مضامین ومقالات

گجرات سے اتربھارتی بھگائے جارہے ہیں اور مودی خاموش ہیں! 

چودھری آفتاب احمد
(سابق وزیر حکومت ہریانہ)
انگریزوں کی غلامی سے ملک کو آزاد کرانے کی تحریک میں انقلاب کے جو نعرے لگتے تھے،وہ کسی ریاست کی آزادی اور خود مختاری کے لئے نہیں ہوتے تھے،بلکہ وطن عزیز کو آزاد کرانے اور ایک ایسا وفاقی ملک تشکیل دینے کے لئے ہوتے تھے،جس میں ریاستوںکو ضم کر کے ایک بھارت یونین ملک بنانے کا تہیہ ہوتا تھا،انقلاب کے نعرے ملک کے ہر باشندے میں انگریز حکومت کے خلاف جوش بھرنے نیزانگریزوں کو ملک چھوڑنے کا انتباہ دینے کے لئے ہوتے تھے،آزادی کی لڑائی کے دوران ہندوستانی ریاستوں پر مشتمل اپنے ملک کو آزاد دیکھنے کے خواب دیکھتے تھے،وہ چاہتے تھے،کہ حکومت کی باگ ڈور ہندوستانیوں کے ہاتھ میں آ جائے،تاکہ ایک نئے آئین کے ساتھ ہندوستان دنیا کے نقشہ پر جمہوری ملک بن کر مثال قائم کر ے، اس ملک میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں،اور ہندوں مسلمان سمیت تمام مذاہب کے ماننے والے مل جل کر حکومت چلائیں،
انقلاب زندہ آباد کا نعرہ کامیاب ہوا،ملک آزاد ہوا،ریاستوں کی تشکیل ہوئی،مرکز میں وفاقی حکومت قائم ہوئی،حکومت چلانے کا جو جمہوری نظام بنا وہ واقعی دنیا کے لئے مثالی نظام تھا،دنیا نے اس نظام کو سراہا ،ریاستوں کو چلانے کے لئے وہاں لیجسلیچراسمبلیاں اور وفاقی حکومت کے لئے پارلیمنٹ قائم ہوئی،بعض چھوٹی ریاستیں ایسی بھی تھیں،جنہیں وفاقی یعنی مرکزی حکومت کے تحت رکھا گیا،ریاستوں کی تشکیل میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کا اہم کردار رہا ہے،سردار ولبھ بھائی پٹیل کا تعلق ریاست گجرات سے تھا،جس گجراتی مرد آہن نے زبانوں اور بولیوں کی بنیاد پر ریاستوں کی تشکیل کی تھی،آج اسی گجراتی مرد آہن کی ریاست گجرات کے باشندے گجرات سے بہار اور اتر پردیش کے مزدوروں کو نعرے لگا لگا کر اس طرح سے پیٹ پیٹ کر گجرات سے بھگا رہے ہیں،گویا گجرات ایک الگ ملک ہو اور اس ملک میں یہ مزدور غیر قانونی داخل ہوے ہوں،کتنے افسوس کی بات ہے،کہ جس گجراتی نے ہر ریاست کو برابر کا درجہ دیکر ملک کو مضبوطی دینے کا قابل تعریف کام کیا،آج وہی گجرات بہاراور اتر پردیش کے غریب مزدوروں کو گجرات سے باہر بھگا رہا ہے،
اتر پردیش،بہار سمیت ملک کی دوسری ریاستوں کی عوام نے گجرات کو خاص اہمیت دی ہے،بابائے قوم مہاتما گاندھی،سردار ولبھ بھائی پٹیل،مورارجی دیسائی ا ور اب نریندر بھائی مودی کو اپنا قائد بنایا ہے،شاید گجراتی بہت جلدی بھول گئے،کہ نریندر مودی کو اتر پردیش کی عوام نے ہی بنارس سے ممبر پارلیمنٹ بناکر دہلی بھیجا ہے،کہاں وہ انقلاب زندہ آباد کے نعرے؟ اور کہاں یہ گجرات کی زمین پر یوپی بہار کے بھیوگجرات سے بھاگو کی آوازیں اٹھ رہی ہیں،کیا مجاہدین آزادی نے ایسے ہی جمہوری بھارت کا خواب دیکھا تھا،افسوس تو یہ ہے، وزیر اعظم خاموش ہے،بی جے پی چپ ہے،جیسے دنگائیوں کی پشت پناہی کی جا رہی ہے،اگر خاموشی ٹوٹی بھی ہے تو وہ بھی کانگریس پر الزام لگانے کے لئے،
