امن منصوبے میں ’’اسرائیل کا تحفظ‘‘ یقینی بنائیں گے: گرین بیلٹ

امن منصوبے میں ’’اسرائیل کا تحفظ‘‘ یقینی بنائیں گے: گرین بیلٹ

واشنگٹن :10؍اکتوبر(بی این ایس؍ایجنسیاں)
مشرق وسطیٰ کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی جیسن گرین بیلٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تیار کردہ مجوزہ امن منصوبے میں اسرائیل کی سلامتی کی ضروریات کو اولین ترجیح حاصل ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کو بھی منصفانہ حقوق دلانے کی کوشش کی جائے گی۔اسرائیلی اخبار “ٹائمز آف اسرائیل” کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی ایلچی نے کہا کہ امریکا کے امن منصوبے میں فلسطین اور اردن کو ایک کنفیڈریشن میں تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جاری محاذ آرائی ختم کرانے کے لیے نئے روڈ میپ پر کام کررہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مجوزہ امن منصوبے کو کامیاب کرنے کے خواہاں ہیں اور وہ اپنے منصوبے کو مشکل ترین سفارتی کوشش بھی قرار دے رہے ہیں۔ستمبر میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ توقع ہے ان کا وضع کردہ امن منصوبہ دو ، تین یا چار ماہ کے اندر اندر پیش کردیا جائے۔ انہوں نے فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے دو ریاستی حل کی تجویز کی حمایت کی تاہم اس کی مزید تفصیل بیان نہیں کی گئی۔امریکی امن مندوب نے یہ انٹرویو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دیا تھا۔ مسٹر بیلٹ کا کہنا تھا کہ “ہم کنفیڈریشن ماڈل پرغور نہیں کر رہے ہیں”۔انہوں نے کہا کہ امن منصوبے میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تمام حل طلب مسائل کا حل تجویز کیا گیا ہے۔ ان میں فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ اور اسرائیل کی سلامتی کے مسائل خاص طورپر شامل ہیں۔ انہوں‌نے کہا کہ امریکی امن منصوبے میں اسرائیل کی سلامتی کی ضروریات پر خاص طورپر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم فلسطینیوں کو بھی ان کے منصفانہ حقوق دلانے کی کوشش کریں گے۔ ہماری کوششیں بہتر توازن قائم کرنا اور ایسا حل پیش کرنا جس سے تمام فریقین مطمئن ہوں۔امریکا اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان گذشتہ برس چھ دسمبرسے تعلقات تعطل کا شکار ہیں۔ امریکا نے چھ دسمبر 2017ء کو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیتے ہوئے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