مضامین ومقالات

سیاست میں حسن کردار کی اہمیت

مولانا ندیم الواجدی
کردار کثیر المعنی، وسیع المفہوم لفظ ہے، عام طور پر یہ لفظ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کسی خاص شخص کے طرز، روش، طور طریق اور عادت وخصلت کا بیان مقصود ہو، شعراء نے اسے گفتار کے مقابلے میں استعمال کرکے یہ واضح کردیا ہے کہ اس کا تعلق انسان کے عمل سے ہے، حالی کہتے ہیں :
نہ گفتار میں ان کی کوئی خطا ہے
نہ کردار ان کا کوئی ناسزا ہے
علامہ اقبال کا شعر ہے:
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا غازی بن تو گیا کردار کا غازی بن نہ سکا
اردو میں لفظ کردار کسی لاحقے اور سابقے کے بغیر بھی استعمال کریں تب بھی یہ اس وقت بولاجاتا ہے جب ہم کسی شخص کو خوبیوں کا مجموعہ ثابت کرنا چاہتے ہوں بعض اوقات ہم کسی بہت ہی اچھے انسان کی خوبیوں کو نمایاں کرنے کے لیے اس کے ساتھ کوئی دوسرا لفظ بھی جوڑ دیتے ہیں جیسے بلند کردار، باکردار وغیرہ ،جب ہم کسی شخص کو باکردار یا بلند کردار کہتے ہیں تو ایک ایسا شخص نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے جو ہر اعتبار سے لائق تعریف ہو، وہ قول کا پکا ہو، متواضع وخلیق ہو، منصفانہ مزاج رکھتا ہو لالچ اور خود غرضی سے دور ہو وغیرہ، کردار ایک ایسا وصف ہے جس کے بغیر انسان نامکمل اور ادھورا ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی شعبۂ زندگی سے ہو، مثال کے طور پر ایک ڈاکٹراس وقت تک باکردار کہلانے کا مستحق نہیں ہے جب تک وہ اپنے پیشے کے سلسلے میں مخلص اور دیانت دار نہ ہو، اور یہ دیانت داری اور اخلاص مریض اور ڈاکٹر کے درمیان رشتوں میں ہونی چاہئے، مثلاً یہ کہ ڈاکٹر کو مریض سے ہمدردی ہو، اور وہ پورے خلوص کے ساتھ اس کی صحت کا متمنی ہو، آج کل کے پیشہ ور ڈاکٹروں کی طرح نہ ہو جن کی نگاہ مرض پر کم اور مریض کی جیب پر زیادہ ہوتی ہے، باکردار تاجر وہ کہلاتا ہے جو اپنے نفع سے زیادہ خریدار کا نفع چاہے، اچھی چیز دے، زیادہ نفع نہ لے، کسی چیز کا عیب نہ چھپائے، خراب چیز بیچنے کے لیے جھوٹی تعریفیں نہ کریں، ایک باکردار ملازم وہ ہے جو مالک کا خیر خواہ ہو، جو کام اس کے سپرد ہیں انہیں مقررہ وقت کے اندر بہ حسن وخوبی انجام دیتا ہو، اس کا مطمح نظر یہ نہ ہو کہ حاضری دی، بے دلی سے کچھ کام کیا اور اٹھ کر چل دئیے، ڈاکٹر، تاجر یا ملازم ہی پرکیا موقوف ہے، آپ انسانی زندگی کے کسی شعبے سے متعلق ہوں جب تک آپ باکردار نہیں ہوں گے اس وقت تک اس شعبے کے ساتھ انصاف نہیں کرسکیں گے۔
سیاست بھی ایک ایسا ہی شعبہ ہے، اس کا تعلق ہماری زندگی سے ہے، جس طرح ہم ڈاکٹروں کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، جس طرح ہمیں تاجروں کی ضرورت ہے، ملازموں کی ضرورت ہے، زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے، اسی طرح ہمیں سیاست دانوں کی بھی ضرورت ہے اگرسماج میں سیاست داں نہیں ہوں گے تو عوام اپنی ضرورتوںمیں کس کی طرف رجوع کریں گے، خاص طور پر جمہوریت میں سیاست دانوں کا اہمیت زیادہ بڑھ جاتی ہے یہ لوگ ملک کا نظم ونسق چلاتے ہیں، عوام کی فلاح وبہود کا کام کرتے ہیں، عدالتیں مالی شعبے، خارجی وداخلی امور اور سرحدوں کا نظام سب کچھ سیاست دانوں ہی کے ذریعے انجام پاتا ہے، اگر جمہوری ملکوں میں سیاست داں نہ ہوں تو سارا نظام درہم برہم ہوکر رہ جائے ، دوسرے پیشہ وروں کے مقابلے میں سیاست دانوں کی اہمیت کسی بھی طرح کم نہیں ہے، مگر اس پیشے کے ساتھ انصاف کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہے جتنا سمجھ لیا گیا ہے، آج ہمارے شہروں، قصبوںاور دیہی علاقوں میں سیاست داں خود رو پودوںکی طرح اُگے ہوئے ہیں، گلی گلی ، محلہ محلہ ، گھر گھر یہ لوگ اتنی کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں کہ عوا م کم سیاست داں زیادہ نظر آنے لگے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاست کو ایک ایسی تجارت سمجھ لیا گیا ہے جس میں نفع ہی نفع ہے، نقصان کا تصور بھی نہیں ہے، ہر شخص اس میدان میں آنا چاہتا ہے، حالاں کہ اس پیشے سے وابستہ ہونے کے لیے جتنی صلاحیتوں کی ضرورت ہے اگر ان کو معیار بنا یا جائے تو کم از کم ہمارے ملک میں سیاست داں ڈھونڈے نہ ملیں گے۔
سیاست تجارت نہیں ہے خدمت ہے، اور خدمت کے لیے سب سے پہلے ہمدردی ایثار اور اخلاص ضروری ہے، ہمدردی عوام کے ساتھ ہو، ایثار عوام کے لیے ہو اور اخلاص عوام کی خاطر ہو، اگرآپ موجودہ دور کے سیاست دانوں میں یہ معیار تلاش کرنے نکل جائیں تو ناکامی کے علاوہ آپ کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، کیوں کہ اب سیاست کو خدمت کم اور تجارت زیادہ سمجھ لیا گیا ہے، ایک زمانہ تھا جب اس وادئ پُرخار میں وہ لوگ قدم بڑھاتے تھے جنہیں آبلہ پائی کا شوق ہوتا تھا اور وہ لوگ دوسروں کے گھر بچانے کی فکر کرتے تھے جنہیں اپنا گھر پھونکنا آتا تھا، ہمارے اکابر نے خدمت کے جذبے ہی سے سیاست کی ہے اور کبھی اس کے صلے میں کچھ نہیں پایا شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ اور امام الہند مولانا ابو الکلام آزادؒ وغیرہ نام اسی لیے آج بھی احترام اور عقیدت کے ساتھ لئے جاتے ہیں، یہ حضرات سرگرم سیاست میں رہے ، مولانا حفظ الرحمنؒ اور مولانا ابو الکلام آزادؒ تو نے الیکشنی سیاست بھی کی، ممبر پارلیمنٹ اور وزیر بھی بنے، مگر اس شان سے سیاست کی کہ آج لوگ ان کی مثال دینے پرمجبور ہیں، حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے لیے کیا کمی تھی، وہ بڑے سے بڑا عہدہ بھی حاصل کرسکتے تھے، اور اتنی دولت بھی جمع کرسکتے تھے کہ ان کی سات پشتوں کو کافی ہوتی، لیکن ان کی سوانح ’’چراغ محمد‘‘ میں لکھا ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا تو ملکیت میں وہ چند سو روپے تھے جو رنگون سے ان کے کسی شاگرد نے حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب ؒ کے ذریعے بھیجے تھے، اسی رقم سے علاج معالجہ ہوا، اسی ر قم سے تکفین وتدفین کے مراحل طے ہوئے، اور جو کچھ تھوڑی بہت رقم بچی وہ ورثاء کے کام آئی، اگر ہمارے دور کا کوئی سیاست داں ہوتا تو بھاری بینک بیلنس کے علاوہ بنگلے، باغات زمینیں اور فیکٹریاں ضرور چھوڑ کر مرتا ، یہی حال دوسرے بزرگوں کا تھا، ان کے سینوں میں ملت کا درد تھا اس کے لیے کچھ کرنے کی تڑپ تھی، اور وہ جو کچھ کرنا چاہتے تھے یا کرتے تھے ثواب کی نیت سے اور آخرت کے لیے کرتے تھے، اگر اس آئینے میں آج کے دور کے لیڈروں