وفاقی ملک میں علاقائی عصبیت کا یہ معاملہ نیا نہیں ہے،اس سے پہلے بھی مہاراشٹر،کرناٹک،آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں یوپی ،بہار اور بنگال کے مزدوروں پر مظالم ڈھائے گئے ہیں،اور انہیں دراندازوں کی طرح نکالا گیا ہے،حالانکہ ان مزدوروں کی محنت سے وہاں کی صنعت اور زراعت میں بڈا فائدہ ہوتا ہے،اس سے ریاستی معیشت میں سدھار آتا ہے،دوسری ریاستوں میں مزدوری پر جانا ان کی مجبوری ہوتی ہے،کیونکہ ان کی ریاستوں میں ان کے لئے کام نہیں ہے،یہ قصور وہاں کی حکومتوں کا ہے،کہ آزادی کے 70سال بعد بھی ان کے کام کے لئے وسائل پیدا نہیں کئے گئے،ان ہی مزدوروں کے آبائواجداد نے آزادی کی لڈائی میں انقلاب زندہ آباد کے نعرے لگائے ہوںگے،کتنے افسوس کی بات ہے،کہ آج ان ہی کی اولادوں کو اپنے خلاف عصبیت کے نعرے سننے پڈ رہے ہیں،وہ بھی اپنے ہی ملک میں جیسے غیروں کے دیش میں آگئے ہوں،
ہم ہندوستانی بھارت کو متحد اور سیکولر بنانے کی بات تو کرتے ہیں،مگر علاقائی پارٹیاں ایسی باتوں پر چوٹ کرتی ہیں،یہ علاقائی پارٹیوں کے لیڈروں کی ہی کرتوت ہے،کہ لوگ ہندوستانی ہونے پر فخر کرنے کی بجائے خود کی پہچان اپنی ریاست سے کراتے ہیں،جب سے علاقائی پارٹیاں وجود میں آئی ہیں،تب سے ہی علاقائی عصبیت بڈھ رہی ہے،آج گجرات میں نعرے لگ رہے ہیں،کہ گجرات گجراتیوں کے لئے اور شمالی بھارتیوں کو باہر بھیجو،گجرات میں بہار اور اتر پردیش کے غریب مزدوروں کو بے رحمی سے پیٹا جا رہا ہے،ان پر حملے کئے جا رہے ہیںاور دھمکیاں دی جا رہی ہیں،کہ اگر انھوں نے گجرات نہیں چھوڑا تو انھیں مارا اور کاٹا جائے گا،ڈر کے مارے ان مزدوروں اور کاری گروں نے گجرات سے انخلاء شروع کیا ہوا ہے،ریلوے اسٹیشنوں کے منظر تقسیم وطن کی یاد دلا رہے ہیں،جب پنجاب اور بنگال میں لوگ ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے،
علاقائی سیاست کی ابتداء 60 کی دہائی میں یوں تو تامل نڈو سے درمک پارٹی کی تشکیل سے ہوئی تھی،لیکن اس کے بعد مہاراشٹر میں علاقائی عصبیت نے اپنا سر تب اٹھایا ،جب کارٹونسٹ بال ٹھاکرے نے مراٹھی مانش کا نعرہ دیا،انھوں نے علاقائی پارٹی شیو سینا بنائی،شیوسینا نے غیر مراٹھیوں کے خلاف مہم چلائی ،سب سے پہلے اس مہم کا شکار جنوبی ہند کے مزدور بنے ،ان مزدوروں کو بمبئی میں لنگی والا کہا جاتا تھا،یہ لوگ لنگی باندھتے تھے،اس کے بعد گجراتیوں کا نمبر آیا،پھر شمالی ہند بہار اور اتر پردیش کے مزدوروں پر حملے شروع ہوئے،بال ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا نے کہا ،کہ بمبئی میں 28؍فیصد مراٹھی رہتے ہیں،باقی سب باہری ہیں،انھیں یہاں سے چلے جانا چاہئے،70کی دہائی میں آسام میں بنگالیوں کے خلاف تحریک شروع ہوئی،یہاں آل آسام اسٹوڈینٹ یونین نے بنگالیوں کو باہری اور غیر ملکی بتا کر ان پر حملے کئے،بعد میں اسی تحریک سے آسام گن پریشد نے جنم لیااور انتخاب جیت کر آسام میں حکومت بنائی،2003میں آسام میں ایک اور بڈی تحریک نے ہندی بولنے والوں پرظلم