یوگی کے جنگل راج میں دو انکائونٹروں اوردو رویوں کی المناک داستاں

یوگی کے جنگل راج میں دو انکائونٹروں اوردو رویوں کی المناک داستاں

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹربصیرت آن لائن)
پولس کی یہ گولی اگرتیواری کی جگہ انصاری کو لگتی؟
یوں تویہ لکھنؤکے‘اُسی لکھنؤکے جہاں نوجوان ایکزی کٹیووویک تیواری کوپولس نے گولی ماری تھی‘ایک سینئر صحافی سیدوقار رضوی کاسوال ہےپرحقیقتاًیہ اس ملک کے تمام ہی انصاف پسندوں اورسیکولر شہریوں کاسوال ہے…..بالخصوص مسلمانوں کا……ویسے یہ سوال اپنے آپ میں جواب بھی ہے۔پولس کی گولی اگرتیواری کی جگہ کسی انصاری….یعنی مسلمان…..کو لگتی تووہ مسلمان‘چاہے جس قدر بے قصورہوتا دہشت گردہی قرا ردیا جاتااورلشکرطیبہ،جیش محمد،القاعدہ،داعش یاانڈین مجاہدین سے اس کا ’رشتہ‘تلاش کرلیا جاتا۔اورجس پولس والے نے اسے گولی ماری ہوتی وہ بہادری کے انعام کا حقدار ٹہرتا‘یقیناًاسے انعام میں نقد ی بھی دی جاتی اوراس کاپرموشن بھی ہوجاتا۔باالفاظ دیگریہ کہ کسی ایک انصاری کومارنے کے بعدخاکی وردی والے کی چاندی ہی چاندی ہوجاتی۔یہ کوئی’کہانی‘نہیں نہ ’قیاس آرائی ‘ہے بلکہ یہ وہ سچ ہے جسے اس ملک کی اقلیتیں بالخصوص مسلم اقلیت عرصہ سے دیکھتی چلی آرہی ہے۔پرموشن کے لیے فرضی انکاؤنٹر کی داستانیں اس ملک کے چپّے چپّے پربکھری ہوئی ہیں۔اورصرف ایسا ہی نہیں ہے کہ فرضی انکاؤنٹر خالی پرموشن کے لیے ہی کیے جاتے ہیں‘نہیں ان کاایک مقصد’سیاسی فائدہ‘اٹھانایا’سیاسی طاقت‘بڑھانا بھی ہوتا ہے۔گجرات میں عشرت جہاں کاانکاؤنٹر اس کی بے حد گھناؤنی مثال ہے۔عشرت جہاں کے فرضی انکاؤنٹرنے جہاں خاکی وردی پوشوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کو شہرت اوردولت دی وہیں ان کے عہدوں میں بھی ترقی ہوئی۔اورگجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ ‘آج کے وزیر اعظم نریندرمودی ’ہندوہردیۂ سمراٹ‘قرار پائے کیونکہ’داستان‘یہی سنائی گئی تھی کہ عشرت جہاں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مودی کے قتل کے لیے احمدآباد آئی تھی اورقتل کی یہ سازش2002کے مسلم کش گجرات فسادات کابدلہ لینے کے رچی گئی تھی۔
اس ملک میں صرف ایک عشرت جہاں یا صرف ایک سہراب الدین ہی نہیں کئی عشرت جہاں اورکئی سہراب الدین ہیں۔جاوید پھاوڑاسے لے کر خواجہ یونس تک،سمیر پٹھان سے لے کر صادق جمال تک پولس کی بربریت اوربہیمت کے ثبوت میں درجنوں معاملات پیش کیے جاسکتے ہیں‘لیکن آج ماضی کی بجائے لکھنؤکے اس معاملے کی بات کریں گے جس کے تعلق سے اوپر سوال دریافت کیاگیاہے۔وویک تیواری انکاؤنٹر….اوراس کی روشنی میں علی گڑھ کے اس’فلمی انکاؤنٹر‘کاتجزیہ کریں گے جس میں دومسلم نوجوان مستقیم اورنوشاد کو بے رحمی سے پولس نے مارگرایاتھا۔اسے’فلمی انکاؤنٹر‘اس لیے کہا جارہاہے کہ پولس نے باقاعدہ میڈیا…..زرخرید میڈیا…..کو کیمروں کے ساتھ انکاؤنٹر کی عکس بندی کے لیے دعوت دے کر بلایاتھا۔مستقیم اورنوشاد کو گولی مارنے کاعمل باقاعدہ کیمرے میں قیدکیاگیاتھا۔یہ کہاجاسکتا ہے کہ یہ ہندوستان کاکیمرے پر پہلا سرکاری انکاؤنٹر تھا۔
