Baseerat Online News Portal

ایک سے زیادہ نکاح مسلمانوں سے زیادہ غیرمسلموں میں ہے

  ضرورت کے وقت اور عدل کی شرط کے ساتھ مردکے لیےایک سے زیادہ نکاح کرنے کی گنجائش ہے، ترغیب نہیں

مسلم پرسنل لاپرعمل کرناہرحال میں واجب ہے۔چاہے مسلمان دنیاکے کسی بھی خطہ میں رہے۔

 آئیے مسلم پرسنل لاسیکھیں  کے تحت جاری محاضرہ میں علماء کرام کااظہارخیال

ممبئی:30؍اکتوبر(بصیرت نیوزسروس)

آئیے مسلم پرسنل لاسیکھیں کے عنوان سے سلسلہ وارمحاضرات کابارہواں موضوع ایک  سےزائدنکاح کے احکام ومسائل پرگزشتہ اتوارکو جناب مفتی مطیع الرحمٰن قاسمی نائب قاضی شریعت دارالقضاء آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈناگپاڑہ ممبئی نےبلال اسکول نزدبلواس ہوٹل مولاناشوکت علی روڈ، گرانٹ روڈایسٹ ممبئی میں تفصیلی محاضرہ پیش کیا، جس میں آپ نے بتایاکہ بیک وقت ایک سے زائدنکاح ہرقوم اورہرمذہب میں رہاہے، اوریہ فطرت انسانی کے مطابق ہے، یہی وجہ کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبرحضرت داؤد، حضرت سلیمان،حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اوراخیرمیں حضرت محمد ﷺ نے ایک سے زیادہ نکاح کئے، انھوں نے مزیدبتایاکہ غیرمسلموں کی محترم شخصیات جن میں سے بعض تو ان کے نزدیک بھگوان کی حیثیت رکھتے   ہیں مثلامہاراجہ دشرت،راجہ پانڈو،سنگرم سنگھا، راجہ رائے سین وغیرہ کی ایک سے زیادہ بیویاں اوررانیاں تھیں،شری کرشن جی  کی  توسولہ ہزاررانیاں تھیں،مفتی صاحب نے مزیدبتایاکہ یہ تو اسلام ہے جس نے اس کی حدبندی کرکے چارسے زیادہ کو منع کردیا،اس کے اصول وضوابط بیان کئے کہ ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان عدل وانصاف کرناواجب ہے،ورنہ ایک ہی  بیوی پر اکتفاء کرنے کاحکم دیا،انھوں نے مزیدبتایاکہ ایک سےزیادہ نکاح کرنے کی اسلام میں صرف گنجائش ہے ترغیب نہیں،چنانچہ قرآن کریم اوراحادیث مبارکہ میں اس کی تفصیلات مذکورہیں،مفتی صاحب نے کہاکہ ہندوسان میں ہندومیرج ایکٹ١٩٥٥ء کےمطابق شادی شدہ ہندومرد کو دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں۔یعنی اگر کوئی ہندودوسری شادی کرتاہے تو یہ غیرقانونی ہے،اس کے خلاف مقدمہ درج ہوسکتاہے، اورآئی، پی، سی،کی دفعہ ٤٩٤اور٤٩۵ کے تحت کارروائی ہوگی۔اورسات یادس سال تک کی سزا ہوسکتی ہےاورجرمانہ بھی لگ سکتاہے۔اس کے باوجود ہندؤں میں دوسری یاتیسری شادی کارواج بھی ہے اوراس کاتناسب بھی  مسلمانوں کے مقابلہ میں  زیادہ ہے، چنانچہ١٩۶٩ء میںThe Indian Statistical Institute کے ایک محقق نےسروے کیااوررپورٹ دی  جوہندوستان ٹائمس میں شائع ہوئی تھی،وہ یہ ہے کہ  غیرمسلموں میں کثرت  ازواج کی شرح٢.۷ فیصد ہے،جب کہ مسلمانوں کوقانونی اعتبارسے ایک سے زیادہ بیوی چارتک رکھنے کی اجازت ہے اس کے باجود مسلمانوں میں اس کاتناسب بہت کم  ہےیعنی ان کے یہاں تعددازدواج کی شرح محض ٣١.٤ہے۔پھر بھی مسلمانوں  کے ساتھ لعن طعن کرناان پر بھی پابندی لگانے کی کوشش کرناکہاں تک رواہے؟ انھوں نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کہ باہمی رضامندی سے دوسرے کی بیویوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کئے جاسکتے ہیں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ تو پھر وہ خواتین جن کاابھی  نکاح نہیں ہواہےیاوہ بیوہ یامطلقہ ہیں ان کو بیوی بناکرعزت واحترام کےساتھ اپنے گھرمیں لانااوران کے سارے حقوق کو اداکرناکیوں کرغلط ہوسکتاہے؟

عورت کے لیے بیک وقت ایک سے زیادہ شوہررکھنے کے تعلق سے محاضرہ کے کنوینرجناب مفتی محمد فیاض عالم قاسمی نے کہاکہ یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے،اورکسی بھی زمانہ میں اورکسی بھی سماج میں اس کاتصور بھی نہیں رہاہے،ایک مرد اپنی بیوی کی ساری کوتاہیوں کو برداشت کرسکتاہے مگراس کی بیوی  کاتعلق کسی دوسرے مرد سےہو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرسکتاہے، انھوں نے کہاکہ ایک عورت کاصرف ایک  ہی شوہرکے پاس رہنااس کی عصمت وعفت  اورعزت وقارکاضامن ہےاور اس کاکئی مردوں کی بیوی بنناخود اس کی عزت  وناموس اورغیرت  کے خلاف ہےاورخطرہ جان ہے،اس سے حسب ونسب کامقدس  نظام  کاتانہ بانہ ٹوٹ جائے گا،صنف نازک پر کئی مردوں کے گھریلوذمہ داریاں عائدہوجائیں گی، جس سے یقینا گھریلوزندگی کانظام درہم برہم ہوجائے گا،اس لیے قدرت نے اس کی اجازت نہیں دی۔

محاضرہ کے صدرجناب مولانااحسان الحق مظاہری استاذالمعہدالعالی اسلامی حیدرآباد نےکہاکہ مسلم پرسنل لاپرعمل کرناہرحال میں واجب ہے،چاہے مسلمان دنیاکے کسی بھی خطہ میں رہے، اس کے بغیرمسلمان ہونے کاتصوربھی ناممکن ہے۔انھوں نے مزیدکہاکہ آج کل مستشرقین کی طرف سےاسلام پر فکری حملے ہورہے ہیں، اس کاجواب فکری اورعملی طورپر دینے کی ضرورت ہے۔انھوں نے آئیے مسلم پرسنل لاسیکھیں کے عنوان سے عائلی مسائل کو سکھانے کے اس سلسلہ کو سراہتےہوئے کہاکہ اس کو ہر علاقہ میں کیاجاناچاہئے۔واضح رہے کہ بلال اسکول نزدبلواس  ہوٹل مولاناشوکت علی روڈگرانٹ روڈایسٹ میں ہراتوارکو محاضرہ دیاجاتاہے، مزید جانکاری کےلئے اس نمبر8080607348پر رابطہ کیاجاسکتاہے۔

You might also like