شعر و ادبمضامین ومقالاتمیزان بصیرت

شمس الدین قمر کی شاعری ’’خوشبوؤں کا سفر‘‘ کی روشنی میں

شاہد اقبال
( ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی، دہلی)

شمس الدین قمر چمپارنی صوبہ بہار کے ضلع مشرقی چمپارن کے ایک گاوں کلواری مظہریہ میں 1955 میں پیدا ہوئے۔آپ کو ایام طفولیت سے ہی لکھنے پڑھنے کاشوق تھا،ابتدائی تعلیم گاوں کے مدرسہ سے حاصل کی ۔مگر گھریلو حالات کی وجہ سے آپ تعلیم مکمل نہیں کرسکے اور بہت جلد’’ شغل خیاطی‘‘ اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔مگر خدا نے آپ کو بچپن سے ہی ذہین بنایا تھا اسی لے دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ لکھنے پڑھنے سے وابستہ رہے اور شاعری میں طبع آزمائی کرتے رہیں۔مطالعے کا شوق و جنون آپ پر اس قدر حاوی ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے علم شعر ،اسلامی تاریخ،اور نجوم حکمت پر عبور حاصل کر لیا ۔فی الوقت آپ مشرقی یوپی کے شہر مئو ناتھ بھنجن میں کپڑے کے کاروبارسے منسلک ہیں مگر آج بھی پہلی ترجیح شاعری ہے۔’’خوشبووں کا سفر‘‘آپ کا واحد شعری مجموعہ ہے جو جون 2013 میں منظرعام پر آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مجموعہ عام و خاص کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہو ا۔ آپ کا دوسرا مجموعہ امروز فردہ منظر عام ہونے والا ہے ۔
شمس الدین قمر کی شاعری عہد حاضر کے تقاضے سے پرے ہے ۔مقدمہ شعر وشاعری میںحالی نے شاعری کے لیے جو شرطیں بتائی ہیں ان میں ایک مطالعہ کائنات بھی ہے جس سے شاعر اپنے لئے خام مواد تیار کرتا ہے اور یہ بہت ضروری ہے شاعر کو ہمیشہ کائنات کے ہر چھوٹے بڑے واقعات پر نظر رکھنی چاہئے۔’’ خو شبووں کا سفر‘‘کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نظریں ہر چھوٹی بڑی حادثات پر رہتی ہے خوصوصاً ہندوستان کی بات کریں تو انہوں نے بہت ہی فنکارانہ طور پر ہندوستان اور یہا ںکے مسلمانوں کے مسائل کو اپنی شاعری میں جذب کرنے کی کوشس کی ہے۔ان کی شاعری میں موجودہ دور کی سیاست ،عوام کے مسائل،تہذیبوں میں انتشار اور معاشرے کی بدحالی وغیرہ پر بہت سے اشعار ملتے ہیں ۔ آج ہم جس دور میں ہیں وہ دور دراصل بہت پر فتن اور ہنگامہ خیز ہے ۔اب انسان ایک دوسرے پر یقین کرنے سے کوسوں دور بھاگ رہا ہے ہر چیز سیاست کی زد میں ہے۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی وغیرہ سب اس سے متاثر نظر آرہے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں عوام کو ہندو مسلم کے نام پر دو گروپ میں بانٹ رہا ہے۔آئے دن مذہب کے نام پر فساد اور ہنگامہ برپا کیا جا رہا ہے ۔شمس الدین قمر جو کہ بہت ہی حساس شاعر ہیں وہ ان سب اتھل پتھل کو کس طرح اپنی شاعری کا حصہ نہیں بناتے ہیںوہ لائق مطالعہ ہے۔ انہوںنے ہندوستانی سیاست کے بدلتے رنگ کو کچھ اس طرح پیش کیا ہے:
خوف سب کے دل میں ہے دارو گیر کا یارو
کون ا ب حکومت کو آئینہ دکھا ئے گا

