مشہورسرچ انجن گوگل کے ملازمین کے دنیا بھر میں مظاہرے

مشہورسرچ انجن گوگل کے ملازمین کے دنیا بھر میں مظاہرے

واشنگٹن:2؍نومبر(بی این ایس؍ایجنسیاں)
جمعرات کے روز گوگل کے ہزاروں ملازمین نے اپنے کام کی جگہوں کو چھوڑ کر ہراساں کرنے سے متعلق کمپنی کی پالیسی کے خلاف احتجاجی مارچ میں حصہ لیا۔
کیلی فورنیا میں گوگل کے ہیڈکوارٹرز’ ماؤئنٹین ویو‘ کے باہر سینکڑوں کارکنوں نے مظاہرہ کیا جن میں اکثریت خواتین کی تھی۔ عالمی سطح کی اس کمپنی میں اس طرح کے مظاہرے تقریباً دو درجن مقامات پر ہوئے۔
ایک آن لائن میگزین ’دی کٹ‘ میں احتجاج کے منتظمین نے کہا ہے کہ ہم ایک بڑی تحریک کا چھوٹا سا حصہ ہیں جو بڑے عرصے سے پھل پھول رہی ہے۔
ہم میں سے ہر ایک فاسٹ فوڈ کی اس خاتون سے متاثر ہے جس نے ہزاروں خواتین کے لیے جنسی ہراساں کیے جانے کے خلاف تحریک’ می ٹو‘ شروع کی، جو اس قسم کی زیادتی کے خاتمے کی جانب ایک آغاز ہے۔
یہ مظاہرے کارکنوں کی اس بے اطمینانی کی نشاندہی کرتے ہیں جس کے بارے میں نیویارک ٹائمز میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گوگل کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے جنسی ہراساں کیے جانے کے ایک الزام پر زر تلافی کے طور پر لاکھوں ڈالر ادا کیے ہیں۔
ٹائمز نے لکھا ہے کہ گوگل نے 2014 میں اس وقت کے سینیر وائس پریذیڈنٹ اینڈی روبن کے لیے جن پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام تھا، 90 ملین ڈالر ادا کیے تھے۔ تاہم روبن نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔
منتظمین نے مطالبہ کیا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں کارکنوں کے ایک نمائندے کو بھی شامل کیا جائے۔کمپنی کے سی ای او سندر پچائی نے کہا ہے کہ کارکن تعمیری نظریات سامنے لائے ہیں جن پر کمپنی عمل درآمد کرے گی۔