مضامین ومقالات

صحابۂ کرامؓ اور جمہور علماء ِامت کا موقف

مولانا ندیم الواجدی
علم ایک ناپیدا کنار سمندر ہے، کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس نے یہ سمندر عبور کرلیا ہے یا وہ اس کو عبور کرسکتا ہے، البتہ تحقیق کا دروازہ ہر وقت کھُلا ہے، جو چاہے وہ علم کے سمندر میں شناوری کرسکتا ہے اور تحقیق وجستجو سے وہاں تک پہنچ سکتا ہے جہاں تک دوسرے نہیں پہنچ پائے ہیں، لیکن تحقیق کے نام پر حدود سے تجاوز کرنے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر دورمیں کچھ ایسے اہل علم رہے ہیں جن کے فکر میں شدت اور رائے میں شذوذ پایا جاتاہے، جمہور علماء امت سے ہٹ کر اپنی ڈفلی بجانا اوراس پر اپنا راگ الاپنا ان کا شیوہ رہا ہے، مگر تاریخ بتلاتی ہے کہ ایسے شذوذات اور ایسے تفردات جو جمہور کی رائے سے انحراف کرکے اختیار کئے جاتے ہیں کبھی قبول نہیں کئے گئے خواہ ان کا قائل کتنا ہی ذی علم کیوں نہ ہو، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اسلامی تاریخ کے ایک بلند پایہ عالم، محقق ، فقیہ، محدث اور مصنف گزرے ہیں، انھوں نے اپنی کتابوں میں بعض ایسے خیالات پیش کئے ہیں جو نہ اس سے قبل جمہور فقہاء اور محدثین نے ظاہر کئے اور نہ بعد میں ان کا وجود ملتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امام ابن تیمیہ کی جلالت علمی کے باوجود ان کے تفردات کو لائق اعتبار نہیں سمجھا گیا، بلکہ بعض علماء نے تو ان کے رد میں کتابیں تک لکھی ہیں، علامہ تاج الدین سبکیؒ، ابن حجر ہیثمیؒ، علامہ ذہبیؒ، ملا علی قاریؒ اور علامہ شامیؒ وغیرہ کا شمار ایسے ہی اصحاب علم میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی کتابوں میں علامہ ابن تیمیہؒ کے تفردات کا بسط وتحقیق کے ساتھ رد کیاہے، بعض حضرات علماء کرام نے تو ان کی تکفیر سے بھی دریغ نہیں کیا، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے لکھا ہے کہ ابن تیمیہ کی تحریرات سے اختلاف کی بنیاد ان کے وہ نظریات ہیں جوعقائد اسلام سے ٹکراتے ہیں۔ (الدرر الکامنہ: ۱/ ۴۰۹)
علامہ زاہد الکوثری ؒ نے ’’ابن تیمیہ‘‘ کے نام سے ان کی کی مفصل سوانح لکھی ہے، اس میں ان کے تفردات بیان کرنے کے بھی اہتمام کیا گیاہے، ان تفردات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے تھے کہ صحابۂ کرام پر بھی نقد کیا جاسکتا ہے، چنانچہ انھوں نے حضرت عمر ابن الخطابؓ کو بھی نہیں بخشا، جن کی تعریف میں زبان رسالت علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام رطب اللسان رہی اور جن کی رائے کے مطابق کئی بار قرآنی آیات کا نزول ہوا، انھوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق لکھا کہ ستر بار ان سے خطا سرزد ہوئی ہے، علماء امت کی طرف سے ابن تیمیہ کے افکار وخیالات کے بھرپور رد کے باوجود ہر دور میں بعض لوگ ان کی روش پر چلے ہیں اور ان کے اتباع میں انھوں نے اسلام کے مسلّمہ عقائد کے خلاف اپنی زبان وقلم کو بے لگام چھوڑا ہے، ہمارے دور میں بھی بعض اہل علم اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے ہیں کہ وہ بھی اس دور کے ابن تیمیہؒ ہیں، اور انھیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسلام کے مسلّمہ عقائد ونظریات کے خلاف کچھ نئے خیالات پیش کرکے واہ واہ لوٹیں، یا ناقد ینِ صحابہ کی فہرست میں شامل ہوکرشہرت بٹورلیں۔
جماعت اسلامی کے بانی، مشہور مفکر اور مصنف مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے ’’خلافت وملوکیت‘‘ لکھ کر صحابۂ کرام پر تنقید کے فتنے کو بال وپر عطا کئے، حالاں کہ ان کے خیالات کا جن کو وہ تاریخی حقائق کہتے ہیں بھرپور رد کیا گیا، حضرت مولانا محمد میاں دیوبندیؒ نے ’’شواہد تقدس‘‘ لکھ کر مولانا مودودی کو آئینہ دکھلایا، حضرت مولانا تقی عثمانی نے بھی ’’حضرت معاویہؓ اور تاریخی حقائق‘‘ میں اس کا اصولی جائزہ لیا، مگر آج بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو مولانا مودودیؒ کے افکار کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں، ان مین ایک نام مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب کا سامنے آیا ہے جنھوں نے اپنی ایک تقریر میں اس سوئے ہوئے فتنے کو پھر جگانے کی کوشش کی ہے، حیرت اس بات پر ہے کہ اس بحث کا اس وقت کوئی موقع نہیں تھا، کہیں بھی کوئی بحث اس موضوع پر چھڑی ہوئی نہیں تھی، ہندوستان کے مسلمان ویسے بھی ان دنوں اپنے وجود کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس حوالے سے بے حد مضطرب اور بے چین بھی ہیں، ایسے میں مولانا سلمان ندوی کی تقریر کو بے وقت کی راگنی ہی کہا جاسکتا ہے۔
مولانا ندوی کی تقریر کے ردّ عمل میں اتنا کچھ لکھا جاچکاہے کہ اب اس کا جائزہ لینے کی ضرورت باقی نہیں رہی، اس دوران مولانا کی جذباتیت، تلوّن مزاجی، شدت پسندی بھی زیر بحث رہی، انھوں نے ایک مرتبہ تحریری طورپر اور دوسری مرتبہ زبانی رجوع بھی کیا، مگر دونوں مرتبہ ان کا رجوع کم پندارِ علم کا اظہارزیادہ معلوم ہوا، اگر ان پر حق واضح ہوگیا تھا تو بڑائی اس میں تھی کہ وہ صاف صاف لفظوں میں رجوع کا اعلان کردیتے، اکابر واسلاف کا شیوہ صاف وصریح لفظوں میں غیر مشروط رجوع کا رہا ہے جس کی مثالیں فقہ کی کتابوں میں کثرت سے ملتی ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ مولانا ندوی اپنے موقف سے ہٹیں گے، اس لیے ان کو مخاطب کرنا دانش مندی نہیں ہے، انھیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے، جس ادارے میں وہ تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں اس ادارے کے سربراہ نے اپنے ادارے کا موقف ظاہر کردیا ہے اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ادارہ مولانا سلمان ندوی کے خیالات سے اتفاق نہیں رکھتا۔
البتہ جو لوگ مطالعہ اور تحقیق کے نام سے فریب کھاتے ہیں اور تجدد پسندوں کے افکار وخیالات سے متأثر ہوکر اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ صحابۂ کرام ان قدسی صفات نفوس کو کہتے ہیں جنھوں نے براہ راست درسگاہِ نبوت سے تعلیم وتربیت حاصل کی ہے، وحی الٰہی نے انھیں رضی اللّٰہ عنہم ورضوا عنہ کا مژدہ جاںفزا سنایا ہے، اور زبان رسالت نے انھیں اصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم کے توصیفی کلمات سے سرفراز کیا ہے، چودہ سو سال کے تمام علماء ، متکلمین، محدثین، فقہاء ومفسرین ان کی ثقاہت اوران کی نیکی وتقویٰ وطہارت پر متفق ہیں، کتاب وسنت میں صحابۂ کرام کے اس قدر فضائل وارد ہیں کہ کوئی بھی وہ شخص جس کے دل میں شمعِ ایمان کی ذراسی بھی روشنی جھلملاتی ہے کسی صحابی کے متعلق بد گمانی کا شکار نہیں ہوسکتا چہ جائے کہ وہ بد گوئی میں مبتلا ہو، حافظ ابن عبدالبرؒ فرماتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ تمام صحابہؓ عادل ہیں۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابہ: ۱/ ۳۳) حافظ ابن الصلاحؒ فرماتے ہیں کہ پوری امت صحابۂ کرام کی تعدیل پر متفق ہے، خواہ ان میں سے کوئی صحابی کسی فتنے میں مبتلا ہی کیوں نہ ہوا ہو۔ (معرفۃ انواع علم الحدیث، ص: ۳۹۸) حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ جملہ علماء اہل السنۃ اس بات پر متفق ہیں کہ تمام صحابۂ کرام بلا استثناء عدول ہیں، صرف معدودے چند مبتدعین اس کی مخالفت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابہ: ۱/ ۶) یہ عدل کیا چیز ہے، علماء نے اس کا مفہوم شرعی کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ جو مسلمان عاقل بالغ ہو اور کبیرہ گناہوں سے مجتنب ہو، کسی صغیرہ گناہ پر مصر نہ ہو اور نہ اس کا عادی ہو، علماء نے عدل کے مقابلے میں فسق کو رکھا ہے، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ صحابۂ کرام فسق وفجور سے دور اور کبائر سے مجتنب رہنے والی جماعت تھی، رہا یہ سوال کہ ایک طرف امت کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابۂ کرام معصوم عن الخطا نہیں ہیں ، ان سے صغائر بلکہ کبائر کا صدور بھی ہوسکتا ہے اور ہوا بھی ہے، دوسری طرف ان کو عدول کہا جارہا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ان سے گناہ سرزد نہ ہوئے ہوں۔
علماء نے اس کا جواب بھی دیاہے، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ کے الفاظ میں اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’صحابہ کرام سے اگرچہ کوئی بڑا گناہ بھی سرزد ہوسکتاہے اور ہوا بھی ہے مگر ان میں اور عام افراد امت میں ایک فرق ہے کہ گناہ کبیرہ وغیرہ سے جو شخص ساقط العدالۃ یا فاسق ہوجاتا ہے اس کی مکافات تو بہ سے ہوسکتی ہے، مگر عام افراد امت کے متعلق بالیقین یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انھوں نے توبہ کرلی ہوگی اور حق تعالیٰ نے ان کا گناہ معاف کردیا ہوگا،البتہ صحابۂ کرام کا معاملہ ایسا نہیں ہے، اوّل تو وہ گناہ سے بہت بچتے تھے اور اپنے رب سے بہت زیادہ ڈرتے تھے، اگر ان میں سے کسی سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا تو وہ زبانی توبہ واستغفار ہی پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے آپ کو بڑی سے بڑی سزا کے لیے بھی پیش کردیتے تھے، صحابۂ کرام کے عمل اوران کے خوف وخشیت کا تقاضا یہ ہے کہ جن حضرات سے توبہ کا اظہار بھی نہیں ہوا ہم ان کے بارے میں بھی یہی گمان رکھیں کہ انھوں نے ضرور توبہ کرلی ہوگی، دوسرے ان کے حسنات، کارنامے اور قربانیاں اس قدر عظیم ہیں کہ ان کے مقابلے میں عمر بھر کا ایک آدھ گناہ معاف ہی ہوجانا چاہئے، کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے، اسی لیے قرآن کریم میں تمام صحابۂ کرام کے لیے خواہ وہ سابقین ہوں یاآخرین رضاء الٰہی کا اعلانِ عام کردیا گیاہے۔ ( مقام صحابہ، ص: ۶۹)
عقائد کی کتابوں میں یہ تفصیلات موجود ہیں کہ ایک مسلمان کو صحابۂ کرام کے متعلق کیا نظریہ اور کیا عقیدہ رکھنا چاہئے، ان میں سب سے پہلا عقیدہ تو یہ ہے کہ انبیائے کرام کے بعد اگر کوئی جماعت عالی مقام اور بلند مرتبہ ہے تو وہ صحابۂ کرام کی جماعت ہے، اسی لیے یہ ضروری ہے کہ ہم تمام صحابہ کو ثقہ اور عادل سمجھیں ، ہر مسلمان پر صحابۂ کرام کی تعظیم وتکریم واجب ہے، البتہ صحابۂ کرام کے مراتب میں باہم فرق ہوسکتاہے، چنانچہ تمام صحابۂ کرام میں سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابوبکر الصدیق کا، پھر حضرت عمر فاروق، پھر حضرت عثمان اور پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ہے ، خلفائے راشدین کے بعد عشرہ مبشرہ کا مقام ومرتبہ ہے، ان کے بعد اہل بدر کا مرتبہ ہے، تمام اہل بیت اور ازواج مطہرات بھی علو مرتبہ میں خاص مقام رکھتی ہیں، تمام امت اس پر متفق ہے کہ ہزاروں جنید وشبلی اور با یزید بسطامیؒ مل کر بھی کسی ادنیٰ صحابیؓ کے کف پا پر لگے ہوئے غبار کا تقدس حاصل نہیں کرسکتے۔