و تشدد کی انتہا کردی ،اس تحریک میں 52بہاریوں کو محض اس لئے ہلاک کردیا گیا،کیونکہ وہ ہندی بولنے والے غیر ریاستی تھے،اس تحریک کی قیادت الفا اور آل بوڈو اسٹوڈینٹ یونین نے کی،دراصل بہار سے 20ہزار طلبا گواہاٹی میں ایک سرکاری بھرتی میں امتحان دینے کے لئے گئے تھے،اسمی نہیں چاہتے تھے کہ وہ یہاں سرکاری نوکری کے لئے امتحان دیں،اسمیوں نے نعرہ دیا سبھی ہندی بولنے والے آسام چھوڈو،اس کے جواب میں بہاریوں نے نعرہ دیا اسمیوں کو پکڈوں اور مارو،شمال مشرقی ریاستوں ناگالینڈ اور منی پور کی علاقائی تنظیمیں بھی باہری لوگوںکو اپنی ریاستوں سے نکالنے کے لئے تحرک چلا رہی ہیں،
علاقائی سیاست کو بڈھاوا دینے میں ہمارے لیڈر پیچھے نہیں رہے ہیں،تامل ناڈو میں درمک اور مہاراشٹر میں شیو سینا کی تشکیل کے علاوہ اترپردیش میں سابق وزیر اعظم اور کسان لیڈر چودھری چرن سنگھ نے کسانوں کے لئے جنتا پارٹی اور ہریانہ میں سابق نائب وزیر اعظم چودھری دیوی لال نے لوکدل کی تشکیل کی ،پنجاب میں سابق وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل نے سکھوں کی قیادت کے لئے اکالی دل بادل نام کی پارٹی بنائی،آندھرا پردیش میں این ٹی رامارائو نے تیلگودیشم،اڈیسہ میں نوین پٹنائک نے بیجو جنتا دل،اتر پردیش میں کانشی رام نے دلتوں کی قیادت کے لئے بہو جن سماج پارٹی تو ملائم سنگھ نے سماج وادی پارٹی بنائی، بہار میں جنتادل سیکولر اور جنتادل یونائٹڈ وجود میں آئیں،جھار کھنڈ میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ بنی تو بنگال میں ممتا بینرجی نے ترن مول کانگریس کی تشکیل کی، مہاراشٹر میں شرد پنوار نے نیشنل کانگریس پارٹی بنائی،ان کے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں میں بھی کئی علاقائی پارٹیاں وجود میں آئیں،ان سب علاقائی پارٹیوں کا ایک ہی نعرہ تھا،ہم مقامی ہیں،اپنے یہاں ہمیں ہی حکومت کرنی چاہئے ،ان پارٹیوں کی وجہ سے علاقائیت نے جنم لیا، ور مقامی لیڈروں کی بیان بازیوں سے مقامی لوگوں میں غیر مقیم لوگوں کے لئے تعصب بڈھتا چلا گیا،آج حالات یہ ہوگئے ہیں،کہ ریاستی باشندے خود کو ہندوستانی نہ سمجھ کر اپنی ریاست سے منسوب بتا تے ہیں،اور ایک دوسری ریاست کے باشندوں کے خلاف زہر افشانی پر اتر آتے ہیں،یہ زہر افشانی کئی مرتبہ تشدد کا روخ بھی اختیار کر لیتی ہے،ان میں سے کچھ پارٹیوں نے اپنی ریاستوں میں حکومت کرنے کے علاوہ مرکز میں بھی اپنی عوام اور ریاست کی قیادت کی ہے،تاہم یہ پارٹیاں علاقائیت کے ایشو کو نہ چھوڑپائیں،
گجرات کا معاملہ حالانکہ اس سے مختلف ہے،وہاں کوئی علاقائی پارٹی نہیں ہے،لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا،کہ ان لوگوں کے اندر تعصب وہاں کے مقامی لیڈروں نے ہی پیدا کیا ہے،سوال پیدا ہوتا ہے،کہ آزادی کی لڑائی میں مجاہدین آزادی نے جس وفاقی ملک ہندوستان کا تصور کیا تھا،کیا ہم اس ہندوستان کی سالمیت کو برقرار رکھ پارہے ہیں؟
(بی این ایس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker