ایک تحریر ہی مخالفت میں لکھ ڈالی اور مکمل طور پر اس بات کا ثبوت پیش کردیا کہ جناب  ہم بھی احساس کمتری والی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے . کیونکہ آئے دن اپنے سے کم عمر لوگوں کی شہرت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی صحافتی اور شعر وشاعری کا اتنا لمبا سفر طے کرنے کے بعد بھی اب تک کسی نے میری شان میں ایک چھوٹا سا مضمون بھی نہیں لکھا، نہ اب تک کسی نے مجھے شاعر وادیب کہا…… کیا کروں کچھ سمجھ میں نہیں آتا. احساس کمتری کے بڑھتے ہوئے مرض میں اضافہ ہو چکا ہے…. آئے دن میری نظر میں چھوٹے موٹے قلمکاروں کی حوصلہ افزائی میرے حلق سے نیچے نہیں اتر رہی ہے، کیا کروں ہائے ! کچھ کچھ ہوتا ہے…… 
میدانِ قلم کے نوواردوں کو اپنے پیش رووں سے امید ہوتی ہے کہ وہ ہماری ہمت افزائی کریں گے، ہماری اصلاح کریں گے ۔ان سے یہ امید کبھی نہیں ہوتی کہ اپنی جارحانہ تحریر سے دل اور جگر چھلنی کریں گے ۔لیکن کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی فطرت میں غرور و تکبر ایسا سما جاتا ہے کہ اس کے سامنے خود ان کی اپنی شخصیت ماند پڑ جاتی ہے ۔

یہ تھے پرانے اور اپنے آپ کو شاعر وصحافی کہلوانے والے لوگوں کے خیالات….. اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نو وارد قلمکاروں کی حوصلہ افزائی سے انہیں کتنا بیر ہے کہ وہ آئے دن احساس کمتری کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں. لیکن آپ جلتے رہیں….. احساس کمتری کے شکار ہیں ہوتے رہیں….. روتے رہیں….. چیختے اور چلاتے رہیں….. تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ زبردستی ہی سہی اپنی صلاحیت کا لوہا منواتے رہیں….. ہمیں آپ کی مخالفت سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا….. آپ کی تحریریں اور تقریریں ہمارے بڑھتے قدم کو نہیں روک سکتیں، آپ کی مخالفت سے ہماری مقبولیت میں تھوڑی بھی کمی نہیں آنے والی. لیکن یہ بات یاد رہے کہ احساس کمتری پر اگر قابو نہ پایا جائے تو یہ انسان میں مایوسی، افسردگی یا بے چینی کی کیفیت پیدا کرتا ہے جو آگے جا کر کئی نفسیاتی مسائل کا موجب بن جاتا ہے، جبکہ احساسِ برتری میں مبتلا انسان اصل میں احساسِ کمتری کا ہی شکار ہوتا ہے، لیکن لاشعوری طور پر اس احساس کو دباتے ہوئے احساس برتری کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوسروں پر تنقید، طنز بازی اور تحقیر آمیز رویہ اُس کی شخصیت کا خاصہ بن جاتا ہے۔ وہ دوسروں کی غلطیوں اور کمزوریوں کو اُچھال کر خوشی محسوس کرتا ہے۔ غرض بہت سی اخلاقی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایسا انسان اپنے آپ کو بہت خاص سمجھتا ہے اور اُس کو اپنے آپ میں کوئی خامی نظر نہیں آتی، اسی لئے وہ اپنی اصلاح کرنے کی بھی کوشش نہیں کرتا۔

احساسِ کمتری یا احساسِ برتری کے حامل انسان کا نفسیاتی، اخلاقی اور فکری رجحان صحت مندانہ طور پر پروان نہیں چڑھتا، جبکہ خود اعتماد انسان دوسروں کی عزتِ نفس کی قدر کرتا ہے اور مجروح نہیں ہونے دیتا۔ اپنی خوبیوں، خامیوں کا ادراک رکھتا ہے اور اصلاح کی کوشش کرتا ہے. بس چلتے چلتے استاد محترم مشتاق احمد شیدا کا یہ شعر نذر کرتا چلوں کہ:
جو جلتے ہیں حسد کی آگ میں جلتے رہیں شیدا
مجھے چڑھ کر بلندی سے اتر جانا نہیں

✍🏻شرف الدین عبدالرحمٰن تیمی
مدھوبنی ،بہار
رابطہ :7352623849

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker