گلبرگہ مولانا کیس میں نیا موڑ

گلبرگہ مولانا کیس میں نیا موڑ

موجودہ جج پر عدم اعتماد ،دوسرے بنچ پر کیس چلانے کی عرضی داخل
ممبئی:۱۱؍ اکتوبر ( بصیرت نیوزسروس)
انسانی جان کی بلی دینے کے الزام کے گلبرگہ وملک کے دیگر مقامات سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کے مقدمہ کی سماعت گلبرگہ خصوصی عدالت میں جاری ہے آج مقدمہ میں اس وقت ایک نیا موڑ پیدا ہو گیا جب ملز مین کے مقدمہ کی پیروی کرنے واے ایڈوکیٹ مو ہانس دیسائی نے موجودہ جج پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پرنسپل سیشن جج کے رو برو عر ضی داخل کر دی ہے۔یہ اطلاع آج یہاں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے لیگل سیل کے سربراہ ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان نے دی ہے۔
اس معاملے کی قانونی پیروی کی نگرانی کرنے والے ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان کے مطابق ۲۱؍ مئی ۲۰۱۴ میں ایک بچی کا اغواء ہوا تھا جس کی گمشدگی کی رپورٹ اس کے والد نے اسی روزشہر کے فرحت آباد پولیس اسٹیشن میں درج کرادی تھی۔ اس واقعے کے ۵روز بعد یعنی ۲۶؍مئی کو اس بچی کی مسخ شدہ لاش اس کے ہی گھر کے عقب میں ملی اور والد نے اس کی فوری رپورٹ پولیس میں درج کرادی۔ اس کے بعد پولیس نے بجائے بچی کے اغواء کنندگان یا اسے قتل کرنے والوں کو گرفتار کرنے کے اپنے طور پر اسے بلی دینے کا معاملہ قرار دیتے ہوئے بچی کے والد سمیت گلبرگہ واطراف کے ۶؍افراد کو گرفتار کرلیاتھا۔ ان گرفتار شدگان میں ۴ حفاظِ کرام، ایک مفتی اور ایک دیگر شہری شامل تھے ۔ ابتداء میں انہیں تفتیش کے نام پر غیرقانونی طور پر حراست میں لیا گیا جس کے دوران ان گرفتار شدگان پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ ان میں سے مشائخ نامی شخص کی دورانِ حراست موت ہوگئی تھی۔ پولیس نے بقیہ ملزمین پر یہ دباؤ ڈالا کہ تم لوگ اس حراستی موت کے بارے میں خاموش رہنا ورنہ بچی کی بلی دینے کا کیس تم سب پر تھوپ دیں گے۔ بالآخر وہی ہوا یعنی کہ جب ان ملزمین نے مذکورہ حراستی اموت کے بارے میں خاموش رہنے سے انکار کردیا تو بچی کو بلی دینے کا کے تحت بقیہ ۶ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا۔
اس سے قبل کیس کو ڈسچارج کرنے کے لئے جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی جا نب سے سیشن کورٹ گلبرگہ میں داخل کی گئی اپیل پر سماعت مکمل ہو چکی ہے اورعدالت نے اپنا فیصلہ ۱۲؍ اکتوبر تک محفوظ کرلیا ہے ۔اب یہ فیصلہ آج ۱۲؍ اکتوبر کو آئے گا ، جس میں امید ہے کہ عدالت مذکورہ علماء کرام کو مقدمے سے ڈسچار ج کردے گی، کیونکہ ان علماء کرام کو محض تعصب اور قتل پر پردہ ڈالنے کے لئے پولیس نے گرفتار کرکے ان پر جھوٹا مقدمہ درج کیا تھا۔
اس مقدمے کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر کررہی ہے، ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان کے مطابق یہ پورا معاملہ نہایت ہی واضح ہے، پولیس کے پاس ان ملزمین کے خلاف پولیس حراست میں اقبالیہ بیان کے علاوہ اورکوئی ثبوت نہیں ہے ، اور پولیس حراست کا ثبوت دفعہ ۲۵کے تحت عدالت میں ناقابلِ قبول ہوتا ہے الّا یہ کہ ملزم پر مکوکا یا یو اے پی اے کی کوئی دفعہ لاگو کی گئی ہو،ان ملزمین پر ایسی کوئی دفعہ لاگو نہیں ہے ۔اس مقدمہ کا ٹرائل گلبرگہ خصوصی عدالت میں جاری تھا آج یہاں وکیل دفاع نے موجودہ جج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور پرنسپل جج کے رو برو عرضی داخل کردی ہے ۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ ندیم صدیقی نے اسے پولیس کی ناکامی اور تعصب قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے حراست میں ہوئی اموات کو چھپانے اوراپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ پورا ڈرامہ رچی ہے ۔ ہمارے وکلاء نے قانونی اور واقعاتی نکات پر اس معاملے کوسیشن کورٹ گلبرگہ میں ڈسچارج عرضداشت داخل کی تھی جس پر بحث مکمل ہو چکی ہے۱۲؍ اکتوبر تک کے لئے عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جہاں سے ہمیں قوی امید ہے کہ اللہ ہمیں اس مقدمہ میںکامیابی ضرور عطا فرمائے گا۔