مستقیم اورنوشاد کے ذکر سے پہلے وویک تیواری کاذکر ضروری ہے کیونکہ تیواری کے پولس انکاؤنٹر کے بعدیوپی کی یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکارکچھ دیرکے لیے دہل کر رہ گئی تھی۔عام افراد اوراپوزیشن نے توہنگامہ کیاہی تھا ‘خودبی جے پی کے اندرسے یوپی حکومت اوروزیر اعلیٰ یوگی پر سخت تنقیدیں اورنکتہ چینیاں شرو ع ہو گئی تھیں،تیواری کے اہلِ خانہ نے بھی بندوقیں تان لی تھیں اورمعاملہ کچھ اس حد تک سرکار کے ہاتھ سے نکلتا نظر آرہا تھا کہ یوگی کو مجبوراًتیواری کے گھر جانا پڑا‘کارروائی کی یقین دہانی کرانی پڑی‘25لاکھ روپئے معاوضے کا اورتیواری کی بیوہ کے لیے ملازمت اوربچی کے لیے تعلیمی اخراجات کااعلان کرنا پڑا ۔اس طرح کے اعلانات مستقیم اورنوشاد کے لیے نہیں کیے گئے……اورایسے اعلانا ت کیے بھی نہیں جائیں گے چاہے کوئی انکوائری دونوں کو بے قصورہی کیوں نہ ثابت کردے کیونکہ تیواری کی طرح نہ ہی تومستقیم برہمن تھا اورنہ ہی نوشاد …….اورنہ ہی تیواری کے قتل پر بی جے پی کی سرکار پر بی جے پی کے ہی سیاست دانوں کی طرح نکتہ چینی کرنے والوں جیسا کوئی غیربھاجپائی سیاست داں مستقیم اورنوشاد کے لیے یوگی اوربی جے پی پر تنقید اورنکتہ چینی کرکے ان سے دشمنی مول لینے والاہی ہے۔کانگریس اورسماج وادی پارٹی کے کچھ لیڈرو ںنے یوگی سرکار پر اس معاملے میں انگلیاں ضرور اٹھائی ہیںپرصرف سیاسی واہ واہی بٹورنے کے لیے ،مخلصانہ طور پر نوشاد اورمستقیم کو انصاف دلانے کے لیے کوئی سیاست داں سامنے نہیں آیاہے۔وہ مسلم سیاستداں بھی نہیں جو اس ملک میں مسلمانوں پر ظلم وستم کی کہانیاں دوہرا دوہرا کر ووٹ بٹورتے،ایوانوں میں جاتے اوردولت میں کھیلتے ہیں۔
اعلیٰ ذات کے برہمن طبقے نے شدید غم وغصے کااظہار کیا،ویسے بھی برہمنوں کی زبان پر یہ شکایت تھی کہ وزیر اعلیٰ یوگی ٹھاکر برادری کو سیاسی،سماجی اورتعلیمی ومعاشی ہر سطح پر بڑھاوا دے رہے ہیںکیونکہ وہ خودٹھاکر ہیں۔یوپی میں اعلیٰ ذا ت کاہندویوں بھی یوگی سرکار سے ناراض ہے۔ناراضگی کی ایک بڑی وجہ ایس سی؍ایس ٹی(مظالم کی روک تھام)ایکٹ کی سخت ترین شقوںپردوبارہ عملدر آمد ہے۔سپریم کورٹ نے اس بنیادپر مذکور ہ ایکٹ کو’نرم‘کردیاتھا کہ اس کا غلط استعمال کیا جارہاہے پر دلتوں نے اس کے خلاف شدید ترین احتجاجات کیے تھے اورمذکورہ ایکٹ کی سخت ترین شقوں کو پھر سے نافذ العمل کروایاتھا۔لیکن اعلیٰ ذات کے ہندوؤ ں بالخصو ص برہمنوں کو یہ بات پسند نہیں آئی اوروہ کھل کر یوگی سرکار کی مخالفت میں اترآئے…..