ماہِ صفر اور توہمات

ماہِ صفر اور توہمات

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی
رفیق تصنیف دار الدعوۃ والارشاد یوسف گوڑہ حیدرآباد
اسلام حقائق ، صداقتوں اور سچائیوں پر مشتمل دین ہے ،توہمات وخرافات ، دور اذکارباتوں ، خیالی وتصوراتی دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں ، بد شگونی وبدگمانی اورمختلف چیزوں کی نحوست کے تصور واعتقاد کی یہ بالکل نفی کرتا ہے ، اسلام در اصل ایک اکیلے واحد ویکتا اور ایسی قادر مطلق ذات پر یقین واعتقاد کی تعلیم دیتا ہے جس کے تنہا قبضۂ قدرت اور اسی کی یکا وتنہا ذات کے ساتھ اچھی وبری تقدیر وابستہ ہے ، آدمی کی اپنی تدبیریں یہ محض اسباب کے درجے میں ہوتی ہیں ، ان سے ہوتا کچھ ، سب کا سب اس ایک اکیلے اللہ کے کرنے سے ہوتا ہے ، یہی وہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے جس سے شرک وکفر ، اوہام وخرافات اور خیالی وتصوراتی دنیا کی بہت ساری بد اعتقادیوں کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔
آج کل کی مشکل اور دشوار گذار زندگی میں غیروں کو تو چھوڑیئے ، جن کے مذہب کی بنیاد ہی اوہام وخرافات پر ہوتی ہے ، دیومالائی کہانیاں اور عجیب وغریب قصے جس کا جزوِ لازم ہوتے ہیں ، غیروں کے ساتھ طویل بود وباش اور رہن سہن کے نتیجے میں خود مسلمانوں میں بھی دنوں ، مہینوں ، جگہوں ، چیزوں اور مختلف رسوم ورواج کی عدمِ ادائیگی کی شکل میں بے شمار توہمات در آئے ہیں کہ فلاں دن اور فلاں مہینہ منحوس ہوتا ہے، فلاں رخ پر گھر بنانے یا جائے وقوع یا سمت اور رُخ کے اعتبار سے سعد ونحس کا اعتقاد کیا جاتا ہے ، مختلف تقریبات ؛بلکہ بچے کی پیدائش سے لے کر ، اس کے رشتۂ ازواج کے بندھن میں بندھ جانے ، اس کے صاحب اولاد ہونے ، پھر اس کے عمر کے آخری مراحل سے گزر کر اس کے موت کے منہ میں چلے جانے ؛ بلکہ اس کے مرنے کے بعد اس کے دفنانے ؛ بلکہ اس کے بعدبھی مختلف رسوم ورواج کا سلسلہ چلتا رہتا ہے ، جس کی عدم ِادائیگی کو نحوست کا باعث گردانا جاتا ہے ، ان بے جا تصورات وخیالی توہمات کے ذریعے جانی ، مالی ، وقتی ہر طرح کی قربانیاں دے کر اپنے آپ کو گراں بار کیا جاتا ہے ، الغرض لوگوں نے ان توہمات وخرافات کی شکل میں زندگی کے مختلف گوشوں میں اس قدر بکھیڑے کھڑا کردیئے ہیں کہ شمار واحصاء سے باہر ، سچ کہا ہے شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے ؎
ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
جہاں ہم نے ایک اکیلے ، واحد وتنہا اور قادر مطلق ذات کو حقیقی معبود ومسجود اور اس کی بارگاہ کی حاضری اوراس کے سامنے جبینِ نیاز خم کرنا چھوڑدیا، اسی کی ذات کے ساتھ نفع ونقصان کی وابستگی کے اعتقاد کو کیا پس پشت ڈال دیا ، عجیب بھول بھلیوں میں گم ہوگئے ، مختلف پتھروں ، مورتیوں ، رسموں رواجوں ، مختلف اوقات وگھڑیوں اور مہینوں وایام سے اپنی تقدیر وابستہ کر بیٹھے اوراپنی منفعت ومضرت کو ان سے منسوب کردیا ، ایک اکیلے اللہ کو راضی کرنا کتنا آسان تھا، اس سے بڑھ کر بے زبان ، بے عقل جانور، کتے ، بلیوں ، طوطوں ، الوؤں اور کوؤں سے تک اپنے نفع ونقصان کا اعتقاد یہ کس قدر نادانی اور بچکانی اور گئی گذری ہوئی حرکت ہوسکتی ہے ، اگر ہم ایک اکیلے اللہ کو حقیقی نافع وضار سمجھ کر اس سے اپنی تقدیر کا بننا وبگڑنا وابستہ کرتے اور اسی یکا وتنہا ذات کو اپنی مقدس پیشانی کے جھکانے کے لئے چن لیتے تو آج کا یہ انسان اس قدر حیران وسرگرداں نہ ہوتا کہ ہر چھوٹی بڑی چیز کے سامنے سجدہ ریز ہونے بچ جاتا۔
زمانہ جاہلیت کی بد شگونیاں:
زمانہ جاہلیت میں بھی اسلام کی آمد سے قبل لوگوں میں مختلف چیزوں سے شگون لینے کا رواج تھا۔
(۱) ایک طریقہ یہ تھاکہ خانہ کعبہ میں تیر رکھے ہوئے ہوتے جن میں سے کچھ پر ’’لا‘‘ لکھاہوتا ، یعنی یہ کام کرنا درست نہیں ، اور بعض میں’’نعم‘‘لکھاہوتا یعنی یہ کام کرنا درست ہے ، وہ اس سے فال نکالتے اور اسی کے مطابق عمل کرتے ، یا جب کسی کام سے نکلتا ہوتا درخت پر بیٹھے ہوئے کسی پرندے کو اڑا کر دیکھتے کہ یہ جانور کس سمت اڑا ، اگر دائیں جانب کو اڑ گیاتو اسے مبارک اور سعد جانتے تھے کہ جس کام کے لئے ہم نکلے ہیں وہ کام ہوجائے گا اور اگر بائیں جانب کو اڑ گیا تو اس کو منحوس اور نامبارک سمجھتے ، حضور اکرم ا نے ان سب چیزوں کی نفی فرمادی اور فرمایا : ’’أقروا الطیور علی مکانتھا‘‘ (ابوداؤد:۲۸۳۵)کہ پرندوں کو اپنی جگہ بیٹھے رہنے دو ، ان کو خواہ مخواہ اڑا کر فال نہ لو ، اس حدیث میں نبی کریم ا نے مختلف اعتقادات بد اور زمانۂ جاہلیت کے مختلف توہمات اوربد شگونیوں کویوں رد فرمادیا ہے (مرقات)
(۲)اور فرمایا’’لا عدوی‘‘ (تعدیہ کوئی چیز نہیں ہوتی ) یعنی زمانۂ جاہلیت کا ایک تصور یہ بھی تھاکہ بیماریاں ایک دوسرے کو متعدی ہوتی ہیں ، ایک دوسرے کو منتقل ہوتی ہیں ، حضور اکرم ا نے اس اعتقادِ بد کی نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ : تعدیہ کوئی چیز نہیں ہے ، اس تعدیہ کے متعلق ایک دیہاتی نے جب آپ اسے یہ دریافت کیا کہ : یا رسول اللہا! اونٹ رتیلے علاقوں میں بالکل ہرنوں کے مانند تیز وطرار ہوتے ہیں کہ کوئی عارضہ یا کوئی بیماری انہیں نہیں ہوتی ان میں ایک خارش زدہ اونٹ آکر گھل مل جاتا ہے ، وہ سب کو خارش زدہ کردیتا ہے ( یہ تو تعدیہ ہوا ) اس پر آپ انے فرمایا : ’’فمن أعدی الأول‘‘ پہلے اونٹ کو خارش کہاں سے ہوئی؟ یعنی جب پہلے اونٹ کی خارش من جانب اللہ ہے تو ان تمام کا خارش زدہ ہونا بھی اسی کی جانب سے ہے (بخاری : ۵۲۸۷)
(۳)اور فرمایا : ’’ولا ھامۃ‘‘ (ہامہ بھی کوئی چیز نہیں ہے ) ’’ہامہ‘‘ کہتے ’’الو‘‘کو ، اہل عرب کا ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ مردار کی ہڈیاں جب بالکل بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں تو وہ ’’الو‘‘ کی شکل اختیار کرکے باہر نکل آتی ہیں اور جب تک قاتل سے بدلہ نہیں لیا جاتا اس کے گھر پر اس کی آمد ورفت برقرار رہتی ہے، زمانۂ جاہلیت کی طرح موجودہ دور میں بھی ’’الو‘‘ کو منحوس پرندہ تصور کیا جاتا ہے ، اس کے گھر پر بیٹھنے کو مصائب کی آمد کا اعلان تصور کیا جاتا ہے ، حضور اکرم انے ان تمام اعتقادات اور توہمات کا انکار کردیا ۔(مرقات )اس طرح کی بعض ملتے جلتے اعتقادات آج بھی پائے جاتے ہیں کہ شب معراج ، شب برات اور شب قدر اور عید وغیرہ میں روحیں اپنے گھر آتی ہیں۔یہ سب توہمات ہیں ۔
(۴) اور آپ ا نے یہ بھی فرمایا : ’’ ولا غول‘‘( بھوت پریت کا کوئی وجود نہیں ) یعنی اہل عرب کا یہ تصور بھی تھا کہ جنگلوں اور بیابانوں میں انسان کو بھوت پریت نظر آتے ہیں جو مختلف شکلیں دھارتے رہتے ہیں اور لوگوں کو گم کردۂ راہ کر دیتے ہیں اور ان کو بسااوقات جان سے بھی ماردیتے ہیں ، اس طرح اعتقادات اس دور میں دیہاتوں وغیرہ میں بہت پائے جاتے ہیں ، آپ انے ان سب خرافات کا انکار کردیا ۔(اشعۃ اللمعات)
(۵) اور آپ انے یہ بھی فرمایا: ’’ ولا نوء‘‘ (ایک ستارے کا غروب ہونا اور دوسرے کا طلوع ہونا) یا چاند کی مختلف منزلیں مراد ہیں ، اہل عرب کا یہ عقیدہ تھا کہ وہ بارش کو چاند کے مختلف برج یا منازل کے ساتھ منسوب کرتے تھے کہ چاند کے فلاں برج یا منزل میں ہونے سے بارش ہوتی ہے ، یا فلاں ستارے کے طلوع ہونے یا غروب ہونے سے بارش ہوتی ہے ، یعنی وہ بارش کی نسبت بجائے اللہ عزوجل کے ان ستاروں کی جانب کردیتے ، آپ ا اس کا انکار فرمادیا ۔(ابوداؤد:۳۹۱۲)اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ا نے حدیبیہ کے موقع پر ایک دفعہ فجر کی نماز پڑھائی ، فجر سے پہلے بارش ہوچکی تھی ، جب آپ ا نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا: تو ان لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، فرمایا کہ : ’’اللہ عزوجل نے فرمایا : میرے بندوں میں سے کچھ نے تو حالتِ ایمان میں صبح کی اور کچھ نے کفر وشرک کی حالت میں صبح کی ، جنہوں نے یہ کہا کہ : اللہ کے فضل ورحمت سے بارش ہوئی تو انہوں نے مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کا انہوں نے انکار کیا اور جنہوں نے یہ کہا کہ : فلاں ستارے کے فلاں برج میں ہونے سے بارش ہوئی تو اس نے میرا انکار کیا اور ستاروں کے ساتھ اپنا ایمان وابستہ کیا ’’ وأما من قال مطرنا بنوء کذا وکذا فذلک کافر لی مؤمن بالکوکب ‘‘(مسلم : ۱۷۰)ستاروں اور سیاروں کی گردش اور ان کا طلوع وغروب ہونا بارش ہونے یا نہ ہونے کا ایک ظاہری سبب تو سکتے ہیں ؛ لیکن مؤثر حقیقی ہر گز نہیں ہوسکتے ، مؤثر حقیقی اور قادر مطلق محض اللہ جل شانہ کی ذات ہے (معارف القرآن)
عصر حاضر کی بد شگونیاں اور توہمات :
یہ زمانۂ جاہلیت میں بدفالی اور توہم پرستی کا ذکر تھا، عرب کے جاہلوں کی طرح آج کل بھی نام ونہاد مسلمان طرح طرح کی بدگمانیوںاور بد شگونیوں میں مبتلا ہیں ، خصوصا عورتوں میں اس قسم کی باتیں مشہور ہیں ، اگر کوئی شخص کام کو نکلا اور بلی یا عورت سامنے سے گذر گئی یا کسی کو چھینک آگئی تو سمجھتے ہیں کہ کام نہیں ہوگا ، جوتی پر جوتی چڑھ گئی تو کہتے ہیں کہ سفر درپیش ہوگا ، آنکھ پھڑکنے لگی تو فلاں بات ہوگئی ، گھر پر کوے کی چیخ وپکار کو مہمان کی آمد کا اعلان اور الو کی آمد کو نقصان کا باعث تصور کیا جاتا ہے ، ہچکیوں کے آنے پر یہ کہا جاتا ہے کسی قریب عزیز نے یاد کر لیا ،یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ہتھیلی میں خارش ہونے سے مال ملتا ہے اور تلوے میں خارش ہونے سے سفر درپیش ہوتا ہے ، اس طرح روز مرہ کی زندگی میں بے شمار تصورات وخیالات ہیں جو رات ودن لوگوں سے سننے میں آتے ہیں ، عجیب توہم پرستی کی دنیا ہے ؛ حالانکہ رسول اللہ ا کا صاف اور واضح ارشاد ہے ’’ الطیرۃ شرک‘‘ بد شگونی کا لینا شرک ہے (ابوداؤد:۳۹۱۰)
آج کل جانوروں سے بھی قسمت کے احوال بتائے جاتے ہیں ، بہت سے لوگ لفافوں میں کاغذ بھرے ہوئے کسی چالو روڈ یا گاؤں اور دیہاتوں میں نظر آتے ہیں ، طوطا یا مینا یا کوئی اور چڑیا پنجرے میں بند رکھتے ہیں اور گزرنے والے جاہل ان سے پوچھتے ہیں کہ آئندہ ہم کس حال سے گزریں گے ؟ اور ہمارا فلاں کام ہوگا یا نہیں ؟اس پر جانور رکھنے والا آدمی پرندے کے منہ میں کوئی دانہ وغیرہ دیتا ہے اور وہ پرندہ کوئی بھی لفافہ کھینچ کر لاتا ہے ، پرندے والا آدمی اس میں سے کاغذ نکال کر پڑھتا ہے اور دریافت کرنے والی کی قسمت کا فیصلہ سناتا ہے …یا آج کل بہت سارے رسالے اور میگزین نکلتے ہیں جس میں حروف تہجی کے اعتبار سے ’’الف ‘‘ سے لے کر ’’ی ‘‘ تک تمام حروف خانوں میں لکھے ہوتے ہیں ، جس حرف سے نام شروع ہوتا ہے ، نیچے تمام حروف کے اعتبار سے اس کے احوال زندگی اچھی یا بری تقدیر لکھی ہوتی ہے ، اس کو پڑھ کر احوال اور آئندہ پیش آنے خوشی ومسرت کی گھڑیوں یا مصائب کے لمحوںکو معلوم کیاجاتا ہے ، یا خانہ میں مختلف حروف یا ستاروں کے نام لکھے ہوتے ہیں ، آنکھ بند کر کے ان پر انگلی رکھنے کو کہا جاتا ہے ، جس پر انگلی پڑتی ہے ، اس کے اعتبار سے نیچے اس حرف کے سامنے لکھی ہوئی پیشن گوئیاں پڑھ کر اپنے احوال معلوم کرتے ہیں ، یہ سب سراسر جہالت اور گمراہی ہے ؛ بلکہ آج کے مشینی دور میں قسمت کے احوال جاننے کے لئے مشین بھی تیار ہوگئی ہے ، بس اڈوں ، ریلوے اسٹیشنوں پر دیکھا ہے کہ دل کے احوال بتانی والی کوئی مشین ہوتی ہے ، جو انسانوں کے دل احوال کا علم دیتی ہے ، لوگ کان میں لگانے والے آلہ کے ذریعے اس مشین کے واسطے سے اپنے احوالِ قلب کو سنتے ہیں اور وہاں لوگوں کی بھیڑ اور ایک تانتا لگا ہوا ہوتا ہے ۔
یاد رکھیئے ! غیب کو سوائے اللہ عزوجل کے کوئی نہیں جانتا ، خود طوطا ، مینا لے کر بیٹھنے والے کو پتہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ کل کیا کرے گا؟ اور بے چاری کی قسمت کا علم اس کو ہوتا تو اس چالو روڈ پر بیٹھ کر یہ چالو کام کرتا ہوا نہیں ہوتا ، کوئی شخص نہیں جانتا وہ کل کیا کرے گا ؟ اور نہ ایک دوسرے کو اس بارے میں کوئی علم ہے ، ارشاد باری عزوجل ہے ’’وما تدری نفس ماذا تکسب غدا ‘‘( یعنی کوئی نفس نہیں جانتا کہ کل کو کیا کرے گا ) نیز ارشادِ خداوندی ہے کہ ’’قل لا یعلم من فی السموات والأرض الغیب إلا اللہ ‘‘(اے نبی ا ! آپ فرمادیجئے کہ جولوگ آسمان وزمین میں ہیں وہ غیب کو نہیں جانتے ، غیب کو صرف اللہ ہی جانتا ہے ) یہ عجیب بات ہے کہ آدمی توخود اپنا حال نہ جانے اور غیر عاقل جانور کو پتہ چل جائے کہ اس کی قسمت میں کیا ہے ۔
ایک حدیث میں حضور اکرم ا کا ارشاد گرامی ہے کہ :جو شخص کسی ایسے آدمی کے پاس گیا جو غیب کی باتیں بتاتا ہو، پھر اس سے کچھ بات پوچھ لی تو اس کی نماز چالیس دن تک قبول نہ ہوگی ’’ من أتی عرافا فسألہ عن شیء ، لم یقبل لہ صلاۃ أربعین لیلۃ ‘‘ ( مسلم ،حدیث:۲۲۳۰)اور ایک حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ : ’’ جو شخص کسی ایسے شخص کے پاس گیا جو غیب کی خبریں بتاتاہوں اور اس کے غیب کی تصدیق کردی ، تو اس چیز سے بری ہوگیا جو محمداپر نازل ہوئی ‘‘( ابوداؤد: ۳۹۰۴)
ماہِ صفر کے نحوست کا تصور :
بعض لوگ سفر کے مہینے کے تعلق سے یہ نظریہ اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس مہینہ میں مصیبتیں اور بلائیں نازل ہوتی ہیں ، اسلام سے قبل زمانۂ جاہلیت میں بھی لوگ مختلف قسم کے توہمات اور وسوسوں اور غلط عقائد میں گھرے ہوئے ت‘تھے ،حضور اکرا نے صفر کے مہینے کی نحوست کا انکار کرتے ہوئے فرمایا : ’’ ولا صفر‘‘(تیرہ تیزی کی کوئی حقیقت نہیں ) عرب خصوصا صفر کے ابتدائی تیرہ دنوں اور عموما پورے مہینے کو منحوس سمجھتے تھے ،زمانۂ جاہلیت میں مثلا : اس میں عقد نکاح ، پیغام نکاح اور سفر کرنے کو منحوس اور نامبارک اور نقصان کا باعث سمجھا جاتا تھا، حضور اکرما نے زمانۂ جاہلیت کے اس اعتقاد کی پرزور تردید فرمائی کہ صفر میں نحوست کا اعتقاد سرے سے غلط ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ دن ، مہینہ یا تاریخ منحوس نہیں ہوتے کہ فلاں مہینے میں ، فلاں تاریخ میں ، فلاں دن میں شادی کے انعقاد کو بابرکت تصور کیا جائے اور بعض دنوں جیسا کہ مشہور ہے کہ ’’تین تیرہ ، نو اٹھارہ ‘‘ یہ منحوس دن تصور کئے جاتے ہیں ، بلکہ اس تعبیر ہی کو بربادی اور تباہی کے معنی میں لیا جاتا ہے ، یہ سب خرافات اور خود ساختہ اور بناوٹی باتیں ہیں ، زمانے اور دنوں میں نحوست نہیں ہوتی ، نحوست بندوں کے اعمال وافعال کے ساتھ وابستہ ہے ، جس وقت یا دن یا لمحہ کو بندے نے اللہ کی یاد اور اس کی عبادت میں گزارا وہ وقت تو اس کے حق میں مبارک ہے اور جس وقت کو بد عملی ، گناہوں اور اللہ عزوجل کی حکم عدولیوں میں گزاردیا تو وہ وقت اس کے لئے منحوس ہے ، حقیقت میں مبارک عبادات ہیں اور منحوس معصیات ہیں ، الغرض منحوس ہمارے برے اعمال اور غیر اسلامی عقائد ہیں ۔
الغرض اگر کسی مسلمان کو کوئی ایسی چیز پیش آجائے جس سے خواہ مخواہ ذہن میں بدخیالی اور بد فالی کا تصور آتا ہو تو جس کام سے نکلا ہے اس سے نہ رکے اور یہ دعا پڑھے : ’’ اَللّٰہُمَّ لَا یَاتِیْ بِالْحَشَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ وْلَا یَدفَعُ بِالسِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ ‘‘(أبوداؤد:۸۹۱۹۳)یعنی اے اللہ ! اچھائیوں کو تیرے سوا کوئی نہیں لاتا اور بری چیزوں کو تیرے سوا کوئی دور نہیں کرتا اور گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت صرف اللہ ہی سے ملتی ہے ۔
بہرحال مسلمانوں کو چاہئے کہ ٹونا، ٹوٹکہ ، بدفالی ، بدشکونی اور رسوم ورواج سے سختی سے پرہیز کرے ، ورنہ خود یہ چیزیں اس کی اخروی تباہی اور اس کے تعلق مع اللہ کو کمزور کر ہی دیں گے ؛ بلکہ اس کا نقد عذاب یہ ہوگا کہ وہ ہر وقت اور ہرہر قدم پر بد فالی ، بد شگونی اور نحوست کے تصور سے ذہنی کوفت واذیت میں مبتلا رہے گا اور بے جا اپنے آپ کو پریشانیوں کا محل بنائے گا ۔
(بصیرت فیچرس)