شمع فروزاں

اخلاق اور شرم وحیاء کی ملک بدری کا فیصلہ

شمع فروزاں:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
۲۷؍ستمبر ۲۰۱۸ء کو ہندوستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے بہت ہی عجیب وغریب فیصلہ سنایا، یہ فیصلہ جسٹس دیپک مشرا کے زیر صدارت پانچ رکنی بنچ نے باتفاق رائے صادر کیا، اس فیصلہ کا پس منظر یہ ہے کہ ۱۸۶۰ء کے قانون تعزیرات کی دفعہ ۴۹۷؍ کی تحت ایک شخص اپنی بیوی کے رہتے ہوئے دوسری عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرے تو یہ جرم ہے، اسی طرح اگر منکوحہ عورت کسی اور مرد سے تعلق قائم کرے تو یہ بھی جرم ہے، اس صورت میں وہ عورت بھی مجرم سمجھی جاتی تھی اور وہ دوسرا مرد بھی، جس نے اس حرکت کا ارتکاب کیا ہے، اس دفعہ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی کہ یہ شخصی آزادی میں مداخلت ہے؛ چنانچہ معزز جج صاحبان نے درخواست گزار کی بات کو قبول کرتے ہوئے اس عمل کو جرم کے دائرے سے باہر نکال دیا، غیر شادی شدہ بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کو باہمی رضامندی سے جنسی فعل کو انجام دینا تو قانوناََ پہلے ہی سے جرم نہیں ہے، اسی طرح اگر بیوہ یا مطلقہ عورت اپنی رضامندی سے کسی مرد سے تعلق رکھے تو اس میں بھی قانوناََ کوئی حرج نہیں ہے، اس کی تو پہلے سے اجازت ہے، اب شادی شدہ مرد کا کسی غیر عورت سے اس کی رضامندی سے تعلق قائم کرنا بھی جرم نہیں رہا، یہاں تک کہ شادی شدہ عورت کسی غیر مرد سے تعلق استوار کرے تو قانون نے اس کو بھی جائز کر دیا، شوہر کو حق نہیں ہے کہ وہ بیوی کو اس سے منع کرے، اور نہ ایسی بدکردار عورت کے خلاف شوہر پولس میں جا سکتا ہے، شوہر یا بیوی کا یہ عمل دوسرے فریق کے لئے صرف طلاق کا جواز پیدا کر سکتا ہے،اور وہ عدالت سے طلاق کے لئے رجوع کر سکتا ہے۔
اس موقع پر معزز ججوں نے جو ریمارک کئے ہیں، وہ بھی حیرت انگیز ہیں، انہوں نے زنا کی ممانعت کے قانون کو انتہائی غیر معقولیت پسند، تباہ کن، عورتوں کی خود اختیاری، وقار اور رازداری کے مغائر، فرسودہ، ا متیاز پر مبنی ، بے عزت کرنے اور عورتوں کو ان کی جنسی خود اختیاری سے محروم کرنے والا قانون قرار دیا ہے، اگر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ ہدایت بھی دے دی ہوتی کہ شرم وحیاء کے الفاظ ڈکشنریوں سے حذف کر دیے جائیں تو بڑا چھا ہوتا؛ گویا اب زنا دو ہی صورتوں میں جرم ہوگا، ایک یہ کہ جس کے ساتھ زنا کیا جائے، وہ نابالغ ہو، دوسرے: کسی کی مرضی کے بغیر اس کے ساتھ زنا کیا جائے، بقیہ بدکاری کی جو بھی صورتیں ہو سکتی ہیں، وہ سب قانوناََ جواز کے دائرے میں آگئی ہیں، اس طرح ہندوستان، چین، جاپان، برازیل، اسٹریلیا، جرمنی اور فرانس کی صف میں شامل ہو گیا ہے، جن کے یہاں پہلے سے زنا کو قانوناََ جائز قرار دیا جا چکا ہے، یقیناََ اس فیصلہ نے اخلاق اور شرم وحیاء کو ملک بدر کر دیا ہے:
ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے!
