ارباب ندوہ کے نام ایک پیغام

ارباب ندوہ کے نام ایک پیغام

مکرمی!
پچھلے تین چار دن سے مولانا سلمان حسینی ندوی صاحب کے بیان پرخوب ہنگامہ ہوا، الزام تراشیاں ہوئیں، ایک دوسرے پر خوب کیچڑ اچھالے گئے، ندوہ بنام دیوبند ہوا، خیر کچھ نے اعتدال کی راہ پسند کی کچھ نے غلو سے کام لیا، بہر حال جو بھی ہوا بہت افسوسناک تھا، خیر اُمت سے ملقب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث طالبان علوم نبوت کا یہ انداز اور طرز خطاب نے آج یہ سوچنے کا موقع دے دیا کہ اُمت مخلصوں سے خالی ہوتی جا رہی ہے، آج وہ دور ہے کہ بریلوی دیوبندی ندوی سلفی ان سب سے آگے ہمیں یہ ثابت کرنا مشکل ہورہاہے کہ ہم مسلمان بھی ہیں یاں نہیں، نئی نسل الحاد کی اندھی میں دین سے بیزار ہورہی ہے، اور ہم ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ کافر کافر کھیل رہے ہیں، جو ہوا اب اس سے آگے آتے ہیں، اور آئے یہ عہد کرتے ہیں کہ اب اس مسلئہ پر کسی قسم کی کوئی بحث نہیں ہوگی، اُمت کو جوڑنے کا کام کرنا ہے، جس بنا پر ندوۃ العلماء کی بنیاد پڑی تھی اس بنیاد کو مضبوط کرنا ہے، راہ اعتدال اختیار کرتے ہوئے شعارنا الوحید اِلی اسلام من جدید کے نعرے کے ساتھ اُمت مسلمہ تک حق کا پیغام پہنچانا ہے۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
حسن مدنی ندوی