شمع فروزاںمضامین ومقالات

تعمیری تنقید

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
(سکریٹروی ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت دی ہے، اس لحاظ سے اُسے ایک بااختیار مخلوق بنایاگیا ہے، اور اسی وجہ سے اس کے عمل سے دنیا وآخرت میں جزاء وسزا کا حکم متعلق ہے، اسی قوت وصلاحیت کی بناء پر وہ دانستہ بھی غلطی کرتا ہے اور نادانستہ بھی،کبھی جان بوجھ کر غلطی کا مرتکب ہوتا ہے ،اور کبھی انجانے میں، انسان کی اس فطری کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ ہر انسان کہیں نہ کہیں خطاء کا مرتکب ہوتا ہے، کل بنی آدم خطاّء (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر:۴۲۵۱) ؛ اس لئے یہ حقیقت ہے کہ سوائے انبیاء کرام کے بڑا سے بڑا آدمی بھی معصوم نہیں،انبیاء چوں کہ انسان کے لئے نمونہ اور آئیڈیل ہوتے ہیں،اور ان کی زندگی اسوہ ہوتی ہے؛ اس لئے ضروری ہے کہ ان کی حیات طیبہ فکر وعمل کی کوتاہیوں سے پاک ہو، انبیاء کے علاوہ کسی شخص کے بارے میں گناہوں سے معصوم ہونے کا دعویٰ نہیںکیا جا سکتا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی اس فطری کمزوری کا حل بھی بتایا کہ انسان کو چاہئے کہ جوں ہی اس کو اپنی غلطی پر تنبہ ہو جائے، خواہ خود غوروفکر کے نتیجہ میں یا لوگوںکے توجہ دلانے پر، تو وہ اپنی غلطی پر اصرار نہ کرے؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی غلطی سے رجوع کر لے، اور تائب ہو جائے؛ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ بہترین خطاء کار وہ ہے جو توبہ کر لے: وخیر الخطائین التوابون (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۴۲۵۱)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادمیں اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ اگر انسان کو اس کی غلطی پر متنبہ کیا جائے اور درست تنقید کی جائے تو اسے بُرا نہیں ماننا چاہئے؛ بلکہ اسے قبول کرنا اور اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنا چاہئے؛ اسی لئے شریعت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی:نیکی کی دعوت اور برائی سے روکنے کے عمل کو بڑی اہمیت دی گئی ہے،مُنکَر سے مراد ہر ایسی چیز ہے جو روکے جانے کے لائق ہو، جس پر نکیر کرنے کا حکم ہواور جو کسی بھی درجہ میں ناپسندیدہ ہو؛ البتہ جو عمل جس درجہ ناپسندیدہ ہوگا،اس سے منع کرنے کا اسلوب بھی اسی درجہ کا ہوگا، اسی طرح جس کو منع کیا جا رہا ہو، اس کے مقام ومرتبہ کی رعایت کرنا بھی ضروری ہے، جیسے اولاد کو روکنے کا انداز الگ ہوگا اور والدین کو منع کرنے کا انداز الگ ،حکام اور سربراہ کو متنبہ کرنے کا الگ طریقہ ہوگا اور عوام کو متنبہ کرنے کے الفاط الگ ہوں گے؛ لیکن بہر حال نہی عن المنکر کی اجازت؛ بلکہ اس کا حکم اس بات کو واضح کرتا ہے کہ امت میں تنقیدی شعوربھی ہونا چاہئے اور تنقید کی جرأت بھی،خواہ کتنی ہی مشکل صورت حال ہو، ضروری ہے کہ تنقید کا حوصلہ برقراررکھا جائے، خوف اور خطرات اس کی زبان کو گنگ نہ کر دیں؛ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بہترین جہاد یہ ہے کہ انسان ظالم حکمراں کے سامنے حق بات کہے: أفضل الجھاد کلمۃ الحق عند سلطان جائر (شعب الایمان، حدیث نمبر: ۷۹۳۶) دوسری طرف یہ فرما کر کہ ہر آدمی سے خطاء ہو سکتی ہے، آپ نے امت کے تمام طبقات کو تعلیم دی کہ اس کے اندر تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہئے، اسے یہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ مجھ سے غلطی ہو سکتی ہے، یہ غلطی ناواقفیت کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے اور جانتے بوجھتے نفس اور شیطان کے اُکسانے پر بھی ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کا ایسا مزاج بنایا کہ اگر کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات خلاف معمول معلوم ہوتی تو کمال ادب کے ساتھ اس پر ٹوکتے، ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم، یہ بات بظاہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم کے خلاف تھی کہ ظالم کے خلاف مزاحمت کی جائے اور مظلوم کی مدد کی جائے؛ چنانچہ صحابہ ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام میں خاموشی اختیار نہیں کی؛ بلکہ عرض کیا :کہ مظلوم کی مدد کرنا تو ٹھیک ہے؛ لیکن ہم ظالم کی مدد کیسے کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظالم کی مدد یہ ہے کہ تم اس کا ہاتھ تھام لو اور ظلم نہ کرنے دو: تأخذ فوق یدیہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۲۴۴۴)
بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے الگ تھی، صحابہؓ نے اس سے مختلف مشورہ دیا؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ بُرا نہیں مانا؛ بلکہ اپنے رفقاء کی رائے کو ترجیح دی؛ حالاں کہ بعد کے حالات سے واضح ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے ہی درست رائے تھی، جیسا کہ غزوہ اُحد میں آپ چاہتے تھے کہ شہر میں رہ کر مقابلہ کریں؛ لیکن بعض پُرجوش نوجوان صحابہ باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کو ترجیح دیا (البدایۃ والنہایۃ: ۴؍۱۱)
غزوۂ خندق کے موقع سے صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے آپ کی رائے تھی کہ دشمنوں سے اس بات پر صلح کر لی جائے کہ مدینہ کی پیداوار کا کچھ حصہ انہیں سالانہ ادا کیا جائے گا؛ لیکن رؤسائے انصار حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہؓ نے اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ ہم نے تو زمانۂ جاہلیت میں بھی ایسا حقارت آمیز معاہدہ نہیں کیا اور اب تو ہم مسلمان ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حضرات کے مشورہ کو قبول فرمالیا(سیرۃ ابن ہشام: ۲؍۲۲۳)ایک دفعہ نماز پڑھاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعت والی نماز میں تیسری ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، بیشتر صحابہ خاموش رہے؛ لیکن ذوالیدینؓ نامی ایک صحابی نے عرض کیا :اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کی طرف سے نماز کی رکعت میں کمی کر دی گئی ہے یا آپ سے بھول ہوئی ہے؟أ نقصت الصلاۃ أم نسیت یا رسول اللہ (نسائی، حدیث نمبر: ۱۲۲۸) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر حاضرین سے دریافت کیا اور جب تصدیق ہو گئی کہ آپ نے تین ہی رکعت پر سلام پھیر دیا ہے تو نماز پوری فرمائی (حوالۂ سابق)
یہ واقعات اُس مزاج کو ظاہر کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کے لئے چاہتے تھے، اس کی سب سے اہم مثال وہ ہے جب غزوۂ حنین کے موقع سے ڈھیر سارا مال حاصل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا مال اسلام سے مانوس کرنے کے لئے فتح مکہ کے موقع سے اسلام قبول کرنے والے نو مسلموں اور بعض دیگر حضرات کو عنایت فرمایا اور انصار کو اس میں سے کچھ بھی نہیں دیا، اس بات نے نہ صرف مدینہ کے نوجوانوں؛ بلکہ عمر رسیدہ انصار کو بھی متأثر کیا اور ان کو آپ کا یہ فیصلہ ناگوار گزرا؛ لیکن ان کو اس میں کوئی تأمل نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب واحترام کی پوری رعایت کرتے ہوئے اپنا شکوہ پیش کریں؛ چنانچہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے انصار کی ترجمانی کی، اور اس عمل کے بارے میں اپنے تأثرات پیش کئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ شکایت انصار کے دوسروں لوگوں کوہے یا تم کو بھی ہے؟ تو انہوں نے بلا تأمل اور برملا عرض کیا کہ میں بھی اپنی قوم کے ان جذبات میں شریک ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو ایک جگہ جمع کرایا اور نہایت اثر انگیز خطبہ کے ذریعہ اپنے اس فیصلہ کی وضاحت کی، اور انصار اس سے مطمئن ہوئے (مسند احمد ابن حنبل، حدیث نمبر: ۱۱۷۸۴) غور فرمائیے کہ نہ صحابہ کو اپنی شکایت پیش کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلہ سے متعلق اپنے تحفظات پیش کرنے میں تأمل ہو،ا اور نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شکایت کا بُرا مانا۔
مگر افسوس کہ اب مسلمانوں میں نہ تعمیری تنقید کا حوصلہ رہا ،نہ تنقید کرنے کا سلیقہ ،اور نہ تنقیدکو برداشت کرنے کا مزاج ،قریب قریب پورے عالم اسلام کی یہی صورت حال ہے، اگر فوج حکومت پر مسلط ہوگئی تب توانسان کو شاید اتنے حقوق بھی نہیں دئے جاتے جو جانوروں کو حاصل ہیں،عراق، شام، یمن، تیونس اور کچھ وقتوں کو چھوڑ کر پاکستان وغیرہ کی یہی صورت حال ہے، اور عالم عرب کی صورت حال تو بدتر؛ بلکہ بدترین ہے، جہاں مکمل زبان بندی نافذ ہے، اور حکومت کے موقف کے خلاف ایک حرف لکھنے کی اجازت نہیں، تجسس کا ایسا نظام ہے کہ عوام اپنی خلوتوں میں بھی کچھ کہنے سے گھبراتے ہیں، اگر فکروخیال کو قید کرنے اور اس پر پہرہ بٹھانے کی گنجائش ہوتی تو شاید حکمراں یہ بھی کر گزرتے، حد یہ ہے کہ جو حکمراں درست یا نادرست طریقہ پرالیکشن لڑ کر آتے ہیں، ان کا حال بھی مختلف نہیں ہے، ہندوستان کے مشرقی پڑوسی بنگلہ دیش میں آئے دن حزب مخالف کے لیڈروں کو پھانسی پر چڑھایاجاتاہے یا عمر قید کی سزائیں دی جاتی ہیں،کاش! یہ ممالک امریکہ یورپ اور ہندوستان جیسے ملکوں سے سبق لیتے کہ وہاں پارلیمنٹ کے اندراور پارلیمنٹ کے باہر، نیزاخبارات ، الیکٹرانک میدیا اور سوشل میڈیا میں کس قدرحکومت کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اسی تنقید کا نتیجہ ہے کہ حکومت کے اندر عوام کے سامنے جوابدہی کا خوف ہوتا ہے، سیاسی استحکام قائم رہتا ہے، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں؛ لیکن نظام میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، ملک کی ترقی جاری رہتی ہے،اور بیرونی سرمایہ کاروں کااعتماد قائم رہتا ہے۔