زنا کو ہر مذہب اور ہرمہذب معاشرہ میں بُرا سمجھا گیا ہے، ہندو مذہب میں بھی زنا کو قابل سزا جرم مانا گیا ہے، یہاں تک کہ منوسمرتی کے باب: ۸ میں کہا گیا ہے: ’’ کسی پرائی عورت کو تحفہ دینا، اس کے زیورات یا کپڑوں کو چھونا، اس کے ساتھ چارپائی پر بیٹھنا، بدکاروں کے افعال تصور ہوں گے‘‘ یہودیوں کے یہاں جو مشہور ۱۰؍ وصیتیں ہیں، ان میں یہ بھی ہے کہ تو زنا، نہ کر‘‘ ( کتاب استثناء: ۵:۱۷)تورات میں ایک موقع پر بدکاری سے منع کرتے ہوئے کہا گیا ہے :
’’ بیگانہ عورت کے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہے، اور اس کا منہ تیل سے زیادہ چکنا ہے، پر اس کا انجام ناگڈونے کی مانند تلخ اور دو دھاری تلوار کی مانند تیز ہے، اس کے پاؤں موت کی طرف جاتے ہیں، اس کے قدم پاتال تک پہنچتے ہیں، سواسے زندگی کا ہموار راستہ نہیں ملتا، اس کی راہیں بے ٹھکانہ ہیں، پر وہ بے خبر ہے‘‘ (کتاب امثال: ۵-۱-۲۳)
عیسائی مذہب میں انجیل کے صحائف پر یقین کیا جاتاہے، انجیل لوقا میں جگہ جگہ زنا سے منع کیا گیا ہے؛ چنانچہ ایک موقع پر کہا گیا ہے:
’’نو حکموں کو جاننا ہے: زنا نہ کر، خون نہ کر، چوری نہ کر، جھوٹی گواہی نہ دے، اپنے ماں اور باپ کی عزت کر……….‘‘ (انجیل لوقا، باب:۱۸:۱۸-۲)
اسی طرح پولس رسول اپنے خط میں لکھتے ہیں:
’’حرام کاری سے بھاگو، جتنے گناہ آدمی کرتا ہے، وہ بدن سے باہر ہیں؛ مگر حرام کار اپنے بدن کا بھی گناہ گار ہے‘‘ (انجیل لوقا: ۶:۱۸)
شریعت اسلامی میں زنا جس درجہ مذموم فعل ہے، وہ محتاج بیان نہیں ہے؛ کہ صرف زنا سے منع نہیں کیا گیا؛ بلکہ زنا کے قریب پھٹکنے سے بھی منع فرمایا گیا :
’’ ولا تقربوا الزنا إنہ کان فاحشۃ وساء سبیلا(اسراء: ۳۲) زنا سے قریب نہ ہو کہ یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی مسلمان زنا میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کا ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور ایک چھتری کی طرح لٹکا رہتا ہے، جب وہ اس گناہ سے باہر نکلتا ہے تو پھر ایمان لوٹ آتا ہے۔( سنن أبی داؤد باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ، حدیث نمبر: ۴۶۹۵)ایک موقع پر آپ سے دریافت کیا گیا : اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شرک کرنا، پوچھا گیا :اس کے بعد؟ ارشاد ہوا : یہ بات کہ تم اپنی اولاد کو اس لئے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائے گی، سوال کیا گیا: اس کے بعد کون سا گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بات کہ تم اپنی پڑوسی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرو۔( بخاری، حدیث نمبر: ۶۸۹۰)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یوں تو زنا مطلقاََ گناہ ہے؛ لیکن خاص طور پر کسی کی منکوحہ سے زنا کرنا اور بھی بڑا گناہ ہے، شریعت نے تمام جرائم میں سب سے سخت سزا زنا کی رکھی ہے؛ لیکن اس میں بھی فرق کیا گیا ہے، اگرغیر شادی شدہ مرد یا عورت اس جرم کے مرتکب ہوں تو ان کو سوکوڑے لگائے جائیں گے ،جس کا ذکر خود قرآن مجید میں ہے، (نور: ۴) اور اگر شادی شدہ مردوعورت زنا کا مرتکب ہو تو اس کی سزا سنگسار ہے ، یعنی پتھر مارمار کر ہلاک کرنا، (بخاری، حدیث نمبر: ۶۸۱۴) سزا میں کنوارے اور شادی شدہ کا جو فرق رکھا گیا ہے، اس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شادی شدہ کا اس جرم کا مرتکب ہونا زیادہ بڑا گناہ ہے۔
زناکی زانی کوجو سزاملتی ہے وہ تو ہے ہی؛ لیکن بعض جرائم وہ ہیں جو اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سبب ہوتے ہیں، ان میں زنا بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس قوم میں زنا اور سود کی کثرت ہو جائے، وہ قوم گویا اپنے آپ پر اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہی ہے۔ (صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان، ذکر استحقاق القوم عذاب اللہ عند ظہور الزنا والربا فیھم، حدیث نمبر: ۴۴۱۰)بعض روایتوں میں یہ بات آئی ہے کہ جب کسی قوم میں زنا کی کثرت ہو جائے گی تو اس میں ایسی بیماریاں جنم لیں گی، جن کا ماضی میں تصور بھی نہیں تھا، اور ان کے آباء واجداد نے کبھی وہ بیماری دیکھی نہیں تھی، (ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۴۰۱۹) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زنا کی وجہ سے چھ طرح کے نقصانات ہوتے ہیں، ۳؍کا تعلق دنیا سے ہے، اور ۳؍ کا تعلق آخرت سے، دنیا کاتین نقصان یہ ہے: چہرہ کی رونق کا ختم ہو جانا، فقر ومحتاجی کا شکار ہو جانا، اور عمر کا کم ہو جانا، اور آخرت کے تین نقصانات یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کا اس پر ناراض ہونا، حساب وکتاب کا خراب ہونا اور ہمیشہ کے لئے دوز خ میں داخل کیا جانا (الکشاف للزمخشری، تفسیر سورہ نور، آیت نمبر: ۳)
اس لئے اسلام نے سماج کو اس برائی سے محفوظ رکھنے کے لئے پیش بندی کے طور پر مختلف ہدایات دی ہیں، مردوں کو نگاہ پست رکھنے کا حکم دیا گیا، عورتوں کے لئے پردہ کے احکام دیے گئے، لڑکوں اور لڑکیوں کے اختلاط یا اجنبی مردوعورت کی تنہائی کو منع کیا گیا، اس بات سے منع کیا گیا کہ غیر محرم واجنبی مردو عورت ایک دوسرے کے جسم کو ہاتھ لگائیں، یہاں تک کہ بعض فقہاء کے نزیک تو عورت کے جسم کو چھونے سے وضوء واجب ہو جاتا ہے، غیر محرم سے بلا ضرورت گفتگو کی ممانعت کی گئی، عبادت کے مواقع پر بھی عورت اور مرد کو ایک دوسرے سے الگ رکھا گیا، نکاح میں تاخیر کو منع کیا گیا، اور نکاح کے لائق ہونے کے بعد جلد سے جلد شادی کرنے کی ترغیب دی گئی، ان سب کا مقصد لوگوں کو بدکاری سے بچانا اور اس گناہ سے محفوظ رکھنا ہے۔
زنا کی وجہ سے بہت سے سماجی نقصانات بھی پیدا ہوتے ہیں، پہلا نقصان یہ ہے کہ اس کی وجہ سے نکاح کی شرح کم ہو جاتی ہے، جب لوگ دیکھیں گے کہ جنسی خواہش بیوی کا بوجھ اُٹھائے بغیر پوری کی جاسکتی ہے تو رجحان پیدا ہوگا کہ نکاح کرنے کی بجائے کسی مرد یا کسی عورت کے ساتھ یوں ہی زندگی گزار دی جائے؛ تاکہ مقصد بھی حاصل ہو جائے اور زندگی کا بوجھ بھی اُٹھانا نہ پڑے؛ چنانچہ مغربی ملکوں کی یہی صورت حال ہے کہ وہاں نکاح کی شرح کم سے کم ہوتی جار ہی ہے۔
۲۰۱۰ء کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ۴۵؍فیصد، اسپین اور اٹلی میں ۳۶؍ فیصد، فرانس اور بیلجیم میں ۳۹؍ فیصد، جرمنی میں ۴۷؍ فیصداور ہالینڈ میں ۴۵؍ فیصد ہی افراد نکاح کرتے ہیں، بقیہ تعداد بغیر نکاح کے زندگی گزارتی ہے، قریب قریب یہی حال اکثر مغربی ملکوں کا ہے، شرح نکاح میں اس کمی کا نقصان خواتین کو پہنچتا ہے؛ کیوں کہ جن عورتوں کو نکاح کے بغیر رکھا جاتا ہے، جب اس کا حسن ڈھل جاتا ہے اور وہ بوڑھاپے میں قدم رکھتی ہیں تو سماج میں ان کی کوئی قدروقیمت نہیں رہتی ، ان کی حیثیت گھر کے استعمال شدہ کچرے کی ہو جاتی ہے، جس کو ڈسٹ بین میں ڈال دیاجاتا ہے۔
دوسرے : جو لوگ نکاح کے رشتہ میں بندھے ہوئے ہیں ، زنا کی چھوٹ ملنے کی وجہ سے ان کے رشتہ میں بھی استحکام باقی نہیں رہے گا، ایک دوسرے کے بارے میں بے اعتمادی کا شکار ہو جائیں گے، اور طلاق کے واقعات بڑھ جائیں گے، رشتہ نکاح کی کمزوری اور طلاق کے واقعات نہ صرف زوجین کو نقصان پہنچاتے ہیں کہ وہ سکون سے محروم ہوتے ہیں، ذہنی تناؤ کا اور بعض دفعہ دوسری نفسیاتی بیماریوںکا شکار ہو جاتے ہیں؛ بلکہ اس کا اثر بچوں پر بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، وہ یا تو ماں کی ممتا سے محروم ہو جاتے ہیں یا باپ کی شفقت سے، اوراگر باپ کو اپنی اولاد کے بارے میں شک پیدا ہوگیا کہ وہ اس سے نہیں ہے اور اس نے مالی ذمہ داریاں ادا کرنی چھوڑ دیں تو بچوں کی زندگی مزید تباہ ہو جاتی ہے، اور وہ تعلیم وتربیت سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔
تیسرے:کسی عورت کا غیر مرد سے تعلق ایسی تلخی پیدا کر دیتا ہے کہ اکثر نوبت قتل وقتال کی آجاتی ہے، جب عورت دوسرے مرد سے تعلق کا اعتراف بھی کر لے اور شوہر اس کو روک نہ سکے تو یہ تو نہایت ہی تکلیف دہ بات ہوگی؛ مگرصرف غلط فہمی اور بدگمانی پیدا ہو جائے تو اس سے بھی قتل اور بعض دفعہ خود کشی کے واقعات پیش آجاتے ہیں، دن رات اخبارات میں ایسی خبریں آتی رہتی ہیں۔
چوتھے: اس سے رشتہ کا تقدس ختم ہو جائے گا، انسان چاہے خود کسی گناہ میں مبتلا ہو؛ لیکن وہ اپنے والدین، بزرگوں اور اساتذہ وغیرہ کے بارے میں زنا جیسے گناہ کا تصور بھی نہیں کر سکتا، اور اس پاکیزہ تصور کی وجہ سے اپنے بڑوں کا بے حد احترام کرتا ہے، جب اسے مثلاََ اپنے ماں باپ کے بارے میںمعلوم ہو کہ وہ دوسرے مرد یا دوسری عورت سے ناجائز تعلق رکھتے ہیں تو کیا اس کے دل میں ان کے لئے محبت واحترام کے جذبات باقی رہیں گے،اور کیا اولاد کے سامنے اس تصویر کے آجانے کے بعد والدین اپنے بچوں کی تربیت کر پائیں گے؟
پانچویں: چاہے کچھ بھی کہا جائے؛ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ زنا کو ہر مہذب سماج میں عار کی بات سمجھا جاتا ہے، آدمی اپنے ماں باپ کے نکاح کا ذکر کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتا؛ لیکن اگر خدانخواستہ ان کے زنا میں مبتلا ہونے کی نوبت آجائے تو کوئی شریف انسان یہ کہنے کا تصور نہیں کر سکتا کہ میری ماں یا بہن یا بیٹی نے یا میرے باپ دادایا نانا نے فلاں کے ساتھ زنا کیا ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ چاہے انسان نفسانی خواہشات کے غلبہ میں کچھ کہہ جائے یا کر بیٹھے ؛ لیکن اس کی فطرت اس فعل کو شرم وعار کا باعث سمجھتی ہے، اور جب یہ شرم وعار کسی کے ساتھ لگ جاتی ہے تو اس کا اثر پشتہا پشت تک باقی رہتا ہے، بالخصوص مشرقی ممالک میں نہ صرف مردوعورت اس جرم کی وجہ سے حقارت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں؛ بلکہ ان کی اولاد بھی اس ناکردہ گناہ کی وجہ سے ذلت ورسوائی سے دو چار رہتی ہے۔
یہ تو زنا کے سماجی نقصانات ہیں؛ لیکن طبی اعتبار سے بھی انسانی سماج کے لئے یہ بہت ہی تباہ کن ہے؛ کیوں کہ یہ قانون فطرت سے بغاوت ہے، اور جب کوئی فطرت سے بغاوت کرتا ہے تو ضرور اس کی سزا پاتا ہے، بیشتر خبیث امراض ہم جنسی اور زانیہ عورت سے تعلق کی بنا پر پیدا ہوتے اور پھیلتے ہیں، دنیا کی سب سے خطرناک بیماری ایڈز ان ہی دو وجہوں سے پیدا ہوتی اور پروان چڑھتی ہے، جس میں انسان کی قوت مدافعت پوری طرح ختم ہو جاتی ہے، اور وہ ایڑی رگڑ رگڑ کر اپنی جان دیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں انسان کی فطرت دوسرے جانوروں سے مختلف بنائی ہے، یہی وجہ ہے کہ جانوروں میں اگر ایک مادہ سے کئی نروں کا تعلق ہو تو بیماری پیدا نہیں ہوتی؛ لیکن اگریہی بات انسان کے درمیان ہو اور ایک عورت کا تعلق کئی مردوں سے ہو تو یہ ایڈز کا سبب بن جاتا ہے، تو اس لئے نہ صرف مذہبی صحائف میں اس گندے عمل سے منع کیا گیا ہے؛ بلکہ قانون فطرت بھی یہی کہتا ہے؛ مگر افسوس کہ جو لوگ علم ودانش کی آخری چوٹیوں پر فائز ہیں، وہ قانون قدرت کی اس بلند آواز کو بھی سننے سے قاصر ہیں، کافیا أسفاہ ویاعجباہ ۔
(بصیرت فیچرس)
٭ ٭ ٭

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker