جامعۃ الامام محمد قاسم النانوتوی نانوتہ میں ’’حالات حاضرہ میں امت کی ترجیحات ‘‘ کے عنوان پر اجلاس کا انعقاد

جامعۃ الامام محمد قاسم النانوتوی نانوتہ میں ’’حالات حاضرہ میں امت کی ترجیحات ‘‘ کے عنوان پر اجلاس کا انعقاد

علماء کی ذمہ داری ہے کہ ہم جن حالات سے دوچار ہیں ان علمی فقدان کی وجہ سے الجھنے کے بجائے علمی طور پر چیلنجز کا مقابلہ کریں: خالد سیف اللہ رحمانی
دیوبند: 11اکتوبر (رضوان سلمانی؍بی این ایس)
جامعہ الامام محمد قاسم النانوتوی نانوتہ میں ’’حالات حاضرہ میں امت کی ترجیحات ‘‘ کے عنوان پر منعقدہ نشست میں مسلم پر سنل لاء بورڈکے سیکرٹری اور اسلامک قفہ اکیڈ می کے ورح رواںمولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہاکہ حجۃ الاسلام حضرت نانوتوی علیہ الرحمۃکا بنیادی امتیاز ہی یہ تھا کہ انہوں نے ماضی،موجودہ اور مستقبل کے حالات اور چیلنجیز کو سامنے رکھتے ہوئے دفاع عن الدین کیا،آج بھی ہم علماء کی ذمہ داری ہے کہ ہم جن حالات سے دوچار ہیں ان علمی فقدان کی وجہ سے الجھنے کے بجائے اپنے کو علمی طور پر فرود کر کے ان چیلنجیز کا مقابلہ کریں ۔انہوں نے کہاکہ احادیث مبار کہ میں علماء کرام کو ’’ورثہ الانبیاء‘‘قرار دیاگیا،علامہ مناوی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جس طرح انبیاء علیہم السلام بغیر کسی غرض اور دنیاوی فائدے کے لوگوں کے پاس جاجاکر پیغام حق سناتے اسی طرح آج ہم علماء کرام کو چاہئیے کہ ہم اپنی عوام کے پاس جائیں اور ان کے گھر گھر جاکر پیغام حق کی ترجمانی کے لئے ذہن سازی کریں تاکہ ہماری عوام معترضین کا مسکت جواب دے سکیں۔ حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ اس وقت ہر عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی حال میں امت و منتشر نہ ہونے دے اور اتحاد امت کے لئے انفرادی واجتماعی کوششیں کرکے باقاعدہ ذہن سازی کریںاورعلماء کو چاہئے کہ جگہ جگہ دار القضاء اور شرعی پنچایت قائم کی جائیں تاکہ کوئی مسلم پرسنل لاء میں مداخلت نہ کرسکے۔موجودہ مسائل اورشریعت کی مناسبت کے سلسلے میں مولانا نے کہاکہ کم علمی اور لاعلمی کی وجہ سے یہ بات بہت سے لوگوں کے ذہن میں آتی ہے کہ آج سے چودہ سو سال قبل جب اونٹوں کا زمانہ تھا اس وقت کی نازل ہوئی شریعت آج کے ترقی یافتہ دور میں اسی طرح اس فضائی خلائی دور میں کافی کیسے ہوسکتی ہے؟اس سوال پر روشنی ڈالتے ہوے کہ دراصل یہ سوال ہماری اپنی ہی کم علمی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ،کیونکہ اگر ذر ا غور کریں تو دو چیزیں ہمارے سامنے رہنی چاہئیں ،پہلی بات ایک ہیں وسائل وذرائع اور دوسری چیز ہے انسانی فطرت ،وسائل وذرائع میں تو ترقی وتبدیلی ممکن ہے،آج کسی چیز کے حصول کا ذریعہ اور وسیلہ اپنی ابتدائی شکل میں ہے ،مگر مستقبل میں اس میں تبدیلی اور ترقی ممکن ہے،دوسری چیز ہے انسانی فطرت اس میں نہ تبدیلی ہے نہ ترقی ہے،جو اللہ نے بنادی اور جس فطرت پر اس کو پیدا کردیا اگر کوئی اس سے ہٹے گا تو نقصان اٹھائے گا،مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہاکہ اسلامی قوانین سوفیصد انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہیں،اس میں کسی طرح کی تبدیلی ممکن نہیں ،اسلامی میں طلاق کا نظام بھی ان معلقہ عورتوں کے لئے رحمت ہے جن کو دیگر مذاہب کے لوگ نہ تو آزاد ہی کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی بسر کرلیں اور نہ ہی ان کو بیوی کا درجہ دیتے ہیں کہ ،ان لاچا ر خواتین کے لئے اسلام میں طلاق کا نظام رکھا گیا تاکہ کوئی عورت ظلم وستم کا شکار نہ ہوسکے،پرگرام کا آغاز مظاہر علوم سہارنپور کے استاذ قاری صلاح الدین کی تلاوت پاک سے ہوا،مولانا محمد اویس صدیقی نانوتوی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔جلسہ کی صدارت امام وخطیب جامع مسجد نانوتہ ورکن مجلس مشاورت دارالعلوم دیوبند مولانا محمد زکریا صدیقی نانوتوی نے کی اور نظامت کے فرائض جمعیۃ الامام محمد قاسم النانوتوی کے ناظم مولانا اسامہ صدیقی نانوتوی نے انجام دئیے ، پروگرام کا اختتام حضرت مولانا نجم الحسن ناظم خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کی دعا پرہوا۔