ہو جہاں فسادوں میں ہاتھ بھی محافظ کا
پھر کوئی فسادوں کی آگ کیا بجھائے گا

اسی طرح اور بھی بہت سے اشعار ہیں جس میں قمر صاحب نے حکومت کے بھیانک کھیل کو عیاں کرنے کی کوشس کی ہے ۔ہندوستان دنیاں کا واحد ملک ہے جہاں کئی مذاہب کے لوگ ایک ساتھ مل کر رہتے ہیں مگر ادھر کئی سالوں سے سیاست کی گندی چال نے گنگا جمنی تہذیب میں انتشار کر دیا ہے ایک شعر ملاحظہ ہو:
بہہ گئی ساری اخوت نفرتوں کی باڑھ میں
اس طرح آئی سیاست میں ہے طغیانی یہاں

اردو غزل کی تاریخ میں چند ایسے نام ہوںگے جنھوں نے شاعری کے ذریعہ عوام کو بیدار کرنے میں کامیاب ہوئے ہوں۔ہاں! نظموں کے ذریعے توعوام کو بیدار کرنے کی بہت کوشس کی گئی ہے جن میں اکبرالہ آبادی،علامہ اقبال اور جوش ملیح آبادی کا نام سر فہرست ہیںجنھوںنے اپنے دور کے مسائل کو شاعر ی کے ذریعہ لوگوں کوبیدار کیا ہے۔خاص طور پر اقبال نے مسلمانوں کے پست حال دلوں کے اندر جنبش پیدا کرنے کی کوشس کی ہے ۔شاعری میں پیغام کوڈھالنا بہت مشکل کام ہے کیوں کہ پیغام کے چکر میں شعر کی شعریت ختم ہو جاتی ہے مگر شمس الدین قمر کی غزلوں میں جس طرح سے پیغام جذب ہے اور شعر کی شعریت بھی برقرارہے وہ قابل دید ہے اکیسویں صدی میں مسلمان سب سے بدنام قوم ہو گئی ہے۔ہر جگہ مسلمانوں پہ نئے نئے الزامات عائد کر کے ان پر ظلم وستم ڈھائے جار ہے ہیںاور اس کی ذمہ دار خود مسلم ہیں۔ان تمام مسائل کو قمر صاحب نے اپنی شاعری میں پیش کیا ہے اور اپنی قوم سے کچھ اس انداز میں مخاطب نظر آتے ہیں:
قمر جو وقت کے تیور کو ہم سمجھ پاتے
ہمارے حال بھی کب کے سنور گئے ہوتے

ہر طرف سے آ رہی ہے یہ صدا
وقت کے توساتھ ساتھ چلتا کیوں نہیں

ہو جائیں ایک ہم تورہیں سب سے کامیاب
افسوس تو یہی ہے کہ یہ سوچ مر گئی

جب ہم میں اتحادواخوت نہیں قمر
پھر کیا مٹے گی ہم سے ستمگر کی آبرو

مردہ دلی کے ہو گئے ہو تم ہی جب شکار
تم سے نہ اب بچے گی گل تر کی آبرو
مذکورہ بالا اشعار سے قمر صاحب کے فکر کا اندازہ ہوتا ہے ۔ان کی نظریں ہندوستان کی سیاست ،قوم کی زبوںحالی وغیرہ پر رہتی ہے ۔اس وقت مسلم قوم جس طرح سے انتشار کا شکار ہے ،ایسا پہلے شائد ہی ہوا ہو۔ مسلک کے نام پر ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوے ہیں جس کا فائدہ دوسرے قوم کے رہنما اٹھا رہے ہیں۔ اسی لے شاعر یہا ںیہ کہنے پر مجبور ہوا ہے کہ جب ہم میں اخوت و محبت نہیںہے تو پھر ستمگر کی آبرو کیسے مٹے گی ۔دوسرے نظرئے سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قمر صاحب نے مسلمانوں کے اندر بیداری پیدا کرنے کی کوشس کی ہے اور یاد دہانی کی ہے کہ تم کیا تھے ،تمھارا ماضی کیا تھا ۔قمر صاحب کی شاعری کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ جب بھی اس طرح کے اشعار کہتے ہیں تو ان کی زبان تلخ ہو جاتی ہے کیوں کی قوم کی محبت ان کے سامنے آ جاتی ہے۔
شمس الدین قمر کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ صرف سماج کے اندر ہو رہے انتشار کی نشاندہی ہی نہیں کرتے بلکہ اس کی وجہ کی طرف بھی ذہن راغب کراتے ہیں یہ بات صد فیصد درست ہے کہ جس قوم کے اندر اچھے اور ایماندار رہبر یا سیاست داں ہوتے ہیں وہ قوم ترقی کی طرف گامزن رہتی ہے اور اگر قوم کے اندر اچھے رہبر نہیں ہوتے تو وہ قوم یقینا پست حالی کی طرف چلی جاتی ہے ۔موجودہ دور کی بات کریں تومسلما ن اس قت ہر اعتبار سے کمزور نظر آ رہا ہے۔اس حوالے سے قمر صاحب کچھ اس طرح اپنے قوم سے روبرو ہوتے ہیں:
اسے میں کیسے قیادت کا اہل گردانوں
جو اپنی قوم کو اک انقلاب دے نہ سکا