اور سیاست دانوں کی تصویر دیکھتے ہیں تو کراہیت محسوس ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج سیاست دانوں کے لیے عوام کے دلوں میں نہ محبت ہے اور نہ عقیدت ،یہ جو سیاست دانوں کے اردگرد بھیڑ نظر آتی ہے وہ ان کے عشاق یا عقیدت مندوں کی بھیڑ نہیں ہوتی، بلکہ چمچوں کی بھیڑ ہوتی ہے جو خود بھی ان کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور اپنی زندگی سنوارنا چاہتے ہیں، یہ لوگ گلے پھاڑ پھاڑ کر زندہ باد، اور جے ہوکے نعرے اس لیے لگاتے ہیں کہ اس کے صلے میں انعام واکرام پائیں ۔
کرپشن اور سیاست کا ساتھ ایسا ہے جیسے چولی دامن کا ساتھ ،بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو سیاست میں رہ کر بھی کرپشن سے دور ہوں، ورنہ ہمار ے دور کے لیڈر خواہ اپوزیشن کے ہوں یا حکمراں طبقے سے تعلق رکھتے ہوں بغیر کرپشن کے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے، لمبے چوڑے بینک بیلنس جائز ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کھڑے نہیں کئے جاسکتے، اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی سر سے پاؤں تک کرپشن کی دلدل میں ڈوب جائے، اسی طرح جرائم اور سیاست کا بھی گہرا تعلق ہے، عام طور پر وہ شخص بڑا لیڈر سمجھا جاتا ہے جس پر قتل، چوری، ڈکیتی، اغوا وغیرہ کے معاملات میں مقدمات درج ہوں، آج کتنے ہی لیڈر ہیں جو جیل میں بند ہیں اور وہیں رہ کر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، الیکشن میں ایسے امیدوار اچھی خاصی تعداد میں منتخب ہوکر پہنچتے ہیں جن کا شخصی کردار انتہائی گھناؤنا ہوتا ہے، یہ ہمارے قانون کی کم زوری تو ہے ہی عوام کی کمزوری بھی ہے ، سوال یہ ہے کہ آخر عوام صاف ستھرے کردار والے لوگوں کو کیوں منتخب نہیں کرتے، بہت سے لوگ اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ اکثر حلقوں میں ایک امیدوار بھی ایسا نہیں ہوتا جو صاف ستھرا اور اجلا کردار رکھتا ہو سارے ہی امیدوار ایک سے بڑھ کر ایک ہوتے ہیں، مجبوراً عوام ان ہی میں سے کسی ایک کو منتخب کرلیتے ہیں۔
ہمارے صوبوں کا حال کچھ زیادہ ہی برا ہے، ہمارے اطراف میں اگر کوئی جرم واقع ہوتا ہے تو اس میں کسی نہ کسی سیاست داں کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے اور اگر وہ بہ راہ راست ملوث نہیں ہوتا تو اس کے حواری ضرورت ملوث ہوتے ہیں اوراگر وہ بھی ملوث نہ ہوں تو کوئی نہ کوئی لیڈر مجرم کی پشت پناہی کے لیے ضرور سامنے آجاتا ہے، آج یوپی، بہار وغیرہ ریاستوں میں سب سے بڑا لیڈر وہی مانا جاتا ہے جو سب سے بڑا مجرم ہو اور جو نہایت اعلا درجے کا بے ایمان ہو، چند سال سے ہوئے جنوبی ہند کے ایک دانش ور ہمارے شہر میں خطاب کے لیے مدعو تھے، انہوں نے اپنی تقریر میں بڑے پتے کی بات کہی، انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند میں جب کوئی شخص الیکشن میں کھڑا ہوتا ہے تو پہلے اس کی خدمات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ آخر وہ کس بنیاد پر ووٹ مانگ رہا ہے، ملک وقوم کے لیے اس نے کتنی خدمات انجام دی ہیں، کتنے اسکول اور کالج کھولے، کتنے یتیم خانے قائم کئے، کتنے فلاحی ادارے بنائے، جب کہ شمالی ہند میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ جو شخص الیکشن میں کھڑا ہو ا ہے اس نے کتنے قتل کئے، کتنے غریبوں کی زمینوں پر غاصبانہ قبضے کئے، کتنے لوگوں کو اغوا کرکے زر تاوان وصول کیا، اس پر قتل عصمت دری، اغوا اور ڈکیتی وغیرہ کے کتنے مقدمات درج ہیں، جنوبی ہند کے متعلق ان کا دعوی مبنی بر حقیقت ہے یا نہیں ہم نہیں جانتے لیکن شمالی ہند کے متعلق ان کا تجزیہ صد فی صد درست ہے۔
ہماری سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ قائدینِ قوم جو کچھ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں، الیکشن آئے گا تو لمبے چوڑے دعوے ہوں گی، گلی گلی کی خاک چھانی جائے گی، ہاتھ جوڑے جائیں گے، گلے ملے جائیں گے اور علاقے کے مستقبل کی ایک ایسی تصویر دکھائی جائے گی کہ بے چارے سادہ لوح غریب عوام ان کو اپنا مسیحا تصور کر بیٹھیں گے، بھاری اکثریت سے چن کر پارلیمنٹ یا اسمبلی میں بھیج دیں گے لیکن ان منتخب ارکان کی شکل دوبارہ علاقے میں کبھی نظر نہیں آئے گی، جو کچھ علاقے کی ترقی کے لیے انہیں فنڈ ملے گا وہ افسران کے ساتھ مل کر چٹ کرجائیں گے اور غریبوں کے حصے میں سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
آج اچھے اور باصلاحیت لوگ سیاست سے دور اسی لیے بھاگتے ہیں کہ یہ پیشہ بدنام ہوچکا ہے، آج معاشرے میں چوراچکوں، قاتلوں اور ڈاکوؤں کے ساتھ سیاست دانوں کا نام لیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سیاست میں بے ضمیر لوگ آرہے ہیں، خود دار، باعزت اور ایماندار لوگ خاموشی کے ساتھ گھر بیٹھنا زیادہ پسند کرتے ہیں، سیاست دانوں کی بے ضمیری کا عالم یہ ہے کہ وہ معمولی معمولی فائدوں کے لیے وفاداریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں، کتنی بڑی خود غرضی اور کمینگی ہے کہ آپ ایک پارٹی کے چناؤ نشان پر اس کے ورکروں کی مدد سے اور اس کے لیڈروں کے جائز ناجائز تعاون سے کامیاب ہوکر اقتدار کی کرسی تک پہنچ جائیں اور جیسے ہی آپ کو یہ محسوس ہو کہ اب اس پارٹی کے ساتھ رہنے میں فائدہ نہیں ہے بلکہ اس پارٹی کے ساتھ جانے میں زیادہ فائدہ ہے جو اقتدار میں ہے فوراً اپنی وفا داری تبدیل کردیں، اس سے بڑھ کر سیاست میں بے کرداری اور بے ضمیری دوسری نہیں ہوسکتی، اگرآپ کو وفاداری تبدیل کرنی ہی ہے تو عدل وانصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ پہلے اس عہدے سے استعفی دیں جو آپ کو سابقہ پارٹی کی بہ دولت حاصل ہوا تھا اس کے بعد عوام کی عدالت میں جائیں دیکھیں آپ کتنے پانی میں ہیں اور آپ کی حقیقت کیا ہے۔
ملک کے عوام اور دانشوروں کو اس جرم زدہ سیاست کے متعلق غور وفکر کرنا چاہئے، اس کی اصلاح کے طریقے ڈھونڈنے چاہیں، اگر یہ موضوع اسی طرح نظر انداز کیا جاتا رہا اور ملک وقوم کی اجتماعی زندگی سے تعلق رکھنے والے اس اہم شعبے کو اسی طرح نظر انداز کرنے کی روش جاری رہی تو ایک وقت وہ آئے گا کہ پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک صرف وہ لوگ نظر آئیں گے جن کا دامن بھی داغ دار ہوگا اور کردار بھی، جو بے ضمیر بھی ہوں گے اور ضمیر فروش بھی۔
(بصیرت فیچرس)
nadimulwajidi@gmail.com

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker