کیا اچھے دن طویل مجسمہ سے نظر آجائیں گے؟

کیا اچھے دن طویل مجسمہ سے نظر آجائیں گے؟

نازش ہما قاسمی
(ممبئی اردو نیوز؍بصیرت آن لائن)
وزیر اعظم نریندر مودی نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی ۱۴۳ ویں یوم سالگرہ پر ان کی عظیم ترین مورتی بناکر انہیں خراج عقیدت پیش کی ہے۔ اس مجسمے کو دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ قرار دیا جارہا ہے۔ یہ تقریباً ۱۸۲ میٹر اونچا مجسمہ ہے جسے اسٹیچو آف یونٹی کا نام دیا گیا ہے یہ مجسمہ چین کے سپرنگ فیڈ بدھ کے ۱۵۳ میٹر بلند مجسمہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا عظیم ترین مجسمہ بن گیا ہے۔ نیوز ۱۸؍ اردو کی خبر کے مطابق ’’اس کی وسعت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف اس کے چہرے کی اونچائی ہی سات منزلہ عمارت کے برابر ہے۔ اس کے ہاتھ 70 فٹ طویل ہیں جبکہ پاؤں کے نچلے حصے کی اونچائی 85 فٹ ہے۔ تقریبا تین ہزار کروڑ روپےکے اخراجات سے ساڑھے تین سال میں بن کر تیار ہونے والے اس مجسمہ کی اونچائی نیویارک میں واقع اسٹیچو آف لبرٹی سے بھی تقریباً دو گنی ہے۔ اسے بنانے کا اعلان گجرات کے سابق وزیر اعلی کے طور پر مودی نے سال 2010 میں کیا تھا۔ اس کام کیلئے ایل اینڈ ٹی کمپنی کو اکتوبر 2014 میں مقرر کیا گیا تھا۔ کام کا آغاز اپریل 2015 میں ہوا تھا۔ اس میں 70 ہزار ٹن سیمنٹ، تقریبا 24000 ٹن اسٹیل، 1700 ٹن تانبہ اور اتنا ہی كانسہ لگا ہے‘‘۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نام ونمود سے دور سردار ولبھ بھائی پٹیل کو کیا واقعی یہ خراج عقیدت ہے یا ان کے نام پر سیاسی روٹی سیکنا مقصد ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل انتہائی سنجیدہ اور ملک میں گنگا جمنی قیام کے خواہاں تھے اور اس کے لیے انہوں نے کوششیں بھی کیں۔ آر ایس ایس پر پابندیاں بھی عائد کیں، اسے متنبہ بھی کیا کہ تمہاری سیاست نفرت کی سیاست ہے اس سے باز آجائیں۔ انہوں نے ہمیشہ قوم کو خوشحال رکھنے کی تگ ودو کی۔ بھکمری کے شکار ملک میں تقریباً تین ہزار کروڑ کے عظیم صرفے سے تعمیر مجسمہ ملک سے بھکمری کا خاتمہ کردے گا ، کیا اب اس مجسمے کے تعمیر ہوجانے سے ملک کا کسان خوشحال ہوجائے گا، وہ خودکشی پر مجبور نہ ہوگا، کیا اس مجسمے سے بے روزگاروں کو روزگار مل جائے گا۔ یہ وہ سوال ہیں جس کا جواب نہ میں آتا ہے ۔ تو پھر آخر کیا ضرورت تھی اتنے عظیم مجسمےکو تیار کرنے کی؟ ۔ اس مجسمہ کی تعمیر کا مقصد صرف سیاسی روٹی سیکنا ہے۔ ملک کے عوام کو مجسمے کی ضرورت نہیں؛ بلکہ دو وقت کی عزت کی روٹی کی ضرورت ہے جسے یہ سیاسی لیڈران دینے سے قاصر ہیں۔ ۲۰۱۴ کے الیکشن میں بڑے بڑے وعدے کیے گئے تھے کہ ہم یہ کریں گے وہ کریں گے؛ لیکن سارے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے، وعدے وعید میں تبدیل ہوگئے، ملک کے عوام کو دھوکہ دیا گیا۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے تو کبھی دھوکہ نہیں دیا، پھر کس طرح کی یہ خراج عقیدت ہے؟ اگر حقیقی معنوں میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے تو ان کے اصول پر چلا جائے، انہوں نے جو اصول بتائے تھے کہ نفرت نہ پھیلائی جائے، مسلمانوں کو نہ مارا جائے، ملک کے عوام کو خوشحال رکھا جائے انہیں لوٹا نہ جائے اس پر عمل کرکے خراج عقیدت پیش کریں تب قوم آپ کو رہنما وقائد تسلیم کرے گی۔ملک کے عوام انتہائی کسمپرسی کے عالم میں ہیں۔ غریب مزید غریب ہوتا جارہا ہے، انہیں دو وقت کی روٹی حاصل کرنے میں انتہائی مشقت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان کی فکر کریں، کوئی ایسا کام ان کے لیے سرانجام دیں جس سے ان کے اچھے دن لوٹ آئیں۔ بلند وقامت مجسمے پر چڑھ کر بھی اچھے دن نظر نہیں آئیں گے کیوں کہ وہاں سے بھی وہی لٹی پٹی قوم نظر آئے گی جو دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کےلیے صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک دوڑ رہی ہے؛ لیکن انہیں آسانی سے دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں، کچھ لوگ تو فاقہ کرنے پہ مجبور ہیں، ملک میں بھکمری عام ہے۔ یقین نہیں آتا تو اس عظیم مجسمے پر دوربین لگا کر چڑھیں اور نظر دوڑائیں، جس گجرات ماڈل کا آپ ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں اس مجسمے پر چڑھ کر آپ کو بے حال کسان، بے روزگار نوجوان ، بھوکی مائیں، تڑپتے والدین، بلکتے بچے، کام کرتی عورتیں نظر آئیں گی۔ کاش مجسمہ بنانے کے بجائے وہی صرفہ ان لٹے پٹے بے حال وبدحال کسان کے لیے خرچ کرتے تو شاید اچھے دن آسکتے تھے۔مجسمے پر چڑھیں آپ کو وہاں سے نرمدا ندی نظر آجائے گی، وہاں کسان پانی کو ترس رہے ہیں، ۱۲ کلو میٹر دور پر مونگ پھلی کی کھیتیاں نظر آئیں گی، کسان وہاں پانی کے لیے ترس رہے ہیں ان کی کھیتیوں کو پانی میسر نہیں، کاش ان کے لیے پانی کا انتظام کردیتے۔ قوم کا پیسہ قوم کے مفاد میں خرچ ہوناچاہئے تھا، بے چاری قوم بدحالی کا شکار ہے، ان پر ٹیکس لگا کر ان کی معیشت چوپٹ کرکے ان کے پیسوں سے عظیم ترین مجسمہ بناکر ان پر ظلم کیا جارہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھے کہ ان کی فلاح وبہبودگی کی فکر کی جاتی ، انہیں پانی مہیا کرایا جاتا، بنیادی سہولیات دی جاتیں؛ لیکن نہیں، وہ تو پیدائشی ووٹر ہیں، وہ بے چارے صرف اعلانات سے ہی خوش ہوجاتے ہیں انہیں پیسوں کی کیا ضرورت ۔ یقین مانیں ملک تو آزاد ہوگیا؛ لیکن حقیقی آزادی اب بھی عوام کو میسر نہیں۔ جو حال انگریز کے زمانے میں تھا اکثریت کا اب بھی وہی حال ہے۔
(بصیرت فیچرس)