قیادت کی کمی نے بے سہارا کر دیا ہم کو
کبھی سوچا نہ تھا اس بات کا بھی سامنا ہوگا

وہ رہبر ہے کہ رہزن ہے کروں یہ فیصلہ کیسے
جسے کار خرد مندی میںڈوبا سر بسر دیکھوں

قمر صاحب کی شاعری ان کی داخلی کیفیات سے لبریز ہے ان کے یہاں تصور نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ حقیقی زندگی سے متعلق ہے ۔جو دیکھتے ہیں وہی کہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں انسانی لاچاری اور مجبوری ،قوم سے ہمدردی ،مشرقی تہذیب سے لگاو ملتا ہے۔ ان کے اشعار سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قوم کے مکار رہبر سے خفا ہیں۔اس لے کہ وہ ان کی مکاری سے واقف ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ لوگ کیسے مسلما نوں کا استحصال کر رہے ہیں ۔اس وقت ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو قوم کے مردہ دل میں انقلاب پیدا کرے ۔
قمر صاحب نے بھی غالب اور اقبال کی طرح انسانی مسائل کی گتھیوںکو سلجھانے کی کوشس کی ہے ۔آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں انسانیت ،آدمیت یا احترام آدمی ،وفا اور محبت ،بھائی چارگی اور شعروشاعری حاشیے پر سسک رہی ہے۔انسان ظاہری میں کچھ اور باطن میں کچھ اور ہے۔اس دور میں کب کیا ہو جائے کب کون کس کا قتل کر دے یہ سب اس دور کا اہم مسئلہ ہے ۔اصل میں انسان ایک سماجی جانور ہے مگر جس انسان کے اندر مفاد پرستی آ جاے اور بغض و کینہ آجاے تو وہ اپنی ذاتی مفاد کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے یعنی کے انسان کو سمجھنا آسان کام نہیں ہے کیوںکہ ایک انسان میں کئی طرح کے انسان موجود ہیں۔اسی لیے غالب کو یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ’’آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا ‘‘،جب کہ دوسری طرف اقبال کہتے ہیں کہ’’ اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے‘‘،اسی طرح ندا فاضلی کو بھی یہ کہنا پڑا کہ’’ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی‘‘یعنی انسان کی حقیقت کیا ہے اس کے حوالے سے قمر صاحب نے بھی اس فلسفیانہ موضوع پر اشعار کہے ہیں اور انسانی فطرت کو سمجھنے سمجھانے کی کوشس کی ہے:
مجھ سے پوشیدہ بھی کچھ رنگ ہے میرے اندر
اپنا چہرہ کئی چہروں میں بدلتا دیکھوں

ایک چہرے پر کئی چہرے کا ہوتا ہے گمان
ہر کسی سے دل لگانا ہوگی نادانی یہا ں

دوسری طرف شاعر انسانوں کے بدلتے ہو ے چہروںکے تعلق سے کچھ اس انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے نظر آ رہاہے:
سجاتے ہیں جو یاں چہرے پہ چہرا
میں ان پر خاک ملنا چاہتا ہوں

پہلے والے شعر میں شمس الدین قمر خود کی شناخت کو لے کر حیراں نظر آ رہے ہیں یعنی شاعر کے نردیک انسان اپنے آپ میں ایک معما ہے جو آسانی سے سمجھ میں نہی آسکتا۔دوسرے شعر سے ان کے انقلابی تیور کا اندازہ ہوتا ہے۔ شاعر بہت حساس ہوتا ہے اس لئے وہ ان تمام چہرے کو جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں ان پر خاک ملنے کی بات کر رہا ہے، کیو ں کہ قمر صاحب کو معلوم ہے کہ یہ چہر ے انسانیت کہ لئے بہت مضر ہے ۔اچھی شاعری وہ ہوتی ہے جو ایک بار معنی دینے کے بعد بھی زندہ رہے یعنی کہ بین المتنیت کی خوبی پائی جاے اور قمر صاحب کی شاعری میں اس طر ح کے اشعار بہت ہیں ۔قمرصاحب کی شاعری کہ تعلق سے پروفیسر مولا بخش کچھ اس طرح رقم طراز ہیں:

’’قمر صاحب کی غزلوں میںبھی ایسے اشعار نظر آتے ہیںجنھیں پہلی قرآت کی شاعری کے زمرے میں نہیںرکھا جا سکتا‘‘( ص4)

مولا بخش صاحب کی باتوںمیں کافی صداقت ہے کیوں کہ جب ہم ان کی شاعری کا مطا لہ بغور کرتے ہیں تو معلوم چلتا ہے کہ ان کی شاعری میں کئی معنی پوشیدہ ہیں ۔سیاسی وقومی شاعری سے پرے ان کی جب عشقیہ شاعری کا مطا لعہ کرتے ہیں تو یہا ں بھی وہ دیگر شعرا سے مختلف نظر آتے ہیں ۔ ان کے یہاںعشق کی ایک الگ کیفیت ہے ۔قمر صاحب معشوق کی بے فائی پر آہ و بقا نہیں کرتے بلکہ اس کی غلطیوں کی نشادہی کرتے ہیں اور وہ بھی احساس برتری کے ساتھ، شعر ملاحظہ ہو:
چھوڑ کے تنہا مجھے جب ہو گئے اوروں کے تم
پھر تمھارے پیار کے بارے میں کیا سوچا کروں۔

پیار تو سب ہی زمانے میں کیا کرتے ہیں
میرے کیوں ہوش ٹھکانے نہیں پاگل کی طرح۔

گزر گئے ہیں وہ جدھر سے کہکشاں کے روپ میں
جہاں جہاں تھی تیرگی، وہاں پہ شمع جل گئی۔
یہ تمام اشعار قاری کو بار بار قرآت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

قمر صاحب کی شاعری کا ایک فن یہ بھی ہے کہ یہ اپنی غزلوں میں مخاطب اور خود کلامی کرتے ہیں جو کسی زمانے میں اردو شاعری کا ایک اہم شاعر اخترالایمان کیا کرتے تھے ،جس کی وجہ سے ان کو تیسری آواز کا شاعر بھی کہا جاتا تھا۔قمر صاحب کی زیادہ تر غزلوں میں اس طرح کی خوبیاں پائی جاتی ہیںجو ایک شاعر ہونے کے ناطے بہت اہم ہے۔
مختصر یہ کہ قمرصاحب کی شاعری میںمنظر نگاری، نئے نئے تشبیہات ،استعارے، دلکش اسلوب اور ایک نئے انداز بیان ملتا ہے جو ان کو انہیں ان کے ہم عصروں سے منفرد کرتا ہے۔ ساتھ ہی ان کی شاعری عصری تقاضے کو اپنے اندرجذب کرنے میں کامیاب نظر آ تی ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker