ہندوستان

باغپت: ۱۳؍مسلمان ہندو بن گئے!

ہندو یووا واہنی کے ریاستی وضلعی صدر کی موجودگی میں شیو مندر کے اندر ہنومان چالیسا اور ہون کے بعدتبدیلی مذہب اور نام کرن
اختر علی کے اہل خانہ نے جے شری رام اور ہر ہر مہادیو کے نعرے لگائے، مقتول بیٹے کو انصاف دلانے کےلیے مذہب تبدیل کیا:اہل خانہ
علماء اور تنظیمیں اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیں: خالد رشید فرنگی محلی
باغپت۔ ۲؍اکتوبر:(بی این ایس؍ایجنسی) آج یوپی کے باغپت ضلع سے ایک ہی مسلم خاندان کے ۱۳؍افراد کے ہندو مذہب اختیار کرنے کی خبر ہے۔ اطلاعات کے مطابق باغپت ضلع میں اپنے نوجوان بیٹے گلشن عرف گلزار کے قتل کے معاملے میں پولس کے رویے اور مسلمانوں کی جانب سے کوئی مدد نہ ملنے سے تنگ ہوکر اخترعلی کے اہل خانہ جس میں اختر علی، نفیسہ، ذاکر، دلشاد، نوشاد، ارشاد، ثانیہ، ارمان، سہانہ، انس، شائستہ، ثنا، شارقہ، زویا، منشو، شہابرا، ناہد، رقیہ، موہنی، اور موہنی کی چھوٹی بہن شامل تھی نے سوموار کو ایس ڈی ایم بڑوت کو ایفی ڈیوٹ دے کر اپنی مرضی سے اسلام مذہب چھوڑ کر ہندو دھرم اپنانے کی اجازت طلب کی تھی۔اس کے بعد آج منگل کو ان ۲۰ افراد میں سے ۱۳؍ افرادنے صبح ہندو ریت ورواج کے مطابق ہون کے بعد اپنا نام کرن اور مذہب تبدیل کرلیا۔ تبدیلی مذہب کا پروگرام سنگھوالی اہیر علاقے کے بدرکھا گائوں میں شیو مندر میں یہ منعقد ہوا۔ اس دوران ہندو یوا واہنی کے ریاستی صدر شوکیندر کھوکھر اور ضلع صدر یوگیندر تومر سمیت کئی لوگ بھی موجود تھے۔ بدرکھا میں ہون اور ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیاگیا اور قانونی طور طریقے سے یہ خاندان ہندو مذہب میں داخل ہوگیا۔ اختر علی کے خاندان نے ہندو مذہب اپنانے کے بعد اپنا نام تک تبدیل کرلیا ہے ۔ اختر علی دھرم سنگھ، دلشاد نے دلیر سنگھ، نوشاد نے نریندر سنگھ، ارشاد کوی، نفیسہ نشا، منشو نے منجو، رقیہ نے روبی، انس نے امر سنگھ ، شائستہ نے سیما،ثنا نے سونیا، شارقہ نے ساریکا، زویا نے جیوتی اور ناہد نے وشال نام رکھ لیا ہے۔ ان لوگوں نے تبدیلی مذہب کے دوران جے شری رام، ہر ہر مہادیو کے مالا جپنے کے بعد وندے ماترم بھی گایا اور اپنے گلے میں بھگوا رومال ڈال کر تصویر بھی کھنچائی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تمام کارروائی سے پولس اور انتظامیہ نے دوری بنائے رکھی۔ واضح رہے کہ بدرکھا گائوں کے رہنے والے اختر علی کا بیٹا کپڑے کی تجارت کرتا تھا۔ ماہ جولائی میں اس کے بیٹے گلشن علی کی لاش ان کی ہی دکان میں کھونٹی سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔ اہل خانہ کا الزام تھا کہ مسلم سماج کے ہی کچھ لوگوں نے اس کا قتل کرکے اس کی لاش لٹکا دی تھی لیکن پولس نے ان کی ایک نہ سنی اور قتل کو خودکشی بتاتی رہی اور خودکشی کا کیس درج کرنے کے بعد جبراً اس کی لاش دفنا دی گئی۔ اس کی شکایت متاثرہ خاندان نے ضلع کے اعلیٰ افسران سے کی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو ان لوگوں نے تبدیلی مذہب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ معاملے کی جانچ کررہے اے ایس پی راجیش کمار شریواستو نے کہاکہ اہل خانہ پولس کو لے کر کسی بھی طرح سے ناراض نہیں ہیں، ا نہوں نے اپنے ہی سماج کے لوگوں سے ناراض ہوکر تبدیلی مذہب کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گلشن عرف گلزار کی موت کی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں صاف نہیں ہوپائی ہے اس لیے اسے لکھنو بھیجا گیا ہے تاکہ ماہرین قانون کی رائے لی جاسکے، پھر اس کے بعد کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ بدرکھا میں ۲۰ لوگوں نے اپنا مذہب خوشی سے تبدیل کیا ہے ان پر کسی کا دبائو نہیں ہے ، کل ہی ان لوگوں نے تبدیلی مذہب کا ایفی ڈیویٹ ایس ڈی ایم کوسونپا تھا۔ باغپت ایس پی شلیس کمار پانڈے نے کہاکہ متاثرہ خاندان کو مقدمے کو لے کر کوئی اعتراض ہے تو دوبارہ مجھے اس تعلق سے درخواست سونپیں اس معاملے کی دوبارہ جانچ کی جائے گی اگر تحقیقات میں الزامات درست پائے جاتے ہیں تو ملزمین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بدرکھا گائوں کے اختر علی اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مذہب اسلام میں رہ کر ہم اپنے بیٹے کو انصاف نہیں دلا سکتے کیو ںکہ مسلم سماج کے دبنگوں نے ہی ہمارے بیٹے کا قتل کیا ہے، ابھی بھی وہ ہمارے اہل خانہ کا جینا دوبھر کر رکھے ہیں ْ وہ لوگ آئے دن جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم لوگ اپنا گائوں چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ کسی بھی مسلمان نے ہمارا ساتھ نہیں دیا اور پولس نے بھی ہم سے تعاون نہیں کیااس لیے ہم لوگوں نے مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔عبدالرحمن عابد کی اطلاع کے مطابق انہوں نے اس تعلق سے علاقے کے متعدد ذمہ داروں سے گفتگو کرکے اس مسئلہ پر توجہ دینے کی گزارش کی تھی اکثر ذمہ داروں نے یہی بتایا کہ مرتد ہونے والے ان تیرہ افراد نے علاقہ کے علماء، جماعت، جمعیۃ برادری ، رشتہ داروں کی بھی بات نہیں مانی، ان کا ایک لڑکا پھانسی لگا کر مرگیا تھا ، اس کا الزام وہ لوگ اس کے پھوپھی زاد پر لگا کر مسلمانوں کو جھوٹے کیس میں ساتھ پھنسانا چاہتے تھے، مسلمانوں کے سمجھانے بجھانے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوااور ۱۳؍ لوگ مرتد ہوگئے۔ وہیں ایک بہو نے مرتد ہونے سے ا نکار کردیا اور وہ اپنے بچوں کو لے کر مائیکہ روانہ ہوگئی۔ واضح رہے کہ مشہور مبلغ داعی اسلام حضرت مولانا محمد کلیم صدیقی صاحب نے مولانا راشد قاسمی صاحب جو اس علاقے میں ایک بڑے مدرسہ کے مہتمم ہیں انکو کئی مرتبہ ان مرتد لوگوں سے ملاقات کے لیے بھیجا ، اسی گاؤں کی مسجد کے امام مولانا عرفان صاحب نے بھی ان لوگوں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن انکے اوپر ہندو تظیموں کا بہت گہرا رنگ چڑھ گیا اور انہوں نے علماء اور مسلم قائدین کی بات نہیں مانی اور آج با قاعدہ ہندو مذہب قبول کرلیا ۔کچھ ایسی بھی اطلاعات مل رہی ہیں کہ گائوں کے مسلمانوں نے پنچایت کرکے سمجھانے بجھانے کی کوشش کی اور تبلیغی جماعت کے افراد بھی ان سے جاکر ملے ہیں اور اسی طرح جمعیۃ علماء ھند ضلع باغپت نے بھی ان کو بہت سمجھانے کی کوشش کی ہے مگر ان لوگوں نے علماء کرام کو بھی گالیاں دیں اور نعوذباللہ مذہب اسلام اور قرآن مجید کی بھی توہین کی۔ انہیں سمجھانے بجھانے کے تمام کوشش ناکام ہوگئیں۔ الزام ہے کہ وہ پیسوں کے لالچ میں آکر اسلام اور مسلمانوں کو رسوا کرررہے ہیں۔ اور یہ ہندو یواواہنی کے لوگوں سے ملے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کی یہ کوشش تقریباً چار ماہ سے جاری تھی۔ اس معاملہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر اور عیدگاہ کے امام مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ باغپت کے علماء اور تنظیموں کو اس معاملہ کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔فرنگی محلی نے کہا کہ باغپت معاملہ میں جیسا کی پتہ چلا ہے، خاندان کے لڑکے کی موت ہوئی اور اسے اس معاملہ میں انصاف نہیں ملا۔ یہ ایک سنجیدہ بات ہے علماء اور تنظیموں کو اس معاملہ کی نزاکت کو سمجھنا چاہئے۔ انہیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے کہ اس خاندان کا ساتھ دیں اور اس کو انصاف دلانے کی کوشش کریں۔فرنگی محلی نے کہا کہ دوسری جانب ضلع انتظامیہ کو بھی یہ دیکھنا چاہئے کہ انصاف کے لئے کوئی تنظیم تبدیلی مذہب کے لئے مجبور تو نہیں کر رہی ہے۔ ان دونوں باتوں کا خیال رکھتے ہوئے اس کیس پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker