چین نے پاکستانی معیشت کوسہارادینے کاوعدہ کیا

چین نے پاکستانی معیشت کوسہارادینے کاوعدہ کیا

کراچی :2؍نومبر(بی این ایس؍ایجنسیاں)
چین نے پاکستانی معیشت کو درپیش مشکل اقتصادی صورتحال سے نکلنے میں مدد دینے اور حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے اس عزم کا اظہار جمعہ کو بیجنگ میں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات میں کیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ملاقات میں عمران خان نے پاکستان کو درپیش مالی بحران کے حوالے سے چینی صدر شی جن پنگ سے تبادلہ خیال کیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی چین کے صدر شی جن پنگ سے چین کے ’گریٹ ہال‘ میں ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں پاک چین اقتصادی راہداری سمیت دو طرفہ تعلقات مضبوط کرنے کے امور پر بھی بات ہوئی۔
وزیراعظم عمران خان نے ملاقات میں تبادلہ خیال میں کہا کہ ان کی حکومت قائم ہوئے صرف دو ماہ گزرے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کو مشکل اقتصادی صورت حال کا سامنا ہے۔ پاکستانی معیشت کو مالی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے۔ یہ دوہرا نقصان ہے۔
پاکستان چین کی ترقی سے بہت متاثر ہے اور چینی صدر کی قیادت اور نظریہ رول ماڈل ہے۔ چین نے جس انداز سے غربت اور بدعنوانی کے مسئلے پر قابو پایا ہے اس کی مثال نہیں۔ پاکستان چین کے اسی تجربے سے فائدہ اٹھانے کا خواہش مند ہے۔
جواب میں چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات سے خطے کے دوسرے ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے تعلقات مزید مضبوط ہورہے ہیں، ان میں نئی جہت آرہی ہے۔
چینی صدر نے یقین دلایا کہ وہ پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے دوطرفہ اور دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر چین پاکستان کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ملاقات میں عمران خان نے چینی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کر لی۔
پاکستانی زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی آ رہی ہے جو سال کے آغاز میں 42 فیصد تھے مگر اب کم ہو کر 8 بلین ڈالر بن گئے ہیں۔
گزشتہ مہینے پاکستان کو سعودی عرب سے 6 بلین ڈالر کا امدادی پیکیج ملا تھا لیکن حکام کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں۔ بین الاقوامی فنڈز یا آئی ایم ایف سے قرضہ لینا ہو گا۔
عمران خان گزشتہ رات ہی چین کے پہلے سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے تھے۔ اس دورے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر ریلوے شیخ رشید، وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار، وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد اور وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال بھی ان کے ہمراہ ہیں۔