پاکستان:ممتازعالم دین اورمذہبی رہنمامولاناسمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید

پاکستان:ممتازعالم دین اورمذہبی رہنمامولاناسمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید

اسلام آباد:2؍نومبر(بی این ایس؍ایجنسیاں)
ممتاز مذہبی رہنما مولانا سمیع الحق ایک قاتلانہ حملے میں شہیدہو گئے ہیں۔ اُن پر یہ حملہ راولپنڈی میں کیا گیا۔جمعیت علمائے اسلام (س) کے رہنما مولانا سمیع الحق کی کار پر راولپنڈی میں فائرنگ کی گئی ، جس کی زد میں آ کر وہ شہیدہو گئے ہیں۔ اُن کی جماعت کی پشاور شاخ کے صدر مولانا حصیم نے اپنے رہنما کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔ مولانا سمیع الحق کے ساتھ اُن کا ڈرائیور اور محافظ بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔
موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے مرحوم سیاستدان پر فائرنگ کی تھی۔ اس حملے میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور انہیں ہسپتال لیجانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ زخموں سے جانبر نہیں ہو سکے۔مولانا سمیع الحق مشہور مذہبی شخصیت مولانا عبدالحق کے صاحبزادے تھے۔ ان کے والد اور مولانا فضل الرحمان کے والد مفتی محمود نے جمیعت علمائے اسلام کو ملکی سیاست کے دھارے میں ایک مرکزی مقام دلانے کی کوشش کی اور کامیاب بھی رہے۔ مولانا عبدالحق اور مفتی محمود کی رحلت کے بعد اُن کے صاحبزادگان سیاسی جماعت کو متحد رکھنے میں ناکام رہے اور یہ گروپوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی۔
مولانا سمیع الحق افغان طالبان کے بہت قریب خیال کیے جاتے تھے۔ افغان طالبان بھی انہیں انتہائی معتبر حیثیت سے دیکھتے تھے۔ اُن کی مذہبی درسگاہ دارالعلوم حقانیہ پاکستانی شمال مغربی سرحدی صوبے خیبر پختونخوا کے مقام اکوڑہ خٹک میں واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ افغان طالبان کے بانی اور سابق سربراہ ملا عمر نے اسی مدرسے سے دینی تعلیم حاصل کی تھی۔ سمیع الحق کی عمر تقریباًً 80 برس تھی۔ وہ انیس سو اٹھاسی سے دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ تھے۔