طوفان مائیکل ‘کیٹیگری 4’ میں داخل، آج فلوریڈا سے ٹکرائے گا

طوفان مائیکل ‘کیٹیگری 4’ میں داخل، آج فلوریڈا سے ٹکرائے گا

واشنگٹن:10؍اکتوبر(بی این ایس؍ایجنسیاں)
بحرِ اوقیانوس میں جنم لینے والے طوفان مائیکل کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے جس کے بعد حکام نے امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحلی علاقوں میں آباد پانچ لاکھ افراد کو لازمی انخلا کی ہدایت کردی ہے۔
امریکہ کے ‘نیشنل ہریکین سینٹر کا کہنا ہے کہ طوفان کی شدت ‘کیٹیگری دو سے بڑھ کو ‘کیٹیگری چار ہوچکی ہے اور وہ آج کسی وقت فلوریڈا کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائے گا۔طوفان کی شدت منگل کو ‘کیٹیگری 2′ ریکارڈ کی گئی تھی لیکن خلیجِ میکسیکو کے گرم موسم کے باعث منگل کی شب تک اس کی شدت بڑھ کر کیٹیگری 4’ ہوگئی ہے۔طوفان کے تحت چلنے والی ہواؤں کی رفتار 210 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور ‘نیشنل ویدر سروس نے خبردار کیا ہے کہ اس شدت کی ہوائیں پختہ گھروں کی چھتوں اور دیواروں کو بھی انتہائی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے باعث 13 فٹ تک بلند لہریں ساحلی علاقوں سے ٹکرائیں گی جس سے ان علاقوں کے زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔بدھ کو علی الصباح طوفان فلوریڈا کے شہر پاناما سٹی سے 325 کلومیٹر دور تھا اور تیزی سے فلوریڈا کے ساحل کی جانب بڑھ رہا تھا۔
‘نیشنل ہریکین سینٹرکا کہنا ہے کہ طوفان کے باعث فلوریڈا کے علاوہ الاباما اور جارجیا میں طوفانی بارشیں ہوں گی جب کہ گزشتہ ماہ ہی طوفان فلورینس کا نشانہ بننے والی ریاستوں شمالی اور جنوبی کیرولائنا میں بھی شدید بارشوں کی پیش گوئی ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں ایک فٹ تک بارش پڑنے کا اندیشہ ہے جس سے صورتِ حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔طوفان کی شدت میں اضافے کے بعد فلوریڈا کے ساحلی علاقوں میں آباد افراد کو لازمی انخلا کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔
ریاست کے گورنر رِک اسکاٹ نے بدھ کو علی الصباح اپنے ایک ٹوئٹ میں شہریوں سے کہا ہے کہ ان کے پاس محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے صرف چند گھنٹوں کا وقت ہے جس کے بعد ان کے بقول صورتِ حال خراب ہونا شروع ہوجائے گی۔طوفان سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری فلوریڈا ریاست میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے جس کے نتیجے میں طوفان سے قبل اور بعد میں امدادی سرگرمیوں کے لیے وفاقی انتظامیہ مدد فراہم کرسکے گی۔
امریکہ میں ہنگامی حالات سے نبٹنے کے وفاقی ادارے ‘فیما نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے باعث متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے جب کہ بجلی اور صاف پانی کی ترسیل اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک بھی معطل ہوسکتا ہے جس کی مکمل بحالی میں کئی ہفتے لگیں گے۔حکام کے انتباہ کے بعد فلوریڈا کی دو سو کلومیٹر طویل اس ساحلی پٹی سے سیاحوں اور رہائشیوں کا انخلا جاری ہے جو طوفان کے راستے میں پڑتی ہے۔
آبادی کے انخلا اور طوفان سے قبل حفاظتی انتظامات کے لیے فلوریڈا میں نیشنل گارڈز کے ڈھائی ہزار اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں جب کہ مزید چار ہزار سے زائد اہلکاروں کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ریاستی انتظامیہ نے پانی، بجلی اور گیس کی ترسیل کے نظام کی بحالی کے لیے بھی 17 ہزار سے زائد ملازمین اور سرکاری اہلکاروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔طوفان کے راستے پڑنے والے فلوریڈا کے علاقوں میں سرکاری دفاتر، اسکول اور جامعات میں پورے ہفتے کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