امریکہ میں یہودی عبادت گاہ کے حملہ آور پر قتل اور نفرت پھیلانے کامقدمہ

امریکہ میں یہودی عبادت گاہ کے حملہ آور پر قتل اور نفرت پھیلانے کامقدمہ

واشنگٹن :2؍نومبر(بی این ایس؍ایجنسیاں)
جس شخص پر پٹس برگ کی ایک یہودی عبادت گاہ پر حملہ کر کے 11 افراد کو ہلاک کرنے کا الزام ہے، اس نے جمعرات کے روز عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔رابرٹ بورز پر قتل اور نفرت پر مبنی جرائم کی 44 دفعات لگائی گئی ہیں۔
ایک گرینڈ جیوری نے لائف آف ٹری نامی یہودی عبادت گاہ پر 27 اکتوبر کے حملے میں رابرٹ بورز کو مجرم نامزد کیا تھا۔
امریکہ کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے مجرم کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے مبینہ جرائم ایک ناقابل فہم برائی ہے اور قومی اقدار کے انتہائی خلاف ہیں۔ اس لیے یہ مقدمہ صرف متاثرین اور ان کے پیاروں کے لیے ہی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ یہ پٹس برگ شہر اور پورے ملک کے لیے بھی اہم ہے۔
فائرنگ کے اس واقعہ میں پولیس اہل کاروں سیمت 6 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
حکام نے بتایا ہے کہ پٹس برگ کے 46 سالہ رابرٹ بوور ہفتے کے روز جب ٹری آف لائف نامی سیناگاگ پر حملہ کیا تو وہ چلاتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا ’’ تمام یہودیوں کو مر جانا چاہیے‘‘۔
فائرنگ کا یہ واقعہ امریکہ کی تاریخ ميں یہودی کمیونٹی کے خلاف بدترین حملہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کی رات فلوریڈا میں ایک ریلی کے دوران پٹس برگ کے اپنے دورے کی میڈیا کوریج پر تنقید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا کل کا پٹس برگ کا دورہ قوم کے اتحاد اور یگانگت کا اظہار تھا۔ میں جب گھر آیا اور خبریں دیکھنا شروع کیں تو میں نے دیکھا کہ انتہائی بائیں بازو کا میڈیا ایک بار پھر اس المیے کو اشتعال اور تقسیم کے لیے استعمال کر رہا تھا۔
صدر ٹرمپ جب پٹس برگ پہنچے تھے تو کچھ مظاہرین نے سڑکوں پر یہ کہتے ہوئے احتجاج کیا کہ ان کے نعروں نے مسلح شخص کے یہودیوں اور تارکین وطن کے خلاف نظریات کو ہوا دی ہے اور حملہ آور نے ایک ایسے یہودی گروپ کو ہدف بنایا جو بیرون ممالک سے امریکہ پہنچنے والے پناہ گزینوں کی مدد کرتا ہے۔