ہندوستان

ڈاکٹراے پی جے عبدالکلام کے یوم پیدائش کویوم ترغیب مطالعہ کے طورپرمنایاجائےگا

سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹراے پی جے عبدالکلام کے یوم پیدائش پر اورنگ آباد ضلع کے 9 لاکھ 36 ہزار طلباء کریں گے دستور ہند کا اجتماعی مطالعہ
اورنگ آباد:13؍اکتوبر(بصیرت نیوزسروس)
سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹراے پی جے عبدالکلام کے یوم پیدائش 15؍ اکتوبر کو حکومت ہند نے ’’یومِ ترغیب مطالعہ ‘‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس روز طلباء اسکولوں میں بغیر بستے کے آتے ہیں اور کتابوں کامطالعہ کرتے ہیں۔
اورنگ آباد ضلع کے 9 لاکھ 36 ہزار طلباء 15 اکتوبر کو سابقہ صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی یومِ پیدائش پر دستور ہند کا مطالعہ کریں گے. اس طرح کی اطلاع اورنگ آباد ضلع ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر بی بی چوہان نے دی ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضلع کے پہلی تا بارہویں تک کے 9 لاکھ 36 طلباء اجتماعی دستور ہند کا مطالعہ کریں گے اور اس روز اسکول میں تعلیم بغیر بستے کے ہوگی. واضح رہے کہ یکم اکتوبر کو مہاراشٹر حکومت نے یہ احکامات جاری کئے تھے. جس کے رو سے بڑے پیمانے پر یہ دن منانے کی تیاریاں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے ریڈاینڈ لیڈ فاؤنڈیشن اورنگ آباد کی جانب سے شہرمختلف اسکولوں میں گزشتہ کئی سالوں سے یہ پروگرام منعقد کیاجارہاہے ۔
آج الہدی اردوہائی اسکول میں طلباء کے لیے شائع ہونے والے اردو رسائل و جرائد کا تعار ف کراتے ہوئے فاؤنڈیشن کے صدر مرزاعبدالقیوم ندوی نے کہا کہ اردو زبان و ادب کو فروغ دینے اور آپ کے اندر تعلیمی و تحریری ،تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے ملک کے مختلف شہروں سے اعلی و معیاری اردو رسائل وجرائد شائع کیے جاتے ہیں۔جن میں ماہنا مہ بچوں کی دنیا، گل بوٹے ، امنگ، اچھا ساتھی، جنت کے پھول،گلشن اطفال ،ہندی ،انگریزی میں بہت سار ے بچوں کے رسالے شائع ہوتے ہیں ان میں چمپک بہت ہی اچھا رسالہ ہے۔ اسی طرح مرزاعبدالقیوم ندوی نے یہ بھی کہا کہ اردو اخبارات میں بھی بچوں کے لیے علحیدہ صفحات ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ اس موقع پر اسکول کی صدر معلمہ شیخ نرگس باجی،معلمہ خالدہ باجی،عائشہ باجی،شرین باجی اورندیم بھائی موجود تھے۔
اس قبل فاؤ نڈیشن کے ذریعہ یومِ اساتذہ،یو مِ آزادی ،مہاتماگاندھی کے یومِ پیدائش پر شہر کے مختلف اسکولوں میں کتابیں تقسیم کرچکاہے۔
مرزاعبدالقیوم ندوی نے ہمارے نمائند ے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہہ جو بھی مہم چلاتے ہیں اس کے پیچھے ہمارا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ ملک میں لاکھوں لائبریریاں ہیں جن میں کروڑو ں کتابیں ہیں ان کتابوں کا مستقبل کیاہوگا۔؟فی زمانہ صورتحال یہ ہے کہ نہ توہمارے اساتذہ کتابیں پڑھتے ہیں اور نہ ہمارے گھروں میں مطالعہ اورکتابوں کے خریدنے کا ماحول ہے۔ اگر ہم نے آج نئی نسل میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی تو وہ سارے علمی ذخیرے جوکتابوں کی شکل میں موجود ہیں ضائع ہوجائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایاکہ ہم اورنگ آبادشہر کے مختلف اسکولوں میں پہنچ رہے ہیں ،طلباء میں کتابیں تقسیم کررہے ہیں اور ان کے سامنے کتابوں کی اور مطالعہ کی اہمیت کو واضح کررہے ہیں ۔ ہم نے ہماری مہم’’چلوملتے ہیں کتابو ں سے‘‘ کے تحت اب تک 5000ہزارکتابیں مفت تقسیم کی گئیں۔
یہ کہنا کہ بچے پڑھتے نہیں یہ سراسربچوں پر الزام ہے۔ہم کوشش میں کم پڑرہے ہیں،ہمارے اسکولوں میں خارجی مطالعہ پر کوئی زورنہیں دیا جارہاہے ۔ہزاروں اسکول ایسے ہیں جہاں کوئی لائبریری نہیں ہے۔طلباء کودرسی کتابوں کے علاوں غیر درسی کتابوں کاعلم ہی نہیں ہے۔اس کے لیے ضرو ری ہوگیا ہے کہ اسکولوں میں ایسے پروگرام منعقدکیے جائیں جن برائے راست تعلق کتابوں سے ہو۔
فاؤنڈیشن کی جانب سے سال گزشتہ شہرکے اسکولوں میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی زندگی پر شائع ماہنامہ بچوں کی دنیا کا خصوصی شمارہ طلباء میں تقسیم کیا گیا تھا۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker