سادھوی، پروہت اینڈکمپنی پر دہشت گردانہ سازش کا الزام طئے: سچائی کی جیت

سادھوی، پروہت اینڈکمپنی پر دہشت گردانہ سازش کا الزام طئے: سچائی کی جیت

تجزیہ خبر: شکیل رشید

سادھوی پرگیانے آج این آئی اے عدالت کے ذریعے خود پر دہشت گردانہ سازش اور قتل وغیرہ کے الزامات طے کیے جانے کے بعد بالکل سچ کہا کہ ’’سچائی کی جیت ہوتی ہے‘‘۔ الزامات کا طے ہونا ’سچائی کی جیت ہی تو ہے‘! مالیگائوں کا بم دھماکہ ۲۰۰۸ میں ہوا تھایعنی آج سے دس سال قبل، یہ گزرے ہوئے دس برس انصاف کے لیے جدوجہد کے سال تھے۔ ان برسوں میں ہندو تو وادیوں نے، جن میں سارا سنگھ پریوار بشمول بی جے پی شامل ہے، اور وہ میڈیا بھی جسے ’گودی میڈیا‘ کہاجاتا ہے، ساری کوششیں کرلیں کہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر اور کرنل پروہت کو ’قوم پرستوں‘ کی صف میں بلند ترین چوٹی پر بٹھا دیاجائے، ملک کی اہم ترین تفتیشی ایجنسی این آئی اے پر اس قدر دبائو ڈالا گیا کہ اس کے پاس سادھوی او رپروہت کو ’مکوکا‘ سے کلین چٹ دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ یہ دبائو ایک دن کا عمل نہیں تھا۔۔۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے سادھوی سے ملاقات کی، شیوسینا کے آنجہانی پرمکھ بالا صاحب ٹھاکرے نے سادھوی کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملا دئیے، ٹی وی چینلوں پر رجت شرمانے تو سادھوی اینڈ کمپنی کو تمام ہی الزامات سے گویا کہ ’کلین چٹ‘ دے دی! یعنی وہ ’آپ کی عدالت‘ چلاتے چلاتے خود کو ’حقیقی عدالت‘ سمجھ بیٹھے ۔ سارے ملک میں سادھوئوں ، سنتوں او رہندو توادی تنظیموں نے مالیگائوں بم دھماکہ کے ملزمین کی حمایت میں پوری شدت کے ساتھ آواز بلند کی، اور وکلاء کی ایک پوری فوج قانونی امداد کےلیے کھڑی کردی گئی۔ ’مکوکا‘ تو ان پر سے ہٹا اور ’مکوکا‘ ہٹنے کے بعد سادھوی اور پروہت اینڈ کمپنی یعنی میجر (ریٹائرڈ)رمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، اجے راہیرکر، سدھاکر دویدی اور سدھاکر چترویدی کو یہ لگنے بھی لگا کہ خون کےوہ سرخ دھبےّ جس سے ان کا دامن تر ہے، مٹ گئے ہیں۔ پر عدالت بہرحال عدالت ہے، سنگھ پریوار کی ذیلی تنظیم نہیں ہے۔ اس نے دو اہم فیصلے کیے، ایک تو یہ کہ ’یواےپی اے‘ کے قانون کا اطلاق ان پر سے ختم ہونے نہیں دیا اور دوسرا یہ کہ ان کی اس درخواست کو کہ الزامات طے کرنے کے عمل پر اسٹے دیاجائے، رد کردیا۔ اب ’یواے پی اے‘ کے تحت مالیگائوں دھماکہ ۲۰۰۸ کے مذکورہ ساتوں ملزمین پر جو الزامات طے کیے گئے ہیں ان میں سب سے سنگین الزام ’دہشت گردانہ سازش‘ کا ہے۔ قتل وغیرہ کے الزامات علاحدہ سے ہیں۔ جب بات ’دہشت گردانہ سازش‘ کی کی جاتی ہے تو اس کا سیدھا مطلب ’بھگوا یا ہندو دہشت گردی‘ ہوتی ہے۔ ہندو دہشت گردی سے مراد ’ہندو تو وادیوں‘ کی دہشت گردی ہے عام ہندوئوں کی نہیں۔ اور ’ہندو تووادی‘ وہ ہیں جن کے نظریات گروگولوالکر، ساورکر اور ہیڈ گیوار کے فلسفے سے نمو پاتے ہیں۔ نفرت اور تعصب بلکہ نسل پرستی کا نظریہ۔

خوب کوشش کی گئی کہ ’بھگوا یا ہندو دہشت گردی ‘کی اصطلاح استعمال نہ کی جاسکے لیکن ایک حقیقت کو کوئی کیسے نظر انداز کرسکتا ہے! ویسے ’بھگوا دہشت گردی‘ کے چہرے پر سےپردہ اُٹھانے کے اس عمل میں سب سے اہم کردار جمعیۃ علما مہاراشٹر (ارشد مدنی) کا اور اس کے قانونی امداد سیل اور اس سیل کے سربراہ محمد گلزار ا عظمی کا ہے۔ اگر جمعیۃ نے مداخلت نہ کی ہوتی، قانونی امداد سیل نے وکلاء کو میدان میں نہ اتارا ہوتا اور گلزار اعظمی اس عمر میں بھی، علالت کے باوجود اس معاملے پر نظر نہ رکھے ہوئے ہوتے تو شاید سادھوی اور پروہت ا ینڈ کمپنی راحت پاجاتی۔ مگر وہ جو مظلوموں پر ظلم کرتے ہیں ان کی پکڑ کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے اور اس طرح سے کرتا ہے کہ پکڑ ڈھیلی نہیں پڑتی ۔۔۔فی الحال تو الزامات طے ہوگئے ہیں لیکن ابھی ایک لمبی عدالتی لڑائی باقی ہے؛ اللہ اس مقدمے کے لڑنے والوں کو حوصلہ دے تاکہ وہ جو عرصے سے انصاف کے منتظر ہیں انہیں انصاف مل سکے۔

(بصیرت فیچرس)