خشوگی قتل: سعودی عرب حقائق سامنے لائے!

خشوگی قتل: سعودی عرب حقائق سامنے لائے!

شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
گزشتہ کئی ہفتے سے ساری دنیا میں جو خبر سب سے زیادہ موضوع بحث اور گفتگو ہے وہ سعودی عرب کے صحافی جمال خشوگی کے قتل کی ہے۔ روزانہ ہی نت نئے انکشافات ہورہے ہیں ۔ ابھی دو روز قبل ترکی کے چیف پراسی کیوٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ خشوگی استنبول میں اپنے ملک کے سفارت خانے میں گئے ہی تھے کہ ان کا گلا گھونٹ دیاگیا تھا۔ اب یہ خبر سامنےآئی ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے وہائٹ ہائوس فون کرکے کہا تھا کہ خشوگی اخوان المسلون کا خطرناک انتہا پسند تھا۔ ویسے تو جمال خشوگی کی گمشدگی اور پھر قتل کی خبر نے سعودی شہنشاہیت کو پہلے ہی ایک نئے بحران سے دور چار کردیاتھا اب وہائٹ ہائوس کے فون نے بحران کو مزید گہرا کردیاہے۔ جب سے شہزادہ محمد بن سلمان ولی عہد بنے ہیں سعودی عرب میں بحرانی کیفیت ہے، شاہی گھرانے کی اندرونی جنگ عیاں ہوگئی ہے، اصلاحات کی کوششوں کی شدید مخالفت نے سعودی حکمراں شاہ سلمان کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کردیا ہے ۔ لیکن خشوگی کے قتل کی خبر اور اس الزام نے کہ یہ قتل سعودی حکمرانوں کے اشارے پر ہوا ہے ساری دنیا میں شاہ سلمان کے لیے بھی اورمحمد بن سلمان کےلیے بھی نئی مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ خشوگی کے قتل سے پیدا ہونے والے بحران کی شدت کا اندازہ اور اس کی سنگینی کا احساس اس بات سے کیاجاسکتا ہے کہ امریکہ سے لے کر یوروپ تک، طاقتور ملکوں کے سربراہان نے سعودی حکومت کے خلاف شدید ترین رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ تک نے، جو سعودی حکمرانوں سے قریب سمجھے جاتے ہیں خشوگی کے قتل میں شہزادہ محمد بن سلمان کا نام لینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ہے۔ سعودی حکومت ان دنوں شدید دبائو میں ہے۔ یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ خشوگی ایک صحافی تھا اور چونکہ اس کا شمار اپنے ملک یعنی سعودی عرب کے ناپسندیدہ ترین صحافیوں میں ہوتا تھا، اسی لیے وہ امریکہ میں رہتااور وہاں کے بے حد موقر روزنامے ’واشنگٹن پوسٹ‘ سے وابستہ تھا۔ دنیا کی باثر شخصیات سے اس کے تعلقات تھے اور اس نے جلد ہی ’عرب دنیا میں جمہوریت‘ کے موضوع پر ایک ٹی وی چینل کے آغاز کا اعلان بھی کیا تھا ۔ یعنی وہ عرب ممالک میں بالخصوص سعودی عرب میں شہنشاہیت کا مخالف تھا۔ لیکن کیا یہ ’مخالفت‘ اتنی شدید تھی کہ اس کے لیے اس کی جان لے لی جائے؟ اگر بی بی سی سے نشر کی گئی خشوگی کی ’آف دی ریکارڈ‘ گفتگو کو مدنظر رکھا جائے تو اس سوال کا جواب ’ہاں‘ میں دیاجاسکتا ہے۔ یہ گفتگو خشوگی نے گمشدگی یا قتل سے تین دن قبل ریکارڈ کی تھی اور ا س میں سعودی حکومت کے حوالے سے بہت سے ا نکشافات تھے اور سخت تنقید تھی۔ سوا سال قبل امریکہ ’جلا وطن‘ ہونے سے قبل اس نے شاہ سلمان بالخصوص ولی عہد محمد بن سلمان کے کئی فیصلوں پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔ وہ اخوان المسلمون سے بھی قریب تھا ۔حالانکہ خشوگی کے تعلقات آل سعود سے ذاتی اور قریبی تھے لیکن نکتہ چینیوں کے بعد حالات دشوار ہوگئے اور خشوگی کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ یہ خطرہ ہی اسے امریکہ لے گیا۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے صفحات پر خشوگی نے سعودی حکمرانوں کی، ان کے اقدامات اور فیصلوں کی کھل کر تنقید کی، شہزادے کے طاقت اور اقتدار کی ہوس کو بھی نمایاں کیا اور سعودی حکومت کے سامنے ایسے سوالات رکھے جن کی گونج عالمی سطح پر سنی گئی۔ بعض مواقع پر سعودی حکمرانوں کو صفائی بھی پیش کرنا پڑی۔ بلاشبہ خشوگی انتہائی بااثر صحافی تھا لیکن کیا کسی صحافی کے قتل سے ایسا بحران پیدا ہوسکتا ہے جیسا کہ دیکھا جارہا ہے؟ صحافی تو روز مرتے ہیں،یوروپ میں بھی اور امریکہ میں بھی پھر بھلا  خشوگی کی موت کیوں موضوع گفتگو بن گئی ہے؟ اس لیے کہ قتل کا الزام حکمرانوں پر ہے، اور الزام ہے کہ قتل ترکی میں سعودی سفارت خانے میں کیاگیا۔ آج کی جدید دنیا میں یہ تصور نہیں کیاجاسکتا کہ کوئی ملک اپنے ہی سفارت خانے میں آئے ہوئے کسی شخص کو قتل کردے گا۔ مگر اب تو سعودی حکومت نے بھی یہ قبول کرلیا ہے کہ قتل اس کے سفارت خانے میں ہی ہوا ہے۔ اب یہ اہم سوال ہے کہ کیا سعودی حکومت بچ سکے گی؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں ہے۔ ویسے ہمیشہ طاقتور حکومتیں جرم کرکے محفوظ رہی ہیں۔ ممکن ہے کہ سعودی عرب کا بحران کچھ دنوں تک شدید رہے او رپھر اپنی موت آپ مرجائے مگر خشوگی کے قتل کی سعودی کو ایک بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ ساری دنیا میں اس کی حیثیت کو نقصان پہنچے گا او رممکن ہے کہ یہ معاملہ دبانے کےلیے اسے بڑی طاقتوں کا منہ بند رکھنے کےلیے بہت سے سمجھوتے کرنے پڑیں۔ ایسے سمجھوتے جو سعودی عرب کے اقتصادی بحران کو مزید گہرا کرسکتے ہیں۔ لہذا سعودی حکومت کو چاہئے کہ خشوگی کے قتل سے جو بحران پیدا ہوا ہے اس سے بچائو کےلیے حقائق جو بھی ہوں سامنے لائے، غلطی کی ہے تو اس کا اعتراف کرلے ۔ اور اگر غلطی نہیں کی ہے تو اس تعلق سے سچ ساری دنیا کے سامنے عیاں کردے۔ یہی ایک راہ اس کے سامنےبچی ہے۔
(بی این ایس)