اوروویک تیواری کے’انکاؤنٹر‘نے جلتی پر تیل کاکام کیا۔وزیراعلیٰ یوگی نے بی جے پی کے برہمن لیڈروں کو تیواری کے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے بھیجا،ڈپٹی وزیر اعلیٰ دنیش شرما اوروزیرصحت برجیش پاٹھک نے جا کر تیواری کے گھر والوں کو’رام کیا‘۔اوپر سےبھی یعنی بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے بھی یوگی پردباؤتھا کہ یہ معاملہ جلد سلجھایا جائے تاکہ برہمن ووٹر ہاتھ سے نہ جانے پائے۔دہلی کی بی جے پی کی اعلیٰ قیادت پریشانی میں پڑگئی تھی۔بی جے پی کے اندرسے بھی یوگی سرکار کے خلاف آوازیں اٹھنے لگتی تھیں،کھلے عام یوگی پر نکتہ چینیاں شروع ہوگئی تھیں۔بی جے پی کے سینئر برہمن لیڈر کلراج مشرا نے،جو سابق مرکزی وزیر ہیں،تیواری کے ’انکاؤنٹر‘کو ریاستی سرکار کے ماتھے پر دھبّہ قرار دیا‘انہوں نے پولس پر جم کر تنقیدکی ،کہا کہ تیواری کے انکاؤنٹر کی واردات پولس کی مجرمانہ ذہنیت کو اجاگرکرتی ہے اوراسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔کلراج مشرا نے تقریباً واضح لفظوں میں یہ تک کہہ دیاکہ پولس کو ریاست کی سیاسی قیادت کاپروانہ حاصل ہے کہ وہ بے دھڑک ہو کر انکاؤنٹر کرے۔کلراج مشرا کی آواز میں بی جے پی کے مزیدکئی اعلیٰ ذات کے قانون سازوں نے آوازملائی۔یہ وہ آوازتھی جس نے لکھنؤسے لے کر دہلی تک کو دہلادیاتھااوریوگی کو تیواری کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے لیے جانے پر مجبورہوناپڑاتھا۔
اگرایک جانب تیواری کے ’انکاؤنٹر‘نے یوگی اوران کی سرکار کو اعلیٰ ذات کے ہندوؤں اوربرہمن بھاجپائیوں کے آگے گٹھنے ٹیکنے پرمجبورکردیااورخوب ہنگامہ مچاتودوسری جانب مستقیم(۲۲سالہ)اورنوشاد(۱۷سالہ)کا’انکاؤنٹر‘ہے،جسے پولس اچانک کیاگیا’انکاؤنٹر‘قرار دے رہی ہے۔اورکہہ رہی ہے کہ پولس کوگولی چلانے پر مجبورہوناپڑاتھا کیونکہ مستقیم اورنوشاد کی جانب سے پولس پر فائرنگ کی گئی تھی۔سارا معاملہ ۲۰؍ستمبر کاہے۔مگربات شروع۱۶؍ستمبرسے ہوتی ہے جب پولس مستقیم اورنوشاد کے گھر پہنچی تھی اوران دونوں سمیت مستقیم کے والد اورنوشاد کے بھائی سلمان کو بھی مارتے پیٹتے ہوئے ہر دواگنج پولس اسٹیشن لے گئی تھی۔پولس نےنوشاد اورمستقیم پر یہ الزام عائد کیاتھا کہ صفدرپورگاؤں میں تین افراد کے قتل میں،جن میں رام داس نامی ایک سادھو بھی شامل تھا،ان کاہاتھ ہے۔یہ غریب لوگ ہیں،مستقیم کپڑے کی ایک دوکان میں ملازم تھا اورنوشاد اورسلمان ایک کپڑاساز حاجی عمران کے یہاں کام کرتے تھے۔نفیس نامی ایک بھائی ہے جو ذہنی طور پر معذورہے۔گرفتاری کے ایک دن بعدپولس واپس آئی اورگھر والوں کو بتایا کہ مستقیم اورنوشاد پولس حراست سے’ فرار‘ہو گئے ہیں۔اورپھر ۲۰؍ستمبر کو پولس والوں نے گھر والوں کو یہ اطلاع دی کہ دونوں زخمی ہیں اورعلی گڑھ کے ملکھان سنگھ اسپتال میں بھرتی ہیں۔پولس اس دن بڑی رحم دل بن گئی تھی کہ اس نے نوشاد کی والدہ شبانہ کو اسپتال تک جانے کے لیے سوروپئے دئیے تھے۔جب شبانہ اورمستقیم کی اہلیہ حنااسپتال پہنچیں توانہیں اپنے پیاروں کی صرف لاشیں ہی ملیں،ان کے جسم پر زخموں کے نشانات تھے،چہرہ اورسرزخموں سے چورتھا‘جبڑے ٹوٹے ہوئے تھے اورخون بہہ کر ان کے جسموں پر جم گیاتھا۔دونوں عورتوں کے بیانات کے مطابق‘پولس نے ساداکاغذات پر ان کے انگوٹھوں کے نشانات لیے تھے تاکہ’لاشیں حوالے کی جاسکیں۔‘
’نیوزکلک‘کی ایک رپورٹ کے مطابق لاشیں نماز جنازہ کے بغیردفنادی گئیں اورپولس نے اہلِ خانہ کو ہنوز نہ ہی توایف آئی آرکی کاپیاں ہی دی ہیں اورنہ ہی پوسٹ مارٹم کی رپورٹیں ۔’میڈیا‘وہی ’میڈیا‘جس نے تیواری کے انکاؤنٹر پر سوالوں کے ڈھیرلگادئیے ہیں اورتیواری کی ماں،بیوہ ،بھائی اوراہل خانہ کے بیانات دکھاتے جو تھکتا نہیں ہے مستقیم اورنوشاد کے’انکاؤنٹر‘پرخاموش تھا۔نہ ہی تو شبانہ اورحنا کی بپتالوگوں کے سامنے لائی گئی‘نہ ہی غمزدہ دادی رفیقہ کے رنج والم کو عیاں کیاگیا اورنہ ہی لوگوں کو یہ بتایاگیاکہ مستقیم اورنوشاد توبس معمولی قسم کی ملازمت کرکے اپنا اوراپنے گھر کاپیٹ بھرتےتھے،یہ صبح کام پر جاتے اورشام تک واپس آجاتے تھے اوریہ کہ ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈتھا ہی نہیں جیسا کہ پولس بتاتی ہے۔مستقیم کے والد کی گرفتاری کی خبربھی کسی میڈیا نے نہیں دی نہ ہی یہ بتایا کہ نوشاد کے بھائی سلمان کو بھی پولس نے نشانہ بنایاہے۔اورمعذورنفیس کو بھی۔ یہ دونوں کے تادمِ تحریر پولس حراست میں ہی ہیں!مستقیم کے والد بھی اب تک غائب ہیں۔’دی وائر اردو‘کے ایڈیٹرمہتاب عالم کاکہناہے’’جب علی گڑھ جیسے’انکاؤنٹروں‘ پرسوالات نہیں اٹھائے جاتے تب وویک تیواری جیسے بے قصوروں کو قتل کرناآسان ہو جاتاہے۔‘‘اوریہی ہوا کہ ’میڈیا ‘اوراس ملک کے دانشوروں اورسیاست دانوں نے بشمول مسلم سیاست دانوں اورمسلم تنظیموں وجماعتوں نے مستقیم اورنوشاد کے’انکاؤنٹر‘پر سوالات نہیں اٹھائے،یااگراٹھائےتوبس’دکھاوے‘کے،اسی لیے پولس بے لگام ہوگئی۔
’انکاؤنٹر‘کاعمل اخباری نمائندوں کے کیمروں میں قیدہے۔جوویڈیوسامنے آئے ہیں ان سے اس’انکاؤنٹر‘کے حقیقی ہونے پر ڈھیروں سوالات کھڑے ہوجاتے ہیں۔مستقیم اورنوشاد کے اہلِ خانہ پر پولس کاشدید دباؤہے،خاکی وردی پوش گھر کےباہر تعینات ہیں اوران سے کسی کی ملاقات تقریباً ناممکن ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور’فورم اگینسٹ ہیٹ‘کے چند جیالوں نے اورجے این یوکے خالدعمر نے دونوں مہلوکین کے اہلِ خانہ کو پریس کے سامنے پیش کرنے کی ہمت ضرورکی ہے پرپولس الٹا ان پر ہی معاملہ درج کرنے پر اتاروہے۔