اس میں شک نہیں کہ صحابۂ کرام انسان تھے،اور بہ تقاضائے بشریت ان کے درمیان اختلاف اور نزاعات بھی رونما ہوئے، مگر یہ تمام اختلافات لوجہ اللہ تھے یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ کسی صحابی کے دل میں طلب ِدنیا، حب ِجاہ اور خواہشِ اقتدار تھی، جس کی بنا پر اختلافات پیدا ہوئے اور جمل اور صفین جیسی جنگیں برپا ہوئیں ، حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کا اختلاف اوران کے ما بین ہونے والی جنگ بھی جانبین کی نیک نیتی پر مبنی تھی، اگر چہ علماء کرام اس جنگ میں حضرت علیؓ کو حق پر مانتے ہیں اور حضرت معاویہؓ کو غلطی پر مگر ان کی یہ غلطی بھی اجتہادی تھی جس پر وہ ایک اجر کے مستحق ہیں، اور حضرت علی دوہرے اجر کے، صحابہ کرام کے باہمی اختلافات ونزاعات بلکہ جنگوں کے لیے علماء امت نے از روئے احتیاط ایک عجیب ومنفرد تعبیر اختیار کی ہے اور وہ ہے، مشاجرات جو مشاجرہ کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں کسی درخت کی شاخوں کا ایک دوسرے میں گھُسنا جو درخت کے لیے عیب نہیں ہے بلکہ اس کی زینت ہے، یہ اصطلاح جو قرآن کریم کے الفاظ ’’فیما شجر بینہم‘‘ سے مستفاد ہے اختیار کرکے علماء امت نے واضح کردیا ہے کہ دور صحابہ میں اختلاف ونزاع کے جو بھی واقعات پیش آئے وہ صحابۂ کرام کے لیے باعث ننگ نہیں ہیں، بعدوالوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مشاجرات کو نوکِ زبان یا نوکِ قلم پرنہ لائیں ، واقعات کی حکایت تو کی جاسکتی ہے مگر ان کی بنیاد پر کسی فریق کو اچھا یا کسی کو برا نہیں کہا جاسکتا، علامہ قرطبیؒ نے آیت کریمہ وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا کی تفسیر کرتے ہوئے صحابۂ کرام کے تعلق سے جو دس اصولی مسائل لکھے ہیں ان میں سے دسویں اصل یہ بیان فرمائی ہے ’’ یہ جائز نہیں کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طورپر غلطی منسوب کی جائے، ان حضرات نے اپنے اپنے طرز عمل میں اجتہاد سے کام لیا تھا اور سب کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول تھا، یہ سب حضرات ہمارے مقتدا وراہ نما ہیں، ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان کے باہمی اختلافات سے کف لسان کریں اور ہمیشہ ان کا ذکر بہترین طریقے پر کریں، صحابیت بڑی حرمت والا منصب ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ نے انھیں معاف کر رکھا ہے اور وہ ان سے راضی ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن، ص: ۱۶)
مشاجرات صحابہ کے سلسلے میں علماء امت کی رائے یہی ہے، جو لوگ اس رائے سے انحراف کرکے بعض صحابۂ کرام کے مقابلے میں بعض پر سب وشتم کرتے ہیں اور ان پر کینہ پروری، طلب جاہ ومنصب اور ظلم وزیادتی کے الزامات لگاتے ہیں وہ اپنی عاقبت خود خراب کررہے ہیں، قیامت کے دن ان کو بالیقین ان الزامات کا جواب دینا ہوگا، وہ لوگ بھی جواب دہی سے نہیں بچ سکتے جو گروہی عصبیت کا شکار ہوکر سوچے سجھے بغیر ان نا عاقبت اندیشوں کی تائید پر تائید کئے جارہے ہیں، آخر یہ لوگ اپنے اس طرز عمل کا کیا جواب دیں گے؟
nadimulwajidi@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker