وہ نغمے چھیڑ جن سے باغ میں اپنے بہار آئے!

وہ نغمے چھیڑ جن سے باغ میں اپنے بہار آئے!
خبر در خبر
غلام مصطفی عدیل قاسمی
ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن
جب کوئی ایسا قافلہ راہ سے بھٹک جاتا ہے جس کی منزل پر پہنچنے کی خواہش ہی نہ ہو اور جسے  یونہی گھنے جنگلات اور وحشت ناک تاریکیوں میں بھٹکتے رہنے میں ہی مزہ آنے لگے تو اس کا آخری انجام یہی ہوتا ہے کہ اسے وحشی درندے اچک لیتے ہیں اور اس کو اپنا نوالہ بنا لیتے ہیں، آج کل امت مسلمہ کی ناگفتہ بہ اور تشویشناک حالت دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ قوم مسلم کی ریڑھ کی ہڈی مانے جانے والے نوجوان فضلاء اپنے مقاصد سے ہٹ گئے ہیں، وہ کتابوں میں پڑھے اسباق بھول چکے ہیں، انہیں یہ تک پتہ نہیں کہ ہم کس مقصد کے تحت بھیجے گئے ہیں، ہمارے سروں پر پوری ملت کی رہبری کا بوجھ بھی ڈالا گیا ہے، امت مسلمہ کے نوجوانان کی سوشل میڈیائی ایکٹیویٹی اور نقل و حرکت سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں قوم کی رہبری کرنے کے لیے نہیں؛ بلکہ ملت کی بچی کچی پونجی کو ختم کرنے کیلئے سنیچا اور سنوارا گیا ہے، سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ سات آٹھ سال دینی اداروں میں رہ کر انھوں نے کیا پڑھا اور کیا سیکھا۔۔! نہ جذبات پر کنٹرول ہے اور نہ ہی سنجیدہ و تعمیری گفتگو کرنے کے روادار نظر آتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ پڑھا لکھا طبقہ بھی اپنی راہ سے بھٹک کر ازلی دشمن شیطان لعین کے ہتھے چڑھ گیا ہے، کب کس سے کیسی گفتگو کی جائے ایک ذرہ بھی اس کا نمونہ نظر نہیں آتا! جہاں صلاحیتیں صرف کرنی چاہیئے ہوتی ہیں وہاں تو بالکل بونے نظر آتے ہیں اور جس مقام و قضیہ سے دوری اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں ساری انرجی داؤ پر لگاتے نظر آتے ہیں، آج بھارت میں مسلمانوں کے لیے کس طرح کے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں سب جانتے ہیں، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہماری صلاحیتیں ملک کے حالات کو قابو کرنے پر صرف ہوتیں، مسلم کمیونٹی کے مسائل کے حل کی راہیں تلاش کی جاتیں، مسلم بچیوں کو فتنہ ارتداد کی دلدل سے بچانے کی فکر کی جاتی، کہ آئے دن ہماری بچیاں ناسمجھی میں اغیار کے لالی پاپ کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں، اسلامی تعلیمات اور گھروں میں اسلامی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں مسلم لڑکیاں اور بہت سے مسلمان گھرانے بڑی تعداد میں اسلام کی عظیم دولت سے ہاتھ دھو رہے ہیں، حق تو یہ تھا کہ ہمیں ان کی فکر کرنی چاہیئے تھی، ہم انہیں اسلامی تعلیمات اور ملکی حالات سے آگاہ کرتے، اپنی تقریر و تحریر کے ذریعہ ان کی مکمل رہنمائی کرتے؛ لیکن بھلا ہو اس سوشل میڈیا کے بخار کا کہ جو آئے دن ہمیں ایک نئے گڈے اور گڑیہ کے کھیل میں لگا دیتی ہے، اور دانشوری کے زعم میں ہماری قوم کے افراد اپنا سارا وقت سوشل میڈیا کی نذر کر دیتے ہیں، ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم دشمن  کی گود میں بیٹھ کر اپنوں پر ہی طعن و تشنیع کا خنجر چلا رہے ہوتے ہیں اور اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں، کیا ہمیں اب بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارا سب کچھ لٹ چکا ہے  ہمارا سب کچھ برباد ہو چکا ہے؟ ہمارا آخری اور قیمتی سرمایہ یعنی ایمان کی دولت داؤ پر لگی ہوئی ہے؟؟ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے  کہ باطل ہم پر چوطرفہ یلغار کر رہا ہے؛ تاکہ ہم سے ہمارا دین و ایمان بھی چھین لے، کیونکہ باطل کو ہمارے وجود سے نہیں؛ بلکہ درحقیقت ہمارے دین و ایمان سے چڑھ اور تکلیف ہے، انکی آخری کوشش یہی ہے کہ شجر اسلام کی جڑیں کھوکھلی کر دی جائیں، تاکہ اسلام کی رٹ لگانے والوں کے دلوں سے اسلام کی اہمیت ختم کر دی جائے اور ان کی نسلوں سے اسلام کی حقانیت کو سلب کر لیا جائے، اسلام مخالف طاقتیں مسلسل اس کام میں لگی ہوئی ہیں؛ لیکن ہم سمجھ کر بھی نا سمجھی کرنے پر اٹل ہیں، ہماری غفلت و بے توجہی یونہی برقرار رہی تو بعید نہیں کہ آج ہم مساجد سے ہاتھ دھو رہے ہیں کل کو ہمیں اذان و نماز سے بھی روک دیا جائے ، یاد رکھیں! ہم میں اب کوئی ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ عنھما آسمان سے نہیں اتریں گے، کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں آنے والے ہیں؛ بلکہ خود ہمیں ان مقدس شخصیات کے روشن کئے گئے چراغوں سے روشنی لیکر اپنے آس پاس کی تاریکیوں کو ختم کرنا ہوگا، عوام الناس کو اسلام کی حقانیت سے روشناس کرانا ہوگا، اور دشمنان اسلام کی ہر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنی ہوگی، تاکہ قوم مسلم کو پیش آمدہ مسائل سے نمٹنے کے طریقے بتلائے جا سکیں، تبھی جا کر ہم بامقصد زندگی گزارنے والے کہلائے جانے کے مستحق ہونگے، حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے وہ نغمے چھیڑیں کہ جن سے گلشن اسلام میں بہار آ جائے۔
اور ہم کاروان مسلم کے میر بن کر ہر گلی کوچے و شہر و دیہات میں اسلام کی شمعیں اس طرح جلائیں کہ جو لوگ ضلالت و گمراہی کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں وہ آپ کے روشن کئے گئے چراغ سے روشنی حاصل کر کے اپنی عقبی سنوار سکیں، اللہ پاک ہم سب کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلائے اور قوم مسلم کی درست رہنمائی کے لیے قبول فرمائے۔ آمین۔
موبائل نمبر  9059101653