جب ’فورم اگینسٹ ہیٹ‘ کے ذمے داران نے پولس سے مل کرسارے معاملے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی توپولس والوں نے ان پرطنزکسے،کڑوی کسیلی سنائیں اوربجرنگ دل کے کارکنان کوطلب کرلیاکہ آئیں اوران ’انسانیت پسندوں‘سے نمٹیں۔یہ سارا معاملہ سادھورام داس کےقتل سےجڑا ہوا ہے لیکن خبرہے کہ سادھوکے گھر والوں نے قتل میں‘پولس کے ہاتھوں مارے گئے مستقیم اورنوشاد کے ہاتھ ہونے سے انکارکیاہے۔قتل کے اس معاملے میں علی گڑھ میں ایک اورشخص ڈاکٹریاسین کو بھی گرفتارکیاگیاہے۔اب یہ سوال اٹھ رہاہے کہ کس نے اورکیوں سادھو کاقتل کیا اورکیسے مستقیم،نوشاد اورڈاکٹریاسین کانام اس قتل سے جڑا؟
پولس کے اس دعوے کی حقیقت بھی سامنے نہیں آئی ہے کہ مستقیم اورنوشاد چوری کی موٹر سائیکل پربھاگ رہے تھے….!یہ سوال سب سے اہم ہے کہ کیا واقعی دونوں’فرار ‘ہوئے تھے اورپولس ان کے پیچھے پڑی تھی اورجوابی فائرنگ میں دونوں مارے گئے؟؟اگریہ سچ ہے توپولس یہ کیوں چھپا رہی ہے کہ دونوں کی گرفتاری حقیقتاً ۱۶؍ستمبر کو ہوئی تھی؟
لکھنؤکی حقوقِ انسانی کی تنظیم’رہائی منچ‘نے اس ’انکاؤنٹر‘ پر متعددسوالات کھڑے کیے ہیں،اس منچ کے صد رایڈوکیٹ محمدشعیب کاکہناہے’’وویک تیواری کاقتل ان پولس والوں کی پیٹھ تھپتھپانے کانتیجہ ہے جو لوگوں کوانکاؤنٹر کےنام پر مارتے ہیں،ایک معصوم بچی کے پِتا کے قتل کے اصل قصوروارتویوگی اورڈی جی پی ہیں جنہوں نے’ٹھوک دو‘اور’آپریشن کلین‘شروع کررکھا ہے۔جس طرح تیواری کے قتل کی عینی شاہدثناخان کو’گھر میں نظربند‘رکھاگیا اسی طرح علی گڑھ میں مارے گئے دونوں مسلمانوں کے اہل خانہ کو بھی نظربندرکھا جا رہاہے۔‘‘کنہیاکمارکاکہنا ہے کہ’’جب اقتدار مجرموں کے ہاتھوں میں پہنچ جاتا ہےتوتشدد کی نفرت سے کوئی بھی گھر محفوظ نہیں رہتا۔‘‘ان دنوں یوپی میں یہی ہو رہاہے،ذات اورپات کی بنیادپر یوگی سرکار کی پولس لوگوں کو ڈھیر کر رہی ہے۔مسلمان،یادواوردلت ہونایابی جے پی اورسنگھ کا مخالف ہونا گویا یوگی کی پولس کے لیے قتل کالائسنس ہے۔لیکن یہ چھوٹ انہیں بھی زد میں لے رہی ہے جنہوں نے یوگی کو ووٹ دئیے ہیں جیسے کہ وویک تیواری اوراس کے اہلِ خانہ ۔یہ اوربات ہے کہ تیواری جیسوں کی جان جانے کے بعدیوگی جیسوں کو ہاتھ جوڑناپڑتا ہے،پرمستقیم اورنوشاد جیسے چاہے جتنے لوگ ماریں جائیں،چاہے وہ جس قدر بے قصورکیوں نہ ہوں،وہ مجرم ہی قرار پاتے ہیں۔نہ ان کے اہلِ خانہ کو معاوضہ ملتا ہے اورنہ ہی ہراساں کیے جانے سے چھٹکارا !یہ ہے یوپی کے دوپولس انکاؤنٹروں کی داستان،ایک جانب تیواری کاانکاؤنٹر ہے اوردوسری جانب مستقیم اورنوشادکا،تیواری قتل کے بعدبھی یوگی پر حاوی ہے کہ وہ برہمن ہے اورمستقیم اورنوشاد قتل کے بعدبس لاشیں ہیں،وہ بھی مجرموں کی،کیونکہ ان کاسب سے بڑا قصوریوگی سرکارمیں مسلمان ہونا ہے۔
(بصیرت فیچرس)