تنقید کے برداشت نہ کرنے کی ایک بدترین مثال ابھی سامنے آئی ہے،جب ترکی میں موجود سعودی سفارت خانہ کے اندر سعودی جنرنلسٹ جمال خاشقجی کے انسانیت سوز قتل کا واقعہ پیش آیا،جانور بھی اتنی بے رحمی سے ذبح نہیں کئے جاتے، جتنی بے رحمی سے ایک معزز صحافی کو قتل کیا گیا،صورت حال یہ ہے کہ قانون کی حدوں کو پار کرکے حکومت کے ذمہ دار افراد نے اپنے پرداختہ اور تربیت یافتہ غنڈوں کو بھیج کریہ قتل کرایا،اور باوجویکہ سعودی حکومت نے اس واقعہ کے چھپانے کی تدبیر میں کوئی کسر نہیں رکھی اور ابتداء دروغ گوئی سے بھی کام لیا؛ لیکن ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین (آل عمران: ۵۴) کے مصداق یہ ساری تدبیریں ناکام ہو کر رہ گئیں اور جرم کا اعتراف کرنے کے سوا چارہ نہیں رہا؛ البتہ میڈیا کے بیان کے مطابق اب کوشش کی جا رہی ہے کہ حقیقی مجرم کو بچانے کے لئے کچھ لوگوں کو قربانی کا بکرا بنا دیا جائے اور واقعہ کی آزادانہ تحقیق روک دی جائے۔
خیر، یہ جو کچھ ہوا، اور جن لوگوں نے کیا ،وہ تو آخرت میں اپنے عمل کے جوابدہ ہوں گے اور دنیا میں بھی ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنے آخری انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں؛ لیکن قابل غور پہلو امت کا یہ بگڑتا ہوا مزاج ہے کہ ایک تو برائیوں کو روکنا جن لوگوں کی ذمہ داری ہے، وہ بدترین قسم کے نفاق اور چاپلوسی میں مبتلا ہیں، اور اسلام دشمن حکمراں کو محدّث اور مُلہَم جیسے القاب سے نواز رہے ہیں، جن کا استعمال رسول حق ترجمان نے سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے بارے میں فرمایا تھا،یہ کیسی جسارت، بے شرمی اور چاپلوسی ہے،یہ تو مسلمان حکمرانوں کا حال ہے؛ لیکن افسوس کہ عمومی طور پرمسلمانوں میں تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے،اور مسلمانوں کے تمام طبقات اس مرض کا شکار ہیں، حلقۂ تصوف میں تو پتہ نہیں کہاں سے یہ بات زبان زد عام وخاص ہوگئی کہ پیر مغاں جو بھی کہہ دے مرید کو قبول کر لیناچاہئے:
بہ مئے سجادہ رنگیں کن گرت پیرمغاں گوید
حالاں کہ علماء حقانی اور مشائخ ربانی اپنے مقتدیٰ سے بھی اختلاف کرتے رہے ہیں، سرخیل صوفیاء شیخ اکبر امین عربی پر مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی ؒنے جو تنقیدیں کی ہیں اور ’’ فصوص الحکم‘‘ کے مضامین پر نقد کیا ہے، وہ اہل علم پر مخفی نہیں ہے۔
نیز صحابہ سے بڑھ کر راہ سلوک کا رہبر کون ہو سکتا ہے، اور فقہاء مجتہدین سے بڑھ کر دین وشریعت کا رمز شناس کیا کوئی اور ہو سکتا ہے؟؛ لیکن انہوں نے کبھی اپنے متبعین سے ایسی بے چون و چرا پیروی کا مطالبہ نہیں کیا؛ مگر اب ملت کے ہر شعبہ میں یہی مزاج در آیا ہے، چاہے مذہبی وملی تنظیمیں ہوں، مسلمانوں کی سیاسی جماعتیں ہوں، تعلیمی وتربیتی ادارے ہوں، یہاں تک کہ مساجد کے نظم ونسق کے ذمہ دار ہوں،ہر جگہ یہی صورت حال ہے کہ ذمہ داروں کے اندر معمولی تنقید سننے کا بھی حوصلہ نہیں ہے،حد یہ ہے کہ اب یہ مزاج ہماری دینی درسگاہوں میں بھی پہنچ گیا ہے کہ بہت سے اساتذہ کو اپنے طلبہ کا سوال کرنابرداشت نہیں ہوتا، یہ کسی بھی قوم کے لئے بہت ہی بدبختانہ بات ہے، اور اس کے علمی وفکری زوال کا پیش خیمہ ہے کہ لوگوں میں برائی کو برائی کہنے کا حوصلہ باقی نہ رہے ، وہ اہل اختیار کی خوشامد اور چاپلوسی کے عادی ہو جائیں، نہ صرف یہ کہ غلطی پر خاموش رہیں؛ بلکہ ارباب اختیار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے رات کو دن اور دن کو رات کہنے کو بھی تیار ہو جائیں، اور دوسری طرف ارباب اختیار اپنے آپ کو تنقید سے بالا ترسمجھنے لگیں، اورمشورہ لینا اور مشورہ سننا ان کو بارِ خاطر ہو۔
یقیناََ سربراہ کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا ہے؛ لیکن اس کی بھی حدود ہیں، سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: میری بات سنو! اللہ تم پر رحم فرمائے ، مجمع میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے، کہنے لگے: خدا کی قسم !نہ ہم آپ کی بات سنیں گے اور نہ مانیں گے، یہ کوئی اور صحابی نہیںتھے؛ بلکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی تھے، حضرت عمرؓ کو ان جیسے صحابی کے احتجاج پر حیرت ہوئی اور انہوں نے حضرت سلمان فارسیؓ سے اس کا سبب دریافت فرمایا، حضرت سلمان نے کہا : اس لئے کہ آپ نے امتیاز سے کام لیا ہے، آپ نے ہم لوگوں کو ایک ایک چادر دی ہے اور خود دو چادریں اوڑھ رکھی ہیں، یہ چادریں بیت المال کی جانب سے تقسیم کی گئی تھیں، حضرت عمرؓ نے فرمایا: کہاں ہیں عبداللہ بن عمرؓ ؟ حضرت عبداللہ اُٹھے، آپ نے ان سے دریافت کیا : یہ دوسری چادر کس کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا :میری ، پھر آپ نے مجمع کے سامنے وضاحت فرمائی کہ جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیں، میں دراز قامت آدمی ہوں، میرے حصہ میں جو چادر پڑی تھی ،وہ چھوٹی پڑ گئی، میرے بیٹے عبداللہ نے اپنے حصہ کی چادربھی مجھے دے دی، میں نے ان دونوں چادروں کو ملا لیاہے، حضرت سلمان فارسیؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگے : اللہ کا شکر ہے امیر المؤمنین ! اب ہم آپ کی بات سنیں گے بھی اور اس پر عمل بھی کریں گے: فقل، الآن نسمع (اعلام الموقعین:۱؍۱۲۸) یہ ایک بہترین مثال ہے اس مزاج کی، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی تربیت فرمائی تھی، ایسا نہیں تھا کہ قوم کا سربراہ یہ سمجھتا کہ میں جو کچھ کہوں، قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے بے چون و چرا تسلیم کر لے اوراس کو حق نہیں ہے کہ مجھ سے حساب لے ،نہ لوگوں کو اپنے سربراہ کو ٹوکنے اور روکنے میں تأمل ہوتا تھا، خواہ وہ کتنا ہی مقدس ہو، یہی مزاج فقہاء تک پہنچا، جو نہایت فراخدلی کے ساتھ اور کسی ناگواری کے بغیر اختلاف رائے کو سنتے تھے، اس پر غور کرتے تھے، اس کو اہمیت دیتے تھے، اور اگر ان کی بات معقول محسوس ہوتی تو بے تکلف اسے قبول کرتے تھے، اور جس نے غلطی کی نشاندہی کی ہو، اسے اپنا محسن سمجھتے تھے۔
جہاں تعمیری تنقید کی جاتی ہو اور اسے قبول کیا جاتاہو، وہاں انسان کے اندر خود احتسابی پیدا ہوتی ہے، اپنی غلطیوں کو درست کرنے کا موقع ملتا ہے، اگر اس نے کوئی قدم غلط اٹھا لیا ہو تو وہ دبے پاؤں اس سے واپس ہو سکتا ہے، محرومِ منزل ہونے سے خود کو بچا سکتا ہے، رفقاء کے درمیان باہمی اعتماد قائم رہتا ہے، دیر پا اتحاد پیدا ہوتاہے، اور اگر افراد بدل بھی جائیں تو ادارے اور جمعیتیںباقی رہتی ہیں؛ اس لئے ایسے واقعات سے سبق لینے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے اپنے دائرہ میں شفافیت اور کُھلا پن کاماحول پیدا کریں، جبروظلم کے ذریعہ نہیں؛ بلکہ محبت اور پاکیزگی کردار کے ذریعہ اپنے ماتحتوں کا دل جیتیں اور اپنے مقصد کو اپنی شخصیت سے زیادہ عزیز رکھیں۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker