پاکستان جمعیۃ علمائے اسلام کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا بے رحمانہ قتل

پاکستان جمعیۃ علمائے اسلام کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا بے رحمانہ قتل

راولپنڈی۔۲؍نومبر: جمعیت علمائے اسلام (س) اور دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو راولپنڈی میں ان کے گھر پر نامعلومImage may contain: one or more people افراد نے چاقوؤں سے حملہ کرکے شہید کر دیا ہے۔مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق حقانی نے اپنے والد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس وقت ان کےوالد کو نشانہ بنایا گیا وہ گھر پر آرام کررہے تھے۔وہ راولپنڈی کی نجی سوسائٹی میں اپنے مکان میں اکیلے تھے جب نامعلوم افراد نے ان کو چھروںسے وار کر کے شہید کر دیا،ان کے محافظ اور ڈرائیور مکان سے باہر گئے ہوئے تھے اور جب وہ واپس آئے تو مولانا سمیع الحق خون میں لت پت تھے،انہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال لیجایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے ۔جے یو آئی (س) پشاور کے صدر مولانا حصیم نے مولانا سمیع الحق کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔ مولانا سمیع الحق کی عمر 80 برس سے زیادہ تھی اور وہ 1988 سے دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ تھے جہاں سے ہزاروں علما نے دینی تعلیم حاصل کی ہے۔مولانا سمیع الحق جمیعت علما اسلام (س) اور دفاع پاکستان کونسل کےسربراہ تھے،وہ دو مرتبہ پاکستان کے ایوانِ بالا کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے جبکہ حالیہ الیکشن میں بھی پاکستان تحریک انصاف نے انہیں سینیٹ کا ٹکٹ دیا تھا تاہم وہ اس مرتبہ کامیاب نہیں ہو سکے ۔مولانا سمیع الحق کا افغان جہاد میں بھی اہم کردار تھا اور افغان طالبان میں بھی ان کا کافی اثر و رسوخ پایا جا تا تھا ۔مولانا سمیع الحق دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم تھے اور پاکستان و افغانستان سمیت مختلف ممالک کے ہزاروں علمائے کرام اس مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں جبکہ اب بھی ہزاروں طلبا جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں زیر تعلیم ہیں ۔